صفحہِ اول

جمعہ, دسمبر 04, 2015

"کرنیں (8)"

اللہ کو عقل کے سوا جانا ہی نہیں جا سکتا۔
۔۔۔۔۔
اللہ ہر احساس کی بنیاد ہے کہ اسی سے سب ملتا ہے نفس سے لے کر روح کی طلب تک۔
۔۔۔۔۔
دنیا کا علم دنیا کی زندگی میں ہے اور آخرت کی سمجھ آخرت میں ہی ملے گی۔
۔۔۔۔۔
علم کا صدقہ علم کے سوا کچھ بھی نہیں۔
۔۔۔۔۔
 نصیحت حاصل کرنا صرف دیکھنے والی آنکھ کا نصیب ہے۔نگاہ کی وسعت اللہ کا خاص فضل ہے جس کو عطا ہوجائے وہ ہر شے سے بےنیاز ہو گیا۔
۔۔۔۔۔
 رب کو راضی کرنا ہے تو اس کی رضا میں راضی ہوجاؤ۔عمل تو دور کی بات اگر ہم اس رمز پر ایک پل کو ٹھہر کر ذرا سا غور ہی کر لیں تو بہت سارے اعمال کے گورکھ دھندے سے نجات مل جاتی ہے۔
 ۔۔۔۔۔
اگر ہمیں اس دنیا میں جنت نہیں ملی تو آخرت میں بھی نہیں ملے گی۔
۔۔۔۔
سب سے بڑی جنت "سکون" ہے۔۔دل کا سکون
۔۔۔۔
دل کا سکون اللہ کے قرب کے احساس میں ہے۔
 ۔۔۔۔
 ہم دنیا میں اپنے اپنے خودساختہ خداؤں کے سامنے آنکھیں بند کیے ہر وقت حالتِ رکوع وسجود میں رہتے ہیں۔مشقت کی یہ عبادت کبھی دائیں بائیں طمانیت کی آنکھ کھلنے سے ختم ہونے میں نہیں آتی۔
۔۔۔۔۔
دربار ہو یا مزار حاضری بلاوے سے مشروط ہے۔
 ۔۔۔۔۔
اللہ بہتر جانتا ہےاور خوب جانتا ہے کہ کون کس قابل ہے اور کس کو عطا کرنا ہے اور کس کی عطا کو آئندہ کے لیے بچا رکھنا ہے۔
۔۔۔۔
ہمارے پاس ہماری اپنی زندگی اور اپنی ذات  سے بڑا علم اور کہیں موجود نہیں اور علم بھی وہ جو ہر آن ہمارے سامنے نئی دریافت کر رہا ہے۔.
۔۔۔۔۔
تشنگی کیا ہے۔۔۔جب سب کچھ مل کر بھی بہت کچھ رہ جائے۔تشنگی انعام ہے دیدۂ بینا کے لیے ۔۔۔اور اس کی انتہا پیغام ہے منزل کی قربت کا۔
۔۔۔۔
ہر زخم کی وجہ گولی نہیں اور گولی ہر درد کی دوا بھی نہیں۔
۔۔۔۔
 موتی کتنا ہی انمول کیوں نہ ہواور سیپ کتنی ہی بےوقعت کیوں نہ دکھتی ہو سیپ کے بغیر موتی کبھی پروان نہیں چڑھ سکتا۔
 ۔۔۔۔۔
موتی جب تک سیپ میں بند ہو انمول ہے بازار میں سج جائے تو قیمت لگ جاتی ہے۔
۔۔۔۔
محبت  قربانی کا نام ہے۔یہی نصاب زندگی کا پہلا لفظ ہےاور کتاب ِزندگی کا آخری ورق بھی یہی۔
۔۔۔۔
کسی کے جانے سے زندگی ختم نہیں ہوتی لیکن ایک نئی زندگی ضرور شروع ہوتی ہے۔
۔۔۔۔
 خالی صفحے پڑھنا ہی توکمال ہےورنہ کالے صفحے پڑھتے عمر گزر جاتی ہے اور سمجھ کچھ نہیں آتا۔
۔۔۔۔
ایک میک اپ اترنے کے بعد ہی چہرے پر دوسرا میک اپ کیا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
ہر ایک اپنی نظر کے دائرے سے جو دیکھتا ہے وہی کہتا ہے۔
۔۔۔۔
 ضرورت اور غرض کبھی ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی ہونی چاہیے اگر ہم اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہیں۔ بس اس ضرورت اور غرض کی حدیں اور پہچان ہی ہماری روح کی تازگی ہے ورنہ جسم کی خواہش جسم تک رہتی ہے اور پھر مٹی میں مل کر سب مٹی۔
۔۔۔۔
اگر اپنی بڑائی کا اظہار تکبر کہلاتا ہے تو اپنے آپکو چھوٹا سمجھنا بھی رب کی عطا کی ناشکری کے زمرے میں آتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
زندگی نفع نقصان کا سودا ہے۔اس خسارے میں سے نفع لینا ہی تو اصل زندگی ہے۔
۔۔۔۔
مردہ جسم صرف بو دیتے ہیں۔
۔۔۔۔
جو اپنا بھلا نہ کر سکے وہ کسی کا بھلا نہیں کر سکتا۔
۔۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ وقت خواہ اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے دراصل وقت کبھی نہیں گزرتا البتہ انسان گزر جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔
جسم  پاک کرنے کے لیے پانی ضرورت ہے توذہن پاک کرنے کے لیے پانی کی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔
غلطی اور غلط فہمی میں صرف فہم کا فرق ہی تو ہے۔ غلطی غلط فہمی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔
۔۔۔
 پہلی غلطی اپنی حیثیت اور خصلت میں بظاہر چھوٹی سی غلطی دکھتی ہے لیکن اس غلطی کے بطن سے پیدا ہونے والی غلطیاں تقسیم درتقسیم ہوتے ہوئےایک بڑے طوفان کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔
۔۔۔۔
 دھوپ ڈھلنے کے لیے ہوتی ہے آج یا کل زندگی کی شام نے آ کر رہنا ہے۔

7 تبصرے :

  1. باجی

    سلام علیکم

    آپ کے مضمون کا چھٹواں بند "اگر ہمیں اس دنیا میں..... "

    درست بات فرمائی گئی ہے کہ مومن کی زندگی اس دنیا میں قید خانہ کی مانند ہے. دنیا کی فانی مشکلات مصائب الجھنیں و پریشانیاں صرف یہیں کی حد تک ہیں. مومن جتنا اللہ تعالہ کا قرب حاصل کرے گا اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے گا اللہ کی رضامندی کو اختیار کرے گا اور اس کے عطا پر راضی و قانع رہے گا اس کے دل کو سکون و راحت نصیب ہوگی. اللہ اپنی سکینت نازل کرے گا. اللہ کو اپنے نیک بندوں سے یہی مطلوب ہے. ایسے ہی نیک بندوں کے لئے جنّت کی ابدی نعمتیں لکھی گئی ہیں.

    آپ کا بقیہ مضمون بہت عمدہ خیال بہت اچھی باتیں.

    بشریٰ خان

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. وعلیکم السلام
      جزاک اللہ آپ نے اس سارے خیال کے گورکھ دھندے میں سے اصل موتی چن لیا۔
      لکھنا پڑھنا بہت آسان ہے اہم بات اس پر عمل کی ہے۔۔ اللہ ہم سب کو علم کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

      حذف کریں
  2. درست کہ کہ اس دنیا میں جنت نہ ملی تو آخرت میں بھی نہیں ملے گی ۔ جنت میں بسنے والے مطمئن ہو ں گے ۔ اس دنیا میں اطمینان اللہ کی رضا میں راضی رہنے پر ہی مل سکتا ہے ۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب انسان مادی لالچ چھوڑ دے ۔ بلاشُبہ مادی ضروریات انسان کی زندگی کا حصہ ہیں ۔ مگر ان کے پیچھے بھاگا جائے تو یہ دور بھاگتی ہیں اور اطمینان کھو جاتا ہے

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. جزاک اللہ محترم افتخار احمد اجمل صاحب
      آپ اپنا قیمتی وقت نکال کر میرے ناتراشیدہ خیال کو اہمیت دیتے ہیں۔ دل سے ممنون ہوں۔
      آپ کے ذہنی وجسمانی سکون کے لیے بہت بہت دعائیں

      حذف کریں
  3. دربار اور مزار والی بات سمجھ میں نہیں آئی ۔ کیا اس سے حرمین شریفین مُراد ہیں یا کچھ اور بھی ؟

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. قطعی نہیں ۔
      صرف انسانوں کے مابین رابطوں اور کشش کے حوالے سے بات کی۔

      حذف کریں
  4. بعض اوقات چپ چاپ اور اپنے آپ میں مگن رھنے والے لوگ بلا کی گفتگو کرتے ھیں ۔۔ ان کی تحریر پر سانس لیتی ھوئی جیتی جاگتی بستی کا گمان ھوتا ھے جس کے کردار ایسی ایسی داستانیں بیان کرتے دکھائی دیتے ھیں کہ خواب و خیال میں چراغاں ھوا جاتا ھے ۔۔

    جواب دیںحذف کریں