زندگی کا کشکول خالی ہے یہ تو نظر آتا ہے لیکن اس کاسے میں کیا پایا یہ دکھائی نہیں دیا۔ وہی مثال کہ کسی کو گلاس آدھا خالی دِکھتا ہے تو کسی کو آدھا بھرا ہوا۔ بےشک یہ نصیب کے فیصلے ہیں لیکن کسی کے نہ ہونے (خواه وہ رشتہ ہو یا کوئی چیز ہو) کاکرب تو سب جانتے ہیں لیکن ایک دکھ 'ہونے' کا بھی ہوتا ہے۔ رشتوں کےبظاہر مضبوط حصار گلے کا وہ ریشمی پھندا بن جاتے ہیں کہ جودیکھنے میں کتنا ہی خوش رنگ کیوں نہ لگے اس کی پل پل تنگ ہوتی گرفت سانس روکتی جاتی ہے۔اس سمے انسان کسی اور سے مد د مانگنا تو دور کی بات اپنے آپ سے بھی کہنے کی ہمت نہیں کر پاتا اور رب کو پکارنا تو سراسر ناشکری کے زمرے میں آتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو زندگی میں ناکام یا ادھورے فرد کو تو ترس اور ہمدردی کے نام پر کاندھے بھی مل جاتے ہیں لیکن ستارے جیسی جگمگ اورتتلی مانند پرواز کرتی رنگین مسکراہٹ اسے خود سے بھی نظریں چُرانے پر مجبور کر دیتی ہے۔کامیاب زندگی خلا کی اس بےکراں خاموشی کی طرح ہے جس میں اپنی سوچ بھی چیخ کی مانند سنائی دیتی ہے کسی کے ساتھ شیئر کرنا تو اپنی پردہ پوشی کا بھرم خودہی ختم کرنا ہے۔. بس دعا ہے سب کے لیے کہ اللہ آخری سانس تک ذہنی اور جسمانی برداشت قائم رکھے۔رشتوں کے رانگ نمبر اذیت تو بہت دیتے ہیں محض برداشت کی نہیں بلکہ لب سینے والی خاموشی کی ، ان "رائٹ نمبرز" کے سامنے جو ان کہی بھی جان لینے کا ہنر جانتے ہیں. یہ رانگ نمبرَ برسوں سے لگتے چلے جاتے ہیں تو کبھی نئے ملنے والے بھی رانگ نمبر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔ لہجوں کی تلخی، رویوں کی سرد مہری مسافر کو دوگھڑی سستانے کی مہلت بھی نہیں دیتی۔
زندگی کا نچوڑ
ہمیں صرف اور صرف اپنے اوپر کام کرنا ہے،اپنے آپ کو بدلنا ہے، اپنے آپ کو وقت اور حالات کی الجھی ہوئی پزل میں ایڈجسٹ کرنا ہے۔سوائے اپنے سب کو چھوڑ دو.۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سارے مسائل دوسروں سے شروع ہوتے ہیں اور ہمارے یقین کی حد تک خیال میں دوسرے پر ہی ختم ہوتے ہیں۔ہوش سنبھالنے اورزندگی کے نشیب وفراز سے نبرد آزما ہوتے ہوئے ہر لمحے اس پر مہر لگتی چلی جاتی ہے۔ ہم کتنے ہی روشن خیال،عقلیت پسند اور مثبت طرزفکر کے حامل ہی کیوں نہ ہوں، ہمارے دکھ دوسروں کے رویوں سے جنم لیتے ہیں اورہماری خودترسی کی اندھی قبر میں دفن ہو جاتے ہیں۔.زندگی دیہاڑی دار مزدور کی طرح گزاری جائے، روز کی محنت روز کی روٹی۔زندگی بس جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر جی جائے تو کچھ سہولت سے گزر ہی جاتی ہے ورنہ گزرنا تو اُس نے ویسے بھی ہے ہم سے پوچھے بغیر، ہماری مرضی کے بنا۔