جمعرات, دسمبر 31, 2015

"ظاہر باطن "

زندگی کے اسباق پڑھنے،برتنےاور انسانوں کے ساتھ رہتےہوئے انہیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے ہمارے سامنےایسے سوال آن کھڑے ہوتے ہیں جن کے جواب نہ کسی کتاب میں ملتے ہیں اور نہ ہی کسی رہنما کے پاس۔ ایسے بہت سے سوالوں کے جواب صرف وقت جانتا ہے۔پراس وقت جواب تو ملتے ہیں لیکن سوال غیراہم ہوجاتے ہیں۔انہی سوالوں میں سے کچھ ہمارے رویوں اور جذبات کے تضادات سے جنم لیتے ہیں اور رفتہ رفتہ پورے وجود پر حاوی ہو جاتے ہیں یہ سوال کبھی ایسا ریشم بن جاتے ہیں جس میں رقص وقتی طور پر تو بڑا دلفریب لگتا ہے لیکن ایک وقت کے بعد وہ ہمیں اپنی گرفت میں لے کر بےجان کر دیتے ہیں۔ جیسے ہم کسی کے قریب کیوں آتے ہیں؟اورکسی سے دُور کیوں بھاگتے ہیں؟
یہ بہت عام اور بےمعنی سوال ہیں جن کے جواب ایک ناسمجھ بچہ بھی دے سکتا ہے کہ ہمیں کوئی چیز اچھی لگتی ہے تو اُس کے قریب ہونا چاہتے ہیں اور بُری لگتی ہے تو دور بھاگتے ہیں۔ ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ کسی شے کی کشش کششِ ثقل کی طرح ہمیں اپنی جانب کھینچتی ہے اور کوئی ناپسندیدہ عمل ہمیں اُس سے پرے کرتا ہے.بےشک بظاہر ایسا ہی دکھتا ہے لیکن غور کیا جائے تو اصل میں کسی کا تضاد ہمیں اُس سے قربت کی خواہش عطا کرتا ہے اور اُس سے دور بھی کرتا ہے۔ قربت کی چاہ کسی بھی کشش کا بنیادی جزو ہے۔ رفتہ رفتہ قربت کے راز کھلتے ہیں توظاہری طور پر اپنائیت اور یگانگت کے ایک جیسے بہتے دھارے خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔۔۔ ظاہری خوبصورتی اپنی طرف مائل کرے تو انسان باطنی حسن کی جستجو کرتا ہے۔خوش نما رنگ ایک لمحے کو قدم روکتے تو ہیں لیکن اگر خوشبو نہ ہو تو آگے بڑھنے میں ذرا دیر نہیں لگتی۔اِسی طرح کوئی خوشبواتنی مہک آور ہوتی ہےکہ انسان اُس کی اصل کی تلاش میں ایک عالمِ بےخودی میں چل پڑتا ہے۔انسانوں کے ساتھ تعلقات میں خاص طور پر یہ آنکھ مچولی چلتی رہتی ہے۔جسمانی وجود کے ساتھ ذہن کی انفرادیت اور سوچ کی بلندی مکمل اعتماد کی بنیاد ہےنہ صرف دوسرے پر بلکہ اپنے آپ پر بھی۔۔۔ ورنہ اکثر خوبصورت چہرے قربت کے لمس کی حدت میں موم کی مانند پگھل کر اتنے بےچہرہ ہو جاتے ہیں کہ اُن کو سمیٹتے سمیٹتے پوریں سُلگنے لگتی ہیں یا پھر جب کسی کا باطن اُس کی ظاہری خوبصورتی کی تائید نہ کرے تو پھر انسان کا انسان پر سے اعتبار اُٹھ جاتا ہے۔یوں سچائی کے متلاشی انسانوں کے ہجوم میں تنہا رہ جاتے ہیں۔اہم یہ ہے کہ جسم کا تضاد کسی قدر قابلِ برداشت ہے کہ اُس موم کو اپنی مرضی کے نقش میں تو ڈھالا جا سکتا ہے لیکن روح کا تضاد انسان کو اندر باہر سے ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
حرفِ آخر
کسی کو جاننے کی کوشش اور اس کے اندر جھانکنے کی جستجو میں ہم اپنےہی وجود کی بہت سی ایسی پرتوں سے واقف ہوتے ہیں 

جن کا ہم نے خواب تو کیا خیال میں بھی تصور نہیں کیا ہوتا۔ظاہر ہمارا اصل روپ ہرگز نہیں،ہمارا ظاہر موم کی طرح حالات کے سانچے میں اپنا آپ ظاہر کرتا ہے تو پانی کی طرح کسی بھی پیاسے کے ظرف کی 'اوک' میں ڈھل کراس کی تسکین کرتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...