جمعہ, جولائی 03, 2015

" محبت اب نہیں ہوگی"

۔3 جولائی 2015 بمطابق 15 رمضان المبارک 1436 ہجری
محبت اب نہیں ہو گی
  یہ کچھ دن بعد میں ہوگی 
گزر جائیں گے جب یہ دن
یہ اُن کی یاد میں ہو گی
 (منیر نیازی)  
عمر کے ڈھلتے سایوں میں اُن اولین چاہتوں کے بارے میں سوچنا جو زندگی کی تپتی دوپہروں میں مہربان بادل کی  طرح سایۂ فگن رہیں ہمیشہ ایک خوشگوار احساس رکھتا ہے۔ لیکن  جدا ہونے کے بعد  کسی خاص موقع کسی خاص ساعت میں  یہ محبتیں درد بھی بہت دیتی ہیں۔۔۔ایک عجیب سی اداسی پورے وجود کا احاطہ کر لیتی ہے۔ ایک بےنام خاموشی کہیں بہت اندر بہت شور کرتی ہے۔ یادوں کی جھڑی جب لگتی ہے تو تن من شرابور کر ڈالتی ہے۔
 سوچوں کی انہی بھول بھلیوں میں ایک عالمِ بےخودی میں جون کی19 تاریخ کو سال 2015 کے ماہِ رمضان کا آغازہوا۔ ماں باپ کے بعد آنے والا یہ پہلا رمضان گہری اُداسی لیے ہوئے تھا۔ اپنے خاندان کے ساتھ ایک بھرے پُرے گھر میں رہتے ہوئے بھی کچھ  کھو جانے۔۔۔ ایک  خالی پن کا احساس تھا۔ ماں باپ کسی بھی گھر کا مرکزثقل ہوتے ہیں۔ اپنے بچوں کے لیے اُن کی مرکزی حیثیت  کبھی ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی کی جاسکتی ہےخواہ بچے کتنے ہی بڑے اور خودمختار کیوں نہ ہو جائیں۔ 
ہمارے گھر میں رمضان المبارک کا انتظار اور اہتمام کوئی آج کل کی بات نہیں تھی بلکہ یہ برسوں کا قصہ تھا۔ سب سے پہلا بچہ ہونے کی وجہ سے تقریباً دس برس کی عمر میں میری روزہ کشائی سب کے لیے  ایک یادگار تقریب  تھی ۔ میری یاد میں اس  روز کی سحری  اور افطاری  کے دسترخوان کی کچھ جھلکیاں آج بھی تازہ ہیں۔  میرے پہلے روزے کی سحری پر امی اور ابو  کی طرف سے قریبی احباب مدعو تھے۔ وسیع دسترخوان پر سحری کی خاص سوغات دودھ جلیبی اور پراٹھے یاد ہیں۔ سارا دن اپنوں کی رونق میں گذر گیا اور ایک یاد  گلابی سلک کے گوٹے والے غرارے کی بھی ہے جو بڑی پھپھو خاص طور پر اپنے ہاتھوں سے سی کرمیرے لیے لائی تھیں ۔افطار کے وقت بہت زیادہ مہمان تھے اور پورے صحن میں دسترخوان بچھے تھے۔ اس کے بعد درمیان والی دو بہنوں کی روزہ کشائی اتنی دھوم دھام  سے تو نہ ہوئی لیکن سب سے چھوٹی بہن کی روزہ کشائی بھی اتنے ہی اہتمام سے ہوئی ۔
کچھ برس پہلے ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے کے لیے ان  چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔اگر آج کل کے بچے اس قسم کی تقاریب کو  زیادہ اہمیت نہیں دیتے تو ہم بڑے بھی رمضان کے مصروف شیڈول  میں  اپنے گھر پر ایسی کسی تقریب کا انتظام کرنا یا کسی کے ہاں افطاری پر جانا  بہت مشکل  سمجھتے ہیں حالانکہ اب ہر قسم کی سہولیات بھی موجود ہیں لیکن اب ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں۔ اس میں مایوسی یا گلے شکوے کی بات ہرگز نہیں کہ ہر دور کے الگ تقاضے اور ہر نسل کی اپنی خوشیاں ہوا کرتی ہیں۔اور اُن کو سمجھنا اور ماننا  ہمیں  مایوسی سےبچاتا ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ ہر ایک  اپنے زمانے کو اچھا کہتا ہے۔۔۔اپنے بچپن کو یاد کرتا ہے۔۔۔ اس کی باتیں دہراتا ہے تو آج کل کی نسل  کے پاس بھی اپنے بچپن کی کچھ یادیں ضرور ہوں گی جو ان کو اپنےدور میں یہ کہنے پر مجبور کر دیں گی کہ ہمارے زمانے کتنے اچھے تھے۔۔۔۔
              دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
(ناصر کاظمی)    
                

                    

 

8 تبصرے:

  1. جی بالکل صحیح فرمایا آپ نے کہ ہر دور کے الگ تقاضے اور ہر نسل کی الگ خوشیاں ہوتی ہیں۔
    اور یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں بڑے ہونے کے بعد جب یاد آتی ہیں تو کبھی کبھی آنکھوں سے آنسوں بھی نکل آتے ہیں کہ کبھی ہم بھی ایک سلظنت کے سلطان ہوا کرتے تھے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت اعلی تحریر ۔۔۔۔؛ یعنی باقاعدہ روزہ کشائی کی تقریب وہ بھی منے سے غرارے کے ساتھ ۔۔۔۔۔ سدا خوش رہیں شاد آباد رہیں آمین

    جواب دیںحذف کریں
  3. واقعی بہت خوب دور تھا جب ایسی خوشیاں سب کیلئے سانجھی ہوتی تھیں

    جواب دیںحذف کریں
  4. بہہہت بہت شکریہ نورین جی مجھے آپ سے ایسی ہی خوبصورت تحریر کی امید تھی۔ بہنا میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے اپنے اتنے بےانتہا مصروف کے وقت سے کچھ لمحہ میرے کہنے پر اس مضمون کو لکھنے کے لئے دیئے ۔اتفاق سے اسلم فہیم بھائی بھی نے آپ کو ٹیگ کیا ہے ۔ اللہ آپ کو ہر دکھ درد تکلف سے بچاتا رکھے خوب عزت نیک نامی دے ۔۔۔پھر ایک بار شکریہ

    جواب دیںحذف کریں
  5. یادیں کیسی بھی ہوں تنہائی کا سہارا ضرور ہوتی ہیں.خوشی نہ دیں تو غم دیتی ہیں.غم بھی تو قسمت والوں کو نصیب ہوتاہے.ہنسی نہ دیں تو رلاتی ہیں جو کہ انسان کے تزکیہ نفس کے لیئے ضروری ہے.یادوں کو دل سے ہی لگا کر رکھنا چاہیئے.قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں.

    جواب دیںحذف کریں
  6. ایک ایک حرف احساس میں ڈوبا ہے یادوں کے ساتھ آنکھیں نم کرتی تو کبھی مسکراہٹ بکھیرتی تحریر
    پڑھتے ہوئے لاجواب منظرنگاری محوکردیتی ہے - بہت دیربعد اس طلسم سے نکلا تو اپنے تاثرات رقم کررہاہوں-
    جیتی رہیں سدا شاد وآباد رہیں

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. محمّد شفیقہفتہ, اگست 13, 2016

      بہت عمدہ تحریر ھے...

      حذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...