بدھ, ستمبر 30, 2015

"گھنگرو"

آوازوں کے ہجوم میں برسوں سے تنہا چلتی وہ ایک گونگی عورت تھی جو راستوں میں بھٹکتی ضرور تھی پر منزل کی نشان دہی کرتی دور بجنے والی گھنٹیوں کی آواز سے غافل نہ تھی۔وہ جذبوں کو لفظوں کے موتیوں میں پروتی ،تجربات ِزندگی کے لمس کی خوشبو بکھیرتی ایک عام سی عورت تھی ۔۔۔جس کےصبح وشام ایک ہی محور کے گرد طواف کرتے گزرتے تھے۔سوچ کی نغمگی اور خیال کی لَے اُس کے وجود کی تہوں میں چھپے اسرار تھے جن کی دریافت روح کا بوجھ بن گئی،وہ اُس کا اظہار چاہنے لگی۔یہ چاہ اور چاہے جانے کی خواہش بھی انسان کی عجیب کمزوری ہے جو گلاب کی پتی کی طرح محسوس تو ہوتی ہے لیکن کانٹے جیسی چبھن بن کر روح میں پیوست ہو جاتی ہے۔اپنے رنگ اور خوشبو کی پہچان کی  چاہ گھر کی چاردیواری میں قطعی بےوقعت اور مہمل ٹھہرتی ہے کہ وہاں ذہن سے زیادہ جسم کی کارکردگی کی قیمت لگتی ہے۔خواہش اظہار نے گھر سے باہر جھانکنے پر مجبور کیا تو پتہ چلا کہ گھر سے باہر قدم رکھنے والی عورت کے لیے دُنیا صرف "بازار"ہے، ہر طرف تماش بین ہی تماش بین۔جہاں عورت کو اونچا مقام دینے کے دھوکے میں بالاخانے پر بٹھا دیا جاتا ہے۔۔۔اُسے بھکاری جان کر ہوس اور بھوک کی خیرات دی جاتی ہے۔جہاں عقل سوتی اور راتیں جاگتی ہیں اور دن کی روشنی میں وجود کا ایکسرے کرتی تماش بینوں کی ٹٹولتی نظریں عورت کا صرف ایک ہی روپ دیکھتی ہیں۔عورت چاہتے ہوئے بھی انہیں دھتکار نہیں سکتی کہ جسے اپنے آپ کی سمجھ نہ ہو وہ کسی دوسرے کو کیسے جان سکتا ہے۔
عورت سب محسوس کرتی ہےکسی بارونق پلیٹ فارم پر یا سڑک پر اجنبی چہروں کے درمیان ہی نہیں بلکہ رشتوں کے مضبوط حصاروں کے درمیان رہ کر بھی   اپنے اوپر  بہت کچھ سہتی ہے ۔خود سے وابستہ لوگوں کی خاطر چُپ رہنا اُس کی مجبوری ہے تو ہمیشہ   ننگے پاؤں  تنہا چلنا اس کی قسمت اور آبلہ پائی اُس کا ظرف۔جانے کیوں دُنیا کے اس بازار میں آنے والی ہرعورت کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔۔۔ اپنے گھر کی چار دیواری سے باہر نظر آنے والی ہرعورت محض " جنس" ہے۔۔۔ قابلِ فروخت کا لیبل جس پر دور سے دکھائی دیتا ہے،قریب آنے پر عمر، رنگ، نسل ، زمان ومکان کے مطابق اُس کے کردارکا تعین کیا جاتا ہے۔اپنی 'حیثیت"کے مطابق بولی لگائی  جاتی ہے،اپنا مرتبہ جتلایا جاتا ہے۔قیمت زیادہ دکھنے پر بھاؤ تاؤ ہوتا ہےتو کبھی بےعزت بھی کیا جاتا ہے۔دُنیا کی اس ڈھلوان گزرگاہ میں جذبوں سے لے کر رویوں تک ہر چیز برائے فروخت ہے۔سامان فروش جگہ جگہ صدائیں لگاتے ہیں اور سب بکتا ہے۔کیاعزت کیسی غیرت سے نظریں چراتے ہوئے بناوٹ کا غازہ لگا کر ضرورت کے گھنگرو انسان کو بےسمت نچائے جاتے ہیں۔
بجا کہ اپنے آپ کو نگاہ کے ہر زاویے سے منوانا عورت کی فطری خواہش ہے۔ لیکن ہرعورت کا اپنا زاویہ نگاہ ہے۔۔۔اُس کا ذاتی حق ہے کہ وہ کون سا رُخ دُنیا کے سامنے پیش کرے۔ اپنی کس صلاحیت کی قیمت لگائے یہ خالص اس کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ اس میں دخل اندازی کا اختیار  اس کے اپنوں کو ہے اور نہ ہی پرایوں کو۔
عورت چاہے گھر کے کسی خاموش کونے میں پڑی ہو یا کسی چیختے چلاتے بازار میں چلتی ہو اپنے آپ پر یقین کے لیے اس کے پاس اپنے خوابوں کا ساتھ دنیا کے ہر ساتھ سے بڑھ کر ہے۔یہ خواب ہی ہیں جو نہ صرف عورت اور مرد کے رویوں کا فرق نمایاں کرتے ہیں بلکہ خوابوں کی بُنت ہرعورت کے کردار کی وضاحت بھی کرتی ہے۔رشتوں اور تعلقات کے مکمل لباس کے ساتھ عورت خواہ کتنا ہی مضبوط ہونے کا دعویٰ کرے اپنے پرائے کا تضاد اُسے اندر سے بہت کمزور اور خوفزدہ کر دیتا ہے۔ستم یہ کہ جب یہی تماش بین گھر میں داخل ہوتے ہیں تو اُن کی غیرت عورت کا صرف ایک مقام جانتی ہے۔۔۔اُس نامکمل وجود کو سجدے کرتی ہےجس کی آواز اس کے اپنے کانوں سے باہر سنائی نہ دے۔مرد چاہتے ہوئے بھی عورت کےبارے میں اپنے مخصوص انداز فکر سے جان نہیں چھڑا پاتا۔ عزت واحترام اورعقیدت ومحبت کے جذبات بھی عورت کے افعال وکردار پر شکوک وشبہات کے پردے ڈالے رہتے ہیں۔مرد کی اس دُنیا میں عورت کو کہیں بھی پناہ نہیں ۔ نہ صرف باہر بلکہ اس کے اپنے وجود میں بھی بےیقینی کچھ اس طور پنجے گاڑتی ہے کہ دُنیا فتح کر کے بھی اسکندرِاعظم نہیں بن پاتی اوردلوں کو مسخر کر کے بھی اِس کے دل کی دُنیا ان چھوئی رہتی ہے۔یہی قرار وبےقراری حاصلِ زندگی ہے کہ قدم روکتا ہے تو چلتے رہنے پر اُکساتا بھی ہے۔
جس طرح اپنے  وجود،اپنے ناز و ادا کی قیمت لگاتی عورت خواہ کتنی ہی دلکش کیوں نہ دکھائی دے۔ دیکھنے والے اُس کی اصل کبھی نہیں بھلا پاتے۔اسی طرح لفظوں کی دُنیا میں اپنا آپ تلاش کرتی عام  عورت بھی خود نمائی اورخود ستائی کی ماری سمجھی جاتی ہے۔کبھی اس کی تحریر کو "بیہیوئیر کنڑاسٹ " کا نام دیا جاتا ہے,کبھی نقالی تو کبھی مایوسی اور ڈپریشن کی ماری عورت کی بچگانہ سوچ ۔ ہر ایک کا تجزیہ اپنے عقلی معیار کے مطابق درست ہو سکتا ہے اورہمیں کسی کی سوچ بدلنے کا حق ہے اور نہ ہی اختیار۔اصل بات جانے بغیر کسی قسم کا غصہ اور جلد بازی ہمیں بہت سی غلط فہمیوں اور دوسروں کے متعلق بدظنی کا شکار بھی کر سکتا ہے۔زندگی کا ایک بنیادی اصول اگرسیکھ لیا جائے تو ہر اُلجھن ہر پریشانی سے کسی حد تک نجات مل سکتی ہے۔"جیو اورجینے دو"کا فلسفہ زندگی کے ہر موڑ پر بہت سی گرہیں کھولتا جاتا ہے۔ہمیں نہ صرف اپنے بارے میں بلکہ کسی کے بارے میں بھی کبھی کوئی حتمی رائے یا تجزیہ دینے کا حق حاصل نہیں اور نہ ہی ایسا کرنا چاہیے۔ جیسے دوسروں کے رویے اور کردار سے ہرگھڑی ہمیں نیا سبق ملتا ہے اسی طرح اپنی ذات کے بھید  ہم پر عیاں ہوتے ہیں۔
حرفِ آخر
عورت کی پہچان صرف ایک مرد کی آنکھ ہی کر سکتی ہے تو اکثروبیشتر مرد کے ہاتھوں  استحصال  کی بنیاد ایک عورت ہی رکھتی ہے۔مرد صرف ایک کٹھ پُتلی ہے کبھی بےلگام نفس کے ہاتھوں تو کبھی بےخبر لمحوں کے تعاقب میں ناچتا چلا جاتا ہے۔

پیر, ستمبر 28, 2015

" ہری مرچیں "

ہری مرچیں ۔۔۔۔ جو کبھی پھیکی ہوتی ہیں تو کبھی تیکھی ۔۔۔
٭ہری مرچ وہی ہے جو چودہ طبق روشن کر دے۔
۔۔۔۔۔
٭سیلفی سیلفی ہوتی ہے اس کا "ایلفی" سے کوئی تعلق نہیں لیکن جانے کیوں کبھی بہت ساری سیلفیاں دیکھ کر ایلفی یاد آ جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔
٭ لفٹ دینے سے کبھی نہ ہچکچاؤ۔شاید اگلے موڑ پر آپ کواس کی ضرورت پڑ جائے۔لیکن لفٹ کے ساتھ اپنی عقل تو نہ دو۔
۔۔۔۔۔
٭عورتیں بہت ڈھیٹ ہوتی ہیں،مرنے پر آئیں تو نظر کے تیر سے بھی شکار ہو جاتی ہیں۔زندہ رہنےکی خواہش پال لیں تو "ممی" کی صورت حنوط ہو جاتی ہیں۔
۔۔۔۔۔
٭شوہر سیاسی حکمرانوں سے کم نہیں، مانتے سب ہیں لیکن کرتے اپنی من مانی ہی ہیں۔
۔۔۔۔۔
٭بچے اگر بڑے ہو جائیں تو بڑوں کو بچہ بننا ہی پڑتا ہےکہ ایک "میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں"۔
۔۔۔
٭آج کی نئی نسل   اپنے رشتوں سے   شدید بےزاری کا شکار ہے  شاید اس لیے کہ اسے گھر میں رہتے ہوئے بھی گھر میں رہنے کی عادت نہیں۔
۔۔۔
٭زندگی دھوپ چھاؤں کا نام ہے کبھی ہم کسی کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں تو کبھی خود بڑی بھاری ذمہ داری بن جاتے ہیں۔
۔۔۔۔ 
٭آخری عمر میں خبر بننے سے بہتر ہے پیدل چلا جائے۔۔۔مزے کا مزہ اور بونس کی عمر الگ۔
۔۔۔۔
٭ زندگی میں ایک وقت ایسا ہی آتا ہے کہ وقت ضائع کرنے کے لیے بھی وقت نہیں ملتا۔
۔۔۔۔۔
٭اخبار۔۔۔۔۔روز آنے والی ایک ایسی چیز جو آج کے دور میں خرید کر پڑھنا سب سے بڑی بےوقوفی ۔پھر ورق ورق چاٹنے کا وقت نکالنا ایک سعی لاحاصل اور پڑھنے کے بعد ردی کے ڈھیر میں اضافہ سب سے بڑا دردسر ہے۔لیکن ان سب خساروں کے باوجود اس کی اہمیت سے انکار قطعی نہیں۔۔۔وہ خاموش دوست جو دنیا سے باخبر رکھتا ہے۔نیٹ کا ایک تحفہ روز کا اخبار بھی۔صرف ایک نہیں جتنے چاہو اور وہ بھی مفت میں۔
۔۔۔۔۔
٭ قربانی کا گوشت اور شادی پر سلامی اپنی نہیں دوسرے کی حیثیت دیکھ کر دی جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
٭ غریب کا پیٹ سدا کا خالی کنواں ہے ڈالنے کی رفتار کیسی ہی کیوں نہ ہو خالی پن کا احساس ہمیشہ کمتری کا شکار رکھتا ہے۔ جبکہ بھرا پیٹ وہ اندھا کنواں ہے جس میں ڈالنے کی رفتار کتنی تیز ہوتی ہے اُتنی ہی تیزی سے سب غائب ہو کر اور کی صدا لگاتا ہے۔بھرے پیٹ اور خالی پیٹ میں فرق صرف سوچ کا ہے کبھی بھرا پیٹ طمانیت کے تشکر سے چھلکا پڑتا ہے تو کبھی خالی پیٹ اپنی موج،اپنے حال میں مست جیتا چلا جاتا ہے۔
۔۔۔۔
٭ ڈھلتی عمر میں تنہائی کا آسیب محض بھرےپیٹ کا چونچلہ ہی تو ہے کہ غریب اور سفیدپوش  کے پاس آخری  عمر بلکہ آخری وقت تک روٹی روزی سے ہٹ کر اپنی ذات کے لیے سوچنے کا وقت کہاں۔
۔۔۔۔۔ 
٭کھوکھلی دیوار آخری دھکے سے گرتی ہے اُس کی طاقت سے نہیں۔ بالکل ایسے جیسے چارپائی ٹوٹے تو بعد میں بیٹھنے والا اپنے آپ کو قصوروار سمجھتے ہوئے حیران وپریشان کھڑے کا کھڑا رہ جاتا ہے۔ اور قصورواربنا استحقاق اور اپنی غلطی مانے بےخبری کے مزے لوٹتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
٭کسی نے کہا ۔۔۔دنیا کے مشکل ترین کاموں میں ایک کام کسی ایسے انسان کو نظرانداز کرنا ہے جو سوچ میں رچ سا گیا ہو۔
لیکن ایک کام اس سے بھی زیادہ مشکل اور اذیت ناک ہے۔۔ ایسے انسان کو نظرانداز کرنا جس کے گوڈے گٹوں میں آپ "رچ بس" چکے ہوں اور وہ آپ کے لیے وقت کے کسی پل پل دوپل ملا محض ہوا کا ایک مہربان جھونکا ہو اور کچھ بھی تو نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
٭ٹرین کے"سفر" اور"سگنل"کا رومانس سچے پیار کی طرح کا تھا ملتا جاتا اور بدلے میں کچھ نہ مانگتا اور موبائل کا سفر انگریزی کا "سفر" ہے بھگتّتے جاؤ جیب خالی کرتے جاؤ۔۔۔ہاتھ پھر بھی کچھ نہیں آتا اور "سگنل"کا انتظار بھی رہتا ہے۔ہم بڑے ہو کر بھی بڑے کیوں نہیں ہوتے؟ شاید اس لیے کہ زندگی کے پلیٹ فارم پر رونق لگی ہوئی ہے۔
۔۔۔۔
٭کسی  کے ساتھ محض ایک ڈیٹ پر جانا کبھی ہمیشہ کے لیے خسارے اورپچھتاوے کا سبب بھی بن جایا کرتا ہے اگر آگے چل کر وہ ڈیٹ نئی زندگی کی نوید دیتی ایک مستند ڈیٹ میں تبدیل نہ ہو۔
۔۔۔۔۔
٭محبت بغیرعزت کے اورعقیدت بغیر دلیل کے بنا تڑکے والی دال کی طرح ہے جس سے پیٹ تو بھرا جا سکتا ہے لیکن اُس  حقیقی لذت کبھی حاصل نہیں کی جاسکتی۔
۔۔۔۔۔۔ 
٭آؤٹ کلاس۔۔۔۔ ایک وہ کلاس ہے جو جمعے کے روز بھی بڑے دھڑلے سے بغیر دوپٹہ "مارننگ شو" کرتی ہے اور سب کان لپیٹ کر انتہائی خضوع وخشوع سے سنتے دیکھتے ہیں۔اور ایک وہ کلاس جو اپنے گھر کے باورچی خانے میں سخت گرمی میں روٹی بناتے ہوئے سر سےدوپٹہ نہیں اُتار سکتی اور پھر بھی کسی گنتی میں نہیں ۔۔۔۔"جیو جوائنٹ فیملی"۔
۔۔۔۔۔
٭ہر عورت ایک "وقتی" سمجھوتہ کرتی ہے اور وہ شادی کہلاتا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ اور بات کہ یہ وقتی کل وقتی بن جاتا ہے۔ 
۔۔۔۔
٭شادی لین دین کا رشتہ ہے بلکہ صرف دینے کا ہی۔۔۔جتنا دیتے جاؤ کم ہے اور بدلے میں ذرہ بھی مل جائے تو بہت جانو ورنہ بیگار ہی اس رشتہ کہانی کا حاصل ٹھہرتی ہے۔
۔۔۔۔
٭مرد صحرا کی طرح ہے۔۔۔بارش ہوئی تو بارآور ہو گیا نہ ہوئی تو ویران بیابان۔عورت زمین ہےکہ بارش ہو یا نہ ہو اُس نے  اپنے حصے کا کام کرتے جانا ہے۔
۔۔۔۔
٭مرد چکنی مچھلی کی طرح ہے، ذرا نظر بچی پھسل گیا اور گہرے پانیوں میں جانے کو بےقرار۔اس کے ساتھ کے لیے اس کی مرضی کے پانیوں میں اترنا پڑتا ہے چاہے خواہش ہو کہ نہ ہو۔
۔۔۔۔۔
٭سارا قصور بیوی کا ہی ہوتا ہے وہ اتنی جگہ کیوں چھوڑتی ہے کہ کوئی درمیان میں آ سکے۔مسئلہ یہ ہے کہ سب خوش فہمی میں رہتی ہیں۔۔۔پانے کی خوش فہمی میں ۔
۔۔۔۔
٭انسان کے بچے کو انسان سمجھنا ہی تو اصل امتحان ہے. عورت کے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں. ایک گھریلو جانور سے بچ بھی گئے تو آوارہ کتوں سے لے کر گدھوں تک قدم قدم پر ملتے رہیں گے۔
۔۔۔۔
٭چڑیا گھر سے۔۔۔۔کسی نے کہا کہ کچھ مرد بندر کی طرح ہوتے ہیں اپنی غرض سےغرض رکھنے والے اور کچھ شیر کی طرح  بظاہر بےپروا لیکن وقت پڑنے پرڈھال بن جانے والے۔میں نے محسوس کیا کہ کچھ عورتیں بھی تو بندریا کی طرح ہوتی ہیں۔۔۔۔فرضی محبت کی ڈگڈگی پر ناچ ناچ کر بےحال ہونے والی اور مزدوری کی پھر بھی گارنٹی نہیں۔
اور کچھ شیرنی جیسی۔۔"بھوک"کو مانتی اور سمجھتی تو ہیں لیکن اپنی انا کی بھوک کو سرد نہیں پڑنے دیتیں۔اصل عورت وہی ہے جو ان دو سے جدا اپنا راستہ آپ اختیار کرے کیونکہ وہ انسان ہے حیوان نہیں۔
۔۔۔۔۔
٭کہیں پڑھا۔۔۔ بیوی نذر نیاز کی دیگ کی طرح ہے۔۔۔۔جس میں چاہتے ہوئے بھی نقص نہیں نکالا جا سکتا۔بس عقیدت کے ساتھ چپ چاپ کھانا پڑتی ہے۔
میرا خیال ۔۔۔۔ بیوی واقعی نذر نیاز کی دیگ ہی تو ہے لیکن اس"دیگ" کو "چڑھانے"والے بھی وہی ہیں جو نقص نکالتے ہیں۔ جیسا منہ ویسا تھپڑ کے مصداق بازاری چٹخارے دار کھانوں کے مزے اڑانے کے بعد حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ کی دیگ میں بچی کچی خواہشیں ڈالتے ہیں۔۔ تو پھر"سواد" کیسے آئے؟ پیٹ بھرنے پر شکر ہی کر لیں تو بہت ہے۔
حرفِ آخر
آپ بیتی ہو یا جگ بیتی۔۔۔بلاگ لکھنے کا یہی توفائدہ ہے کہ بنا "مصالحے یا تڑکے کے اور بغیر کسی احسان یا خرچےکے۔۔۔ آسانی سے چھپ جاتی ہے اور" انڈے ٹماٹروں"کے مزے سے لے کر پھیکے شلغم تک سب باآسانی ہضم بھی ہو جاتے ہیں۔

جمعرات, ستمبر 17, 2015

" خاکہ ۔۔۔۔مستنصرحسین تارڑ از عرفان جاوید "

دروازے۔۔" کاہن، مستنصر حسین تارڑ"از عرفان جاوید
قسط (1)۔
جس کے کاندھے کا سہارا لے کر منٹو لکشمی مینشن کی سیڑھیاں چڑھ جاتا۔۔۔ منٹو یہ جانے بغیر مر چکا ہے کہ وہ اپنے وقت کا سب سےبڑا افسانہ نگار اور اس ملک کا اہم اور بڑا ناول نگار اور سفرنامہ نگار ٹھہرے گا۔
۔۔۔۔۔
قسط (2)
جس کی ذات سے مقامات کا ناسٹلجیا یوں اُبھرتا ہے جیسے اندھے کنوئیں میں دی گئی صدا اُس کی دیواروں سے سر ٹکراتی گونجتی باہر کو اُبل آتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
قسط (3)۔
جو پہاڑوں سے متنوع رنگا رنگ کہانیوں کی گھٹریاں باندھ لاتا ہے... پہاڑوں سے مجھے اب بھی بلاوے آتے ہیں،پہاڑ مجھے بلاتے ہیں،ان میں ایک مقناطیسی کشش ہے،جو مجھے اپنی جانب کھینچتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
قسط (4) ۔۔آخری قسط
جو ہر رنگ کے آدم سے ملتا ہر منظر دیکھتا اور پھر سارا خزانہ کاغذ پر الٹ دیتا ہے...انسان کو ایک مرتبہ زندگی ملتی ہے بند کمروں میں
کیوں گزار دے۔

  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

پیر, ستمبر 14, 2015

"کرنیں (7)"

٭حقیقت وہ نہیں جو ہم  آنکھ سے دیکھتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے ، ہماری سوچ اُس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔
۔۔۔۔
جب زندگی ہاتھ سے سرکنے لگے پھر قارون کا خزانہ بھی بےمعنی ہوجاتا ہے۔
۔۔۔۔۔
٭زندگی سے زندگی میں ملنے کی صرف ایک شرط ہے کہ زندگی باقی رہے۔
۔۔۔۔۔ 
٭اس سے اچھی بات ہو ہی نہیں سکتی کہ مور ناچتے ہوئے اپنے پیروں کو نہ بھولے۔
 ۔۔۔۔۔۔۔ 
٭چراغ روشنی کے لیے ہے لیکن جو چراغ اپنے گھر کی تاریکی نہ دور کر سکے وہ جگ کو چاہے منور کرے لیکن تاسف اور ناقدری کا گرہن ہمیشہ اس کے ساتھ لگا رہتا ہے
۔۔۔۔۔
٭اور اور کی چاہ انسان کو حال میں کبھی خوش نہیں رہنے دیتی۔
۔۔۔۔۔۔
٭ جسم کی بھوک بولنے پر مجبور کرتی ہےتو روح کی پیاس سوچنے پر اُکساتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
٭کانچ کے گھروں میں رہنے والوں کی عافیت پتھر سے بھی زیادہ سخت ہونے میں ہے۔
۔۔۔۔۔ 
٭یہی زندگی ہے اسی میں ہم نے کچھ پانا بھی ہے اور کھونے سے بچنا بھی ہے۔
۔۔۔۔۔
٭محبت روح کی زبان ہے جسے جسم لکھتا تو ہے لیکن سمجھتا نہیں۔
۔۔۔۔
٭حیا آنکھ میں ہوتی ہے لیکن جسم کی بولی اس کو بیان کرتی ہے۔
۔۔۔۔
٭لفظ ہمارے اندر کی کہانی کہتے ہیں تو کبھی دنیا کی وسعت کی ترجمانی کرتے ہیں۔
۔۔۔۔
 ٭کہانیاں صرف وہی نہیں ہوتیں جو"کہی"جاتی ہیں بلکہ اصل کہانی ہی وہی ہے جو ان کہی ان چھوئی رہ جاتی ہے۔
۔۔۔۔
 ٭کچھ باتوں کو ان کہا نہیں رہنا چاہیے۔جو بات وقت پر نہ کہی جائے وہ بےفائدہ بے نتیجہ رہتی ہے۔
۔۔۔۔
٭جس کی جو طلب ہوگی وہی تو اُس کو ملے گا۔
۔۔۔۔
٭ دروازےپر آنے والا سائل صرف لینے کے لیے ہی نہیں بلکہ بہت قیمتی شے دینے کے لیے بھی آتا ہے لیکن ہم اندر سے معاف کرو کی صدا لگا دیتے ہیں۔
۔۔۔۔
٭ راستہ نکال سکتے ہو تو نکال لو نہیں تو راستہ بدل لو۔
۔۔۔۔
 ٭دوستی اور خلوص بیان کی جانے والی داستان نہیں بلکہ محسوس کرنے والی اور جذب ہو جانے والی ان کہی کہانی ہے۔ وہ کہانی جو نہ سمجھی جا سکتی ہے اور نہ سمجھائی جا سکتی ہے۔
 ۔۔۔
٭ انسان اگر اپنے آپ کو سکون  نہ  دے سکے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے پرسکون نہیں کر سکتی۔
۔۔۔
٭ لفظ وہی دل میں اترتا ہے جو ہمارے حسبِ حال ہو۔
۔۔۔۔۔
٭لفظ  کے رشتے اگرچہ رسمی تعلقات کی طرح "دو اور لو" یا "سنواور سناؤ"کے ضابطوں کے محتاج نہیں ہوتےلیکن لفظ کے رشتوں کی پائیداری اور خوبصورتی اسی میں ہے کہ وہ کبھی بھی لفظ کی حدود سے باہر نہ نکلیں۔جیسے ہی اپنی فطرت اور جبلت کے زیرِاثر لفظ سے شخصیت کی جانب سفر شروع ہوتا ہے انسان کشش کا بنیادی مرکزِثقل کھو دیتا ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔ 
 ٭عزت دل میں ہوتی ہے اکثرالفاظ سے زیادہ رویے اس کا اظہار کرتے ہیں۔کبھی بلا سوچے سمجھے اچانک بولے جانے والے لفظ سب راز کھول دیتے ہیں تو کبھی ہمارے رویے اصلیت پر پردہ ڈالے رہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
 ٭ادب وہی ہے جو ہمیں زندگی کے ہر رنگ سے نہ صرف روشناس کرائے بلکہ زندگی برتنے کا قرینہ بھی سکھائے۔
۔۔۔۔۔۔
٭خواب زندگی کی علامت ہیں اور رنگ بینائی کا ثبوت۔
 ۔۔۔۔۔ 
٭تنہائی رب کی بہترین نعمتوں میں سے ایک ہے اگر اس کے ساتھ  مثبت سوچ کی روانی بھی نصیب ہو جائے۔
۔۔۔۔۔۔
٭ہمیں کیا معلوم ہماری دعا ہمارے حق میں بہتر بھی ہے یا نہیں۔
 ۔۔۔۔۔ 
٭رب کی عطا کو عقل کی کسوٹی سے پرکھنے کی شعوری کوشش سے گریز کرو۔
۔۔۔۔۔
 ٭ اہم سفر کرتے رہنا ہے۔ چلتے رہے تو کہیں پہنچ ہی جائیں گے نہ بھی پہنچےاپنے اندر سے بہت کچھ سیکھ لیں گے۔
۔۔۔۔۔۔ 
 ٭نقش قدم پر چلنا انسان ہونے کی دلیل ہے تو اپنی ذات کی بےثباتی اور کائنات کے سربستہ رازوں پر تفکر باعثِ نجات اور باعث ِسکون بھی ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔ 
 ٭خالی ڈھول کی طرح بجنے والے بےشک جتنا بھی مجمع اکٹھا کر لیں لیکن اُن کے اندر کا خلا ان کے قریب جانے والے پہچان لیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
*عادت ڈالی نہیں جاتی۔۔۔عادت پڑ جاتی ہے۔
۔۔۔۔
٭عمر چاہیے تو اپنے ساتھ جیو۔زندگی چاہیے تو ساتھی کو اپنا کر جیو۔
۔۔۔
٭ وقت بخت سے ملتا ہے اور بخت چاہیے تو وقت کو اپنا لو۔
۔۔۔۔
٭ قسمت  صرف  قسمت ہے  ۔ ہم ہی اُس کے آگے اچھی یا بری کا سابقہ لگاتے ہیں، مالک نہیں۔
ہم نہیں جانتے کہ   خوش قسمت  کون ہے اور بدقسمت کون۔۔۔یہ وقت کا فیصلہ ہے۔ 
۔۔۔
 ٭بڑی باتیں انسان کے کردار کا تعین کرتی ہیں تو چھوٹی چھوٹی باتیں اقدار کی نشاندہی۔انسان کا کردار محض اُس کا نفس ہی نہیں بلکہ اُس کے مکمل وجود کی بُنت کا نام ہے۔ یہ انسان کا وہ لباس ہے ظاہری آنکھ جسے دیکھ کر معاشرے میں اُس کا مقام جانچتی ہے۔لباس حق ہے کہ اس کے بغیر کوئی وجود وجود ہی نہیں لیکن یہ بھی حق ہے کہ محض لباس کی تراش خراش دیکھ کرحتمی فیصلہ سنا دینا سب سے بڑا فریب ہے جو صرف اور صرف دیکھنے والی آنکھ کی کجی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
۔۔۔۔
٭ کسی کو بُرا نہ کہواورکسی کا بُرا نہ چاہو۔ہر ایک جواز رکھتا ہے اپنے قول وفعل کا۔ تم اپنے  جواز سے اپنے دل کو راضی کر سکو یہی کافی ہے۔
۔۔۔۔۔ 
 ٭کچھ لوگ زندہ ہوتے ہوئے بھی مر جاتے ہیں اور کچھ مر کر زندہ ہوتے ہیں اور کچھ اس ایک مختصر سی زندگی میں ہی اتنے سفر طے کر لیتے ہیں کہ زندگی اُن کے پاؤں سے لپٹی چلی جاتی ہے اور راستوں کی دھول مقدر کا ستارہ بن کر جگمگانے لگتی ہے۔
۔۔۔
٭آسمان اور زمین ہماری زندگی کے استعارے ہیں کہ اگر قدموں تلے زمین نکل جائے توبےوزنی بےسکونی میں بدل جاتی ہے۔اور آسمان دکھائی نہ دے تو وجود قبرستان بن جاتا ہے۔قبرستان میں روشنی نہیں ہوتی۔اُداسی ہوتی ہے،قبریں ہوتی ہیں اور مزار ہوتے ہیں۔ زمین حقیقت ہے، سچائی ہے،قسمت ہے تو آسمان آدرش ہے،خیال ہے،آرزو ہے،پرواز ہے۔اسی لیے ہم حقیقت سے نظریں چُرائے آسمان کی وسعتوں کو چھونے کے خواب دیکھتے ہیں۔یہی ہماری ناکامی بھی ہے

پیر, ستمبر 07, 2015

"وبالوالدینِ احساناً"


سورہ النحل(16)۔آیت 70۔۔ترجمہ۔
۔"اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر وہ تمہیں وفات دیتا ہے۔ اور تم میں سے کسی کو ناقص ترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد بےعلم ہو جاتے ہیں۔ بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی قدرت والا ہے"۔ 
ایک جائز تعلق کے توسط سے عورت اور مرد جب ماں باپ کے منصب پر فائز ہوتے ہیں تو آنے والا بچہ جسمانی،جذباتی اور معاشرتی ہر لحاظ سے اُن کے رحم وکرم پر ہوتا ہے۔وہ اُن کی آنکھوں سے دُنیا دیکھتا ہے۔۔۔اُن کے لمس سے زندگی کی حرارت محسوس کرتا ہے۔۔۔اُن کے رویوں کی چاشنی سے معاشرے کے تلخ وشیریں حقائق کو سمجھتا ہےتو ان کی زندگی کہانی سے اپنے حالات ومسائل کا تانا بانا بنتا ہے۔
بڑھتی عمر کے ساتھ ماں باپ کتنے کمزور کیوں نہ ہو جائیں یا کتابِ مقدس کے الفاظ میں"ارذلِ عمر"کو ہی کیوں نہ پہنچ جائیں، جب انسان"علم رکھنے کے باوجود لاعلم ہو جاتا ہے"۔اُن کا وجود بجائے سہارا دینے کے خزاں رسیدہ پتے کی طرح لرزنے ہی کیوں نہ لگ جائے۔اُن کی موجودگی کا غیرمرئی احساس قضاوقدر کے سامنےایک ڈھال کی صورت ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔ یہ ڈھال اُن کی زندگی میں اُن کے سامنے کبھی نہیں دکھتی بلکہ اکثر تو اپنے حصے کا کام ختم کرنے کے بعد اُن کا وجود محض ایک ذمہ داری یا معاشرتی دباؤ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اُن کے رہنما اٗصول ہماری تیزرفتار زندگی کا ساتھ دینے سے قاصر نظر آتے ہیں تو اُن کے ہزار بار سُنے قصوں کی بازگشت سے ہم جان چھڑاتے ہیں۔ ہر چیز حق ہے۔ ہر خیال بھی اللہ کی طرف سے ہی آتا ہے۔خالقِ کائنات نے کچھ بھی بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ناحق صرف یہ ہے کہ ہم اُسے سمجھنےسے قاصر رہتے ہیں اِسی لیے برتنے میں غلطی کر جاتے ہیں بسااوقات یہی غلطی ماں باپ اور اولاد کے بیچ وسیع خلیج حائل کر دیتی ہے۔جہاں ماں باپ خوساختہ ناقدری کا شکار ہو جاتے ہیں وہیں اولاد بھی اپنی دُنیا آپ دریافت کرنے کے زعم میں ایک بےغرض قطب نما کھو دیتی ہے۔
سورۂ بنی اسرائیل (17) آیت23۔۔وبالوالدینِ احساناً۔۔۔ترجمہ۔۔"اور والدین کے ساتھ احسان کرو"۔
اِس آیت ِقُرآنی میں والدین اوراولاد کےباہمی تعلق اُن کے حقوق وفرائض،والدین کی توقعات،اولاد کی ذمہ داریاں غرض کہ ہر مسئلے کا حل اور ہراُلجھن کا واضح جواب موجود ہے۔
احسان دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو کسی بھلائی کا بدلہ اُتارنے کے لیے کیا جائے اور ایک احسان یہ ہے کہ صلے کی توقع رکھتے ہوئے بھلائی کی جائے۔احسان دونوں معنوں میں دیکھا جائے تو ایک پسندیدہ عمل ہر گز نہیں ہمیں تو ایسی نیکی کا حُکم دیا گیا ہے کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔
قرآن پاک میں اولاد کی پیدائش اور پرورش کے دوران پیش آنے والی تکالیف تفصیل سے بیان کر کے والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حُکم دیا گیا ہے۔ یہ وہ احسان ہے جس کے صلے کا تقاضا اللہ کی طرف سے ہے۔ اولاد کا ماں باپ پر احسان کرنا فرض ہے کیونکہ ماں باپ کے اولاد پر احسانات بتلائے گئے ہیں۔غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ قرآن پاک میں کہیں بھی والدین کو یہ حُکم نہیں دیا گیا۔والدین کو اولاد پر اپنی بھلائی کا احسان جِتانے کی قطعی اجازت نہیں بلکہ دیکھاجائے تو گُناہ ہے کہ جو کام اللہ نے 
اپنے ذمے لیا ماں باپ اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کریں۔
ماں باپ کو اولاد کے ساتھ نیکی اور بھلائی کی تلقین ہے۔اُن کو اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔اولاد سے توقع رکھناصرف اپنے آپ کودُکھ دینے والی بات ہے۔اولاد کو اچھے طریقے سے پال پوس کر بڑا کرنے،معاشی اور معاشرتی لحاظ سے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے  اُن کی تعلیم وتربیت کرنے۔زندگی میں سر اُٹھا کر چلنے اور اپنے آپ پر بھروسہ کرکے عطا کرنے والا ہاتھ پانے تک ماں باپ کی ذمہ داری بالکل ایسے ہی ہے جس طرح آزاد پرندے تنکا تنکا جمع کر کے گھونسلہ بناتے ہیں۔۔۔محبتوں کے ثمر کو بےمہر فضاؤں کی دست بُرد سے بچانے کی تگ ودو کرتے ہیں۔۔۔مجبور وبےکس کمزور جانوں کو خوراک سے تقویت دیتے ہیں۔۔۔اِن کو آسمان کی وسعتوں میں جینا سکھاتے ہیں۔ پھر ایک مقررہ وقت کے بعد اپنے اپنے آسمان پر پرواز کرجاتے ہیں۔
انسان چاہے تو اپنے آس پاس بکھرے مظاہرِ فطرت سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہےاورذہنی وجسمانی آزادی کا سبق پرندوں سے بہتر کہیں سے نہیں سیکھا جا سکتا۔ لیکن مخلوق اور اشرف المخلوق کے درمیاں فرق سمجھنا ہی بنیادی نکتہ ہے۔ یہی آج کا المیہ ہےوالدین خود ترسی کا شکار ہیں کہ اولاد ہمارا خیال نہیں رکھتی۔انہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ احسان کا حُکم صرف اولاد کو ہے والدین کو نہیں۔اولاد کی پرورش ہر قسم کی غرض سے بالاتر ہو کر کریں گے تو خود بھی ہمیشہ سُکھی رہیں گے اور اولاد بھی جذباتی بلیک میلنگ سے آزاد ہو کر اپنی مرضی سے سیدھے راستے کا انتخاب کرے گی۔اجر تو صرف اور صرف اللہ کے ذمے ہے۔دیکھا جائے تواجر دُنیا میں ہی مل گیا ہے کہ اولاد کی پیدائش اورپرورش ایک انسانی رویہ ہےاس میں والدین کی مرضی کا کوئی عمل دخل نہیں۔۔۔اللہ کی طرف سے ایک ذمہ داری جسےچاہتے یا نہ چاہتے ہوئے ہرحال میں سر انجام دینا   پڑتا ہےاللہ نے اس ذمہ داری کو اپنےفضل سے اتنا بڑا رُتبہ دیا کہ قُرآن پاک میں شرک سے بچنے کے بعددوسرا حکم ماں باپ کےساتھ بھلائی کا ہے۔ 
ماں اور باپ دو ایسے رشتے جو موجود ہوتے ہوئے نہیں دکھتے اورجب ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاتے ہیں پھر دکھائی دیتے ہیں۔
 ماں باپ کے جانے کے بعد سب مفاد کے رشتے رہ جاتے ہیں ۔ہم جتنا اپنی توجہ کا پانی ڈالتے ہیں اتنا ہی پھل کھاتے ہیں ذرا نظر چونکی  توقع کے کانٹے نکل آتے ہیں اور ہمیں اندر سے لہولہان کر دیتے ہیں۔
ہمارے ماں باپ۔۔۔ بڑے بہن بھائی اس اجنبی اور بےمہر دُنیا میں ایک دیوار کی طرح ہوتے ہیں۔ دیوار۔۔۔جس کی قدر اور اہمیت سے ہم شہروں میں رہنے والے واقف نہیں ۔بےشک زمین انسان کی پہلی ضرورت ہے۔جس پر قدم رکھ کر وہ کاروبار زندگی کا آغاز کرتا ہے۔لیکن دیوار کی اہمیت وضرورت صحرا کے مکینوں اور سمندروں کے باسیوں سے بڑھ کر کوئی نہیں جان سکتا۔پہاڑوں میں بسنے والے زمین کے اندر ہی اندر اُتر کر کسی کھوہ کسی غار میں پناہ تلاش کر لیتے ہیں تو اونچے نیچے راستوں پر درختوں کا ساتھ کسی حد تک دیوار کی طلب سے بےنیاز کر دیتا ہے۔
دیوار چاہے کچی مٹی کی لپائی سے بنی ہو یا اینٹ پتھر سے جوڑ کر مضبوط کی جائے۔۔۔ہماری اپنی اوقات اور حیثیت کے مطابق ہی ہوا کرتی ہے۔ ہمارے قد سے بڑی یہ دیوار وقت کے سورج کی گھٹتی بڑھتی تپش میں سایہ فراہم کرتی ہے توبرہنہ پا سفرِزندگی طے کرتے ہوئے ذرا دیر کو "ڈھو" لگا کر بیٹھنے کا آسرا بھی ہے۔ یہ لمحے بھر کا ساتھ دُنیا کے اس دشتِ لا انتہا میں کسی نعمتِ مترقبہ سے کم نہیں۔ لیکن ہم میں سے بہت کم اس طور اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہیں۔ ورنہ یہ دیوار ہمیں اپنے ہر کام میں رُکاوٹ دکھائی دیتی ہے۔ اینٹوں سے بنی دیوار کی طرح بےحس!جس سے سر تو ٹکرایا جا سکتا ہے لیکن اس میں سے اپنا راستہ نہیں نکالا جا سکتا۔ یہی ہماری سوچ کی خرابی ہے۔ دیوار اپنا راستہ آپ تلاش کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اس دیوار میں جانے کتنے خزانے دفن ہوتے ہیں جو وقت کے لامحدود فریم میں ہمارے لیے چُنے جاتے ہیں۔اور ہم اپنی زندگی کے محدود وقت میں ہی اِن کے حصول کی ہوس رکھتے ہیں۔ ہم ناسمجھی اور کم عقلی کی زبان سے چاٹ چاٹ کر اس دیوار کو کھوکھلا کرنے کی اذیت میں گرفتار رہتے ہیں۔ یوں کبھی سکون نہیں پاتے۔
ایک پل کو ٹھہر کر سوچ لیں کہ اس دیوار کے پار کیا ہے؟۔۔۔۔یہ دیوار اجل کی  گہری کھائی کے کنارے پر دھرے ٹمٹماتے چراغ کی مانند ہے جو فنا کے جھونکے سے کسی پل بھی بُجھ سکتا ہے۔ ستم اس دیوار کا ہٹنا یا چراغ کا بجھنا نہیں۔۔۔ہماری محرومی بھی نہیں۔ بلکہ اصل کہانی یہ ہےکہ پھر ہمیں اس کی جگہ لے کر خود دیوار بنا دیا جاتا ہے یا بننا ہمارا مقدر ہے۔ وہ دیوار جس سے ہم ہمیشہ حالت جنگ میں رہے یہ جانے بنا کہ اس کی موجودگی ہمارے لیے اس میدانِ کارزار میں ذرا سی مزید مہلت کی خوش فہمی کا باعث تو تھی۔ ہاں خوش فہمی۔ ہم عقل مند تو یہ سوچتے ہیں کہ روانگی کی اس قطار میں بےشک ہمارے بڑے آگے کھڑ ے ہیں لیکن موت کا فرشتہ اس قطار کو نہیں دیکھتا اور جیسا اسے کہہ دیا گیا وہ کسی کو کب درمیان سے اٹھا لے جائے ہم نہیں جانتے لیکن اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمارے اس فہم کی خوش فہمی ہمارے لیے زندگی پر اعتماد کے حوالے سے امید کے چراغ تو روشن رکھتی ہے لیکن رشتوں کے ہونے پر یقین بھی کسی حد تک ختم کر دیتی ہے۔

رشتے ناطوں کو سنوارتے سنوارتے انسان جسمانی اور ذہنی طور پر خود کو کتنا ہی آزاد کیوں نہ محسوس کرے لیکن اخلاقی اور جذباتی طور پر وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتا اور اسی قید وبند کے دائرے میں اپنی شناخت برقرار رکھنے ہوئے زندگی سمجھنا اصل امتحان اور کامیابی ہے۔
یکم اگست، 2011

اتوار, اگست 30, 2015

" صبحِ وطن"



مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اُتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
(افتخارعارف)
آزادی۔۔۔ انسان کا ایسا قیمتی خواب جو اس کے سارے خوابوں کے لیے جہاں آکسیجن کا کام کرتا ہے وہیں جب اس کی تعبیر بنا کسی بھاگ دوڑ کے پلکوں کو چھو لے تو آنکھ کھلنے کے بعد انسان اس کی اہمیت وضرورت سےہمیشہ بےخبر رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کی قدر آزاد ہواؤں میں آنکھ کھولنے والوں سےبڑھ کر وہی جانتے ہیں جن کے جسم وروح پرغلامی کی زنجیروں کے زخم ثبت ہوں۔۔۔ ایسے زخم جنہیں وقت کا مرہم مندمل کر بھی دے لیکن پھر بھی بےحسی کی آنچ کی ذرا سی تپش پا کر پھر سے رسنے لگتے ہیں۔
۔14 اگست 1947 میں قیام پاکستان کے بعد آج اگست 2015 تک بہت وقت بیت گیا۔ننھے پودے تناور درخت بن گئے۔۔۔ کچی کونپلیں اپنی خوشبو اپنا رنگ اوراپنی مہک نچھاور کر کے پیوندِ خاک ہوئیں۔ کتنے ہی گھنے سائبان اپنے حصے کا کام کر کے رخصت ہوئےاور آج ان کا نام ونشان بھی باقی نہیں۔ یہی دنیا ہے اور یہی زندگی کہانی ہے۔ایسا ازل سے ہوتا آیا اور ہوتا رہے گا۔ لیکن اللہ نے انسان کو لفظ کی صورت ایسی نعمت عطا کی جس کے سہارے وہ اُن تمام لمحوں اور یادوں کو دوسروں کے لیے محفوظ کر سکتا ہے جن کے تلخ و شیریں احساس آنے والی نسل کے لیے مشعلِ راہ کا کام دیتے ہیں۔
ایسے ہی احساس کے جگنو کی روشنی میں اس سال 14 اگست کو"قیام پاکستان اورتقسیمِ ہندوستان" کے عنوان سے ایک محفل سجائی بہت سے لکھنے والوں نے اپنی اپنی یاد کی شمع روشن کی۔افراتفری اور شک وشبے کے اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں یہ لرزتی مدہم پڑتی لُو جہاں ایک گہری اداسی لیے ہوئے تھی وہیں اپنے آپ پر یقین،اپنی بنیاد کی سچائی اور پائیداری کی امین بھی تھی۔
وطن کے حوالے سے کچھ تحاریر جو اس دوران میرے مطالعے میں آئیں یا احباب نے اس میں شرکت کی۔ سچائی کی روشنائی سے لکھی جانے والی ہر تحریر بہت پراثر اور ناقابلِ فراموش یادوں کا ایسا گلدستہ ہے جس میں دل میں کھب جانے والے کانٹوں کی چھبن اگر درد کی شدت بیان کرتی ہے تو اپنی مٹی سے تعلق مضبوط بھی کرتی ہے۔
سب سے پہلے میری تحریر"قسم اس وقت کی" سے کچھ اقتباس۔۔جس میں اپنی اہلیت کے مطابق اپنا فرض نبھانے کی بات کی گئی۔
"قسم اس وقت کی"
تحریکِ پاکستان سے قیام پاکستان اور آج کے لکھاری۔
تاریخ تحریکِ پاکستان سے قیام پاکستان تک کی کہانی ایک ایسی داستان ہے جس کے گواہ نہ صرف ہجرت کر کے آنے والے پاکستانی ہیں بلکہ پاکستان میں پہلے سے مقیم پاکستانی بھی بہت سے واقعات کےعینی شاہد ہیں۔ پاکستان کے قیام کو 68 برس مکمل ہوچکے۔اس وقت نہ صرف وہ نسل اپنی صحت کے مسائل سے نپٹتے ہوئےتمام واقعات بیان کر سکتی ہے جو اُن کی جوانی کے دور میں پیش آئے بلکہ اس دور میں ذرا سا ہوش سنبھالنے والے بچے جو آج اپنے گھروں کی عافیت میں ہمارے بزرگ ہیں اس بارے میں بہت کچھ کہتے بھی رہتے ہیں۔ ہر باشعور پاکستانی کے گھر میں اس کےبچپن میں یا کبھی نہ کبھی اس نے کہیں نہ کہیں پاکستان کہانی ضرور سنی ہو گی۔ آج کے لکھاری کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ کانوں سے سنا وہ احوال سامنے لائیں جو کسی اپنے یا غیر کی آنکھوں نے دیکھا۔ان کی یاد میں سمٹےاحساس کو اپنے لفظ کی زبان دیں۔کوئی واقعہ کوئی بات جو ہم نے اپنے بڑوں سے سنی اور یقیناً سنی ہو گی۔اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ قیام پاکستان ایک معجزہ ہےاوراُس وقت ہوش وحواس کی دنیا میں سانس لینے والا ہر پاکستانی اس بارے میں کچھ نہ کچھ جانتا ضرور ہے۔
۔۔۔۔۔

جولائی 29۔۔۔2015
۔۔۔۔۔
یکم اگست 2015
۔۔۔۔۔
اگست 2007
نومبر 2011
۔۔۔۔۔۔
 2013 یکم اگست
۔۔۔۔۔
  اگست 4 ۔۔۔2015
اگست 14 ۔۔۔2015
۔۔۔۔۔۔۔۔
اگست 25۔۔۔2013
۔۔۔۔
اگست 7۔۔۔۔2015
۔۔۔۔۔۔
  اگست 8۔۔۔۔2015
۔۔۔۔۔
اگست 11۔۔۔2015
۔۔۔۔۔۔ 
اگست 10۔۔۔2010
۔۔۔۔۔
اگست 14۔۔۔2013
۔۔۔۔۔۔
اگست 13۔۔۔2015
۔۔۔۔۔
 اگست 13۔۔2015
۔۔۔۔۔۔
اگست 14۔۔۔2010
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ 
اگست 14۔۔۔2015
۔۔۔۔۔۔
اگست 15۔۔۔۔2015
اگست 29۔۔۔2015
حرفِ آخر
یہاں میں اپنے ابو کی ایک بات ضرور بتاؤں گا جو مجھے اچھی لگی ان کا کہنا ہے“مذہب،ملک اور برادری (خاندان) کے لئے اگر کچھ کرو تو اسے احسان سمجھ کر نہ کرو اور اس کے بدلے میں بھی کچھ طلب نہ کرو“۔


ہفتہ, اگست 29, 2015

" فیروزہ دائی "

ہمارے لیے ہماری زندگی کہانی ہمارے ماں باپ سے شروع ہوتی ہے۔ہم کبھی نہیں سوچتے کہ زندگی کی پہلی سانس ہم کس  کے ساتھ تھے؟کن مہربان ہاتھوں نے اُس لمحے نہایت احتیاط سے ہمیں اپنی آغوش میں لیا؟ہمارے بدن کو کس لمس کی گرمی نے لباس عطا کیا؟ یہ سب فضولیات سوچنےکا وقت کہاں اورکیوں۔ ہاں ہم میں سے اکثر اپنی جنم بھومی کے بارے میں ضرور حساس ہوتے ہیں اور  اکثر جانتے بھی ہیں شاید اس لیے کہ یہ ہماری پیدائش کی سند پر تحریر بھی ہوتا ہے۔جیسے جیسے عمر گزرتی ہے جانے کیوں اس جگہ سے ان دیکھی سی اُنسیت محسوس ہوتی ہے چاہے بعد میں اُس جگہ اُس علاقے سے کوئی تعلق بھی نہ رہا ہو۔اپنے آبائی علاقوں سے باہر پیدا ہونے والوں کے لیے تو  خاص طور پراپنی جائے پیدائش بہت اہمیت رکھتی ہے اور برصغیر میں بسنے  والوں کے بچوں کی  یورپ یا کسی اور ترقی یافتہ  ملک  میں پیدائش  ہو تو کیا ہی بات ہے کہ ہمیشہ کے لیے وہاں کی شہریت اور اس سے متعلقہ فوائد بونس میں ملتے ہیں۔ اسی طرح قیام پاکستان کی گولڈن جوبلی یعنی پچاس سال بھی کب کے ہو گئے لیکن ہمارے بزرگوں کی آنکھیں ہندوستان کے گلی محلوں کی یادوں اور دوستوں کی باتیں کرتے ہوئے اس طرح چمکنے لگتی ہیں جیسے کل ہی کی بات ہو۔
دنوں بلکہ سالوں کے الٹ پھیر میں ایک عمر ایک بھی آتی ہے جس میں کچھ گھنٹوں پہلے کی بات یاد نہیں رہتی اور برسوں پرانی بھولی بسری یادوں کی جزئیات تک یوں آنکھ کے پردوں پر رقص کرتی ہیں کہ محسوس کرنے والی نگاہ بےساختہ انہیں جذب کرنے کو مچلتی ہے۔بےشک یہ "ارذلِ عمر" ہے جس میں علم والے بھی بےعلم ہو جاتے ہیں لیکن اہم یہ ہے کہ عمر کے اس پڑاؤ سے پیچھے رہنے والے ان کے تجرباتِ زندگی سے کیا کچھ کشید کرتے ہیں۔
برسوں پہلےہجرت کر کے آنے والے ہمارے بڑے اگر متحدہ ہندوستان میں ہندو سکھوں کے ساتھ گھل مل کر رہنے کے قصے سناتے ہیں،عام معاشرے میں ایک دوسرے کے ساتھ مذہبی رواداری کی بات کرتے ہیں تو قیام پاکستان سے پہلے موجودہ پاکستان میں بھی صورتِ حال اس سے مختلف نہ تھی۔ہر شہر میں ہندوؤں اور سکھوں کے محلے اور ان کے بنائے ہوئے گھر آج بھی قابلِ رہائش ہیں۔دارالحکومت اسلام آباد سے متصل شہر راولپنڈی کی  اِس حوالے سے بھی اپنی ایک تاریخ ہے۔ راولپنڈی شہر نہ صرف قیام پاکستان سے پہلے کی ان گنت ان کہی کہانیاں سمیٹے ہوئے ہے بلکہ1947 کے بعد ہماری اس خونی تاریخ کا بھی عینی گواہ ہے جس سے رسنے والا لہو آج بھی دہائی دیتا ہے کہ اجل کی گرفت سے قطع نظر وہ ہاتھ اُسی طرح بےباک اور آزاد ہیں۔
راولپنڈی کا کمپنی باغ پاکستان کے قیام کے بعد جو 16 اکتوبر 1951 کو پہلے منتخب وزیرِاعظم خان لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد 'لیاقت باغ" کے نام سے پکارا جاتا ہے اس کے صدر دروازے پر 27 دسمبر 2007 کو پہلی منتخب خاتون وزیرِاعظم محترمہ بےنظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ اس سے پیشتر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 4 اپریل 1979 کو پاکستان کےمنتخب  وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمے کے فیصلے کے نتیجے میں  پھانسی دے دی گئی۔محترمہ بےنظیر بھٹو جناب ذوالفقارعلی بھٹو کی سب سے بڑی صاحبزادی  تھیں۔
سن سینتالیس سے پہلے لیاقت باغ شہر سے کچھ ہٹ کر تھا۔راولپنڈی شہرکی حدود میں کرتارپورہ،کوہاٹی بازار،بھابڑا بازار،پرانا قلعہ،صرافہ بازار،موتی بازار،بوہڑ بازار،راجہ بازار،موہن پورہ اور نانک پورہ سکھ اور ہندو تاجروں کے اہم علاقے تھے۔اس کے بعد "نالہ لئی" شہر اور مضافات کو الگ کرتا تھا۔ یہاں سکھوں کی اکثریت کے ساتھ ساتھ ہندو اورمسلمان خاندان بھی مل جُل کر رہتے تھے۔انہی محلوں میں بوہڑ بازار کا نام اگرچہ اس علاقے میں "بوہڑ" کے بڑے سےدرخت کی مناسبت  سے پڑا لیکن اس کی اصل وجۂ شہرت یہاں دواؤں کا کاروبار بھی تھا اور آج بھی بوہڑ بازار دواؤں کی مرکزی مارکیٹ ہے۔
فیروزہ دائی بوہڑ بازار میں رہنے والے ایک مسلمان خاندان کی بیٹی تھیں جو کم عمری میں شادی کے بعد جلد ہی بیوہ ہو کر بھائی کے گھر آ گئیں ۔کچھ عرصے بعد بھائی بھی چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر چل بسا تو آبائی گھر اور زمین جائداد کے معاملات کی ذمہ داری ان پر آن پڑی۔ بڑی ہمت والی خاتون تھیں۔ کاروباری امور کے ساتھ ساتھ دائی کا سرٹیفیکیٹ کورس بھی کیا۔غریبوں سے پیسے نہیں لیتی تھیں اور سب کےدکھ سکھ میں شریک ہونے سے رفتہ رفتہ نام بنتا گیا۔آس پاس سکھوں اور ہندوؤں کے گھر تھے۔مذہبی تفاوت سے پرے بچے کی ولادت کے کٹھن مرحلے میں فیروزہ دائی کا کردار عام لوگوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا اور انہیں یکساں طور پر عزت وتوقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔
فیروزہ دائی ایک نیک دل ہندو ڈاکٹر کے ساتھ مل کر کام کرتی تھیں۔وہ  ڈاکٹر ہر سال اپنے خاندان کے ساتھ گرمیاں گزارنے ہندوستان کے پُرفضا مقام شملہ جایا کرتا اور گھر کی دیکھ بھال کے لیے چابیاں اپنی معتمد فیروزہ کے سپرد کر دیتا۔ سال 1947 کی بات ہے کہ آنے والے کسی خطرے سے بےخبر ڈاکٹر معمول کے مطابق شملہ چلا گیا۔ فیروزہ ہمیشہ کی طرح اس دوران اس کے گھر  آ کر رہنے لگی۔ وہ اُس کی اجازت سے اُس کا چوکا (چولہا) استعمال کرتی اور اپنا کھانا  بھی بناتی۔ انہی دنوں سامنے والے گھر میں رہنے والے ہندو پڑوسی نے ڈاکٹر کو  خط لکھا کہ ایک ملیچھ عورت آپ کی رسوئی پلید کر رہی ہے۔ڈاکٹر نے فوراً فیروزہ کو ییغام بھیجا کہ گھر میں کام کرتے ہوئے پردے گرا دیا کرو یا کھڑکی بند کر دو کہ کوئی دیکھے اور نہ ہی کسی کو بات کرنے کا موقع ملے۔ فیروزہ ہر سال ڈاکٹر کے لیے اس کے گھر پر رہ کر آم کااچار ڈالتی جس کے لیے پیسے ڈاکٹر دے کرجاتا۔اس سال بھی اس نے کئی مرتبان اچار کے تیار کیے۔اسی دوران تقسیمِ ہندوستان کے فسادات پھوٹ پڑے اور اس ہندو خاندان کو کبھی واپس آنا نصیب نہ ہوا۔اچار کا تو جانے کیا بنا لیکن قیامِ پاکستان کے بعد انتظامیہ نے آکر اس مکان پر اپنے تالے لگا دئیے۔ فیروزہ کے قریبی احباب نے  گھر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے اس  پر بہت زور ڈالالیکن اس کی امانت داری نے گوارا نہ کیا۔نہ صرف گھر کی کسی چیز کو ہاتھ نہ لگایا بلکہ اپنے ہاتھ سے ڈالے گئے اچار کو بھی چھوڑ دیا اور بعد میں بند گھر کی وجہ سے صرف اچار کی فکر ہی کرتی رہیں۔۔اسی محلے میں مسلمانوں کے گھر کم اور ہندو سکھوں کے زیادہ تھے۔ فیروزہ کے گھر والے اپنے پڑوسیوں کی ممکنہ دشمنی کے خوف سے آبائی گھر چھوڑ کر مسلمانوں کے محلے میں منتقل ہونے لگے تو سکھ پڑوسی ڈھال بن گئے اور کہا کہ واپس آ جائیں کوئی ہمارے اوپر سے گزر کر ہی آپ تک پہنچ سکتا ہے۔
اس کے بعد کون جانے کیا ہوا۔ جہاں ایک نظریے کی بنیاد پر قیام پاکستان کا معجزہ رونما ہوا وہیں پیار محبت، دوستی اور بھائی چارے کے مفہوم بھی بدل گئے۔ برسوں ساتھ رہنے والے، اپنے اپنے مذہب پر کاربند رہتے ہوئے دوسرے کے عقیدے کا احترام کرنے والے، ایک دوسرے کےخون کے پیاسے ہو گئے۔۔جس کا جہاں داؤ لگا اُس نے دوست کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ ہندوستان سے  لٹے پُٹے مسلمان ہجرت کر کے پاکستان آئے تو پاکستان میں رہنے والے ہندو سکھ اپنی جانیں بچا کر ہندوستان چلے گئے۔بچپن کی محبتیں خواب ہوئیں پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندو مسلم دشمنی کی ایسی داغ بیل پڑی کہ سات دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی ہندو رہنماؤں کو پاکستان کا وجود کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اور لاکھ کوشش کے باوجود اُن کا بغض اور کینہ روز بروز فساد برپا کیے رہتا ہے۔
اللہ ہمارے وطن کو دُشمن کے شر سے بچائے۔ہمیں اپنے پرائے کی پہچان کا ہنر عطا فرمائے اور علم وعمل کے ہر میدان میں دُشمن کے مقابلے میں  فتح مبین سے ہمکنار کرے۔ آمین۔   

"منیرہ قریشی اور اُن کی کُتب"

تعارف مصنف   منیرہ قریشی    درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ    سماجی اور رفاعی اداروں کے قیام کے حوالے سے  واہ کینٹ کا ایک ...