اس جہاں رنگ وبو میں ہمارا آنا کمال ہے تو جانا بھی کمال ہے۔ہمارے رونے سے شروع ہونے والا آنے کا یہ سفر دوسروں کے ہمارے لیے آنسو بہانے پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ رونا تکلیف کی علامت ہے۔ کیا درد کا رشتہ ہے یہ زندگی بھی۔ اہم بات یہ ہے کہ پیدائش کے اولین لمحات کی کہانی ہو یا وقتِ آخر کی بپتا، ہم کبھی نہیں جان سکے اور نہ کبھی کوئی بتا سکا ہے، اربوں کی دنیا کے اس کھُلے راز سے یقیناً کبھی پردہ نہیں اُٹھ سکے گا۔جان گئے ہیں تو بس اتنا کہ یہ ایک دنیا سے دوسری دنیا کا سفر ہے جسے ہر ایک نے تنہا بغیر کسی کے سہارے خود طےکرنا ہے۔ ہمارے اپنے ساتھی، ہمارے پیارے صرف تماشائی ہیں وہ گرچہ دیکھ کر بھی نہیں جان سکتے لیکن اپنی عقل کے مطابق سمجھنا ضرور اُن کے اختیار میں ہے۔دنیا میں پہلا سانس لینے والے بچے کے رونے کی آواز نہ آئے تو ساری زندگی کا خسارہ سنائی دینے لگتا ہے لیکن کسی اپنے جانے والے کی میت پر زاروقطار روتے ہم سوچ سمجھ سے عاری کیوں ہو جاتے ہیں۔یہ اللہ کے فیصلے ہیں کہ کسی کو کس وقت لے جائے یا اس کی زندگی کے آخری لمحات میں کیا پیش آتا ہے۔شاید ہمیں جانے والے کی ذات سے زیادہ فقط بچھڑنے کا اپنا دکھ دکھائی دیتا ہے۔
منسلک بلاگ ۔ سیلیوٹ۔۔ ۔ سے اقتباس۔۔
ہر وہ شخص جس نے ہماری زندگی میں مثبت کردار ادا کیا ہمیں اُس کی زندگی میں اُس کے سامنے ہی اُسے عزت دینی چاہیے،سیلیوٹ کرنا چاہیے۔یہی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلے جانے کے بعدکسی کی محبت میں آنسو بہانا بھی بےکار ہے۔"ہمیں انسان کی زندگی میں اُس کے سامنے رونا چاہیے"۔
وضاحت یوں کہ جانے والا اگر بد تھا تو پھر اُس کا شرفتنہ انگیز تھا۔نیک تھا تو ہمیں اُس کی طرح نیکی کرنے کی توفیق کیوں نہ ملی۔دُکھی تھا تو ہم اُس کے دُکھوں کا ازالہ نہ کر سکے۔ہمارا پیارا تھا تو ہم نےاُسے دل سے لگا کر کیوں نہ رکھا۔
اُس کا پیار ہم پرقرض تھا جس کو اُس کی زندگی میں ادا کرنا ہمارافرض تھا۔اُس کے سامنے کم ازکم ایک بارآنسوبہا کراُس کی محبت وخدمت کا اعتراف کرکے شاید ہم اُسے دُنیا کی سب سے بڑی خوشی دے دیتے۔لیکن ہم تو اُس کی نوازشات کی بارش میں بھیگ کر زندگی کا لُطف لیتے رہےاور وہ زندگی سے دُورہوتا گیا۔دوسروں کو راحت وسکون دیتے دیتےاُس کی ذات وقت کے گلیشیئر میں دفن ہوتی چلی گئی۔بروقت ہنگامی امداد سے شاید کچھ سانسیں لوٹ آتیں پر ہمیں پھر بھی عمل کی توفیق نہ ہوئی۔اب جب بازی پلٹ گئی جانے والا چلا گیا تو رونا بیکارِمحض ہے۔اب تو خوش ہونے کا مقام ہے۔۔۔اگر بد تھا تو اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ نیک تھا تواپنی نیکیوں کا اجر پا لے گا۔ہم نے اُس کی قدر نہیں کی۔۔۔اللہ کے ہاں اعلیٰ مقام پر ہو گا۔
ہم اس کی خدمات کا حق ادا نہ کر سکے۔۔۔باری تعالیٰ اپنے بندے کی محبت کا پورا بدلہ عطا کرتا ہے۔رونا صرف اپنی نااہلی پر۔۔۔ ایک خوشبو سےمحرومی کے احساس پر ہو تو جائز ہےورنہ اپنے آپ کو فریب دینے کے مترادف ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں