جمعہ, اگست 29, 2014

"زندگی تجھ کو برتنا نہیں آیا مجھ کو"

بجھنے سے پہلے بھڑکنا نہیں آیا مجھ کو
زندگی تجھ کو برتنا نہیں آیا مجھ کو
اُس نے تو ٹوٹ کے چاہا ہے مجھے
اُس کے قدموں سے لپٹنا نہیں آیا مجھ کو
اُس نے چھوا ہے مجھے خوشبو کی طرح
گلِ لالہ کی طرح سمٹنا نہیں آیا مجھ کو
وہ تھا بےچین مرے فراق میں
اُس کی حالت پہ تڑپنا نہیں آیا مجھ کو
مری آنکھوں کی پرستش کیا ہوئی
کہ پھر پلکیں جھپکنا نہیں آیا مجھ کو
اُس نے توڑا تھا اِک خوشۂ گندم
پر آدم کی طرح بہکنا نہیں آیا مجھ کو
میں ہوں دیوانی اس مٹی کی
سنگِ مرمر پہ پھسلنا نہیں آیا مجھ کو
اُس نے آواز تو دی تھی مگر نور
 شام سے پہلے پلٹنا نہیں آیا مجھ کو

1 تبصرہ:

  1. بہت خوب
    ہر شعر نگینے کی طرح ہے
    .......
    اُس نے تو ٹوٹ کے چاہا ہے مجھے
    اُس کے قدموں سے لپٹنا نہیں آیا مجھ کو

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...