بدھ, دسمبر 09, 2015

"ذرا انتظار کرو۔۔۔ تم بھی چپ ہو جاؤ گے"

"ایک کالم ایک کہانی"
۔۔۔کالم "ہزار داستان" از مستنصرحسین تارڑ۔۔۔
۔۔بعنوان۔۔"ذرا انتظار کرو۔۔۔ تم بھی چپ ہو جاؤ گے ازمستنصر حسین تارڑ
بتاریخ۔۔نو دسمبر دوہزار پندرہ۔(09..12..2015 )۔
کالم سے اقتباس۔۔۔
ایک نامعلوم نثری نظم نگار نے قربت مرگ کو کچھ یوں بیان کیا ہے۔
سفید اوور کوٹوں میں کفنائے ہوئے ہسپتال کے اہلکار۔۔۔ سٹریچرپر دھکیلتے ہوئے مجھے آپریشن تھیٹر کی جانب لئے جاتے ہیں۔۔۔ نور جہاں کا ایک گیت گنگناتے۔۔۔
کی بھروسا دم دا، دم آوے نہ آوے، گنگناتے
اسی سٹریچر پر وہ مجھے واپس لائیں گے
کسی بھی حالت میں۔۔۔ زندہ یا مُردہ
میرے سر پر چھت میں نصب تیز روشنیاں
میری آنکھوں پر سے گزرتی جاتی ہیں
میں جانتا ہوں۔۔۔ میں نہیں جانتا
میری واپسی ہو گی تو کس صورت ہوگی۔۔۔
چھت میں نصب یہی روشنیاں میری آنکھوں پر سے گزریں گی۔۔۔
یا سب روشنیاں فیوز ہو چکی ہوں گی۔۔۔
میں وہاں ہوں گا جہاں کوئی چہرہ نہیں ہوتا۔۔۔
میں جانتا ہوں، میں نہیں جانتا
تب ایک ویرانہ اُن آنکھوں میں ویران ہوتا ہے
کوئی ویرانہ سا ویرانہ ہے۔۔۔
کوئی خلاء ہے، کیا ہے۔۔۔
میری ماں اُس ویرانے کے خلاء میں کھڑی ہے
وہ نہ خوش ہے نہ ناخوش۔۔۔
بہت چپ، بہت خاموش کھڑی ہے
اُس کے دوپٹے میں سے وہی مہک چلی آرہی ہے۔۔۔
جب وہ مجھے گلے سے لگاتی تھی تو آتی تھی۔۔۔
میں اُس نیم مدہوشی میں پوچھتا ہوں۔۔۔
امی، آپ یہاں کیا کر رہی ہیں،
وہ اُسی خوشی اور ناخوشی میں لپٹی اپنے ترشے ہوئے لب کھولتی ہیں۔۔۔
’’میں تمہیں دیکھنے آئی ہوں، بس اتنا کہا۔۔۔
میں آپریشن تھیٹر سے زندہ لوٹ آؤں گا، مجھے یقین ہوگیا
امی نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں تمہیں لینے آئی ہوں۔۔۔
اگر مائیں لینے آجائیں تو کون انکارکر سکتا ہے،
پر وہ مجھے دیکھنے آئی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج شائع ہونے والے اس کالم نے مجھے گنگ کر دیا۔۔۔زندگی صرف حیرت درحیرت ہے اور کچھ بھی نہیں آخری سانس تک ہم اسے جان ہی نہیں سکتے۔نہیں جانتی کہ یہ نامعلوم نثرنگار کون ہے جس نے قربتِ مرگ کی ایسی تصویر کھینچی کہ میری آنکھ  نے اس کے لفظ لفظ کی بنت کی  گواہی دی ۔۔۔۔ 27 اور28 دسمبر 2014 کی رات۔۔۔۔اسلام آباد کے شفا انٹرنیشل کے آئی سی یو میں ہر منظر ویسا ہی تھا جیسا اس نظم میں دکھتا ہے حد تو یہ ہے کہ اوپر گردش کرتی روشنیاں بھی ایسی ہی تھیں۔۔ اس لمحے کو میں نے اگلے چند روز میں اس طرح لفظ میں بیان کیا۔۔۔۔
بلاگ۔۔"ایمانِ زندگی"۔سے اقتباس۔۔۔ 
انسانی آنکھ اور اس کےسوچنے سمجھنے کی محدود عقل کی صلاحیت کے تحت میرے خیال میں پردہ گرنے کو ہی تھا۔ ۔لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ جو دکھائی دے رہا ہے وہ حقیقت ہوتے ہوئے بھی مکمل حقیقت نہیں۔ کچھ دیر بعد ابو کی آنکھ کھلی تو کسی اور دُنیا کا منظر ان کے سامنے تھا۔ وہ ہمیں دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھتے تھے اور ہمیں سنتے ہوئے بھی کسی اور کو بڑی محویت سے سن رہے تھے۔ چہرے کے تاثرات سے کبھی مسکراتے کبھی تاسف کا اظہار کرتے اور سیدھا ہاتھ بار بار وعلیکم السلام کہتے ہوئے ملانا چاہتے پھر مایوس ہو کر ہاتھ نیچے کر لیتے یا ہم ان کے بڑھے ہاتھ کو تھام لیتے۔ کچھ دیر بعد وہ ہماری دنیا میں لوٹ آئے۔ متلی کی کیفیت کے بعد جب طبیعت بحال ہوئی تو پہلے الفاظ یہ ادا کیے کہ وہ مجھے لینے آئے تھےمیں ہاتھ بڑھا رہا تھا لیکن انہوں نے ہاتھ نہیں ملایا کہ ابھی تمہارا وقت باقی ہے۔ اور میری اماں اور ابا بھی ساتھ ہی تھے۔جو مجھ سے ملنے کو بےچین تھےاماں باہیں کھول کر میرا بچہ کہہ کر بلاتی تھیں۔یہ کہتے ہوئے میرے ابو چھوٹے بچوں کی طرح اپنی ماں کو یاد کر کے ایک لمحے کو رونے لگے۔ پھر ہمیں تسلی دی کہ فکر کی کوئی بات نہیں ۔۔۔ابھی وقت نہیں آیا۔۔۔میں ابھی نہیں مروں گا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
جناب مستنصر حسین تارڑ کا آج مؤرخہ 9 دسمبر 2015 کو شائع ہونے والا یہ کالم اُن کے 6دسمبر 2015کو شائع ہونے والے کالم "میلان کندیرا کا ناول،امارٹیلیٹی، - مستنصر حسین تارڑ " کا دوسرا حصہ کہا جاسکتا ہے۔ 
جناب تارڑ سال 2015 میں اپنی 76 سالہ زندگی کے سب سے بڑے تجربے سے گزرے ۔اللہ کے کرم اور تقدیر کے لکھے کے مطابق وہ اس مرحلے سے بخیروخوبی سرخرو ہوئے۔ اللہ کی شکرگزاری کے احساس کے ساتھ مکمل جسمانی صحت اگر اپنوں کو تسکین دیتی ہے تو اُن کے قارئین کے لیے اُن کی ذہنی صحت خیال اور آگہی کی ایسی کہکشاؤں کی سیر کراتی ہے جس کا بیان لفظ کی گرفت میں نہیں آ سکتا۔ اس سال جناب تارڑ کی طرف سے ایک ساتھ چار کتابوں کے تحفے ملے۔۔۔۔ 1)"آسٹریلیا آوارگی"2) امریکہ کے سو رنگ3)راکاپوشی نگر اور 4) پندرہ کہانیاں
تو جہاں ان کتابوں کے متنوع موضوعات پڑھنے والوں کو اپنے دیس کی سیر کراتے ہیں، باہر کی دنیا اور اُن ممالک میں بسنے والوں کی کہانیاں کہتے ہیں وہیں جناب کی پندرہ کہانیاں ہمیں اپنے اندر کے سفر پر لے جاتی ہیں۔
جناب مستنصرحسین تارڑ کی طرف سے لفظ کی خوشبو کتاب کی صورت اور اخباری کالمزمیں  تو ہمیں برسوں سے مل ہی رہی ہے لیکن سال 2015 کی خاص بات جناب تارڑ کے شائع ہونے والے کالم ہیں۔وہ اخباری کالم جو جناب کی ہر روز کی سوچ کے آئینہ دار ہیں۔
ویسے تویہی نظر آتا ہے کہ اخبار میں چھپنے والی تحریر خواہ کتنی ہی قیمتی کیوں نہ دکھتی ہو اُس کی زندگی صرف ایک روز کی ہوتی ہے۔۔۔جتنی بےچینی سے اسے گلے لگایا جاتا ہے اتنی ہی جلدی اس کی ہوس ختم ہوکر ایک بوجھ بن جاتی ہے۔لیکن نیٹ کا ایک تحفہ کاغذ پر چھپنے والے اور شام کو ردی کی نذر ہونے والے اخبار کی عزت افزائی بھی ہے۔نیٹ کی بدولت کوئی بھی کاغذی تحریر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی ہے۔
جناب تارڑ کئی برس سےکالم لکھ رہے ہیں اور ان کے کالموں کے مجموعے کی صورت کئی کتابیں شائع بھی ہو چکی ہیں لیکن سال 2015 کا سب سے خاص تحفہ اُن کے اس سال شائع ہونے والے کالم ہیں۔ سال کے آغاز میں اگر انہوں نےاپنے سندھ سفر کی لفظ کشی کی اور کیا ہی خوب کی واقعی "من مور ہوا متوالا"۔ اور اس کے بعد جون میں اپنی جسمانی شکستگی کے تجربے سے گزرنے کے بعد آنے والے کالم بےمثال اور ناقابلِ فراموش ہیں۔یہ کالم کیا ہیں۔۔اپنائیت اور محبت کی ایسی سرگوشیاں ہیں کہ بقول امجداسلام امجد" تخلیے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے"۔۔۔جیسے کوئی ہم سخن اپنے دل ودر کے دروازے کھولے آنے والوں کو خوش آمدید کہے۔۔۔اُن کے ساتھ مٹی کے فرش پر بیٹھ کر کھلے آسمان تلے دل کی باتیں کرے یا کسی خوبصورت قالین پر گاؤ تکیہ لگائے نیم دراز ہو اور سننے والے اس کی مست مست باتوں اور دل نشین لہجے پر فدا ہوتے ہوئے اپنی زندگی وہیں بتِا دیں۔یہ کالم کوئی لیکچر یا کسی قسم کے فلسفے کا بیان نہیں بلکہ یہ بنا کسی تراش خراش یا جھجھک کے اپنے ذہن میں آنے والی خام سوچ کو دوسرے ذہنوں تک اُسی طور منتقل کرنے کی ایک کیفیت ہیں۔۔۔ایک لمس کا رشتہ ہے جو زمینی اور جسمانی فاصلوں کو رد کرتا قربت کی انتہا کو چھو کر روح سرشار کر دیتا ہے اور جسم اس لطیف احساس کی خوشبو سے اپنے سب بوجھ اتار پھینکتا ہے۔خیالِ یار میں محورقص دنیا میں قدم جمانے کو ذرا سی جگہ تلاش کر لیتا ہے۔اور یہی محبوب لکھاری کی کشش کا دائرہ ہے کہ جو ایک بار اس کے حصار میں آجائے وہ کہیں اور جانے کی خواہش کھو دیتا ہے۔
اللہ جناب مستنصرحسین تارڑ کو ذہنی اور جسمانی صحت کی تازگی کے ساتھ ہر سفر پر ثابت قدم رکھے۔آمین۔
نورین تبسم
اسلام آباد
دسمبر 9۔۔۔2015
جناب مستنصرحسین تارڑ کےتمام کالم پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
کالمز کا لنک
کچھ خاص کالم جو میں نے ایک بلاگ " ڈیتھ ڈراپ" میں شامل کیے۔
"ڈیتھ ڈراپ ۔۔۔خواب سے حقیقت تک"

پیر, دسمبر 07, 2015

" سجدہ "

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے"
"ہزار سجدے سے دیتا ہےآدمی کونجات 
خیال کی معراج پر جناب "علامہ اقبال "نے یقیناً یہ شعر عشقِ حقیقی کی لذت میں ڈوب کر کہا ہو گا۔اِن معنوں میں اس کی تفسیر میں کوئی شک بھی نہیں۔لفظ ہیرے کی طرح ہوتا ہےجس انگ سے دیکھیں اُس کے الگ ہی رنگ نظر آتے ہیں۔سجدے کا لفظ خدا سےمنسوب ہے اور خدا ایک شادی شدہ عورت کی زندگی میں مجازی خدا کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ 
عورت مرد کا تعلق ایسی آفاقی سچائی ہے جس پر مہر لباس کی مثال سے ثبت کی گئی تو کبھی عورت کو کھیتی سے تشبیہدے کر سمجھانے کی کوشش کی گئی،کھیت کے اسرارورموز سے کون واقف نہیں۔کھیت میں بیج نہ پڑے تو زمین بنجر،بےفیض۔بیج کا بھی موسم ہے،بےموسم کا بیج چاہے جتنی محنت مشقت سے ڈالو کبھی بارآور نہیں ہو سکتا۔پانی زندگی ہے۔۔۔بیج کی بارآوری اور نمو کے لیے ۔بارشیں بھی بروقت اورحدود وقیود کے اندر ہوں پھر ہی ساری جدوجُہد کا پھل ملتا ہے۔پھل ملنا،پھل پانا بھی قسمت سے ہے۔کبھی تیار فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں،تباہ کر دی جاتی ہیں توکبھی بیگار کی صورت کہ محنت کوئی اورکرتا ہے برتتا کوئی اور ہے۔لیکن!کیا کیا جائے آندھیوں طوفانوں کے ڈرسےاُمیدوں،خواہشوں کی فصلیں کاشت نہ کی جائیں؟یا کسی عاقبت نااندیش راہ زن کے خوف سے قیمتی خزانےہمیشہ کے لیے دفن ہی رہنے دئیے جائیں؟ ایسا بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے۔
عورت اگر ایک کھیتی ہے تو اُس کا ساتھی اُس کھیتی کے گردا گرد لگی ایک باڑھ کی مانند ہے۔ایک چاردیواری ہے۔۔۔جو کتنی ہی کمزورکتنی ہی خاردار کیوں نہ ہو بھٹکنے والے راہ چلتوں کو اندر آنے سے روکتی ہے۔جس زمین کی چاردیواری نہ ہو۔۔۔جس مکان کی دیوارنہ ہو وہ ہمیشہ کم مایہ ہی رہتا ہے،خواہ اُس کی لہلہاتی فصلوں پر آزادی اور برابری کے عظیم الشان لٹھ بردار کھڑے ہوں یا اُس کے دروازوں پر خودساختہ عزت ِنفس اورتفاخر کے قفل مضبوطی سے اپنی جگہ پر قائم  رہیں۔
ایک متمدن معاشرے اوراسلامی طرزِحیات کے دائرے میں رہتے ہوئے عورت اپنے طور پردُنیا کا مشکل سے مشکل اور ناممکن ترین کام بھی کر لے۔عزت،نیک نامی کی معراج پر بھی جاپہنچے جب تک وہ کسی ایسے "جائز" تعلق میں نہیں بندھتی اُس کا کردار،اُس کے افعال شکوک وشُبہات کے پردوں میں مستور رہتے ہیں اور نہ صرف دوسروں کی نظر میں بلکہ اُسے اپنی ذات کے دائرے میں بھی مکمل آسودگی نہیں مل پاتی۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ سمجھوتوں کی رگڑ اور ذمہ داریوں کے بوجھ سے ہرپل کمزور ہوتا تعلق کا یہ لباس خواہ کتنا ہی درد کیوں نہ دے اور بظاہرکتنا ہی بےرنگ کیوں نہ دِکھے، دوسروں کی بدنظری سے ہمیشہ کے لیے تحفظ دیتا  ہے۔
ایک رشتے میں بندھنے والے عورت اورمرد الگ الگ ماحول میں پروان چڑھتے ہیں،مختلف سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔جب ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو اس رشتے کو رگڑ سے بچانے کے لیے گریس درکار ہوتی ہےجو اُن کو نہ صرف زخمی ہونے سے بچائے بلکہ باہم جوڑنے میں بھی مددگار ثابت ہو۔عام طور پر محبت کا عنصر بنیاد سمجھا جاتا ہےاس کے ساتھ ساتھ برداشت اور سمجھوتے کو بھی حرفِ آخر کہہ دیتے ہیں۔غور کیا جائے تو ایسا کچھ بھی نہیں یہ رشتہ ایک ذمہ داری ایک   معاہدہ ہےمحبت سے اس کاکوئی لینا دینا نہیں۔محبت اگر ذمہ داری بن جائے تو محبت نہیں بوجھ بن جاتی ہے۔محبت  تو صرف احساس کا نام ہے، لین دین کا رشتہ نہیں۔۔۔ دنیا میں کوئی بھی شے ایسی نہیں جو محبت کی ترجمانی کر سکے۔ محبت اپنی"میں' کی نفی کر کے محبوب کی رضا پر چلنے کا نام ہے۔جبکہ شادی شدہ زندگی میں اس فارمولے کو اپلائی کیا جائے تو بظاہر سب شاندار دکھتا ہے لیکن اندر ہی اندر سمجھوتے کی دیمک وجود چاٹ جاتی ہے۔
پھر جب محبت ہی نہیں تو اس رشتے کی اصل کیا ہے؟۔۔۔اس رشتے کی بنیاد اپنی "انا " کو دفن کرنا ہے۔ جس پررفتہ رفتہ، دھیرے دھیرے احساس کی منزل تعمیر ہوتی ہے۔۔۔ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے چھپی ننھی سی محبت کی کرن شایدکہیں بعد میں نمودار ہوتی ہے۔شادی شدہ زندگی دونوں اطراف سے برداشت کے کنکریٹ کی بےحس موٹی تہہ ہے کہ جس کے نیچے اگر باہمی اعتماد کا بیج موجود ہو تو کبھی نہ کبھی محبت کی کونپل اس تہہ کو پھاڑ کر اپنی چھب دکھلا ہی دیتی ہے۔ 
۔" روزی روٹی " کا اس رشتے کو رواں دواں رکھنے میں اہم کردار ہے۔عورت چاہے کتنی ہی خوب سیرت اور خوب صورت کیوں نہ ہو۔۔۔ قابلیت میں بھی مرد سے بڑھ کر ہو لیکن گھریلو ذمہ داریاں اوراہل خانہ کو اولیت دینا اُس کا فرضِ ہے۔ گھرعورت سے بنتا ہے اور اس کے لیے اپنی ذات اور اپنی خواہشات کی نفی کرنا پہلی شرط ہے۔ اسی طرح شوہر بھی لاکھ اپنی بیوی بچوں کا خیال رکھنے والا اور محبت کرنے والا ہو جب تک وہ ایک باعزت روزگار سے وابستہ نہیں ہو گا یا پھر اپنے گھر کا خرچ نہیں اُٹھائے گا ۔اُس کی محبت اُس کے خلوص کی اہمیت صفر ہی رہے گی۔
زندگی کے اس سفرمیں سمجھوتے کرنا عورت کے لیے جتنا آسان ہے مرد کے لیے نہیں کہ ایسا کرنا عورت کی مجبوری بھی ہے۔د وسری طرف مرد صرف اور صرف اپنی فطرت کی حاکمیت اور جبلت کے ہاتھوں مجبور ہے ۔بہت کم مرد  عورت کے سامنے اس احساس کو جھٹکنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔مرد کے پاس ہر فیصلے کا اختیار ہمیشہ رہتا ہے اور اختیار رکھتے ہوئے بھی اس کو استعمال نہ کرنا  ہی تو برداشت کا اصل امتحان ہے۔
ازدواجی زندگی کے اس بندھن میں سمجھوتوں کے حوالے سے مرد اورعورت کی کوئی تخصیص نہیں۔یہ احساس کی بات ہے جو مرد یا عورت اپنے طورپریکساں محسوس کرسکتے ہیں۔ دکھ صرف یہ ہے کہ یہ وہ لٹمس ٹیسٹ ہے جو دُنیا کی زندگی  میں معاشرتی حوالے سے کامیابی کی معراج ہےلیکن ہم میں سے اکثراس امتحان میں پورے نہیں اترتے۔ ہم اس رشتے کی سچائی اور بڑائی پر یقین رکھ کر بھی اس کے آگے سجدہ ریز ہونے کو اپنی انا اپنے علم کی شکست گردانتے ہیں۔ ہم سے بڑا نادان کون ہو گا جو بھلا یہ نہ جانے کہ شکست تو روزِاول کا پہلا سبق تھا جس پر ہم نے ایک نگاہِ غلط بھی نہ ڈالی۔اوراگر پہلا سبق ہی ازبرنہ ہو تو باقی اسباق کبھی سمجھ نہیں آتے۔
عورت بوتل میں بند جن کی مانند ہے اس کا ساتھی چاہے تو ساری عمراس کانچ کی بےقیمت بوتل کی کرامت جان کر اس سے فیض اٹھاتا رہےاور عقل کا اندھا بن جائے تو نہ صرف اس کی اہمیت کا علم کھو دے بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے تحفظ کالباس اتار دے اب کوئی جس طرح چاہے برتے۔ اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہوئے عورت کو اپنی طاقت کا احساس ہو جائے تو وہ بڑے سے بڑے طوفانوں کے رخ موڑ سکتی ہے۔دکھ کی بات یہ ہے کہ عورت انا اور تسکین کے جن کے فریب میں آ جاتی ہے اور کانچ کے گھر میں رہنا اپنی توہین سمجھتی ہے،یہ جانےبغیر کہ گھر ٹوٹنے سے کانچ کی کرچیاں اس کےہی پیر زخمی کرتی ہیں اور پھر ساری زندگی درد کی ٹیسیں سہنا پڑتی ہیں۔
واہ رے قدرت!  مرد کے کتنے روپ ہیں اور عورت کے اس سے بھی بڑھ کر لیکن گھر کے اندرعورت کا ایک ہی روپ ہے۔اور کامیاب عورت وہی ہے جو اس روپ کو دل وجان سے اپنا لے۔۔۔ چاہے اس کی چبھن رات کی تنہائی میں گہری نیند سے جگا کر کروٹیں بدلنے پرمجبورکر دے یا پھر دنیا فتح کر کے بھی ایک مرد کے سامنے سجدہ ریز ہونےاور ناقدری کے دکھ کو سات پردوں میں چھپانے کا حوصلہ عطا کرے۔

جمعہ, دسمبر 04, 2015

"کرنیں (8)"

اللہ کو عقل کے سوا جانا ہی نہیں جا سکتا۔
۔۔۔۔۔
اللہ ہر احساس کی بنیاد ہے کہ اسی سے سب ملتا ہے نفس سے لے کر روح کی طلب تک۔
۔۔۔۔۔
دنیا کا علم دنیا کی زندگی میں ہے اور آخرت کی سمجھ آخرت میں ہی ملے گی۔
۔۔۔۔۔
علم کا صدقہ علم کے سوا کچھ بھی نہیں۔
۔۔۔۔۔
 نصیحت حاصل کرنا صرف دیکھنے والی آنکھ کا نصیب ہے۔نگاہ کی وسعت اللہ کا خاص فضل ہے جس کو عطا ہوجائے وہ ہر شے سے بےنیاز ہو گیا۔
۔۔۔۔۔
 رب کو راضی کرنا ہے تو اس کی رضا میں راضی ہوجاؤ۔عمل تو دور کی بات اگر ہم اس رمز پر ایک پل کو ٹھہر کر ذرا سا غور ہی کر لیں تو بہت سارے اعمال کے گورکھ دھندے سے نجات مل جاتی ہے۔
 ۔۔۔۔۔
اگر ہمیں اس دنیا میں جنت نہیں ملی تو آخرت میں بھی نہیں ملے گی۔
۔۔۔۔
سب سے بڑی جنت "سکون" ہے۔۔دل کا سکون
۔۔۔۔
دل کا سکون اللہ کے قرب کے احساس میں ہے۔
 ۔۔۔۔
 ہم دنیا میں اپنے اپنے خودساختہ خداؤں کے سامنے آنکھیں بند کیے ہر وقت حالتِ رکوع وسجود میں رہتے ہیں۔مشقت کی یہ عبادت کبھی دائیں بائیں طمانیت کی آنکھ کھلنے سے ختم ہونے میں نہیں آتی۔
۔۔۔۔۔
دربار ہو یا مزار حاضری بلاوے سے مشروط ہے۔
 ۔۔۔۔۔
اللہ بہتر جانتا ہےاور خوب جانتا ہے کہ کون کس قابل ہے اور کس کو عطا کرنا ہے اور کس کی عطا کو آئندہ کے لیے بچا رکھنا ہے۔
۔۔۔۔
ہمارے پاس ہماری اپنی زندگی اور اپنی ذات  سے بڑا علم اور کہیں موجود نہیں اور علم بھی وہ جو ہر آن ہمارے سامنے نئی دریافت کر رہا ہے۔.
۔۔۔۔۔
تشنگی کیا ہے۔۔۔جب سب کچھ مل کر بھی بہت کچھ رہ جائے۔تشنگی انعام ہے دیدۂ بینا کے لیے ۔۔۔اور اس کی انتہا پیغام ہے منزل کی قربت کا۔
۔۔۔۔
ہر زخم کی وجہ گولی نہیں اور گولی ہر درد کی دوا بھی نہیں۔
۔۔۔۔
 موتی کتنا ہی انمول کیوں نہ ہواور سیپ کتنی ہی بےوقعت کیوں نہ دکھتی ہو سیپ کے بغیر موتی کبھی پروان نہیں چڑھ سکتا۔
 ۔۔۔۔۔
موتی جب تک سیپ میں بند ہو انمول ہے بازار میں سج جائے تو قیمت لگ جاتی ہے۔
۔۔۔۔
محبت  قربانی کا نام ہے۔یہی نصاب زندگی کا پہلا لفظ ہےاور کتاب ِزندگی کا آخری ورق بھی یہی۔
۔۔۔۔
کسی کے جانے سے زندگی ختم نہیں ہوتی لیکن ایک نئی زندگی ضرور شروع ہوتی ہے۔
۔۔۔۔
 خالی صفحے پڑھنا ہی توکمال ہےورنہ کالے صفحے پڑھتے عمر گزر جاتی ہے اور سمجھ کچھ نہیں آتا۔
۔۔۔۔
ایک میک اپ اترنے کے بعد ہی چہرے پر دوسرا میک اپ کیا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
ہر ایک اپنی نظر کے دائرے سے جو دیکھتا ہے وہی کہتا ہے۔
۔۔۔۔
 ضرورت اور غرض کبھی ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی ہونی چاہیے اگر ہم اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہیں۔ بس اس ضرورت اور غرض کی حدیں اور پہچان ہی ہماری روح کی تازگی ہے ورنہ جسم کی خواہش جسم تک رہتی ہے اور پھر مٹی میں مل کر سب مٹی۔
۔۔۔۔
اگر اپنی بڑائی کا اظہار تکبر کہلاتا ہے تو اپنے آپکو چھوٹا سمجھنا بھی رب کی عطا کی ناشکری کے زمرے میں آتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
زندگی نفع نقصان کا سودا ہے۔اس خسارے میں سے نفع لینا ہی تو اصل زندگی ہے۔
۔۔۔۔
مردہ جسم صرف بو دیتے ہیں۔
۔۔۔۔
جو اپنا بھلا نہ کر سکے وہ کسی کا بھلا نہیں کر سکتا۔
۔۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ وقت خواہ اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے دراصل وقت کبھی نہیں گزرتا البتہ انسان گزر جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔
جسم  پاک کرنے کے لیے پانی ضرورت ہے توذہن پاک کرنے کے لیے پانی کی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔
غلطی اور غلط فہمی میں صرف فہم کا فرق ہی تو ہے۔ غلطی غلط فہمی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔
۔۔۔
 پہلی غلطی اپنی حیثیت اور خصلت میں بظاہر چھوٹی سی غلطی دکھتی ہے لیکن اس غلطی کے بطن سے پیدا ہونے والی غلطیاں تقسیم درتقسیم ہوتے ہوئےایک بڑے طوفان کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔
۔۔۔۔

جمعرات, دسمبر 03, 2015

"میں خیال ہوں کسی اور کا "


سلیم کوثر
تاریخ پیدائش ۔۔اگست 1947
بمقام ۔۔پانی پت (ہندوستان)۔
شعری مجموعے۔۔۔
٭محبت اِک شجر ہے - 1994
٭خالی ہاتھوں میں ارض وسماء - 1980
٭یہ چراغ ہے تو جلا رہے - 1987
٭ذرا موسم بدلنے دو - 1991
٭دنیا مری آرزو سے کم ہے۔2007
میرا انتخاب ۔۔۔
۔"ذرا موسم بدلنے دو " سے نوے مصرعوں کی ایک طویل نظم
"دُکانِ گریہ"
پوچھنے والے تجھے کیسے بتائیں آخر
دکھ عبارت تو نہیں،جو تجھے لکھ کر بھیجیں
یہ کہانی بھی نہیں ہے کہ سنائیں تجھ کو
نہ کوئی بات ہی ایسی کہ بتائیں تجھ کو
زخم ہو تو تیرے ناخن کے حوالے کر دیں
آئینہ بھی تو نہیں ہے کہ دکھائیں تجھ کو
تو نے پوچھا ہے مگر کیسے بتائیں تجھ کو
یہ کوئی راز نہیں جس کو چھپائیں تو وہ راز
کبھی چہرے کبھی آنکھوں سے چھلک جاتا ہے
جیسے آنچل کو سنبھالے کوئی اور تیز ہوا
جب بھی چلتی ہے تو شانوں سے ڈھلک جاتا ہے
اب تجھے کیسے بتائیں کہ ہمیں کیا دکھ ہے
جسم میں رینگتی رہتی ہے مسافت کی تھکن
پھر بھی کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے حالات کا بوجھ
اپنے قدموں سے ہٹاتے ہوئے سائے اپنے
جس کو بھی دیکھیئے چپ چاپ چلا جاتا ہے
کبھی خود سے کبھی رستوں سے الجھتا ہے مگر
جانے والا کسی آواز پہ رکتا ہی نہیں
ڈھونڈنا ہے نیا پیرائے اظہار ہمیں
استعاروں کی زباں کوئی سمجھتا ہی نہیں
دل گرفتہ ہیں طلسماتِ غمِ ہستی سے
سانس لینے سے فسوں قریۂ جاں ٹوٹتی ہے
اک تغیر پس ہر شے ہے مگر ظلم کی ڈور
ابھی معلوم نہیں ہے کہ کہاں ٹوٹتی ہے
تو سمجھتا ہے کہ خوشبو سے معطر ہے حیات
تو نے چکھا ہی نہیں زہر کسی موسم کا
تجھ پہ گزرا ہی نہیں رقصِ جنوں کا عالم
ایسا عالم جہاں صدیوں کے تحیر کا نشہ
ہر بچھڑی ہوئی ساعت سے گلے ملتا ہے
اس تماشے کا بظاہر تو نہیں کوئی سبب
صرف محسوس کرو گے تو پتا چلتا ہے
ایک دھن ہے جو سنائی نہیں دیتی پھر بھی
لَے بہ لَے بڑھتا چلا جاتا ہے ہنگامِ ستم
کُو بہ کُو پھیلتا جاتا ہےغبارِمن وتو
روح سے خالی ہوئے جاتے ہیں جسموں کے حرم
وقت بےرحم ہے ہم رقص برہنہ ہیں سبھی
اب تو پابند سلاسل نہیں کوئی پھر بھی
دشت مژگاں میں بھٹکتا ہوا تاروں کا ہجوم
صفحہ لب پہ سسسکتی ہوئی آواز کی لَو
دیکھ تو کیسے رہائی کی خبر کرتی ہے
روزن وقت سے آغاز سفر کرتی ہے
بے خبر رہنا کسی بات سے اچھا ہی نہیں
تو کبھی وقت کی دہلیز پہ ٹھہرا ہی نہیں
تو نے دیکھے ہی نہیں حلق امروز کے رنگ
گرمی وعدہ فردا سے پگھلتے ہوئے لوگ
اپنے ہی خواب کی تعبیر میں جلتے ہوئےلوگ
بھوک اور پیاس کی مری ہوئی فصلوں کی طرح
پرعزم کی لکیروں سے ابھرتے ہوئے لوگ
امن کے نام پر بارود بھری دنیا میں
خاص خشک کی مانند بکھرتے ہوئے لوگ
روز جیتے ہوئےاور روز ہی مرتے ہوئے لوگ
زندگی فلم نہیں ہے کہ دکھائیں تجھ کو
تو نے پوچھا ہے مگر کیسےبتائیں تجھ کو
کوئی محفوظ نہیں اہل تحفظ سے یہاں
رات بھاری ہے کہیں اور کہیں دن بھاری
ساری دنیا کوئی میدان سا لگتی ہے ہمیں
جس میں اک معرکہ سود و زیاں جاری ہے
پاؤں رکھے ہوئے بارود پر سب لوگ جہاں
اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے پروانۂ شب
آستینوں میں چھپائے ہوے مہتاب کوئی
اپنی گردن میں لیے اپنے گریبان کا طوق
نیند میں چلتے ہوئے دیکھتے ہیں خواب کوئی
اور یہ سوچتے رہتے ہیں کہ دیواروں سے
شب کے آثار ڈھلے,صبح کا سورج ابھرا
دور افق پار پہاڑوں پہ چمکتی ہوئی برف
نئے سورج کی تمازت سے پگھل جائے گی
اور کسی وقفہ امکان سحر میں اب کہ
روشنی سارے اندھیروں کو نگل جائے گی
دیکھیئے کیسے پہنچتی ہے ٹھکانے پہ کہیں
دور اک فاختہ اڑتی ہے نشانے پہ کہیں
آ کے یہ منظر خون بستہ دکھائیں تجھ کو
تو نے پوچھا ہے مگر کیسےبتائیں تجھ کو
کوئی گاہک ہی نہیں جوہر آئندہ کا
چشم کھولے ہوئے بیٹھی ہے دکانِ گریہ
اور اسی منظر خون بستہ کے گوشے میں کہیں
سر پہ ڈالے ہوے اک لمحۂ موجود کی دھول
تیرے عشاق بہت خاک بسر پھرتے ہیں
وقت کب کھینچ لے مقتل میں گواہی کے لیے
دست خالی میں لیے کاسہ سر پھرتے ہیں
پوچھنے والے تجھے کیسے بتائیں آخر
دکھ عبارت تو نہیں جو تجھے لکھ کر بھیجیں
دکھ تو محسوس ہوا کرتا ہے
چاہے تیرا ہو یا میرا دکھ ہو
آدمی وہ ہے جسے جیتے جی
صرف اپنا نہیں سب کا دکھ ہو
چاک ہو جائے جو اک بار ہوس کے ہاتھوں
جامہ عشق دوبارہ تو نہیں سلتا ہے
آسمان میری زمینوں پر جھکا ہے لیکن
تیرا اور میرا ستارہ ہی نہیں ملتا ہے
۔۔۔۔۔
میرا انتخاب ۔۔۔میری ڈائری سے
میں خیال ہوں کسی اورکا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سرِآئینہ مرا عکس ہے پسِ آئینہ کوئی اور ہے
میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے
عجب اعتبار و بےاعتباری کے درمیاں ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے
مری روشنی ترے خدوخال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے
تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتہ نہیں
تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے
وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں
مرا جرم تو کوئی اور تھا پر مری سزا کوئی اور ہے
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا، نہیں دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
جو مری ریاضتِ نیم شب کو سلیم صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے

ہفتہ, نومبر 28, 2015

" جیون ساگر کا عالی"



اس وقت سے میں ڈرتا ہوں
جب وقت سے میں ڈر جاؤں
"لاحاصل"
جیوے پاکستان،جیون ساگر (اتنے بڑے جیون ساگر میں تونے پاکستان دیا۔۔۔گلوکار،الن فقیر) سے لے کر میرا پیغام پاکستان کے خالق جناب جمیل الدین عالی ایک شاعرِبےمثل ہی نہیں بلکہ ایک سچے کھرے پاکستانی بھی تھے جنہوں نے 1951 میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے سرکاری ملازمت اختیار کی ۔یہ وہ دور تھا جب وسائل نہ ہونے کے برابر پر جذبہ ہمت اور لگن انمول اور بےمحابا تھی۔ جمیل الدین عالی کی ایک پہچان" ببول کے کانٹے" بھی ہیں جو آپ اس دور میں فائلوں پر کامن پنوں کی جگہ استعمال کرتے۔ جتنی عزت سے آپ نے یہ کانٹےسمیٹے اتنی ہی خوشبو اور رس سےآپ کا لہجہ ہمیشہ مہکتا رہا۔
دوہےلکھتے اور تحت اللفظ پڑھتے ہوئے اردو شاعری میں ایک نئے اسلوبِ بیان کی بنیاد بھی رکھی۔۔۔"انسان“کے نام سے پندرہ ہزار اشعار کی طویل نظم جس کو وہ اپنا لکھا ہوا منظوم ڈراما بھی کہتے تھے۔ یہ رزمیہ نظم ایک مکمل کتاب اورایک شاہکار تخلیق ہےجس میں انہوں نے انسان کے تمام پہلوؤں کی عکاسی کی،جن میں مذاہبِ عالم، نفسیات، فلسفہ،ادب اخلاقیات، جمالیات، سائنس، اور تاریخ جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔
جمیل الدین عالی کی شاعری سے انتخاب۔۔۔۔
اب جو یہ میرے بغیر انجمن آرائی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ تم کو میری یاد آئی ہے
یہ جو عالی ہے یہ شاعر نہیں سودائی ہے
یہ تو سچ ہے ہے مگر آگے تری رسوائی ہے
میرے شکووں پہ نہ جا میں تو وہی ہوں جس نے
بارہا ترکِ محبت کی قسم کھائی ہے
خود بھی گمنام رہیں اُن کو بھی گمنام رکھیں
ہائے وہ لوگ جنہیں نازِ شکیبائی ہے
ہاں بھلا ترے خدوخال کو ہم کیا سمجھیں
دل میں یوں ہی تری تصویر اتر آئی ہے
ان کو آزردہ بھی کرتے نہیں بنتی ورنہ
اپنی باتوں پہ بھلا کس کو ہنسی آئی ہے
ہم نے صحرا میں بھی رہ کر جو پکارا ہے تجھے
کتنے غنچوں کے چٹکنے کی صدا آئی ہے
اہلِ شہر،اہلِ چمن،اہلِ قفس خیر تو ہے
کیا خبر بھی نہیں آئی کہ بہار آئی ہے
میری ہنگامہ پسندی پہ نہ الزام رکھو
شاید اِک یہ بھی علاج غمِ تنہائی ہے
۔۔۔۔۔۔
عالی" جی اب آپ چلو تم اپنے بوجھ اٹھائے
ساتھ بھی دے تو آخر پیارے کوئی کہاں تک جائے
جس سورج کی آس لگی ہے شاید وہ بھی آئے
تم یہ کہو خود تم نے اب تک کتنے دیے جلائے
اپنا کام ہے صرف محبت باقی اس کا کام
جب چاہے وہ روٹھے ہم سے جب چاہے من جائے
کیا کیا روگ لگے ہیں دل کو کیا کیا اب کے بھید
ہم سب کو سمجھانے والے،کون ہمیں سمجھائے
ایک اسی امید پہ ہیں سب دشمن دوست قبول
کیا جانے اس سادہ روی میں کون کہاں مل جائے
جب تم سب ہو سچے سادھو،میں بھی سچا سادھو ہوں
ایک غریب اکیلا پاپی کس کس سے شرمائے
اتنا بھی مجبور نہ کیجو ورنہ ہم بھی کہہ دیں گے
او عالی پر ہنسنے والے! تو عالی بن جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔
کب تم بھٹکے کیوں تم بھٹکے کس کس کو سمجھاؤ گے
اتنی دور تو آپہنچے ہو اور کہاں تک جاؤ گے
اس چالیس برس میں تم نے کتنے دوست بنائے ہیں
اب جو عمر بچی ہے اس میں کتنے دوست بناؤ گے
بچپن کے سب سنگی ساتھی آخر کیوںکر چھوٹ گئے
کوئی یار نیا پوچھے تو اس کو کیا بتلاؤ گے
جو بھی تم نے شہرت پائی جو بھی تم بدنام ہوئے
کیا یہی ورثہ اپنے پیارے بچوں کو دے جاؤ گے
اس جوشِ خود آگاہی میں آگے کی کیا سوچی ہے
شعر کہو گے،عشق کرو گے،کیا کیا ڈھونگ رچاؤ گے
عالی کس کو فرصت ہوگی ایک تمہی کو رونے کی
جیسے سب یاد آجاتے ہیں تم بھی یاد آ جاؤ گے
۔۔۔۔۔۔۔
اب عالی جی اہلِ سخن کی صحبت سے گھبراتے ہیں
جب کہیں بیٹھنا ہی پڑ جائے گیت پرانے گاتے ہیں
گیت پرانے سوہنے لیکن کب تک گائے جاؤ گے
ایک سے بول اور ایک سی لَے سے کن رس بھی تھک جاتے ہیں
یہ سب شکوے سر آنکھوں پر،لیکن یارو! سوچو تو
ایسے خوش گویانِ سخن کیوں چپ ہو کر رہ جاتے ہیں
کچھ تو ایسے جرم تھے جن کا رنگ کچھ ایسا گہرا ہے
لوگ جتائیں یا نہ جتائیں، یہ خود سے شرماتے ہیں
کچھ ناکام ارادوں نے بھی ہمت توڑ کے رکھ دی ہے'
کچھ اپنی کم مائیگیوں کے خوف سے بھی گھبراتے ہیں
نوعمری میں عشق کی گلیاں اندھےپن سے مل نہ سکیں
اور اب جاتی عمر کے سائے کوسوں دور بھگاتے ہیں
بےتقصیر وہ جیون ساتھی ایسا ساتھ نبھاتی ہے
اس کو کوئی بھی دکھ دینے کے دھیان سے ہی تھراتے ہیں
اب جو بھولے بھٹکے کوئی دعوتِ شوق آ جاتی ہے
کیا کیا وعدے،کیا کیا وہم اور کیا کیا دھیان ستاتے ہٰیں
ایسی نیند بھی لے نہیں سکتے جس سے اٹھنا مشکل ہو
بھولے بھالے چاہنے والے بچے روز جگاتے ہیں
جب سے چین میں گھوم آئے ہیں بےچینی سی رہتی ہے
کیا کچھ پایا،کیا نہیں،پایا کچھ بھی کہہ نہیں پاتے ہیں
جس دنیا کے خواب کتابوں اور قصوں میں دیکھے تھے
وہ نہ ملی اور یہ سب کو وہی خواب دکھاتے ہیں
۔۔۔
میری ڈائری سے۔۔
جس میں جناب جمیل الدین عالی کے مارچ 1986 کے دستخظ ثبت ہیں تو اسی صفحے پر تقریباً انتیس سال بعد اُن کے بیٹے راجو جمیل کے دستخظ بھی ہیں۔
 

"گرہ در گرہ"

مرد اور عورت کے بیچ بہت سے رشتے اور گرہ درگرہ تعلق ہوتے ہیں۔ہر رشتہ ایک دوسرے رشتے میں خود کو بدلتا ہوا اور ہرتعلق ایک اور نامعلوم سمت کی جانب سفر کرتا ہوا۔ہررشتے کی بنیاد اگرجسمانی تعلق سے سر اُبھارتی ہے تو ہر تعلق کی جڑیں ذہنی وقلبی رشتے سے پھوٹتی ہیں۔رشتے جسمانی ہم آہنگی کی بدولت قائم ہوتے ہیں تو تعلق ذہنی ہم آہنگی کے بغیر کبھی پروان نہیں چڑھ سکتے۔جسمانی تعلق کا ہم صرف ایک شخص کے حوالے سے ایک ہی مطلب نکالتے ہیں اسی لیے لکھنے میں ہچکچاہٹ بھی محسوس کرتے ہیں ورنہ دیکھا جائے تو انسان کے دوسرے انسانوں سے صرف جسم بانٹنے کے رشتے ہی تو ہوتے ہیں جو ہر رشتے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اجنبی مرد اورعورت شادی کےتعلق کے بعد جب ایک خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں تو مرد کے حوالے سے ماں،بہن اور بیٹی کے رشتے وجود میں آتے ہیں اسی طرح عورت کی زندگی میں باپ، بھائی اور بیٹے کا رشتہ کبھی ختم نہ ہونے والا تعلق بن جاتا ہے۔
۔"رشتے محبت تو دے سکتے ہیں لیکن آسودگی ہمیشہ تعلق سے ملتی ہے چاہے وہ ذہنی ہو یا جسمانی"۔
مقدر کےرشتے ہمیشہ بنے بنائے ملتے ہیں ہمارا ان کی بنت پر  کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ ۔۔اُن کے لیےکوئی بھاگ دَوڑنہیں۔۔۔جِگ سا پزل کی طرح ایک دوسرے سے جُڑتے ہوئے۔۔۔ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ۔ تعلُق ہمیشہ اپنے دائرے سے باہر قائم کیا جاتا ہے۔ اس میں اپنی جگہ تلاش کرنا پڑتی ہے۔۔۔ ایک دوسرے کو جگہ دینی ہوتی ہے۔اس کے لیے جاننا معنی نہیں رکھتا،حسب نسب،بڑائی چھوٹائی اس کا کوئی معیارنہیں۔یہ ایک نگاہ کا کمال ہےجوجسم کے پاراترے تو بظاہربےجوڑ تعلق دُنیا کے کامیاب ساتھ بن جاتے ہیں۔اگر یہ نگاہ روح پر پڑ جائے توانسان تکمیلِ ذات کے اُس مقام پرجا پُہنچتا ہے جہاں دنیا کی ہر خوشی معمولی دکھائی دیتی ہے۔
رشتے صرف ایک بات پر فوقیت رکھتے ہیں ہےاور وہ ہے"اعتماد "انسان رشتے پراندھادُھند اعتماد کرتا ہے جبکہ تعلق پرکبھی اعتبارنہیں آتا۔زندگی کے اس سفرمیں مات ہوتی ہے تو رشتوں کے ٹھکرائے ہوئے ساری عمر سسکتے رہتے ہیں،بےچین رہتے ہیں۔اگر تعلق دھوکا دے جائے تو اگرچہ ادھورے تو رہ جاتے ہیں لیکن اپنے اندر سے شانت ہوتے ہیں کہ ہمیں کون سا اعتبار آیا تھا۔
انسانی فہم کے یقین کے ساتھ بظاہر ذہنی ہم آہنگی جسمانی سے زیادہ ضروری دکھتی ہےکہ اول اگر ہو تو دوسری خودبخود مطمئن    ہو جاتی ہےاگراس بات کو حتمی مان لیا جائے تو پھرذہنی ہم آہنگی والے رشتے ناکام کیوں ہو جاتے ہیں ؟اورمکمل جسمانی ہم آہنگی اور محبت کے باوجود انسان کی تلاش کیوں جاری رہتی ہے؟کیا یہ محض انسان کے کردار کی خرابی ہے؟یہ بہت اہم سوال ہے جن کا جواب جاننا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اسے محض اپنے کردار کی کجی کہہ کر دامن نہیں چھڑا سکتے۔
سرسری نگاہ سے جائزہ لیا جائے تو مردعورت خواہ کاغذ کے بندھن میں ساتھ رہیں یا کسی ان دیکھے تعلق کی ڈور میں بندھ جائیں ایک دوسرے کی ضرورت بن جاتے ہیں۔وہ اپنی اپنی ضرورتیںِ،خواہشیں ،حسرتیں اور جبلتیں ہرانداز میں ایک دوسرے کے حوالے کرنے کو بھی آزاد ہوتے ہیں۔جسمانی تعلقات اور ذہنی رشتے قائم کرنا انسانی فطرت اور جبلت کاحصہ ہے جس میں محبت اور کشش کو ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔چاہ کی ڈور میں گندھے ایسے جذبے ہیں جن کے سرے تلاش کرنا اکثراوقات ناممکن دکھتا ہے۔جسمانی ہم آہنگی اور محبت دو متضاد چیزیں ہیں۔اسی طرح محبت کے بغیر محض ذہنی ہم آہنگی فقط اپنے آپ کو دھوکا دینے یا راہِ فرار اختیار کرنے کی بات ہے۔درحقیقت ذہنی ہم آہنگی کا بُت ٹوٹنے کے بعد انسان کسی کو کچھ کہنے کے قابل نہیں رہتا۔مکمل جسمانی آسودگی ذہنی تعلق کے بنا صرف تھکن اور بوجھ ہے اور صرف ذہنی قربت ایسے ریشمی دھاگوں کا فریب بن جاتی ہے جس کی گرہوں کو کھوجتے انگلیاں تھکنے لگتی ہیں لیکن کہیں سے فرار کے سرے نہیں ملتے۔ایسی جامد خاموشی روح کو اپنے حصار میں جکڑتی ہے کہ انسان کسی کو پکارنے کے قابل رہتا ہےاور نہ اپنے آپ سے کچھ کہنے کی ہمت رکھتا ہے۔اس بات کو جناب اشفاق احمد نے اپنی کتاب "سفردرسفر(صفحہ67)" میں یوں بیان کیا۔
۔"جب انسانوں کے درمیان جسم کی محبت ہو تو وہ ایک دوسرے کی طرف مقناطیس کی طرح کھچنے لگتے ہیں جب ان میں آگہی اور دانش کی قدر مشترک ہوتو وہ لمبی سیروں ،لمبے راستوں اور لمبے سفر کے ساتھی بن جاتے ہیں اور جب ان کی محبت میں روحانیت کا ابر اُتر آئے تو وہ بستروں کے انبار میں دو معصوم بچوں کی طرح ٹانسے کی چادریں بن جاتے ہیں جس سے ان کی رہائی مشکل ہو جاتی ہے وہ یا تو چیخ چیخ کر مدد کرنے والوں کو بلاتے ہیں یا دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں"۔
اِسی اُلجھن میں زندگی سرکتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ تعلقات خواہ کسی بھی انسان سے کسی بھی سطح پر کیوں نہ ہوں کچھ وقت گزرنے کے بعد اپنی اصل میں بےرنگ ہو جاتے ہیں۔اکثراوقات ذہنی ہم آہنگی بھی ذہنی لاتعلقی میں بدلتے دیر نہیں لگاتی۔
اسباقِ زندگی کے رٹے لگاتے لگاتے ساری عمرعمرِرائیگاں کی طرح گزار کر انسان آخر میں خالی ہاتھ خالی ذہن رہ جاتا ہے۔محبت نفرت،غرض بےغرضی ہر چیز بےمعنی دکھتی ہے۔اس سمے اگر ہم ذہن ودل کی کشادگی کے ساتھ اس فانی دنیا میں فانی جذبوں کی رمز سمجھنے کی کوشش کریں تو دکھائی دیتا ہے کہ بحیثیت انسان ہمارے دوسرے انسانوں سے گر جسمانی رشتے ہیں تو محبت کے تعلق بھی ہوتے ہیں لیکن ان سے ہٹ کر ایک احساس کا تعلق بھی ہوتا ہے جسے ہم مانتے تو ہیں لیکن سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔احساس کا یہ تعلق جسمانی اور ذہنی ہم آہنگی سے بھی بہت آگے ہے۔حد تو یہ ہے کہ احساس کی قربت کی خوشبو وقت اور فاصلوں کے حساب کتاب کی بھی پابند نہیں اورنہ ہی جنسِ مخالف کی جانب فطری کشش اس کا سبب بنتی ہے۔مجازی تسکین کے اس احساس کو سمجھنے کے لیے ہمیں مالک ِحقیقی اور انسان کے اسی ربط پر غور کرنا ہے جس کی وضاحت قران پاک کی کئی آیات میں ملتی ہےاور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کبھی اپنے جسمانی اور روحانی رشتوں کا تقابل نہیں کرنا ورنہ شدید قسم کی الجھن کا شکار ہو جائیں گے۔ہرجذبے،ہراحساس کو سمجھنا اور ہر رشتے میں توازن برقرار رکھنا  نہ صرف ہمارے سکون  بلکہ اس کی بقا کے لیے بھی ضروری ہے۔
کچھ رشتے یا تعلق ہم بہت ناپ تول کر بناتے ہیں اورکچھ بغیرکسی حساب کتاب کے خود ہی بن جاتے ہیں۔خون کے تعلق سے جُڑے اٹوٹ رشتے ہوں یا روح کی تسکین کا حاصل غیرمرئی تعلق،وقت کی کسوٹی سب بھید کھول دیتی ہے۔رشتے روگ بن جائیں تو زندگی چاٹ جاتے ہیں اور تعلق روگ بن جائے تو مقصدِ حیات سے دُور کر دیتا ہے۔
 رشتے ایک بار قائم ہو جائیں تو پھر اُن کو نبھانا پڑتا ہے،سنوارنا پڑتا ہے،بہلانا پڑتا ہے،نکھارنا پڑتا ہے۔یہ زندگی کے وہ  دھاگے ہیں جو اُلجھ جائیں تو اُن کو بڑے رسان سے ایک ایک کر کے الگ کرنا پڑتا ہے کہ  جتنے ریشمی دِکھتے ہیں اُتنے ہی نازک بھی ہوتے ہیں،جتنے کُھردرے لگتے ہیں اُتنا ہی زخمی بھی کر سکتے ہیں،جتنے بکھرے ملتے ہیں اُتنا ہی اُن کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔بہرحال زندگی کی تصویر کی بُنت  ہموار  نقوش سے کرنا ہے تو ان دھاگوں کے سروں کو تلاش کرنے میں ہی عافیت ہے جبکہ تعلقات میں ایسا نہیں ہوتا اُن کے الجھے سِرے اگر سنور نہ رہے ہوں تو وقت کی چادر میں ڈھانپے بھی جا سکتے ہیں ،اُن کو بعینٰہہ اِسی طرح چھوڑ کر بھی اپنے ساتھ رکھا جا سکتا ہے یا پھر جتنا جلد ہوسکے کنارہ کشی کا اختیار بھی اپنے پاس رہتا ہے بغیر کسی جھجھک کے۔
حرفِ آخر

مقدر سے بنے والے رشتے چیزوں کی طرح ہوتے ہیں۔ بنانے سے پہلے خواہ کتنی ہی چھان پھٹک کر لو، عمر کے تجربے سے جانچ لو،رنگ ونقش کی ضمانت کی قسمیں اُٹھوا لو۔جب تک قریب سے برتنے کی نوبت نہیں آتی۔سب ہوائی اور فرضی باتیں ہی رہتی ہیں۔اصل امتحان تو یہ ہے کہ زندگی کے سودے میں سب خسارا جاننے،سمجھنے کے بعد کبھی تو اپنی زندگی کی قیمت پر،کبھی خود سے وابستہ خونی رشتوں کے سکون کی خاطر"آخری حد" تک سمجھوتے کا کڑوا گھونٹ امرت جان کر پینا ہے۔ بس "آخری حد" کی سمجھ ہی زندگی کہانی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔خواہ یہ آخری حد زندگی کے آخری سانس تک چلے۔

بدھ, نومبر 04, 2015

سرورق کتب۔۔۔۔مستنصرحسین تارڑ



کالم۔۔۔صادقین، ایم ایف حسین سے لے کر عمران قریشی تک کا سفر ــــ مستنصر حسین تارڑ
۔22 جولائی   2015
پچھلے دنوں تقریباً پچیس برس بعد میرے افسانوں کا دوسرا مجموعہ"15۔۔ کہانیاں"شائع ہوا تو اس کےسرورق  کو بہت سے پڑھنے والوں نے پسند کیا،وہاں کچھ  لوگ ایسے تھے جنہوں نے  باقاعدہ احتجاج کیا کہ سرورق پر خون کے چھینٹے طبع پر گراں گزرتے ہیں۔ اتنا خون چھڑکنے کی کیا ضرورت تھی، تو میں نے ان سے گزارش کی کہ ادبی کتابوں کے سرورق بھی اس عہد کے سیاسی، ثقافتی اور مذہبی رجحانات کی نمائندگی کرتے ہیں، اس مجموعے میں چونکہ بہت سی کہانیاں دہشت گردی اور مذہبی تعصب کے نتیجے میں ہونے والے قتل و غارت کو بیان کرتی ہیں، سانحہ بابوسر ٹاپ، سوات میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات، پشاور کے بچوں کے قتل عام اور ایک مسیحی جوڑے کو زندہ جلا دینے والے بہیمانہ سانحے کے بارے میں ہیں تو سرورق پر خون کے چھینٹوں کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔
 البتہ آپ اگر غور کریں تو خون کے ان چھینٹوں میں کہیں کہیں گلاب کے سرخ پھول بھی کھلتے نظر آتے ہیں یعنی کم از کم میں اب بھی امید کے شجر سے پیوستہ ہوں اور امیدِ بہار رکھتا ہوں۔ ’’15 کہانیاں‘‘ کا یہ سرورق پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور عمران قریشی کی تخلیق ہے جس کی تصویریں دنیا کی بیشتر آرٹ گیلریوں میں آویزاں ہیں یہاں تک کہ میٹرو پالٹن میوزیم نیویارک کی چھت پراس کا ایک خصوصی شو بھی منعقد کیا گیا تھا اورآج اس کی تصویریں بین الاقوامی مارکیٹ میں ہزاروں ڈالروں میں فروخت ہوتی ہیں۔۔۔ وہ اس عہد کا نمائندہ مصور ہے اور مجھے فخر ہے کہ اس نے بغیر کسی معاوضے کے میرے افسانوں کے مجموعے کا سرورق تخلیق کیا۔
 ادیبوں اور شاعروں کی نسبت میں مصوروں سے زیادہ قریب رہا ہوں اور اسی لئے میری کتابوں کے سرورق پاکستانی مصوری کی ایک نمایاں آرٹ گیلری کی صورت اختیار کر گئے ہیں، اور اپنے ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مجھے اپنی نمائش مقصود نہیں میں صرف پاکستان کے ان عظیم مصوروں کو ہدیۂ تبریک پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی معاوضے کے میری کتابوں کے سرورق بنائے۔۔۔ میری کتابوں کی تعداد ساٹھ سے بڑھ چکی ہے ، اس لئے سب کا تذکرہ ممکن نہیں، سرورق کے حوالے سے جو سفرنامے، ناول اور کالم وغیرہ اہم ہیں ان کے مصوروں کا مختصر تذکرہ کروں گا۔
۔ 19711ء میں شائع ہونے والے میرے پہلے سفرنامے’نکلے تری تلاش میں‘‘کا سرورق مصورِمشرق عبدالرحمن چغتائی کا ایک انوکھا شاہکار تھا۔ چغتائی صاحب کے ساتھ میری کبھی ملاقات نہ ہوئی۔ یہ کمال مقبول جہانگیر کا تھا کہ انہوں نے میرے سفرنامے کے کمالات کے بارے میں ایسی لچھے دار گفتگو کی کہ چغتائی صاحب نے ٹائٹل بنانے کی ہامی بھری۔۔۔ سرورق کی یہ ڈرائنگ آج بھی میری سٹڈی ٹیبل کے پہلو میں آویزں ہے، اسی سفرنامے کے دوسرے ایڈیشن کے لئے صادقین نے زبردست سرورق بنایا۔
 میری پورٹریٹ کے علاوہ بیس سے زیادہ خاکے بھی تصویر کئے، ان میں سے کچھ خاکے شائع نہ ہوسکے کہ ان میں صادقین خواتین کو کپڑے پہنانا بھول گئے تھے، ازاں بعد ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کے درجنوں ایڈیشن شائع ہوئے جن کے سرورق معروف مصوروں نے تخلیق کئے۔۔۔
 ۔"اندلس میں اجنبی"کا پہلا سرورق جناب آزر زوبی نے بنایا۔
دوسرے ایٖڈیشن  کا سرورق فیض صاحب کی بیٹی سلیمہ ہاشمی نے اور تیسرے ایڈیشن کے ماتھے پر لمحۂ موجود میں پاکستان کے سب سے بڑے مصور سعید اختر کا ایک شاہکار تھا۔۔۔ ’’خانہ بدوش‘‘کا ٹائٹل جو میری آوارگیوں کا ایک نقش تھا وہ بھی سعید اختر کا تخلیق تھا۔۔۔ ایک مرتبہ پھر ’’بہاؤ‘‘ کے پہلے ایڈیشن کا سرورق سعید اخترنے بنایا اور پھر ذوالفقار تابش نے اپنے مخصوص انداز میں اپنے جوہر دکھائے۔۔۔’’راکھ‘‘ کا سرورق جدید مصوری کے نمائندہ ترین مصور قدوس مرزا نے تخلیق کیا۔ میں قدرے شرمندگی سے عرض کرتا ہوں کہ میری بیشتر کتابوں کے چونکہ درجنوں ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اس لئے ممکن نہیں کہ میں ہر مصور کے سرورق کا تذکرہ کر سکوں۔۔’’قربت مرگ میں محبت‘‘کے پہلے ایڈیشن کے لئے سعید اختر اور نذیر احمد نے مشترکہ طور پر ایک تصویر بنائی۔۔۔ ’’خس و خاشاک زمانے‘‘کے دوسرے ایڈیشن پر غلام رسول کمال کے مصور ہیں۔۔۔ بشیر فراز نے بھی میرے لئے خصوصی سرورق تیار کئے، اور ہاں بعدازاں’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کے لئے عبدالرحمن چغتائی کے بھتیجے اور میرے دوست عبدالوحید چغتائی نے کیا ہی دلکش سرورق بنایا۔۔۔ میرے ناول ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ کے تادم تحریر ساٹھ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اس کے سروق کی تزئین متعدد نامور مصوروں نے کی لیکن ان میں کلاسیک سعید اختر کی پاسکل کی دلکش پورٹریٹ کو قرار دیا گیا۔۔۔’’نیپال نگری‘‘ کا سرورق لینڈ سکیپ کے باکمال مصور نذیراحمد نے بنایا۔
 ایک زمانہ تھا جب ادبی کتابوں کے سرورق کے لئے ان زمانوں کے بڑے مصور بخوشی اپنے رنگ پیش کرتے تھے اور میں بھی بہت تردد کیا کرتا تھا۔ اور اب تو یہ ہے کہ میری بیشتر کتابوں کے سرورق کمپیوٹر کی مصوری اور تزئین سے آراستہ ہوتے ہیں کہ یہ کام آسان ہو چکا ہے۔ کتاب کی روح سرورق میں ہوتی ہے اور ایک مدت سے سرورق بے روح ہو چکے ہیں۔
 اور ہاں میں بھولنے کو تھا میرے اولین ناولٹ ’’فاختہ‘‘ کے تازہ ایڈیشن پر ہندوستان کے سب سے بڑے مصور ایم ایف حسین کے ہاتھوں سے تخلیق کردہ ایک فاختہ کا نقش ہے اور اس سرورق کے لئے میں نے حسین صاحب کی بہت منت سماجت کی تھی۔۔۔ اور حسین کا بنایا ہوا فاختہ کا یہ نقش بھی میری سٹڈی ٹیبل کے پہلو میں چغتائی صاحب کی ڈرائنگ کے برابر میں آویزاں ہے، اور پھر ایک عجیب اتفاق ہوا، مسجد نبویؐ میں منبر رسولؐ کی قربت میں نفل ادا کرتے ہوئے میں سلام پھیرتا ہوں اور دائیں جانب ایک سفید ریش بوڑھا روتا ہوا نظر آتا ہے اور اس کی مشابہت شناسا سی ہے اور وہ ایم ایف حسین ہے۔ اس کے برابر میں اس کا بھتیجا بیٹھا ہے اور وہ اپنے چچا کو قرآن پاک پڑھ کرسنا رہا ہے۔ حسین کی بنائی ہوئی ہندو دیو مالا کی کچھ دیویوں کی برہنہ تصویریں بنانے پر ہندو علمائے کرام مشتعل ہو گئے کہ ہائیں ایک مسلمان کی یہ جرأت، حسین کو اپنی جان بچانے کے لئے ہندوستان سے فرار ہونا پڑا۔۔۔ قطر نے اسے خوش آمدید کہہ کر اپنی شہریت سے نوازا۔ ظاہر ہے میں مسجد نبویؐ میں حسین کی عبادت میں مخل ہوا، انہیں میں یاد آگیااور ہم نے کچھ باتیں کیں۔ حسین کچھ عرصہ بعد دربدری کی حالت میں لندن میں مر گیا۔
 چنانچہ پچھلے پینتالیس برس میں میری جو ساٹھ سے تجاوز کرتی کتابیں شائع ہوئی ہیں ان کے سرورق اپنے زمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور اب اگر ’’15 کہانیاں‘‘ کے سرورق پر خون کے چھینٹے ہیں تو کیا یہ ہمارے عہد کی تصویر نہیں ہیں؟

"منیرہ قریشی اور اُن کی کُتب"

تعارف مصنف   منیرہ قریشی    درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ    سماجی اور رفاعی اداروں کے قیام کے حوالے سے  واہ کینٹ کا ایک ...