جمعہ, اگست 28, 2020

"اُداسی اور خوشی"

"میری ڈائری سے  میرا انتخاب"
تقریباً چار دہائیاں  پہلے  کے لفظ ۔۔۔نہیں جانتی کہ کس کے لکھے ہیں۔ لیکن  اداسی اور خوشی کی تمثیل  آج بھی  دل کو چھوتی ہے اور آنکھ نم کرتی ہے۔
"اُداسی" 
جیسے۔۔۔ ساون کی گھٹا  ذرا    دیر کے لیے برسے اور پھر دھوپ نکل آئے۔
 جیسے۔۔۔کوئی مہمان چند روز کے لیے آئے اور قہقہے برسا کر واپس چلا جائے۔
جیسے۔۔۔ کوئی میلہ بھر کر خالی ہو جائے۔
جیسے۔۔۔ چُھٹی کا دن آئے اور گُزرجائے۔
جیسے ۔۔۔روزِعید کی شام ہو۔
جیسے۔۔۔ دُلہن کی رُخصتی کے بعد گھر کی حالت۔
جیسے۔۔۔تماشۂ رفتہ کا خالی پنڈال۔
 جیسے۔۔۔ کسی پردیسی کی الوداعی مسکراہٹ۔
جیسے۔۔۔بھولے بسرے خطوط۔
جیسے۔۔۔ مرنے والے کے تہہ در تہہ کپڑے۔
جیسے۔۔۔ گرمیوں کی طویل دوپہر میں باغ کا منظر۔
جیسے۔۔۔  کسی  ویران مسجد میں شام کا چھٹپٹا۔
جیسے۔۔۔ کسی کھنڈر میں چھٹکی چاندنی۔
جیسے۔۔۔ کسی سُنسان پہاڑ پر خزآں کی آمد۔
جیسے۔۔۔جاڑے کی چاندنی۔۔
۔" اےاُداسی۔اے اُداسی تیرا جواب نہیں ،تخلیق کاروں کی اُمنگ،اے شاعروں کی محبوبہ،اے اداسی تو میرے جذبوں کی گھٹا ہےاور تو میرے قلم کی وہ سیاہی بھی جس کے سامنے صفحۂ ہستی کی تمام تر وُسعت بھی ناکافی ہے۔۔۔مگراداس موسم میں اداس ہو جانا ایک عام سی بات ہے کیونکہ اس وقت بھی تو سال  بھر کا اداس اور سوگوار موسمَِ خزاں عروج پر ہے۔لیکن اگر  میں اس اداس موسم میں اداس ہوں تو کئی لوگ ہوں گے جو اس موسم سے لُطف اندوز ہو رہے ہوں گےاور یوں اُن کے چہروں سے شفق پھوٹ رہی ہو گی۔ان کے کھنکتے قہقہے ہر سمت پھیل رہے ہوں گے،اُن کے چہروں سے خوشی و شادمانی ٹپک رہی ہو گی مگر دوسری طرف ایسے بھی لوگ ہوں گے جن کے چہروں پر غم کی گھٹا چھائی ہو گی،آنکھوں  میں افسُردگی کے سائے  ہوں گے اور چہرہ دھواں دھواں ہو گا۔اور ہاں وہ لوگ بھی تو ہوں گے جو اندر سے تو افسردہ ہوں گے مگر ہنستا چہرہ لیے زمانے کے سامنے ہوں گےمگراُن کے چہرے کا کوئی حصہ اس جھوٹ کی چغلی کھا رہا ہو گا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
" خوشی"
 جیسے۔۔۔ ساون کی گھنگھور گھٹا سے پانی کا پہلا قطرہ۔
جیسے۔۔۔ کسی میلے میں ڈھول پر پڑنے والی پہلی تھاپ۔
جیسے۔۔ کسی سُونے آنگن میں بچے کی پہلی چہکار۔
جیسے۔۔۔کسی دور کے نگر میں کسی شناسا چہرے کا دیدار۔
جیسے۔۔۔کسی اُجڑے آنگن میں بہار کی واپسی کا احساس۔
جیسے۔۔۔ کسی خوشخبری سنانے والے کے ہونٹوں کی مخصوص جنبش۔
جیسے۔۔۔کسی  مسکرانے والے کی آنکھ کا نرالا آنسو۔
جیسے۔۔۔کسی لوٹ کر آنے والے کے قدموں کی خوش کن صدا۔
۔"اے خوشی تو  دل کے سمندر کا  سب سے انمول موتی ہے۔تو زندگی کی لہر ہے۔تو کائنات کی روح ہے۔ تو نے شاذ ہی مجھے اپنی زندگی کی  جھلک دکھائی ہے ۔لیکن مجھے تجھ سے کوئی شکوہ نہیں کیونکہ تیری کمیابی ہی توتیرا حُسن ہے"۔




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اولاد

۔" اولاد ہمیشہ  ماں باپ کی ترجیحِ اول ہوتی ہے لیکن ماں باپ  زندگی میں  کسی بھی  مقام پر اولاد کی ترجیح کبھی بھی نہیں ہوتے"۔ ۔ سورہ...