صفحہِ اول

جمعہ, جولائی 04, 2014

قلم کار"

" قلم کاراور تنقید نگار"
پڑھنے سے انسان تنقید نگار تو بن سکتا ہے۔۔۔لکھنے کا طریقہ تو سیکھ سکتا ہے۔۔۔ لفظ کی کمائی کر کے اپنی دُنیا اپنی زندگی کامیاب بنا سکتا ہے۔ایک محدود عمرمیں ستائش اورآسائش کے مزے لوٹ کر۔۔۔اپنے"ظرف" کے مطابق مطمئن ہو کر۔۔۔اس جہانِ فانی سے کوچ کر سکتا ہے۔
لیکن !!! قلمکار بننے کے لیے اپنی ذات کی پہچان بےحد ضروری ہے۔ جب تک اپنے ذہن کے جالے صاف نہ کیے جائیں۔۔۔اپنی مایوسیوں ،ناکامیوں اور تلخیوں کی گرد ہٹا کر آنکھیں نہ کھولی جائیں۔۔۔اپنے آنسوؤں کو موتی کی طرح پرو کر لفظ میں نہ سمویا جائے۔۔۔ماضی کے بوسیدہ اوراق کو یاد نہ رکھا جائے۔۔۔ انہیں اپنی غربت کے لباس کی طرح نہ پہنا جائے۔۔۔لازوال ادب تخلیق نہیں ہوتا ۔ وہ ادب جو صدیوں بعد بھی آج کی کہانی لگے اور ہر دور میں پڑھنے والے کو اپنا فسانہ محسوس ہو۔
مروجہ دستور کے مطابق ادیب اُسے کہا جاتا ہے جو ادب کے مقرررہ قواعدوضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے ادب تخلیق کرتا ہے۔۔۔نثر لکھتا ہے تو اصنافِ ادب کے خانوں میں اِس کی جگہ تلاش کرتا ہے۔شاعری کے میدان میں قدم رکھتا ہے تو قافیہ ردیف اور اوزان کی بحروں میں سفر کرتا ہے۔ادیب طے شدہ راستوں پر سفر کرنے والا وہ مسافر ہے جس کی نگاہ منزل سے زیادہ نشانِ منزل کی درستگی پر مرکوز رہتی ہے اور وہ راستہ بھٹک جانے کے خطرے اور خدشے سے بے نیاز زندگی کی خوشیاں اور غم لفظ میں سمیٹتا چلا جاتا ہے۔ اور بقدرِ استطاعت ان کا اظہار بھی کرتا ہے۔
انسان فطرتاً آزاد پیدا ہوا ہے ۔اپنی طبع کے خلاف اپنے آپ کو کسی بھی حصار میں محدود کر لینا درحقیقت بڑے حوصلے کا کام ہے۔یہی وجہ ہے کہ ادیب بننا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں ۔اور ادیب بن کر اپنے آپ کو منوانا اس سے بھی بڑا اعزاز ہے۔ بہت کم لکھنے والے ناموری کی معراج کو چھو پاتے ہیں اور اُن میں سے بھی بہت کم اپنے آپ میں اس اہلیت کو پہچان کر نہ صرف خود فیض اٹھاتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوتے ہیں ۔
لفظ لکھنے کے بعد لکھاری اگرچہ آزاد ہو جاتا ہے لیکن ایک چھوٹے دائرے سے بڑے دائرے کے حصار میں چلا جاتا ہے۔ دل میں اُترنے والے لفظ کسی کسی لکھاری کا نصیب ہیں۔لفظ ہمیشہ نظر کے لمس اور احساس کی خوشبو سے زندہ رہتا ہے۔عظیم الشان کتابوں میں لکھے قیمتی لفظ جب تک پڑھے نہ جائیں سمجھے نہ جائیں دل میں نہ اتریں اور سب سے بڑھ کر صاحبِ تحریر کی ذات نہ اُجالیں ۔وہ تابوت میں بند بےجان ممیوں کی طرح رہتے ہیں۔ جنہیں اپنی ذات کے قدیم عجائب گھر میں فخر سے رکھا جاسکتا ہے۔دنیا کو رشک وحسد کے سجدے تو کرائے جا سکتے ہیں لیکن اکثراوقات اہلِ ذوق کی ناقدری سے باعث عبرت بھی بن جاتے ہیں۔
بہت لکھنا یا کسی کی نظر سے اچھا لکھنا اہم نہیں ۔ اہم یہ ہے کہ جو کچھ بھی لکھا جائے وہ دل سے لکھا جائے اور کسی کے دل میں بھی اتر جائے۔بے شک حرف اہم ہیں پریہ ہماری شناخت ہرگز نہیں کہ شناخت صرف عمل سے ہےجو ہر کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتا ہے۔تحریر علم کی غمازی کرتی ہے اور تخلیق عمل کی عکاس ہوتی ہے۔جس قول میں عمل کی روح نہ ہو وہ اپنی موجودگی کا بھرپور احساس تو رکھتا ہے لیکن نظروں کو سالہا سال طواف پر مجبور نہیں کر سکتا۔اقوال کیسے ہی کیوں نہ ہوں ۔ عمل کی بنیاد ضرور ہوتے ہیں، جو کہنے کی جرات نہیں رکھتا وہ عمل کی کشتی کا ناخدا بھی نہیں ہوا کرتا۔ ایسے لوگ بس سب تقدیر کا لکھا کہہ کر جان چھڑا جاتے ہیں۔ہر انسان خاص ہے کہ اس جیسا کہیں بھی کوئی دوسرا نہیں۔لیکن اپنے شرف کی پہچان ہر انسان کو دوسرے سے جدا کرتی ہے۔اس کے باوجود اس کا کہا گیا حرف آخر نہیں اور وہ خسارے کا سوداگر بھی ہے۔

اچھے لکھاری اور مقبول لکھاری میں بڑا فرق ہوتا ہے۔اچھا لکھاری ضروری نہیں ہردلعزیز بھی ہو اور ہرمشہور لکھاری اچھا لکھاری بھی نہیں ہوتا۔ اچھا لکھاری جب نہیں ہوتا پھر اس کے لفظ سمجھ آتے ہیں اور مقبول لکھاری کے لفظ اس کے ساتھ قبولیت کی سند حاصل کرتے ہیں اور اس کے بعد اس کے ساتھ ہی چلے جاتے ہیں۔ اچھے اور مقبول لکھاری سے زیادہ کسی لکھاری کے لفظ کے دوام کا تعین وقت کرتا ہے۔ ہم انسان صرف اپنے محدود علم کے دائرے میں دیکھتے ہیں اور فیصلے صادر کر دیتے ہیں۔
لفظ آنے والے زمانوں کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ لکھنے والے کو دنیا کی معلوم تاریخ میں کبھی اُس کے سامنےمکمل طور پر پہچانا نہیں گیا اور نہ ہی اسے اس کا مقام ملا۔ اہم یہ ہے کہ لکھنے والا خود بھی اپنے لفظ کی اصل تاثیر سے لاعلم ہوتا ہے اور یہی لاعلمی اسے لفظ کے دشت میں چلتے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔
ہر لکھنے والے۔۔۔تحقیق کرنے والے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ وہ وقت ! جب اس کو مان لیا جاتا ہے۔۔۔ پہچان لیا جاتا ہے۔۔۔اپنا لیا جاتا ہے۔۔۔اس کے علم کو اپنے اندر محسوس کر لیا جاتا ہے۔اور پھراس کو تسلیم کر کے اپنی زندگی کے لیے مشعلِ راہ بنایا جاتا ہے۔لیکن!!! یہ وقت بہت کم کسی لکھنے والے،کسی محقق کی زندگی میں آتا ہے۔کوئی انسان جو مروجہ قواعدوضوابط سے ہٹ کر لکھے یا سوچے اور یا پھر کوئی نیا نظریہ پیش کرےاس کے حرف ،اس کی سوچ کو کبھی اس کے سامنے تعظیم نہیں ملی۔تاریخ کا یہ سبق بارہا ہماری نظروں کے سامنے سے گزرا۔اس کے باوجود کسی تعریف وتوصیف سے بےنیاز ہو کر لکھنے والے  لکھتے رہے،سوچنے والے سوچتے رہےاورعمل کرنے والےعمل کرتے رہے۔
لفظ لکھنے کے لیے بھی حوصلہ چاہیے۔ یقین ہواپنی ذات پر، اپنےقول وفعل پرتو لفظ دوست بن جاتے ہیں اوردوستی سے بڑا اعلیٰ وارفع رشتہ اس کائنات کا اور کوئی نہیں۔جس نے اپنی خاک کی قدر صرف جانی ہی نہیں بلکہ اسے چمکدار ذرے کی صورت دُنیا کے سامنے پیش کیا۔۔۔ وہ لازوال ٹھہرا اور دُنیا نے بھی اس کی خاک کی قدر اس کے سامنے کی۔غالب سے لے کر اقبال تک اور اس صدی میں فیض سے لے کر فراز تک سب وقت کی نبض تھام کر ہی اوج کمال کو پہنچے۔ جب کہ اپنی ذات کے خول میں بند رہنے والےخواہ اصلی ہیرے بھی تھے۔۔۔ دُنیا کی بےحسی کا نوحہ پڑھتے رُخصت ہوئے۔ اُُن کے بعد بھی ان کے مزار بنا کر اس پرآہوں کے ہارتو ڈالے جاسکتے ہیں لیکن ان کی خوشبو بہت کم کسی کی زندگی میں صبح بہار کا پیام دیتی ہے۔ مصطفٰے زیدی،ناصر کاظمی،مجید امجد،ساغر صدیقی سے جون ایلیاء تک ایک طویل فہرست ہے۔ جن کی زندگی کہانی زمانے کی ناقدری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔جو ادب انسان کو اپنی ہی زندگی برتنے کا قرینہ نہ سکھا سکے وہ زیادہ دور تک روشنی نہیں پھیلا سکتا۔ادب برائے زندگی اگر اپنے آپ کو ایک نئی زندگی دینے کے لیے ہوتو اس سے بہتر تحفہ اور کوئی نہیں جو ہم اپنے آپ کو دے سکتے ہیں۔جو ادب صرف ادب برائے لذت ہے وہ وقتی تفریح ہے،پھلجھڑی ہےاور کچھ بھی نہیں۔جس ادب سے ہم کچھ سیکھ نہ سکیں وہ اس کھانے کی طرح ہے جس کی پیٹ میں جا کر شیلف لائف چند گھنٹے سے زیادہ نہیں اور اس کے بعد وہ ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتا ہے۔یہی بات صرف ادب یا لفظ سے تعلق پر ہی نہیں بلکہ ہر انسانی تعلق،اس سے بنتے ہر رویےاور ہر احساس پر بھی پورا اترتی ہے۔
رب نے ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند انسان کو ایک جیسی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ اب یہ وقت اور تقدیر کے فیصلے ہیں کہ کوئی کہاں تک اِن سے فیض اٹھا پاتا ہے ۔سب سے زیادہ دکھی وہ لوگ ہوتے ہیں جو بہت سمجھ دار ہوتے ہیں لیکن ایسی سمجھ کا کیا فائدہ جس سے وہ اپنے لیے خوشی بھی نہ حاصل کر سکیں۔دُکھ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ دوسرے آپ کو کتنا سمجھتے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو کتنا جانتے ہیں۔

4 تبصرے :

  1. ہیروں کی قدر صرف جوہری جان سکتا ہے۔ ماضی میں جوہری زیادہ تھے ہیرے کم اب شائد ہیرے زیادہ ہیں جوہری کم ہیں ۔
    تخلیق ادب نہ ہونے کے برابر ہے تحریر ادب پر لائبریریں بھری پڑی ہیں۔ یہ میڈیا کا دور ہے جہاں اچھا گانے والے بھی سڑکوں پر ڈھول بجاتے رہ جاتے ہیں۔ بہت پہلے ناصر کاظمی کا ایک شعر پڑھا تھا ۔

    جنہیں زندگی کا شعور تھا انہیں بے زری نے بچھا دیا
    جو گراں تھے سینۂ خاک پر وہی بن کے بیٹھے ہیں معتبر

    کسی اور جگہہ وہ یوں بھی کہتے ہیں

    یہ بجا ہے آج اندھیرا ہے ذرا رت بدلنے کی دیر ہے
    جو خزاں کے خوف سے خشک ہے وہی شاخ لائے گی برگ وبر

    جواب دیںحذف کریں
  2. واقعی لاجواب لکھا ہے۔۔تبصرہ کیلئے کچھ باقی رہ ہی نہیں گیا

    جواب دیںحذف کریں