بدھ, جولائی 30, 2014

" رمضان 1435 ہجری "

موسم اور مزاج کی اونچ نیچ محسوس کرتا۔۔۔ انسان کے انسان پر انسانیت سوز مظالم کی دلخراش داستانیں اپنے اندر سموتا۔۔۔اا رحمتوں اور برکتوں کا ماہ مقدس اختتام پذیر ہوا۔ اس ایک ماہ میں زندگی نے کیا کیا رنگ دکھائے؟ نظر نے کہاں کہاں فرش سے عرش تک کے نظارے دیکھے؟ بجائے خود ایک داستانِ الف لیلیٰ ہے۔ اور پھر "سب فانی ہے" کے احساس نے گویا فتوٰی لگا کر قلم ہی توڑ دیا۔
 ایک نظرگزشتہ تیس ایام پرڈالوں تو ہرمنظرایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ ہجری سال 1435 کا ماہ رمضان جتنی گرمی اور پیاس کی شدت کے احساس کے ساتھ طلوع ہوا اور اسی خنکی اوربرستی بارشوں کے ساتھ اپنی یادیں چھوڑ گیا۔ایک عجیب سی اداسی ہے جوجسم وجاں کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔
 اس ایک ماہ میں کچھ بھی تو نہیں بدلا!!! کہیں ایک انچ کی تبدیلی دکھائی نہ دی۔ نہ فرد کی سطح پر اور نہ ہی معاشرے میں۔ ہمارے بازاراسی طرح پُررونق ہیں۔۔۔ہمارے تعیشات اسی طرح جاری وساری ہیں۔۔۔ہماری ملکی سیاست اسی طرح چند افراد۔۔۔ چند خاندانوں کے گھر کی لونڈی بنی ان کی خدمت میں مصروف ہے۔۔۔ ہمارے خوشحال طبقات اسی طرح "سانوں کی" کا ورد کرتے ہوئے زندگی کالطف اٹھائے جارہے ہیں۔۔۔ہماری افطاریاں ہماری سحریاں دیسی بدیسی ہوٹلز کے پُرکشش پیکجز سے استفادہ کرتی ہیں،جہاں ایک شخص کے افطار یا سحر کا خرچ ایک درجن سے زائد افراد کے لیے کافی ہے۔۔۔ ہم عام عوام اسی طرح لوڈ شیڈنگ ،انقلاب اور لانگ مارچ کی "انسانی آفات" کے کرشمے بھگت رہے ہیں۔۔۔دل بہلانے کو ٹی وی آن کریں۔۔۔ جو ہرخاص وعام سے لے کرسب کے لیے ارزاں تفریح کا ذریعہ ہے۔۔۔ تودین ودنیا" محمودوایاز" کی طرح ایک صف میں ملتے ہیں۔۔۔ ایمان بھی بچتا ہے اور نفس بھی تسکین پاتا ہے۔ غرض اسی خود فراموشی میں روز وشب گزرتے چلے گئے۔
لیکن!!! کون سا ایمان؟ ۔ ایمان کے بارے میں یہ حدیث صبح شام سماعت میں گونجتی رہی۔
ایمان کو پرکھنے کے تین درجےـ
 ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے اسے چاہیے کہ اسے اپنےہاتھ سے مٹائے اگر ہاتھ سے مٹانے کی طاقت نہ ہو تو اسے اپنی زبان سے مٹائے اور اگر زبان سے مٹانے کی طاقت نہ ہو اس برائی کو اپنے دل سے مٹائےیعنی دل سے اس سے نفرت کرے۔ یہ ایمان کا سب سے کمزورترین درجہ ہے"۔
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 179
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 49
سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1137
سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 1312
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1275
وقت اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایمان کے سب سے آخری درجے پر قدم جمانا بھی دشوار سے دشوارتر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان دل میں کسی بات کو برا جانے اور ظاہر سے اس کا رتی بھر بھی اظہار نہ ہو۔ سب سے پہلے تو اپنے اندر یہ بےچینی رہی کہ کہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری نہ ہو جائے۔۔۔ اپنے پختہ کمروں اور دستر خوان دیکھ کر دل ان بےکسوں کی دہائی دیتا رہا جنہوں نے اپنے ہی ملک میں ہجرت کی۔ دو لاکھ آبادی والے شہر (بنوں ) نے کیسے ان دس لاکھ افراد ( فوج کےضرب عضب کی وجہ سےشمالی وزیرستان سے ہجرت کر کے آنے والوں) کو اپنے اندر سمو لیا۔
اس میں شک نہیں کہ ہماری قوم بےحس نہیں۔۔۔ بہت کام ہوئے اور ہو بھی رہے ہیں۔ سڑکوں پر، ہسپتالوں میں عام لوگوں کے فی سبیل اللہ روزے کھلوائے گئے۔ جگہ جگہ امداد کے لیے کیمپ لگائے گئے۔ لیکن یہ وقت اجتماعی طور پر ساتھ دینے کا تھا۔ کیا فرق پڑ جاتا اگر ہم صرف ایک ماہ جذبہ اخوت کو عام کر دیتے۔ اپنی لذت کام ودہن کو کچھ وقت کے لیے فراموش کر دیتے زندگی میں صرف ایک عید نہ مناتے۔ ویسے بھی اگر ہمارے اپنے گھر میں ماتم ہو جائے کوئی پیارا بچھڑ جائے تو پھرعید کا کسے ہوش رہتا ہے۔ ہم نے مقدور بھر زکوٰۂ ،صدقات اور خیرات دے کراپنا فرض بھی پورا کیا۔ لیکن پھر بھی تشنگی باقی رہی۔ "حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا " والی بات تھی۔ سالوں سے مجبور اورمظلوم فلسطینوں پر ہونے والی حالیہ لرزہ خیز قتل وغارت گری نے زندگی کے رنگ پھیکے کر دئیے۔
!حرف آخر
سب بھلا کر چہرے پر بےنیازی اور خودفراموشی کا بناؤسنگھار کرنا بہت کٹھن مرحلہ ہے۔اوراس سے بھی دشوار۔۔۔ لب یوں سی لینا کہ "خودکلامی"کہیں بہت دور محسوس ہو۔ لیکن !!! لفظ اپنی جگہ آپ بنا لیتا ہے۔ سوچ کی خوشبو بکھرے بغیر رہ نہیں سکتی۔۔۔ایسے جیسے ہوا میں سرسراتی آکسیجن جو دکھائی بھی نہ دے اور جس کے بنا کچھ سنائی بھی نہ دے۔

1 تبصرہ:

  1. ڈئیر نورین ۔ ۔ بہت خوب انداز میں رمضان کی آمد و رخصت کے حوالے سے دلی محسوسات کو پیش کیا ہے۔ ۔ ۔ اعمال کی قبولیت کا انحصار نیت پر ہے ، نہ کہ ظاہری عبادات پہ۔ ۔ ۔جب تک دل اور روح شاملِ تپسیا نہ ہو ۔ ۔ کچھ بھی نہیں بدلتا۔ ۔ ۔خوش رہیں

    جواب دیںحذف کریں

"معلوماتِ قران"

٭لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس(50) بار اور بطور نکرہ اسی(80) بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویس...