پرانے دوست ان قیمتی کپڑوں کی طرح ہوتے ہیں جو موجودہ فیشن سے مطابقت نہ رکھیں تو ہم انہیں کبھی نہیں پہنتے اور نہ کسی کو دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ وہ چپ چاپ ہمارے لاشعور کے غلاف میں رہتے ہوئے یاد کے کسی بھاری صندوق کی سب سےنچلی تہہ میں اتر جاتے ہیں۔لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ جیسے کہ فیشن پلٹ کر آتا ہےاور ہم ان پرانے کپڑوں کو نئے انداز سے فخریہ زیب تن کرتے ہیں۔ اِسی طرح ایک لمبے عرصے کے بعد ملنے والے وہی بےغرض دوست جن سے کبھی چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹی جاتی تھیں تو کبھی معمولی باتوں پر ناراضگی بھی ہو جاتی تھی اور پھر روٹھنے اور منانے کے مرحلے بھی پیش آتے تھے۔اب پہلی ملاقات میں بظاہر اگر پرانی یادوں کو شدت سے محسوس بھی کیا جائے لیکن وقت کا دھارا ہر ایک کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے۔ یہ محض سالوں کی دوری نہیں ہوتی. بلکہ وقت کے اس لمحے وہی دو دوست زندگی کے الگ الگ محاذ پر گرم سرد جھیل کر اپنےحصے کی زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔ان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ ان کے مسائل جدا ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کی ذہنی سطح بھی یکساں نہیں ہوتی۔ سو اس طور ملے دوست کسی انتظارگاہ میں اپنی سواری کے منتظر ان اجنبیوں کی طرح ہوتے ہیں جو لمحوں میں دوست تو بن جاتے ہیں، دُکھ سُکھ پرولتے ہیں، فون نمبر کے تبادلے بھی ہوتے ہیں لیکن پھر اپنے اپنے سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں اور شاید کبھی دوبارہ نہیں ملتے۔
لیکن کچھ پرانے دوست ایسے بھی ملتے ہیں جو ہماری آج کی ذہنی سطح کو چھو جاتے ہیں. زندگی کی مسائل کو سلجھاتے سمے ان کا مہربان ساتھ تپتی دھوپ میں شجر سایہ دار کی مانند دکھتا ہے. ہماری آنکھ کی نمی ان کے دل پر اثر کرتی ہے۔ ہاں! پرانے دوست سے ملنا پل کی خوشی ضرور دیتا ہے لیکن صرف اُس لمحے جب بخت آپ پر اور اُس پر یکساں مہربان دِکھائی دے ورنہ ناآسودگی اور دُکھوں کی پوٹلیاں پرولتے سمے ایک نامعلوم سا بوجھ بھی روح میں اُتر جاتا ہے۔۔
منسلک بلاگ۔۔ بیالیس برس بعد۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں