صفحہِ اول

جمعہ, جولائی 04, 2014

"اقرا"


سورہ ۔۔96۔۔۔ سورۂ العلق
 مکی سورۂ۔۔۔ تعداد آیات۔۔۔19
۔(اے محمدﷺ ) پڑھ اپنے رب کا نام لے کر جس نے پیدا کیا۔(آیت 1)۔
لفظ سے محبت کرو۔۔۔ کتاب سے نہیں۔۔۔ کیونکہ چاہے جانے کے قابل کتاب تو صرف ایک ہی ہے۔۔۔ جو ہرانسان کی دسترس میں ہے اور صرف اسی کے لیے خاص ہے۔اللہ کی کتاب آب حیات ہے جس کو جذب کرنے سے حیات ِجاودانی حاصل ہوتی ہے۔ 
لفظ جہاں بھی ملے۔۔۔جس کا بھی ہو۔۔۔جس کے لیے بھی لکھا گیا ہو۔۔۔خوشبو کی طرح ہے جو چھونے والوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔اس کی سچائی کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی اپنا اثر ضرور چھوڑتی ہے۔
کتاب توحید ہے اور لفظ شراکت۔۔۔ان دونوں کو کبھی گڈمڈ نہ کر بیٹھنا ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے۔
ہم انجانے میں اس کے الٹ کام کرتے ہیں۔علم کی  ہوس میں مبتلا ہو کر کتابیں جمع کرتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ان کی محبت میں سب فراموش کر بیٹھتے ہیں۔۔۔عشق سے جنوں تک کی منازل طے کرتے ہیں اور بعد میں خالی ہاتھ چلے جاتے ہیں سب چھوڑ کر۔
جب کہ لفظ کو محور مان لیں۔۔۔ پتھر پر لکیر کی طرح اُس پر ڈٹے رہیں۔۔۔ اپنا کہا ہوا ہو تو اس کے گرد فخروانبساط اورغروروتکبر کے پھیرے لگاتے ہیں۔ غیرکا جی میں اترجائے تو پھراُسی در کے بھکاری ہو کر رہ جاتے ہیں۔ہماری انا کا بت اپنی ذات سے شروع ہو کر شخصیت پرستی تک جا پہنچتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں