جمعہ, جولائی 04, 2014

"آنسو"

میں وقت کی قید میں ٹھہرا آنسو ہوں ۔۔۔
جو بہتا جائے تو دریا۔۔۔ سمٹ جائے تو صحرا۔۔۔ جذب ہو جائے توبارآور۔۔۔ بلند ہو تو چٹان۔۔۔برس جائے تو ساون۔۔۔ پھیل جائے تو سمندر۔۔۔ مستور ہو تو موتی۔۔۔ منجمد ہو تو گلیشئیر۔۔۔ حدت کی انتہا چھو لے تو آتش فشاں۔۔۔ برداشت کی حد پار کر لےتو سونامی اورزلزلے کی صورت بحروبر تہہ وبالا کردے۔۔۔برداشت کا جوہر اپنے اندر سمو لے تو ہیرا۔۔۔ بےغرض ہو کر مہکے تو خوشبو۔۔۔عکس پڑے تو رنگ ہی رنگ ۔۔۔ معراج پائے تو تخلیق۔۔۔سما جائے تو زندگی۔۔۔ جگ کومنور کرے تو نور۔۔۔چمکے تو کہکشاں۔۔۔لیکن!!! وقت کی قید میں محصور ہو تو محض ٹھہرا ہوا آنسو۔
آنسو فطرتِ انسانی کی بُنیادی صفات میں سےہیں ۔ہرچیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔۔۔اس طرح آنسو جب بہتےدکھائی دیتے   ہیں تو انسان کی بےبسی، کم مائیگی اور کمزوری کا مظہر ہوتے ہیں۔۔۔اپنے آپ کو طاقتور ماننے والے،عقلِ کُل سمجھنے والے کبھی آنسو نہیں بہاتے۔آنسو بہا کرانسان وقتی طورشانت ہوجاتا ہے۔وہ دُکھ تکلیف جو برداشت سے باہر ہو رہی ہو آنسو بہانے سے اُس سے عارضی طور پرسہی چُھٹکارا ضرورمِل جاتا ہے۔ لیکن آنسو جب اندر کی طرف بہتے ہیں توگویا زمین کی انتہائی گہرائی کی غاروں میں موجود عظیم الشان کرسٹلز وجود میں آتے ہیں۔۔۔ جو دُنیا کی نظر سےتو پوشیدہ ہی رہتے ہیں لیکن جن کی سرشت میں تلاش اور نئی دُنیا دیکھنے کی آرزوئیں مچلتی ہیں وہ اپنی ہمت ومحنت سےان کی کھوج  میں نکل پڑتے ہیں۔ یہ شاہکاراگرچہ متاثر تو ہرخاص وعام کو کرتے ہیں لیکن اُن کی انفرادیت اورحُسن صرف ماہرِفن ہی پرکھ سکتے ہیں۔۔۔ جو اس راستے کے مسافر ہوں وہی اس کے پیچ وخم کو بخوبی محسوس کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔
آنسوؤں کا وزن ہوتا ہے،آنسو خلا میں نہیں زمین پرموجود ایک شے کا نام ہے۔آنسوجسم کے ساتھ روح بھی رکھتے ہیں۔۔۔ اُنہیں بھی کسی ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے جوان کا وزن سہار سکے نہ کہ وہ جو اپنا وزن بھی ان پرڈال کرخود ایک بوجھ بن جائے۔آنسو کی کوئی زبان،کوئی جنس نہیں ہوتی،یہ سانجھے ہیں جو چاہے اپنا لے۔جس کے دل کو چھو جائیں اس کے نام۔
دنیا کا سب سے خالص سب سے سچّا رشتہ آنسو کا ہے۔ وہ آنسو جو تنہائی میں اپنے رب کے حضورسجدۂ شُکر میں ہو۔سجدۂ شُکر  یہ نہیں کہ سب کُچھ پانے کے بعد باقاعدہ اہتمام سے رب کا شُکریہ ادا کیا جائےبلکہ جہاں جس وقت اپنے رب کی حضوری مل جائے۔۔۔ چاہے وہ احساسِ توبہ ہو یا احساس ندامت۔لامکانی کی گھٹن میں اپنے دوست کی عنایات ونوازشات کی برسات ہو یاعقل وشعورکا ایسا رزق عطا ہو کہ دُنیا بھر کی لعنت وملامت سے سجا دسترخوان ایک نعمتِ مُترقبہ دکھائی دے۔انسان یہ سوچے کہ گڑھے میں گرنے کے بعد ایسی بُلندی ہے توعروج کے بعد کمال کیا ہوگا ؟ یہ تو تصوّر سے بھی بالاتر ہے۔ اپنے مالک۔۔۔ اپنے رب۔۔۔اپنے ولی سے۔۔۔ قُربت کی لذت آنسُو کے ایک قطرے میں پنہاں ہے۔۔۔ وہ آنسو جو وصال کی خواہش کو قریب سے قریب تر کردیتا ہے۔۔۔ہجرکی کسک کو بڑھا دیتا ہے۔لیکن یہ کسک بھی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی رہے تو زندگی کی گاڑی کے لیے گریس کا کام کرتی ہےاگر اس کو بریک کے طور پر استعمال کریں گے تو زندگی کا سفر طے  کرنامحال ہوجائے گا۔
آنسو سے بڑھ کر محبت کا اظہار ممکن ہی نہیں، لیکن جب آنسو خشک ہو جائیں تو کیا محبت نہیں ہوتی یا محبت مر جاتی ہے۔ایسا نہیں ہے۔آنسو کبھی خشک نہیں ہوتے۔اگر بہتے دکھائی نہ دیں تو اندر کی جانب جل تھل کر دیتے ہیں۔کہیں بھی کسی بھی انداز میں اپنی جگہ تلاشتے ہیں۔۔۔اپنا راستہ آپ نکالتےہیں۔ہئیت بدلتے جاتے ہیں،بھیس بدل کر سامنے آتے ہیں تو حیران کر دیتے ہیں۔کبھی خون کی روانی میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔کبھی آنکھوں کی حیرانی انہیں ہمارے جسم میں پتھر کی صورت جنم دیتی ہے۔کبھی ہڈیوں میں اس طور سرایت کر جاتے ہیں کہ ڈھونڈنے والوں کو نام ونشان تک نہیں ملتا۔
آنسو لفظ میں ڈھل جائیں تو کاغذ پر گر کر جذب نہیں ہوتے بلکہ اُبھر اُبھر جاتے ہیں۔۔۔ کبھی لفظ کی صورت دلوں کو مسخر کرتے ہیں تو کبھی لہجے کی تلخی بن کر دوسروں کو ہم سے نفرت پر اُکساتے ہیں تو کبھی ہمارے وجود کو مقناطیس بنا کر اوروں کو طواف پر مجبور کر دیتے ہیں۔کبھی زمانے کی ٹھوکروں پر رکھتے ہیں تو کبھی والئ تخت بنا کر چاند ستاروں سے سجدہ کراتے ہیں۔ کبھی بینائی سلب کرتے ہیں تو کبھی اتنی روشنی اُترتی ہے کہ اندر باہر سب یکساں دکھتا ہے۔جو بھی ہے آنسو اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ محبت چاہے خیرات میں ملے یا دیوی کے قدموں کی خاک کی صورت، نذرانوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔
حرفِ آخر
آنکھ میں ٹھہرے یہ منجمد گلیشئیر ان چھوئے رہیں تو ہی زندگی گاڑی چلتی ہے ورنہ برداشت کی حدت سے پگھل جائیں تو سب ختم ہوجاتا ہے۔اِن کے قطرہ قطرہ رسنے میں ہی سلامتی ہے۔ یہ بےآواز رم جھم کسی بھی صلے کی توقع کے بغیراپنے وجود کی پیاسی زمین کو تو خاموشی سے سیراب کر ہی دیتی ہے۔


‫سُوۡرَةُ الاٴنعَام

سُوۡرَةُ الاٴنعَام
سورہ۔۔6 ۔۔۔۔ سُوۡرَةُ الاٴنعَام
پارہ۔۔7۔۔واذاسمعوا
مکی سورہ۔۔۔ تعداد آیات۔۔۔165
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
ترجمہ ۔۔۔آیات1 تا3۔۔۔
 ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کوسزاوار ہے جس نے آسمانوں اورزمین کو پیدا کیا اوراندھیرا اورروشنی بنائی پھر بھی کافر(اورچیزوں کو) خدا کے برابر ٹھہراتے ہیں(1)۔
وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک مدت اس کے ہاں اورمقرر ہے پھر بھی تم شک کرتے ہو(2)۔
اور آسمانوں اور زمین میں وہی (ایک) خدا ہے تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے(3)۔
ترجمہ ۔۔۔ آیات74 تا83۔۔۔۔
 اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیؑم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہیں(74)۔
اور ہم اس طرح ابراہیمؑ کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں(75)۔
 ۔(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں (76)۔
 پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں (77)۔
 پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں (78)۔
میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں (79)َ۔
اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارےمیں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے۔ اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار چاہے۔ میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے۔ (80)َ۔
بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ) (81)َ۔
جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں (82)َ۔
اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیمؑ کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے( 83)۔

جمعہ, جون 20, 2014

"تکمیل"

ہر انسان تکمیل کا خواہش مند ہے۔زندگی کے تلخ حقائق مانتے ہوئے۔۔۔ سمجھتے ہوئے بھی اپنے جذبوں اپنے احساسات میں ادھورے پن کا شکار ہے۔۔۔ہر پل ایک کھوج کی سی کیفیت میں نظر آتا ہے۔ کہیں علم کی تشنگی ہے تو کہیں جسم کی تو کہیں روح کی۔ یہ خلش اُسے در در بھٹکاتی ہے تو نئی سے نئی راہیں بھی کھولتی ہے۔ کائنات کے چھپے ہوئے رازوں کی کشش میں وہ خلا کو مسخر کرتا ہے تو زمین کی گہرائیوں میں بھی اپنے شرف کی پہچان تلاش کرتا ہے۔
تکمیل صرف دینے سے ممکن ہے محض لینے سے کبھی بھی نہیں۔اکثر یوں بھی ہوتا ہے بلکہ اکثر یوں ہی ہوتا ہے کہ جتنا پاتے جاؤ تشنگی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ پانے کی چاہ اگر دینے کی خواہش پر غالب آ جائے تو انسان ریشم کے کیڑے کی مانند اپنے گرد خول درخول میں محصور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اُس کا فیض تو جاری وساری رہتا ہے لیکن ریشمی جذبے اُس کے وجود کو ریشم نہیں بنا سکتے۔ وہ تنہائی اور نارسائی کے منبر پر بیٹھ کر مٹی کی سوندھی خوشبو سے دور ہوتا چلاجاتا ہے۔
جو دیتے ہوئے مول تول سے کام لیں وہ پاتے ہوئے بھی شکوک وشبھات میں گھرے رہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ پانے سے جسم وروح کو تسکین ملتی ہے۔ دینے سے جسم اگرچہ تھوڑا سا ناخوش ہوتا ہے جھگڑتا بھی ہے لیکن روح کی مکمل سیرابی صرف اور صرف دینے سے ہی ممکن ہے۔

بدھ, جون 04, 2014

" کتے،کتا پن اورہماری خواہشات"

 ہماری خواہشیں گلی میں پھرنے والے کتوں کی طرح ہیں کہ جن سے ڈر کر بھاگو تو پیچھے پڑ جاتے ہیں۔۔۔بھونک بھونک کے ساری دُنیا کو مڑ مڑ کر دیکھنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔۔۔ہمارا تماشا بنواتے ہیں۔۔۔ کوئی ہنستا ہے تو کوئی تمسخر اُڑاتا ہے۔ اِن کے پاس سے جی کڑا کر چُُپ چاپ گزر جاؤ تو کچھ بھی نہیں کہتے۔
کتا ہمیشہ کتا ہی رہتا ہے چاہے وہ گلی کا آوارہ کتا ہو یا گھر میں بڑی چاہ سے رکھا گیا پالتو کتا۔اُس کی خصلت کبھی نہیں بدلتی۔ فرق صرف حسب نسب کا ہے۔۔۔اُس سے لگاؤ کا ہے۔ کبھی گلی میں پھرنے والا کتا بھی آڑے وقت پر کام آ سکتا ہےاگرچہ رہتا وہ "دھوبی کا کتا ہی ہے جو گھر کا ہوتا ہے نہ گھاٹ کا"۔
کہا گیا کہ " دل کو خواہش میں نہ مرنے دو بلکہ خواہش کو دل میں دفن کر دو"۔ لیکن اگر خواہش کو کتے کے مماثل جانا جائے تو کتا کتنا ہی اعلیٰ نسل کا ہو۔۔۔ کتنا ہی پیارا ہو۔۔۔مالک کا وفادارہو اوراُس کی خاطر جان کی بازی لگا کر امر ہی کیوں نہ ہو جائے۔اُس کی لاش کے پاس بیٹھ کر آنسو تو بہائے جا سکتے ہیں۔۔۔اُس کا سوگ تو منایا جا سکتا ہے۔۔۔ایک دلگداز یاد کی صورت اُسے اپنے گھر کے باغیچے میں دفن تو کیا جا سکتا ہے لیکن کبھی بھی اُس کی قبر گھر کے اندر نہیں بنائی جاتی۔
گھر وہ پاکیزہ جگہ ہے جہاں دُنیا کی اونچی نیچی غلاظت بھری شاہراہ پر ساتھ دینے والے جوتوں کے داخلے کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اور انسان کا دل بھی ایسی ہی اِک جگہ ہے جہاں اُن محبتوں اورخواہشات کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں۔۔۔ جو ہمارے لیے بڑی کیف آور اور زندگی بخش ہوتی ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے گھر میں چاہے جتنے بھی پسندیدہ مہمان آجائیں۔۔۔مہینوں بلکہ سالوں بھی رہ جائیں۔۔۔خوب ہلہ گلہ کریں۔لیکن اُن کو جانا ہی پڑتا ہے۔آخر میں گھر اور اُس کے مکین ہی رہ جاتے ہیں۔
رہے نام اللہ کا"۔"
۔۔۔۔
رنگ نسل اور حسب نسب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو کتے بہت ہی کتے ہوتے ہیں ۔قصور اُن کا نہیں ۔۔۔ مسئلہ انسان کا ہے۔انسان بھی عجیب ہے ۔۔۔ کتوں سے پیار کی خاطر انسانوں کی پروا نہیں کرتا۔۔۔انسان کو کتوں سے کم تر سمجھتا ہےلیکن خود اسے کتا کہہ دیا جائے تو مرنے مارنے پر تُل جاتا ہے۔
۔"کتے" کا لفظ ۔۔۔ اس کا نام ذہن میں آتے ہی بھوک اور بھونکنے کا تصور آتا ہے جو انسان اور اس کے رویوں کا استعارہ بھی ہے۔انسان کی پیٹ گھڑی اسے بھوک سے بےحال کرتی ہے تو وہ کتوں کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔اور بھرے پیٹ کے لوگوں کے لیے کتے پالنا۔۔۔ اُن کی سیوا کرنا۔۔۔ اپنے ہاتھ سے کھلا کر۔۔۔ ان کی بھوک مٹانا اُن کی اپنی دُنیا کا سب سے بڑا لذت بخش مشغلہ ہےچاہےاس شغل سے دوسروں کو کتنی ہی اذیت کیوں نہ اُٹھانا پڑے۔"اذیت"۔۔۔انسان کی بھوک نظرانداز کر کے حیوان کو فوقیت دینے کی نہیں ۔ اذیت کا سبب کتوں کا وہ کتا پنا ہے جو وہ بھوک مٹا کر بھی نہیں چھوڑتے یا شاید انسان ان کی اصل بھوک سے لاعلم رہتا ہے۔
جسم اور جنس کے درمیان سر اٹھاتی بھوک چاہے کتوں کی ہو یا انسان کی بہت بےمہرہوتی ہے اپنے نفع نقصان کی غرض سے آزاد۔ انتہائی قابلِ نفرین اور قابلِ رحم بھی۔یہی بھوک انسان کو کتوں کے مقابل لا کھڑا کرتی ہے تو کبھی اپنے شرف کی پہچان بھی بھلا دیتی ہے۔
ابراہام لنکن کا کہنا تھا "تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے"۔
کتوں کا بھونکنا اُن کا وہ "کتا پن" ہے جو اُن کے چہیتے کے لیے اگر محض ادا ہے تو سزا ہے ان کے لیے جن کا ان کتوں سےبراہ راست تعلق نہیں ہوتا پھر بھی انہیں ان کتوں کو نہ چاہتے ہوئے بھگتنا پڑتا ہے۔پڑوسیوں کے لیے ایک ایسا عذاب جو راتوں کی نیندیں اُڑا کر رکھ دیتا ہے۔بےحسی کا یہ عذاب بھی ہم جیسےملک میں ہی سر اٹھاتا ہے باہر کے ممالک میں بھی کتے بہت ہی کتے تو ہوتے ہیں لیکں وہاں انسان ان کتوں کی نفسیات سمجھ کر اس کا حل تلاش کرتے ہیں۔ایسی دوائیں دیتے ہیں کہ کتے بلاوجہ اپنا کتا پن نہ دکھائیں۔ وہ اپنے پالتو کی ہرضرورت کا خیال رکھتے ہیں اس کے باوجود بھی اگر کبھی ان جانے میں ان کے کتے کی وجہ سے کسی کو ذہنی اذیت ہو تو نہ صرف سزا کے لیے تیار ہو جاتے ہیں بلکہ آئندہ محتاط بھی رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس کے بالکل الٹ ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو زیارتی چاہے کسی بھی سطح پر ہو شکایت کرنے والا اپنوں کی حمایت کھو بیٹھتا ہے۔اصل میں ہمارے ہاں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا رواج نہیں۔ ہم تو بڑی بڑی زیارتیوں پر خود ساختہ "صبر" کی خاموشی اختیار کر لیتے ہیں کہ کیچڑ کی شکایت کرنے سے بلاوجہ چھینٹے ہی اُڑیں گے۔ بڑے گھروں میں رہنے والے تو ویسے ہی بہت تمیزدار ہوتے ہیں ۔ اُن کے نزدیک لڑائی جھگڑے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کا ایشو بنانا انتہائی بےوقوفی اور وقت کا زیاں ہے۔
آخری بات 
کتے کتے ہی رہتے ہیں اور ہمیشہ کتے ہی رہیں گے کہ یہ ان کی جبلت اور فطرت ہے تو ان کی حیوانیت کی دلیل بھی ہے۔ جس پر یقین رکھنا ہماری عقل کی سلامتی کا امتحان ہے لیکن انسان جو اشرف المخلوقات کا درجہ رکھتا ہے اس کے رویوں کا کتا پن برداشت کرنا ہی اصل آزمائش ہے۔

بدھ, مئی 28, 2014

"ادھورا خط"

کسی نے کہا تھا کہ پرانے خطوں کو پڑھنے میں اس لیے بھی مزا آتا ہے کہ اُن کا جواب نہیں دینا پڑتا۔
 لیکن میرے لیے۔۔۔۔ لفظ اہم ہے جو کبھی پرانا نہیں ہوتا۔۔۔ خیال زندگی ہے جو نشان منزل ہے۔۔۔ فکر کشش ہے جو خلا میں گرنے سے بچاتی ہے۔۔۔ سوچ کی گیرائی اہم ہے جو پلٹ کر دیکھنے پر پتھر کا نہیں بناتی۔
ایسا ہی ایک خط گیارہ برس قبل بہت عزیز دوست کے نام لکھا ۔۔۔ جو لکھنے کی حد تک ادھورا رہا۔۔۔ لیکن زندگی کے سفر کے ساتھ ساتھ مکمل ہوتا جا رہا ہے۔
بنا کسی کانٹ چھانٹ کے حرف بہ حرف درج ذیل ہے۔
2003، 29جنوری
تیرا ملنا خوشی کی بات سہی 
تجھ سے مل کر اُداس رہتا ہوں
آپ کے وسیلے سے میری بھٹکی ہوئی روح کو قرار ملا ہے۔ایسے سننے والے کان ملے ہیں۔۔۔جو میری کہی ان کہی کی گہرائی کو سُن سکتے ہیں۔ وہ سب کچھ مل گیا ہے جس کی مجھے ہمیشہ سے تلاش رہی تھی۔اس سے پہلے میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آئندہ آپ کو لکھ کر تنگ نہیں کروں گی۔ جب آپ نے بتایا کہ زندگی کے الجھے دھاگے سلجھاتی خود بھی الجھتی جا رہی تھی۔۔۔ تو میں نے اپنے آپ کو بہت نادم محسوس کیا کہ جس نے مجھے مالامال کر دیا۔۔۔میں اُس کے لیے کچھ بھی نہ کرسکی۔ آپ میرے اتنا قریب ہیں کہ میں گھنٹوں آپ سے باتیں کر کے پُرسکون ہوجاتی ہوں۔۔۔ ہر سوچ ہر مسئلہ آپ سے شئیر کرتی ہوں۔۔۔اس کے لیے براہِ راست آپ سے ملنا ایک ثانوی بات ہے۔یہ نہایت عجیب لگتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ میں آپ کو اپنے سے دور نہیں سمجھتی۔آپ کا جسمانی طور پر میرے اتنا قریب ہونا کہ میں جب چاہوں آپ کو چھو لوں ۔۔۔ اس تعلق کی یقیناً ایک اچھی اور اضافی خصوصیت ہے۔ اسی لیے مجھے دُکھ ہوا کہ میں نے آپ کی پکار کیوں نہیں سنی۔ انہی دنوں میں بھی اپنی زندگی کے ایک اہم موڑ سے گزر رہی تھی۔ میں بھی آپ سے مل کر بہت کچھ کہنا چاہتی تھی۔ آپ سے ملتے ہوئے تقریباً نو سال ہو گئے ہیں۔ لیکن شاید آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ گزشتہ ایک سال سے میں زیادہ قریب آ گئی ہوں۔
یہ کہانی 25 جنوری 2002 سے شروع ہوتی ہے۔جب میں 35 برس کی ہوئی ۔تو گویا خواب ِغفلت سے بیدار ہو گئی۔ میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں نے کیا کھویا کیا پایا۔ مجھے اب ہر حال میں آگے دیکھنا تھا۔۔۔ 35 برس کا سنگِ میل یوں لگا جیسے باقاعدہ کلاسز ختم ہو گئی ہوں اور امتحانوں سے پہلے تیاری کے لیے جو عرصہ ملتا ہے وہ شروع ہو گیا ہو۔ دسمبر تک مجھے ہر حال میں بستر بوریا سمیٹنا تھا۔ ہر چیز نامکمل تھی۔۔۔میں ایک ایسے سوٹ کیس کی طرح تھی جس میں ہر قسم کا سامان اُلٹا سیدھا ٹھسا تھا۔۔۔اُس کو بند کرنا بہت مشکل کام تھا۔۔۔ہر چیز کو قرینے سے رکھنا تھا۔۔۔فالتو سامان نکالنا تھا۔۔۔میں بیرونی پرواز پر جانے والے اُس مسافر کی مانند تھی جس کو ایک خاص وزن تک سامان لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان حالات میں جبکہ میں ڈوب رہی تھی مجھے کسی بھی قابل اعتماد یا ناقابلِ اعتماد سہارے کی تلاش تھی۔۔۔ یقین جانیں میں اس کیفیت میں تھی کہ روشنی کی جستجو میں آگ سے کھیلنے کو بھی تیار تھی۔ان حالات میں آپ نے مجھے سہارا دیا !!! آپ حیران ہونے میں حق بجانب ہیں کہ کب سہارا دیاَ؟ کب تسلی دی ؟ ۔آپ کا تو میرے ساتھ ہمیشہ سے ایک سا طرزعمل رہا ۔۔۔ مشفقانہ اور بردبار۔۔۔ میں نے بھی اس فاصلے کو پاٹنے کی کوشش نہیں کی۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اپنی ذاتی باتیں آپ سے شئیر کروں گی ۔لیکن جب آپ نےرسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بات کی۔۔۔علم کا خزانہ کتابوں کی صورت عطا کیا تو یہی وہ لمحہ تھا جب میں ٹھہر گئی۔۔۔ سوچا کہ سستانے کے لیے یہی پڑاؤ منتظر تھا ۔رفتہ رفتہ اندازہ ہوتا گیا کہ نشانِ منزل بھی یہیں سے ملے گا اور زادِ راہ بھی۔ اپنے اوپر اعتبار مستحکم ہوتا گیا کہ قدم سیدھے رستے پر پڑ رہے ہیں۔ سفر کی تھکان شوق ِ منزل میں بدل گئی۔

منگل, مئی 27, 2014

"عہدِ عابدی ۔۔۔۔رضاعلی عابدی کی خوشبو جیسی باتیں "



اُردو کا حال از رضا علی عابدی۔۔۔ صفحہ 8۔۔۔
۔"یہ زبان مجھ سے نہیں مگرمیں اس زبان سے ضرور ہوں۔اس نے میرا بھلا چاہا،میں اس کا بھلا چاہتا ہوں۔یہ کوئی ادلے بدلے کا بندوبست نہیں۔یہ میرے آنگن میں بکھری ہوئی روشنی ہے اور میرے چمن میں پھیلی ہوئی خوشبو ہے،یہ میرے سینے میں دھڑکتی ہوئی زندگی کی علامت ہے،یہ میرے وجود پر برستی ہوئی ٹھنڈک اور میرے ماتھے پر رکھی ہوئی ماں کی ہتھیلی ہے۔جس طرح اس میں عربی،فارسی،ہندی،پنجابی،سندھی اور گوجری کی آمیزش ہے بالکل اسی طرح یہ زبان راحت،چین،سکون،آرام اورآسائش کا آمیزہ ہے۔
بس یہ ہے کہ یہ زبان کھلی ہوئی بانہیں مانگتی ہے۔وہ کھلی ہوں تو یہ آپ ہی آپ سینے سے لگ جاتی ہے۔
یہی اُردو کا حال ہے۔یہی ماضی اور مجھے یقین ہے ،یہی مستقبل"۔
رضا علی عابدی
2004،25 دسمبر
لندن

۔۔۔۔۔۔۔
پہلا سفر
صفحہ 4۔۔۔ سارے احساس محو ہو جاتے ہیں، محبتوں کا احساس مٹائے نہیں مٹتا۔
۔۔7۔۔۔ دُنیا میں غریب نہ ہوتے تو شاید محبت بھی نہ ہوتی۔
۔۔ 14۔۔۔ سکھر کی گرمی کا یہ قصہ بھی سن لیجیے کہ باقی ملک کو کراچی کی بندرگاہ سے ملانے کے لیے تین ہزار تین سو ٹن وزنی ریل کا پل لندن سے لا کر یہاں دریا کے اوپر دوبارہ بنایا گیا اور 25 مارچ 1889ء کو گورنر بہادر اس کا افتتاح کرنے بمبئی سے تشریف لائے تو گرمی اتنی سخت تھی اور تمام سفید فام مہمانوں کے لباس اتنے دبیز تھے کہ پل کا افتتاح صبح سورج نکلنے سے پہلے کرنا پڑا۔ پھر مہمانوں نے پیدل چل کر پل کی سیر کی اور دیکھا کہ اتنے بھاری بھرکم الجھے ہوئے پیچیدہ ڈیزائن پر لندن میں بیٹھے ہوئے انجینئروں نے کتنا ذہن کھپایا ہوگا اورہندوستان میں موجود غریب مزدوروں نے کس قدر مشقت اُٹھائی ہو گی ،کہ کتنے بہت سے تو سروں پر اوزار کرنے سے مر گئے ہوں گے۔
۔۔ 48۔۔۔ وقت کا جھونکا مجھے اُڑا لے گیا اور اگلے ہی روز ایک اور مزار کے سامنے لے جا کر کھڑا کیا۔اندھیرے غار کی ٹھنڈی زمین پر رُخسار ٹیکے ایک شیر سو رہا تھا۔
ٹیپوسلطان۔
۔۔49۔۔۔ویسا ہی اندھیرا۔ ہوا میں ویسی ہی خنکی۔ دیواروں کا رنگ ویسا ہی مٹیالا۔ وہ شیرکا غار تھا۔ مقبرہ نہ تھا۔اس کے بیچوں پیچ ٹیپوصاحب کی قبر تھی۔قبر پر بڑا سا کپڑا پھیلا دیا گیا تھا جس پر شیر کی سرمئی دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔بالکل ایسا لگا جیسے کوئی گھائل شیر زندگی کی آس چھوڑ کر غار کے ٹھنڈے فرش پر رخسار ٹیکے لیٹا ہو اور بجھی بجھی سی آنکھیں اُٹھا کر ہر آنے جانے والے کو دیکھ رہا ہو اور کہہ رہا ہو کہ تمہیں تو معلوم ہی ہو گا،میرے ساتھ دھوکا ہوا ،ورنہ میں بھی آزاد رہتا اور تم بھی ۔
۔۔63۔۔۔ میرے میزبانوں نے مجھے اس بس میں بٹھا دیا جو ایلورا کے غاروں تک لے جاتی ہے۔خدا جانے وہ کون تھا جس نے ان حیران کر دینے والی تعمیرات کو غاروں کا نام دیا۔یہ غار نہیں ہیں۔یہ سنگلاخ پہاڑوں کا کلیجہ نکال کر ان کے اندر تراشی ہوئی ایسی عبادت گاہیں ہیں کہ ان میں دُنیا بھر کی عقیدت سما جائے پھر بھی کچھ جگہ خالی رہ جائے۔
اورنگ آباد سے صرف اُنیس میل دور ایلورا میں ایک دور تک پھیلا ہوا پہاڑ کھڑا ہے جس کے نیچے اور سامنے بہت کشادہ ایک وادی ہے جو آنکھوں کو بھلی لگتی ہے اور روح میں ایک عجب تازگی سی بھرتی ہے۔
فصیل جیسے اس پہاڑ میں پہلے بودھوں نے اپنی خانقاہیں تراشیں، یہ پندرہ سولہ سو سال پرانی بات ہے۔پھر برہمنوں نے اپنے مندر بنائے جن کے درودیوار میں سو طرح کی مورتیاں تراشیں, بعض ایسی جنہیں دیکھ کر بچے اپنے بڑوں سے پوچھ رہے تھے کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔
برہمنوں کے بعد جین آئے اور انھوں نے پہاڑوں کو ایسے تراشا جیسے یہ مکھن کے بنے ہوں۔ عقیدت دل ودماغ ہی میں نہیں ،بازوؤں میں بھی کیسی شکتی بھر دیتی ہے۔
۔۔64۔۔۔وجد صاحب کا وہ فقرہ مجھے یاد رہے گا کہ جس گھر میں کتابیں اور بچے نہ ہوں وہاں جا کر دل نہیں لگتا۔
۔۔80۔۔۔ وقت پر سکیڑ کر اُڑا اور پھر سات سمندر پار جا اترا۔
میرا خواب ختم ہوا ۔
کیسا خواب تھا جو میری جاگتی آنکھوں نے دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔
ریل گاڑی کی کہانی۔۔۔ رضاعلی عابدی کی کتب کی زبانی اور کچھ گوگل سے۔۔۔
٭کتابیں اپنے آباء کی ۔۔ صفحہ 266 تا 268۔۔
٭ ریڈیو کے دن ۔۔۔ صفحہ 41

٭ ریل کہانی۔۔۔ صفحہ14۔۔۔153۔۔۔154

ایک نام، ایک ناول اورایک کہانی" اُمراؤ جان ادا (1899)"سے کون واقف نہیں۔مرزامحمد ہادی رسوا کے قلم سے نکلی اس تحریر کو ناقدین اردو زبان وادب کا پہلا باضابطہ ناول قرار دیتے ہیں۔ایک سو سولہ برس پہلے شائع ہونے والا یہ ناول اُن کتابوں میں سرِفہرست ہے جو آج تک شائع ہو رہی ہیں اور نہ معلوم کب تک شائع ہوتی رہیں گی۔
انگریز حکومت نے کوئٹہ کے راستے افغانستان تک ریلوے لائن ڈالنے کا آغاز کیا۔وہاں پٹڑیاں ڈالنے اور سرنگیں کھودنے کے لیے سروے کرنے والوں میں مرزامحمد ہادی رسوا بھی شامل تھے جو روڑکی انجنئرنگ کالج سے اوورسئیری کی سند لے کر آئے تھے اورکوئٹہ میں ملازمت کرتے تھے۔ کئی برس کے سروے کے بعد کوئٹہ سے آگے درۂ بولان میں 1886 میں ریلوے لائن بچھائی گئی۔
دُنیا کی پہلی مسافر بردار ریل گاڑی 1825 میں برطانیہ میں چلی۔اس کےبعد فرانس،امریکہ،جرمنی،روس،اٹلی،اسپین اور میکسیکو میں ریل گاڑی سے سفر کا آغاز ہوتا گیا۔ ہندوستان میں ریل کی آمد انگریزوں کے اقتدار کے ساتھ شروع ہوئی بھاپ کا پہلا انجن 22 دسمبر 1851 کو روڑکی میں چلایا گیا اور اس وقت پنجاب کے حاکم ٹامسن کےنام پر اُس کا نام ٹامسن رکھا گیا۔ ہندوستان میں سب سے پہلی مسافر ریل گاڑی 1853 میں چلی۔16 اپریل 1853 کو بمبئی میں عام چھٹی کا اعلان ہوا۔بوری بندر کے اسٹیشن پر گورنر کے بینڈ نے انگریزی دُھنیں بجائیں۔سہ پہر تین بج کر پینتیس منٹ پر پہلی گاڑی چارسو مسافروں کو لے کر چلی توراستے میں ہر رنگ ہر نسل کے بےشمار لوگوں نے خوش ہو کر تالیاں بجائیں۔گاڑی کو اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔اس کے ساتھ چودہ ڈبے لگائے گئےاور تین انجن اسے کھینچ رہے تھے جن کےنام سندھ،سلطان اورصاحب رکھے گئے۔یہ گاڑی تھانہ (ضلع مہاراشٹر) تک گئی تھی۔اس گاڑی نے اکیس میل کا سفر تقریباً پینتالیس سےستاون منٹ میں طے کیا۔

"لم یلد ولم یولد"

"لم یلد ولم یولد"
اللہ اپنی حکمتیں اُنہیں پر ظاہر کرتا ہے جو اُس کے دوست ہوں۔ رازکی باتیں دوستوں سے کی جاتی ہیں نوکروں اور غلاموں سے نہیں۔۔۔وہ جوصرف جی حضوری کہنا جانتے ہیں۔۔۔کہ یہ اُن کے رزق کی مجبوری  ہے تو بقا کا سوال بھی۔
ہمارا اپنے رب سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔۔۔کبھی ہم دوستی کا کہتے ہیں تو کبھی ہم غلامی کا۔کبھی ہم یہی کہتے ہیں کہ اس کے بندے ہیں۔ اپنے رب کے معاملے میں ہم اکثر کنفیوز ہی رہتے ہیں۔جبکہ اپنے رب سے اصل رشتہ احساس کا ہے۔
احساس کا تعلق کبھی ختم نہیں ہوتا ۔اور اس تعلق کے لیے کسی کا ملنا یا نہ ملنا۔ چاہنا یا نہ چاہنا، وقت دینا یا نہ دینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔احساس کا تعلق سمجھنا مشکل لگےتو اللہ اور بندے کے تعلق پر ایک لمحہ غور کریں جیسے  ہمیں اس لمحے بھی احساس ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے وہ سن رہا ہے۔ہم اس سے دور بھی ہو جائیں وہ ہم سے کبھی بھی دور نہیں ہو سکتا کبھی ۔ہم اسے  بھول بھی جائیں وہ کبھی نہیں بھولتا۔یہی احساس کا تعلق ہے جو ہمیں اگر اپنے رب سے ایک خوف  دلاتا ہے تو اس سے قربت کی خوشی بھی دیتا ہے کہ وہ ہمارا کتنا خیال رکھتا ہے۔
دوست جو دے اس پر بھی راضی اور جو نہ دے اس پر بھی راضی۔ دوستی میں توقع بالکل نہیں ہوتی۔۔۔ توقع پوری نہ ہو تو مایوسی اور دُکھ ہوتا ہے۔دوستی خوشی کا نام ہے۔۔۔رقص کا نام ہے۔۔۔اپنے مدار سے نکل کر دوست کے مدار میں دیوانہ وار گردش کا نام ہے۔۔۔ لیکن! دوست کے رُتبے اور مقام کو سامنے رکھتے ہوئے۔۔۔اُس کی ناراضگی اور اُس کی ادا پہچاننا بہت ضروری ہے۔ دوست وہی ہے جو ان کہی کو سن لے۔ دوستی رشتہ نہیں ہوتی ۔۔۔ دوستی تعلق ہوتی ہے۔ دوستی ذمہ داری نہیں ہوتی۔۔۔کام نہیں ہوتی لیکن! ذمہ داری اُٹھانے اور کام کو بہتر سرانجام دینے کا حوصلہ دیتی ہے۔ہمارا مسئلہ  یہ ہے کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کے ساتھ  تعلقات میں اسی احساس کی تلاش  اور جستجو کرتے ہیں۔وہ احساس جو صرف اور صرف  رب اور اس کے بندے کے درمیان خاص ہے۔
 حرفِ آخر
اللہ سے دوستی کر لو وہ تمہیں ہر دوست کی تڑپ سے بےنیاز کر دے گا۔ تمہاری چاہت کو تمہارے سامنے یوں لاکھڑا کرے گا کہ تم دیکھ کر بھی نہ دیکھو گے۔۔۔ اور اِس کے ہو کر بھی اپنے رب کی یاد سے غافل نہ ہو گے۔
مئی29۔2013

"رونا"

اس جہاں رنگ وبو میں ہمارا آنا کمال ہے تو  جانا بھی کمال ہے۔ہمارے رونے سے شروع ہونے والا آنے کا  یہ سفر  دوسروں کے ہمارے لیے آنسو  بہانے پر ا...