صفحہِ اول

جمعہ, جولائی 31, 2015

"ضربِ عضب"

داوڑ قبیلے ( شمالی وزیرستان) کی ایک دوست کو 2014 کا پیغام عید 

اپنے " گھروں " میں اپنے" اہل خانہ" کے ساتھ سکون کی گھڑیاں گزارنے والے تمام احباب کو "عید" مبارک ہو ۔
اے خداوندِجہاں بزمِ ارم کے معبود
ترے دربار میں سامانِ خوشی کم تو نہیں
پھر یہ غریبوں کے مکانوں پہ اداسی کیسی
عید کا دن ہے کوئی شامِ محرم تو نہیں
ایک دوست کے مدھم اور میٹھے لہجے کی یاد دلاتے یہ اشعار برسوں سے میری ڈائری پر جگمگاتے ہیں۔
    دورسنگلاخ پہاڑوں کے سخت جان باسی ۔۔
اور جادو جگاتی کنچا آنکھوں والے چہروں کے بیچ۔۔
میری  وہ دوست!!!۔
جس کا خمیر اس مٹی سے اٹھا تھا۔۔۔
جہاں کے بسنے والے آج اپنی آبائی زمین سے محض چند میل کی دوری پر۔۔۔
بےنام مستقبل کے اندیشوں میں۔۔۔ حال سے بےحال ہوئے جا رہے ہیں۔۔۔
اس ماضی کا خراج ادا کرتے۔۔۔اس خون آشام فصل کا پھل کھاتے ۔۔۔
جس نے ان کی معصوم کلیوں کے بدن سے رس نچوڑ لیا ۔۔
جس کے کانٹے ان کی باپردہ خواتین کے سر کی ردا اور بدن کی قبا تار تار کیے دے رہے ہیں۔۔۔
جس کی لاحاصل بیگار ان کے جوان جسموں کی آنکھوں سے امید کی کرن نوچ کر مایوسی اور محرومی کے اندھیرے اتار رہی ہے۔
اور وہ جیئے جارہے ہیں ۔
چلے چلے رہے ہیں۔۔
ایک اجنبی سرزمین پر اپنے پن کی تلاش میں۔۔
ایک ایسی منزل کی جانب جونسلوں کی کمائی مانگتی ہے۔
 اور!!!۔
پاک فوج کے  پاک جوان گھر کے آرام وسکون اور اپنے بچوں کی خوشیوں سے بےنیاز  اپنا فرض نبھائے جا رہے ہیں۔
اللہ سب کو اُن کی نیتوں کا پھل دے۔آمین
جولائی 31۔۔۔2014

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں