منگل, جولائی 28, 2015

"عید ڈائری "

11شوال 1436 ہجری

ذہن پر تنگ ہوا جب بھی اندھیرے کا حصار
چند یادوں کے دریچے ہیں جو کام آئے ہیں
اے سحر! آج ہمیں راکھ سمجھ کر نہ اُڑا

ہم نے جل جل کے تِرے راستے چمکائے ہیں

عید !!! یہ تین حرفی لفظ خوشی کی علامت تو ہےلیکن اس خوشی کا مفہوم ہر انسان کی عمر کے ساتھ  بدلتا رہتا ہے۔بچپن کی عید نئے کپڑوں اورعیدی کی سرخوشی ہے۔لڑکیوں  کی عید مہندی کی خوشبو اور چوڑی کی کھنک سےمکمل ہوتی ہے تو مردوں اور لڑکوں کی عید صبح سویرے نمازعید کے لیے وقت پر پہنچنے کی بھاگ دوڑ سے شروع ہوتی ہے۔خاتونِ خانہ کے لیےعید اُن کی نماز سے واپسی سے پہلے پہلے کھانے پینے کے مکمل انتظام واہتمام کی فکر کرنے کا نام ہے۔ ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں بیتی گئی عیدوں کے یہ لمحات ہماری  یاداشت کے پوشیدہ خانوں میں محفوظ ہوتے جاتے ہیں۔ جب ہم کبھی کہیں بچے کی آنکھ میں چمک دیکھتے ہیں ۔۔عید کے روز رنگ برنگ غباروں کی بہار دیکھتے ہیں یا کسی کی عید کا احوال پڑھتے ہیں تو وہ سارے پل قطاردرقطار سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔
ایسے ہی کچھ لمحوں کی دُھند میں لپٹی یاد کی خوشبو ۔۔۔۔
پہلی یاد۔۔۔ بچپن کی عید ہمیشہ تین روز کی ہوا کرتی تھی۔ اور تین روز کے الگ الگ جوڑے بنتے۔عید پر ہم دو بہنوں کے ایک جیسے کپڑے امی خود سیا کرتیں ۔اورعید سے پہلے اپنے  چھوٹے سے باورچی خانے میں  پینٹ ضرور کرتیں۔ جو درمیانی کمرے میں آج کل کے امریکن کچن کی ایک دیسی شکل بھی تھا۔ چاند رات کو ہم اپنے اپنے کپڑے جوتوں اور دوسری چیزوں کے ساتھ الگ الگ صوفوں پر سیٹ کرتے۔ صبح کو آنکھ ابو کی با آوازِ بلند تسبیح  سے کھلتی۔ہم سب جلدی جلدی تیار ہو کر تانگے میں بیٹھ کر لیاقت باغ کی عید گاہ  میں نماز عید کو  روانہ ہوتے۔ واپسی پر اپنے گھر کی بجائے دادی کے گھر جاتے۔ عیدی ملتی۔ جس سے میں کہانیوں کی کتابیں خریدتی۔ابو یا چچا کے ساتھ جھولے جھولنے جاتے اور پھر دوپہر کے کھانے کے لیے اپنی بڑی خالہ کے گھر جانا برس ہا برس کا معمول رہا۔ 
دوسری یاد۔۔ ذرا بڑی ہوئی توعید کا رنگ ہی اور تھا۔ مہندی کی خوشبو تو ہمیشہ سے مسحور کرتی رہی اور کانچ  کی چوڑی تو خود میری زندگی کا استعارہ ٹھہری۔لیکن میرے لیےعید منانے کا بہترین انداز عید کے روز ایک نئی کتاب کا ہمراہ ہونا ہوتا چاہے وہ کوئی ڈائجسٹ ہی کیوں نہ ہو۔اور اس کے ساتھ عید کے لیے خاص طور پر بنے کھانوں کا انتظار چھوڑ کر شامی کباب اور ڈبل روٹی کے سینڈوچ کی خوشبو آج بھی اُسی طرح تازہ ہے۔جوعید کے دن کا ناشتہ ہوا کرتا۔ اسلام آباد کی عید سے جُڑی بہت خاص بات عید کارڈ اور عید کے تحفے بھی ہیں جو میں پنڈی میں اپنےپچھلے اسکول کی دوستوں کے لیے بڑے شوق سے لیتی۔ اسلام آباد کی جناح سُپر مارکیٹ میں اپنی پسندیدہ دکان "بُک فئیر" پر کارڈز کی سلیکشن کے لیے بہت سا وقت گزارانا عمومی طور پر  کوئی کتاب یا نئے سال کی ڈائری اور پین  ہوتے۔آج کل کے دور میں سوچا جائے تو ڈائری کی کوئی حیثیت نہیں دکھتی اور تقریباً ہر کمپنی کی طرف سے  بےدریغ ملتی رہتی ہیں۔ لیکن اس زمانے میں  یہ تحفے بہت قیمتی سمجھے جاتے تھے اور لینے والا انہیں ہمیشہ عزیزازجان رکھتا۔    

  تیسری یاد۔۔۔ شادی کے بعد عید بالکل ہی مختلف گزرتی کہ  صاحب  کی عید کے پہلے روز ڈیوٹی لگتی ۔۔دوسرے لوگ  تو ہچکچاتے لیکن صاحب کے ایک ٹکٹ میں دو مزے والی بات کہ دفتر جاتے ہوئے مجھے میرے گھر  چھوڑ دیتے اور اگلے روز کی عید اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتے۔یوں وہ عید جو میرے لیے اپنے کمرے میں اپنے ساتھ گزارنے کا نام تھی بھاگ دوڑ اور سفر کی نذر ہو جاتی۔ پھر بچوں کی مصروفیت۔ زندگی آہستہ آہستہ  دریا کے دوسرے کنارے کی طرف سفر کرتی چلی گئی۔ اور وہی  پرانی ساری کہانی دہرائی جانے لگی۔

  برسوں اسی ڈگر پر چلتے چلتے پھر یوں ہوا کہ پہلے امی  انتقال کر گئیں اور اس سال ابو بھی چلے گئےاور پھر جیسےعید  بھی ساتھ ہی چلی گئی۔ اُن کے جانے کے بعد پتہ چلا کہ عید صرف ماں باپ کے دم سے ہوتی ہے چاہے بچپن کی عید ہو یا جوانی کی۔ ہم بچے ہوتے ہیں تو ماں باپ ہماری ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان کی آنکھ  میں جگنو کی سی چمک لاتی ہیں۔ اور جب ہم اتنے بڑے ہو جاتے ہیں کہ خود ماں باپ بن جاتے ہیں پھر بھی ان کی نگاہِ خیال کے دائرے سے دور نہیں ہوتے۔ اُن کی مہربان تشویش پل میں ساری تھکن اُتار دیتی ہے۔ یہ تو اُن کے جانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اب اس طرح خیال رکھنے والا کوئی نہیں۔ بس اب خود سے وابستہ رشتوں کے لیے اپنی پیاس نظرانداز کرکے دیہاڑی دار مزدور کی طرح روز اپنا کنواں آپ کھودنا ہے اور چلتے جانا ہے۔زندگی کے بنے بنائے دائروں  میں سفر کرتے ہوئے احساس ہوا کہ عید کے لیے تو حکومتِ وقت بھی چھٹیاں دے دیتی ہیں اور حکمرانِ گھریلو امور کو ڈبل شفٹوں میں بنا تنخواہ کا اوور ٹائم کرنا پڑتا ہے۔ کاروبارِ خانہ داری عید کے دن پوری رفتارسے جو رواں رہتا ہے۔
انسان ہونے کے ناطے خوابوں کی کرچیاں زخمی تو کرتی ہیں لیکن حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو زندگی کے یہ میلے انسانوں اور رشتوں کے دم سے ہی ہیں۔ کبھی کہیں میزیں سجی رہ جاتی ہیں اور نہ کھانے والے ہوتے ہیں اور نہ ہی آنے والے بس ایک انتظار باقی رہ جاتا ہے۔روزِعید ہر ایک کے لیے خوشی کا دن نہیں ہوا کرتا۔۔۔ زندگی کے معاشی  مسائل  میں جکڑے لوگوں کے لیے عید کا دن دوہرے عذاب کا باعث بنتا ہے۔ معاشرے کی ناہمواریوں اور محرومیوں کے باعث کسی کے لیے ہر روز روزِ عید  تو ہر رات شبِ برات  کے مصداق گزرتی ہے تو کسی کو عید کے روز بھی عید ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ کبھی پردیس میں رہتے ہوئے وطن اور اپنوں سے دوری کے باعث  کوئی اپنی تنہائی میں عید کی مانوس مہک سے دور رہتا ہے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ  سارا سال عید منانے والےعید کی اصل خوشی کی گرد بھی نہیں پا سکتے۔
حرفِ آخر
عید صرف یاد اوراحساس کا نام  ہے کسی کے لیے خوشی کا تو کسی کے لیے غم کا۔
 

8 تبصرے:

  1. بلاگ پڑھنے کے بعد ایک قاری کا بےساختہ اظہار ۔۔۔
    چچا حضور کے درزیانہ فن سے مستفیید ہونے کا موقع ہمیں ہر عید پہ ملتا تھا۔ اور یہ اتنا ضروری ہوتا تھا کہ کسی اور کے در پہ جانے کی صورت میں خاندانی طعن وتشیع کا سامنا کرنا لازم تھا۔ یہ رشتے ناطوں کے بندھن بھی عجب ہی ہیں۔ گیارہ سال عمر تھی میری جب تو عید سے کافی پہلے ابو کا خرید کردہ آسمانی رنگ کا جوڑا سلنے کیلئے چچا حضور کے حوالے کیا۔ باقی دوستوں کے عید سے کافی پہلے کپڑے سل کے آ گئے مگر ہم چاند رات تک بھی کپڑوں کے سلنے کا نہ پوچھ سکے کہ جناب غضبناک نہ ہو جائیں۔ امید کی حالت میں شب گزری اور دل کو یقین تھا کہ کل نیا سوٹ ہی ہو گا۔ صبح دم ان کے گھر جا کر بصدِ احترام عرض کی کہ کپڑے عنایت کر دیں کیونکہ استری بھی کرنے ہیں امی نے۔ فرمانے لگے مجھے فرصت نہیں ملی سینے کی۔ بس اندھیرا ہی تو چھانا تھا آنکھوں کے آگے اور پھر خوب چھایا۔ گھر جا کر سو گیا۔ امی اٹھائیں کہ دیکھو تو سہی کتنے اچھے استری کیے ہیں پرانے کپڑے کہ کسی طور پرانے نہیں لگ رہے۔ میرا مڑ کے دیکھنے کو دل نہ کرے۔ گلے میں جیسے نوالہ اٹکا ہوا۔ اب بہنیں بھی رونے لگیں کہ ہم نے بھی نئے نہیں پہننے۔ ان پہ ترس تو آنا تھا پھر لہذا پرانے پہن کے مسجد چل دیا۔ جب کوئی عیدی دے تو لینے کو دل نہ کرے۔ کزن وغیرہ کے سامنے ایک ہی خیال دل میں کہ کوئ پرانا پہناوا نوٹ نہ کر لے۔ بہت دل گرفتگی میں دن گزرا۔ شام کو ندامت دل میں کہ ماں اور بہنوں کو رلایا۔ آج سوجتا ہوں کہ کیوں بچگانہ انداز اپنایا کہ گیارہ سال کا بچہ تو پورا "مرد " ہوتا ہے۔ اب جب کبھی عید پہ کپڑے نہ ہونے پہ والدین یا بچوں کی خودکشی کا سنتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ حالات تہ ہمیں چالیس سال کی عمر میں بھی پورا مرد نہیں بننے دیتے۔ آخر میں مزے کی بات کہ وہ جوڑا آخر بڑی عید ہمارے جسم کی رونق بن ہی گیا۔
    ( آج اندازہ ہوا کہ سچ لکھنا کافی مشکل)

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. اندازہ ہو گیا تو یقین بھی کر لیں کہ لکھنا قطعی مشکل نہیں اور بس دل کھولنا پڑتا ہے دل والوں کے سامنے۔

      حذف کریں
  2. نورین جی آپ کے مہربان مگر مبنی بر حقیقت لفظ مسحور کر دیتے ہیں خصوصاً عورت کی مصرفیت والی بات کے کیا کہنے

    جواب دیںحذف کریں
  3. مہندی کی خوشبو سے الفاظ کی خوشبو تک کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اوپر سے شامی کباب اور ڈبل روٹی کے سینڈوچ کا تڑکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچپن کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں کس قدر خوبصورت ہوتی ہیں
    مسکراہٹ ۔۔۔۔۔۔ تبسم ۔۔۔۔۔۔۔ ہنسی ۔۔۔۔۔۔۔۔ قہقہے
    سب کے سب کھو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم بڑے ہو گئے

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. ہم کھو جاتے ہیں اپنے حالات کے گرداب میں۔ سب کچھ وہیں رپتا ہے۔ اور اگر تیرنے کی سبیل پیدا ہوجائے تو مسکراہٹیں بھی لوٹ آتی ہیں ۔ بس ہمت شرط ہے۔

      حذف کریں
  4. اس بعد میرا کچھ کہنا مناسب نہیں لگتا۔۔۔۔۔بہت عمدہ

    جواب دیںحذف کریں
  5. عید مبارک...مصنّف : جواد احمد خان
    22جولائی 2015
    http://jawwad-khan.com/urdublog/?p=1052

    جواب دیںحذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...