پیر, دسمبر 07, 2015

" سجدہ "

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے"
"ہزار سجدے سے دیتا ہےآدمی کونجات 
خیال کی معراج پر جناب "علامہ اقبال "نے یقیناً یہ شعر عشقِ حقیقی کی لذت میں ڈوب کر کہا ہو گا۔اِن معنوں میں اس کی تفسیر میں کوئی شک بھی نہیں۔لفظ ہیرے کی طرح ہوتا ہےجس انگ سے دیکھیں اُس کے الگ ہی رنگ نظر آتے ہیں۔سجدے کا لفظ خدا سےمنسوب ہے اور خدا ایک شادی شدہ عورت کی زندگی میں مجازی خدا کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ 
عورت مرد کا تعلق ایسی آفاقی سچائی ہے جس پر مہر لباس کی مثال سے ثبت کی گئی تو کبھی عورت کو کھیتی سے تشبیہدے کر سمجھانے کی کوشش کی گئی،کھیت کے اسرارورموز سے کون واقف نہیں۔کھیت میں بیج نہ پڑے تو زمین بنجر،بےفیض۔بیج کا بھی موسم ہے،بےموسم کا بیج چاہے جتنی محنت مشقت سے ڈالو کبھی بارآور نہیں ہو سکتا۔پانی زندگی ہے۔۔۔بیج کی بارآوری اور نمو کے لیے ۔بارشیں بھی بروقت اورحدود وقیود کے اندر ہوں پھر ہی ساری جدوجُہد کا پھل ملتا ہے۔پھل ملنا،پھل پانا بھی قسمت سے ہے۔کبھی تیار فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں،تباہ کر دی جاتی ہیں توکبھی بیگار کی صورت کہ محنت کوئی اورکرتا ہے برتتا کوئی اور ہے۔لیکن!کیا کیا جائے آندھیوں طوفانوں کے ڈرسےاُمیدوں،خواہشوں کی فصلیں کاشت نہ کی جائیں؟یا کسی عاقبت نااندیش راہ زن کے خوف سے قیمتی خزانےہمیشہ کے لیے دفن ہی رہنے دئیے جائیں؟ ایسا بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے۔
عورت اگر ایک کھیتی ہے تو اُس کا ساتھی اُس کھیتی کے گردا گرد لگی ایک باڑھ کی مانند ہے۔ایک چاردیواری ہے۔۔۔جو کتنی ہی کمزورکتنی ہی خاردار کیوں نہ ہو بھٹکنے والے راہ چلتوں کو اندر آنے سے روکتی ہے۔جس زمین کی چاردیواری نہ ہو۔۔۔جس مکان کی دیوارنہ ہو وہ ہمیشہ کم مایہ ہی رہتا ہے،خواہ اُس کی لہلہاتی فصلوں پر آزادی اور برابری کے عظیم الشان لٹھ بردار کھڑے ہوں یا اُس کے دروازوں پر خودساختہ عزت ِنفس اورتفاخر کے قفل مضبوطی سے اپنی جگہ پر قائم  رہیں۔
ایک متمدن معاشرے اوراسلامی طرزِحیات کے دائرے میں رہتے ہوئے عورت اپنے طور پردُنیا کا مشکل سے مشکل اور ناممکن ترین کام بھی کر لے۔عزت،نیک نامی کی معراج پر بھی جاپہنچے جب تک وہ کسی ایسے "جائز" تعلق میں نہیں بندھتی اُس کا کردار،اُس کے افعال شکوک وشُبہات کے پردوں میں مستور رہتے ہیں اور نہ صرف دوسروں کی نظر میں بلکہ اُسے اپنی ذات کے دائرے میں بھی مکمل آسودگی نہیں مل پاتی۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ سمجھوتوں کی رگڑ اور ذمہ داریوں کے بوجھ سے ہرپل کمزور ہوتا تعلق کا یہ لباس خواہ کتنا ہی درد کیوں نہ دے اور بظاہرکتنا ہی بےرنگ کیوں نہ دِکھے، دوسروں کی بدنظری سے ہمیشہ کے لیے تحفظ دیتا  ہے۔
ایک رشتے میں بندھنے والے عورت اورمرد الگ الگ ماحول میں پروان چڑھتے ہیں،مختلف سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔جب ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو اس رشتے کو رگڑ سے بچانے کے لیے گریس درکار ہوتی ہےجو اُن کو نہ صرف زخمی ہونے سے بچائے بلکہ باہم جوڑنے میں بھی مددگار ثابت ہو۔عام طور پر محبت کا عنصر بنیاد سمجھا جاتا ہےاس کے ساتھ ساتھ برداشت اور سمجھوتے کو بھی حرفِ آخر کہہ دیتے ہیں۔غور کیا جائے تو ایسا کچھ بھی نہیں یہ رشتہ ایک ذمہ داری ایک   معاہدہ ہےمحبت سے اس کاکوئی لینا دینا نہیں۔محبت اگر ذمہ داری بن جائے تو محبت نہیں بوجھ بن جاتی ہے۔محبت  تو صرف احساس کا نام ہے، لین دین کا رشتہ نہیں۔۔۔ دنیا میں کوئی بھی شے ایسی نہیں جو محبت کی ترجمانی کر سکے۔ محبت اپنی"میں' کی نفی کر کے محبوب کی رضا پر چلنے کا نام ہے۔جبکہ شادی شدہ زندگی میں اس فارمولے کو اپلائی کیا جائے تو بظاہر سب شاندار دکھتا ہے لیکن اندر ہی اندر سمجھوتے کی دیمک وجود چاٹ جاتی ہے۔
پھر جب محبت ہی نہیں تو اس رشتے کی اصل کیا ہے؟۔۔۔اس رشتے کی بنیاد اپنی "انا " کو دفن کرنا ہے۔ جس پررفتہ رفتہ، دھیرے دھیرے احساس کی منزل تعمیر ہوتی ہے۔۔۔ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے چھپی ننھی سی محبت کی کرن شایدکہیں بعد میں نمودار ہوتی ہے۔شادی شدہ زندگی دونوں اطراف سے برداشت کے کنکریٹ کی بےحس موٹی تہہ ہے کہ جس کے نیچے اگر باہمی اعتماد کا بیج موجود ہو تو کبھی نہ کبھی محبت کی کونپل اس تہہ کو پھاڑ کر اپنی چھب دکھلا ہی دیتی ہے۔ 
۔" روزی روٹی " کا اس رشتے کو رواں دواں رکھنے میں اہم کردار ہے۔عورت چاہے کتنی ہی خوب سیرت اور خوب صورت کیوں نہ ہو۔۔۔ قابلیت میں بھی مرد سے بڑھ کر ہو لیکن گھریلو ذمہ داریاں اوراہل خانہ کو اولیت دینا اُس کا فرضِ ہے۔ گھرعورت سے بنتا ہے اور اس کے لیے اپنی ذات اور اپنی خواہشات کی نفی کرنا پہلی شرط ہے۔ اسی طرح شوہر بھی لاکھ اپنی بیوی بچوں کا خیال رکھنے والا اور محبت کرنے والا ہو جب تک وہ ایک باعزت روزگار سے وابستہ نہیں ہو گا یا پھر اپنے گھر کا خرچ نہیں اُٹھائے گا ۔اُس کی محبت اُس کے خلوص کی اہمیت صفر ہی رہے گی۔
زندگی کے اس سفرمیں سمجھوتے کرنا عورت کے لیے جتنا آسان ہے مرد کے لیے نہیں کہ ایسا کرنا عورت کی مجبوری بھی ہے۔د وسری طرف مرد صرف اور صرف اپنی فطرت کی حاکمیت اور جبلت کے ہاتھوں مجبور ہے ۔بہت کم مرد  عورت کے سامنے اس احساس کو جھٹکنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔مرد کے پاس ہر فیصلے کا اختیار ہمیشہ رہتا ہے اور اختیار رکھتے ہوئے بھی اس کو استعمال نہ کرنا  ہی تو برداشت کا اصل امتحان ہے۔
ازدواجی زندگی کے اس بندھن میں سمجھوتوں کے حوالے سے مرد اورعورت کی کوئی تخصیص نہیں۔یہ احساس کی بات ہے جو مرد یا عورت اپنے طورپریکساں محسوس کرسکتے ہیں۔ دکھ صرف یہ ہے کہ یہ وہ لٹمس ٹیسٹ ہے جو دُنیا کی زندگی  میں معاشرتی حوالے سے کامیابی کی معراج ہےلیکن ہم میں سے اکثراس امتحان میں پورے نہیں اترتے۔ ہم اس رشتے کی سچائی اور بڑائی پر یقین رکھ کر بھی اس کے آگے سجدہ ریز ہونے کو اپنی انا اپنے علم کی شکست گردانتے ہیں۔ ہم سے بڑا نادان کون ہو گا جو بھلا یہ نہ جانے کہ شکست تو روزِاول کا پہلا سبق تھا جس پر ہم نے ایک نگاہِ غلط بھی نہ ڈالی۔اوراگر پہلا سبق ہی ازبرنہ ہو تو باقی اسباق کبھی سمجھ نہیں آتے۔
عورت بوتل میں بند جن کی مانند ہے اس کا ساتھی چاہے تو ساری عمراس کانچ کی بےقیمت بوتل کی کرامت جان کر اس سے فیض اٹھاتا رہےاور عقل کا اندھا بن جائے تو نہ صرف اس کی اہمیت کا علم کھو دے بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے تحفظ کالباس اتار دے اب کوئی جس طرح چاہے برتے۔ اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہوئے عورت کو اپنی طاقت کا احساس ہو جائے تو وہ بڑے سے بڑے طوفانوں کے رخ موڑ سکتی ہے۔دکھ کی بات یہ ہے کہ عورت انا اور تسکین کے جن کے فریب میں آ جاتی ہے اور کانچ کے گھر میں رہنا اپنی توہین سمجھتی ہے،یہ جانےبغیر کہ گھر ٹوٹنے سے کانچ کی کرچیاں اس کےہی پیر زخمی کرتی ہیں اور پھر ساری زندگی درد کی ٹیسیں سہنا پڑتی ہیں۔
واہ رے قدرت!  مرد کے کتنے روپ ہیں اور عورت کے اس سے بھی بڑھ کر لیکن گھر کے اندرعورت کا ایک ہی روپ ہے۔اور کامیاب عورت وہی ہے جو اس روپ کو دل وجان سے اپنا لے۔۔۔ چاہے اس کی چبھن رات کی تنہائی میں گہری نیند سے جگا کر کروٹیں بدلنے پرمجبورکر دے یا پھر دنیا فتح کر کے بھی ایک مرد کے سامنے سجدہ ریز ہونےاور ناقدری کے دکھ کو سات پردوں میں چھپانے کا حوصلہ عطا کرے۔

5 تبصرے:

  1. آپ کی تحریر عِلمی شہپارہ ہوتی ہے ۔ میں ٹھہر عِلمی اور عملی لحاظ سے لوہار جو کبھی گرم لوہے پر ہتھوڑا چلاتا ہے اور کبھی ٹھنڈے لوہے پر ٹک ٹک لگا رہتا ہے ۔ میں نے زندگی کے ہر پہلو کو لوہار کی ہی حیثیت سے دیکھا ہے اور عِلم کی باریکیوں سے ناواقف ہوں ۔ اسی لحاظ سے میں نے عورت اور مرد کے موضوع پر تین بار جانکاری کی جو مندرجہ ذیل روابط پر موجود ہیں ۔ آجری تحریر میں نے سب سے پہلے لکھی تھی لیکن طویل ہونے کے باعث اسے پڑھنے کیلئے آخر میں رکھا ہے ۔ اگر کبھی وقت ملے تو ان پر اپنی قیمتی رائے سے مستفید فرمایئے گا

    http://www.theajmals.com/blog/2010/02/%DA%AF%DA%BE%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81/

    http://www.theajmals.com/blog/2012/02/%D9%85%D9%8A%D8%A7%DA%BA-%D8%A8%D9%8A%D9%88%DB%8C-%DB%94-%D9%84%D9%85%D8%AD%DB%81-%D9%81%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DB%81/

    http://www.theajmals.com/blog/%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%81%D9%94-%D8%A7%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%A7%D8%AC/

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. محترم آپ کی کسرِنفسی سر آنکھوں پر ۔ آپ کا علم اور زندگی کہانی کسی بھی شک وشبےسے بالاتر ہے۔ آپ کی یہ تحاریر میں نے پہلے سے ہی پڑھ رکھی ہیں۔آپ کے واضح انداز تحریر پر روایتی توصیفی کلمات کی ہمت نہیں پڑتی اور اختلاف کی گنجائش بھی نہیں ۔
      میری کائناتِ تخیل بہت محدود ہے جو صرف میری ذات اور اس کے اردگرد اٹھنے والے سوالوں کے دائرے میں ہی سفر کرتی ہے۔مجھے اپنی کم مائیگی کا اعتراف ہے لیکن یہی میرا اعتماد بھی ہے کہ پہلے ہم اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوال سمجھ لیں پھر ہی ہم کسی اور کے سوالوں کے جواب دینے کے قابل ہو سکتے ہیں ۔

      حذف کریں
  2. سلام علیکم

    واہ باجی واہ کیا زبردست تحریر لکھی ہے آپ نے. اور مرد و عورت کا آپس میں کیا موازنہ پیش کیا ہے آپ نے طبیعت خوش ہوگئی پڑھ کر. 😃

    اللہ آپ کی جادوئی تحریر اور نکھارے.

    بشریٰ

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. آپ کو یہ جادو نگری اچھی لگی۔۔۔۔ اپنی اپنی لگی ۔ بہت شکریہ۔

      حذف کریں
  3. Very interesting analyses keeping in view the context of inherent potentials of men and women and the way they perform their functions and duties as destined by the role they have. This post stands as one which should be read again and again and should be forwarded as much possible.

    جواب دیںحذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...