جمعہ, جنوری 18, 2013

"صبغت اللہ "

سورۂ البقرۂ(2)۔۔۔138
ترجمہ!
(کہہ دو) اللہ کا رنگ ( اختیار کر لیا ہے) اوراللہ سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔اور ہم اُسی کی عبادت کرنے والے ہیں ۔
" اللہ کا رنگ "
دنیا کی ہرشے کا خالق اللہ ہے۔ ہررشتہ۔۔۔ہرجذبہ۔۔۔ہرچاہت پر صرف اورصرف اللہ کا رنگ ہے۔اس رنگ کا ادراک دیکھنے والی آنکھ ہی کرسکتی ہے۔اللہ کا ساتھ اُس کی قربت اگر نصیب ہوجائے توزندگی کی فلم کے ہرمنظرمیں اللہ ہی اللہ دکھائی دیتا ہے۔ جن کودکھائی نہیں دے رہا اللہ وہاں بھی ہے۔ لیکن وہ اپنی دُھن میں مست اپنے بل بوتے پرنئی دُنیائیں تخلیق کیے جارہے ہیں۔ اسی لیےقُرآن پاک میں انسان کی تخلیقی صلاحیت کی نفی کی گئی ہے۔۔۔کسی شے کو بناتے بناتے انسان لاشعوری طور پر ہی سہی اپنے آپ کو خدا کے برابر سمجھنے لگتا ہے۔
انسان کی شبہیہ بنانے کی تو سختی سے ممانعت ہے کہ یہ نقل بنانے کا عمل ہے۔
 ایک تخلیقی کام شاعری ہے جس میں انسان اپنے محبوب کی تعریف میں اُسے کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے اور بعض اوقات بات کُفریہ کلمات تک جا پہنچتی ہے۔شاعری سے اگر منع نہیں کیا گیا تو اسے قابلِ فخر بھی نہیں گردانا گیا۔
 بات جاننے کی یہ ہےکہ ہر راستہ اللہ کی طرف جاتا ہےاورشاعری کا راستہ اللہ کی طرف جاتا نظرآئے تو یہ بھی سیدھا راستہ ہے۔غور کیا جائے تو کسی عام سے شاعر کےعام سے شعرمیں بھی اللہ مل جاتا ہے اس کے لیے دیکھنے والی نظردرکار ہے جو اسے خاص بنا دے۔ یہ کوئی لایعنی فلسفہ نہیں "شعرتخلیق ہے اوراللہ خالقِ کُل" ہرشے کی بنیاد اگر اللہ ہے تو پھرانسان اور اس کی سوچ میں بھی اللہ ہی اللہ ہے۔
ہم ناسمجھ ہیں کہ اللہ کی قدرت کو سرسری دیکھ کرگزرجاتے ہیں۔۔۔ ہم خسارے کے سوداگر ہیں۔ اس کو ایک مثال سے یوں جانا جا سکتا ہے کہ کوئی صبح سےشام تک پانی بھرتا رہے،دوسروں کو سیراب کرے لیکن معلوم ہی نہ ہو کہ اس پانی سے اس کی پیاس بھی بجھ سکتی تھی۔وہ اپنے تئیں محنت مشقّت کر کے فنا ہو جائے اور بعد میں پتہ چلے کہ" آبِ حیات ہاتھوں سے نکل گیا"۔
"سبحان اللہ"
اللہ تبارک تعالیٰ " رب العالمین" ہے۔۔۔اس کا نبی ﷺ " رحمت العالمین" ہے تو اس کی مخلوق کی بخشش کیسے محدود ہو سکتی ہے۔ انسان کی اصل یہی ہے کہ اس کو  صلاحیت کی جو روشنی عطا کی گئی ہے اسے ممکن حد تک رنگ ۔تعصب اور مذہب سے قطع نظر جہان میں پھیلائے۔ یہ اس کی فطرت میں شامل ہے۔ دلی تسکین فطرت سے قربت سے ہی ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیق و دریافتیں کرنے والے ہوں یا سائنس وٹیکنالوجی کے میدانوں میں حیرت انگیزکمالات دکھانے والے،کسی صلے یا توقع کے بغیر اپنا کام خاموشی سے کیے جاتے ہیں صرف اپنے ذہنی سکون کی خاطر اپنی صلاحیت کی تکمیل کی آرزو میں جئیے جاتے ہیں۔اللہ چاہتا ہے جو آئے وہ اپنا پورا وجود لے کر آئے۔ پورے یقین اور ذات کے اعتماد کے ساتھ بےخوف وخطر اپنا آپ اس کے حوالےکردے۔اگرکوئی ناسمجھ راستہ توسیدھا پکڑ لے لیکن بھول بھلیوں میں کھو جائے تووہ بھی مالک کے لُطف وکرم سے محروم نہیں رہے گا ان شاءاللہ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"بچپن سےپچپن تک"

"بچپن سے پچپن تک" پچیس جنوری ۔۔۔1967۔ پچیس جنوری۔۔۔2022۔ "جانا توبس یہ جانا کہ کچھ نہیں جانا" بچپن اور پچپن کے بیچ لفظی...