پیر, ستمبر 21, 2026

"کشکول"

 زندگی کا کشکول خالی ہے یہ تو نظر آتا ہے لیکن  اس کاسے میں کیا      پایا   یہ دکھائی نہیں دیا۔ وہی مثال کہ کسی کو گلاس آدھا خالی دِکھتا ہے تو کسی کو آدھا بھرا ہوا۔  بےشک یہ نصیب کے فیصلے ہیں لیکن  کسی کے نہ ہونے (خواه وہ  رشتہ ہو یا  کوئی چیز ہو) کاکرب تو سب جانتے ہیں لیکن ایک  دکھ 'ہونے' کا بھی ہوتا ہے۔ رشتوں کےبظاہر مضبوط حصار گلے کا وہ  ریشمی پھندا بن جاتے ہیں کہ جودیکھنے میں  کتنا ہی خوش رنگ کیوں نہ لگے اس کی پل پل تنگ ہوتی گرفت سانس روکتی جاتی ہے۔اس سمے انسان کسی اور سے مد د مانگنا تو دور کی بات اپنے آپ سے بھی کہنے کی ہمت نہیں کر پاتا اور رب  کو پکارنا تو سراسر ناشکری کے زمرے میں آتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو  زندگی میں ناکام یا ادھورے فرد کو  تو  ترس اور ہمدردی کے نام پر کاندھے بھی مل جاتے ہیں لیکن   ستارے جیسی جگمگ  اورتتلی مانند پرواز کرتی رنگین مسکراہٹ اسے خود سے بھی نظریں چُرانے پر مجبور کر دیتی ہے۔کامیاب زندگی  خلا کی اس بےکراں خاموشی کی طرح ہے جس میں اپنی سوچ بھی چیخ کی مانند  سنائی  دیتی ہے کسی کے ساتھ شیئر کرنا تو اپنی پردہ پوشی کا بھرم  خودہی ختم کرنا ہے۔. بس دعا  ہے  سب کے لیے کہ اللہ آخری سانس تک ذہنی اور جسمانی  برداشت قائم رکھے۔رشتوں کے رانگ نمبر اذیت تو بہت  دیتے ہیں محض برداشت کی نہیں بلکہ لب سینے والی خاموشی کی ، ان "رائٹ نمبرز" کے سامنے جو ان کہی بھی جان لینے کا ہنر جانتے ہیں. یہ رانگ نمبرَ  برسوں  سے لگتے چلے جاتے ہیں تو کبھی نئے ملنے والے بھی رانگ نمبر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔  لہجوں کی تلخی، رویوں کی سرد مہری مسافر  کو دوگھڑی سستانے کی مہلت بھی نہیں دیتی۔

  زندگی کا نچوڑ

ہمیں صرف اور صرف اپنے اوپر کام کرنا ہے،اپنے آپ کو بدلنا ہے، اپنے آپ کو وقت اور حالات کی الجھی ہوئی پزل میں ایڈجسٹ کرنا ہے۔سوائے اپنے سب کو چھوڑ  دو.۔مسئلہ یہ  ہے کہ ہمارے سارے مسائل دوسروں سے شروع ہوتے ہیں اور ہمارے یقین کی حد تک خیال میں  دوسرے پر ہی ختم ہوتے ہیں۔ہوش سنبھالنے اورزندگی کے  نشیب وفراز سے نبرد آزما ہوتے ہوئے ہر لمحے اس پر مہر لگتی چلی جاتی ہے۔ ہم کتنے ہی روشن خیال،عقلیت پسند اور مثبت طرزفکر کے حامل ہی کیوں نہ ہوں، ہمارے دکھ دوسروں کے رویوں سے جنم لیتے ہیں اورہماری خودترسی کی اندھی قبر میں دفن ہو جاتے ہیں۔.زندگی   دیہاڑی دار مزدور کی طرح گزاری جائے،  روز کی محنت روز کی روٹی۔زندگی بس جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر جی جائے تو کچھ سہولت سے گزر ہی جاتی ہے ورنہ گزرنا تو اُس نے ویسے بھی ہے  ہم سے پوچھے  بغیر، ہماری مرضی کے بنا۔

 

"قسمت"

  زندگی کے بہت سے سوالوں    میں اُلجھتے ہوئے "قسمت" نام کا سوال  ہر ہر موڑ پر سامنے آ جاتا ہے۔  "قسمت" نامی یہ سوالیہ لفظ ہمیشہ  دو میں سے کسی ایک سابقے کے ساتھ      ہماری زندگیوں میں داخل ہوتا ہے۔ خوش قسمت ؟   یا بدقسمت؟۔ 

خوش قسمتی کی  قوسِ قزح کب تک ہمارے آس پاس      جلوے بکھیرتی رہے  یا کب بدقسمتی کی کالی گھٹا ہمیں اپنے حصارمیں لے لے ،ہم کبھی نہیں جان سکتے ۔  انسانوں کے ہجوم میں کون خوش قسمت ہے اور کون بدقسمت،اس بات  کا تعیّن   بھی کسی کی ظاہری حالت یا حالاتِ زندگی سے نہیں کیا جا سکتا۔  غرض  یہ  کہ زندگی کے آخری سانس تک کسی  ایک شخص   کی بھی خوش قسمتی یا بدقسمتی  ماپی نہیں  جاسکتی۔

خوش قسمتی کو اگر مجسم دیکھنا چاہیں تو وہ ایک ایسی درازقد زرق برق دُلہن ہےجو نظر مبہوت کر دیتی ہے۔انسان اس کو پانے کےخمار میں گرد وپیش سے بےخبر ہو جاتا ہے۔کاش انسان ایک پل کو ہی سہی ذرا اس کافر اداحسینہ کی نگاہِ ناز سےفرصت پائے تو دیکھے کہ اُس کے جہیز میں پلُو سے بندھی ایک کوتاہ قامت،مدھم نقوش اور پکی رنگت کی خادمہ بھی چلی آ رہی  ہے۔جس کے کام سے تو دور کی بات اس کےنام سے بھی کسی کو کوئی غرض ہے اور نہ ہی فرصت۔ تماش بینوں کو تو  رہنے دیں،وہ جس کا تمام عمر کا نصیب لکھ دیا گیا وہ بھی اس پیکیج سے ان جان ہی رہتا ہے۔

 گزری دہائیوں  کی شادیوں میں  ہونے والے  فوٹوسیشن   میں نظرآنے والے اُس ان جان  بچے کی طرح جو ہر تصویر میں خاص لوگوں کے بیچ دانت نکال کر عجیب وغریب پوز بناتا  تھا  اور بعد میں تصاویر   دیکھنے والےاس کو لعن  طعن  کرنے  سے  بڑھ کر اپنے آپ کو ہی کوستے رہ جاتے  کہ اس طرف  کیوں نہیں دھیان گیا۔ بدقسمتی نام کی یہ خادمہ  گرچہ دُھوم دھڑکےاس جشن میں سائے کی طرح ساتھ تو  رہتی ہے لیکن   آنکھیں خیرہ  کر نے والی روشنیوں اور         کان پڑی آواز سُنائی نہ دینے والے شور میں کس  کا اس طرف دھیان جاتا ہے یا کس کو ایک لمحہ ٹھہر کر دیکھنے کی مہلت ملتی ہے۔اور یہ حق بھی ہے کہ خوشی کے موقع پر خوشی کا ہی شگون  ہونا چاہیے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ  خوش قسمتی کی دُلہن  بدقسمتی کی خادمہ   کے بغیر ایک   قدم بھی نہیں اُٹھا سکتی۔رقصِ مسرت جاری رہتا ہے  یہاں تک کہ رُخصتی کا وقت آن پہنچتا ہے۔ بےشک  کتنا ہی نیک تمناؤں  اورپُرخلوص دٗعاؤں کے ساتھ   الوداع  کیا جائے لیکن  ان ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔اطمینان کے یخ بستہ   نگارخانے سے قدم باہر رکھتے ہی  کب مقدر کی لُو  خادمہ کو دُلہن کی جگہ پر بٹھا دے یا کب  رخِ یار  کا دیدار      چاروں طبق روشن کر دے یہ کوئی نہیں جان سکتا۔ بسا اوقات سالوں اسی شش وپنج  میں گزر جاتے ہیں۔

 حرفِ آخر

  اپنے بارے میں ہم  سے بہتر کوئی نہیں جانتا  کہ ہم خوش قسمت ہیں یا  بدقسمت۔ حساب کتاب   نہیں لگانا کہ  کاروبارِزندگی میں کیا کھویا کیا پایا۔ جو گزر گیا سو گزر گیا۔نفع کا جشن  تمام ہوا تو خسارے  کا روگ  بھی قصۂ پارینہ ٹھہرا۔ انسان یا تو خوش قسمت ہوتا ہے اور یا بدقسمت۔اِن کے درمیان کچھ نہیں ۔  لیکن ایک خوش قسمت  شخص اپنی عمر کے ہر لمحے خوش قسمت کبھی  بھی  نہیں رہ سکتا،اِسی طرح ایک بدقسمت  انسان کے پاس بھی  خوش قسمتی کسی نہ کسی پل دستک ضرور دیتی ہے۔

"پرانے دوست"

  پرانے دوست ان  قیمتی  کپڑوں کی طرح ہوتے ہیں جو موجودہ فیشن سے مطابقت نہ رکھیں تو ہم انہیں کبھی نہیں پہنتے  اور نہ کسی کو دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ وہ  چپ چاپ ہمارے لاشعور  کے  غلاف  میں رہتے ہوئے   یاد کے کسی بھاری صندوق کی سب سےنچلی تہہ میں  اتر جاتے ہیں۔لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ جیسے کہ فیشن  پلٹ کر آتا ہےاور ہم ان پرانے کپڑوں کو نئے انداز سے  فخریہ زیب تن کرتے ہیں۔ اِسی طرح ایک لمبے عرصے  کے بعد ملنے والے وہی بےغرض  دوست جن سے کبھی چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹی جاتی تھیں تو کبھی معمولی باتوں پر ناراضگی بھی ہو جاتی تھی اور پھر  روٹھنے اور منانے  کے مرحلے بھی پیش آتے تھے۔اب پہلی ملاقات میں بظاہر اگر پرانی یادوں کو شدت سے محسوس  بھی کیا جائے لیکن وقت کا دھارا ہر ایک کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے۔ یہ محض سالوں کی دوری نہیں ہوتی. بلکہ وقت کے اس لمحے  وہی دو دوست  زندگی کے الگ الگ محاذ پر  گرم سرد جھیل کر اپنےحصے کی زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔ان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ ان کے مسائل جدا ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر  ان کی ذہنی سطح بھی یکساں نہیں ہوتی۔ سو  اس طور ملے دوست  کسی انتظارگاہ میں اپنی سواری کے منتظر ان اجنبیوں کی طرح  ہوتے ہیں جو لمحوں میں دوست تو بن جاتے ہیں، دُکھ سُکھ پرولتے ہیں، فون نمبر کے تبادلے بھی ہوتے ہیں لیکن پھر اپنے اپنے سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں اور شاید کبھی دوبارہ نہیں ملتے۔

  لیکن کچھ پرانے دوست ایسے بھی ملتے ہیں جو  ہماری آج کی ذہنی سطح کو چھو جاتے ہیں. زندگی کی مسائل کو سلجھاتے سمے ان کا مہربان ساتھ تپتی دھوپ میں شجر سایہ دار کی مانند دکھتا ہے. ہماری آنکھ کی نمی ان کے دل پر اثر کرتی ہے۔ ہاں! پرانے دوست سے ملنا  پل کی خوشی ضرور دیتا ہے  لیکن صرف اُس لمحے جب بخت آپ پر اور اُس پر یکساں مہربان دِکھائی دے ورنہ ناآسودگی اور  دُکھوں  کی پوٹلیاں پرولتے سمے  ایک نامعلوم سا بوجھ بھی روح میں اُتر جاتا ہے۔۔

منسلک بلاگ۔۔ بیالیس  برس  بعد۔ 

"کشکول"

 زندگی کا کشکول خالی ہے یہ تو نظر آتا ہے لیکن  اس کاسے میں کیا      پایا   یہ دکھائی نہیں دیا۔ وہی مثال کہ کسی کو گلاس آدھا خالی دِکھتا ہے ت...