جمعہ, جولائی 10, 2020

"کیا ہے زندگی"

"کیا ہے زندگی"
٭ زندگی  تو بس پکے مکان سے کچی قبر تک فقط آنکھ بند ہونے اور آنکھ کھلنے کے بیچ کی سفرکہانی ہے جو کبھی تو حقوق وفرائض کے محور کے گردسمجھوتے کے کھوپے چڑھائے صبح وشام کرتے گزرتی ہے تو کبھی لایعنی خواہشوں  کی چادر میں اُمیدوں کی گلکاری کرتے،لباس کی  تکمیل کے  خمار میں  ڈولتے تو کبھی ناکافی حسرتوں کے لاشے اُٹھائے دن گن گن کر گزارتے۔ زندگی کے میلے میں اپنی محنت ومشقت کے سکًوں سے  آسودگی 
خریدتے خریدتے ایک ایسا وقت بھی آتا ہے  کہ  کاروبارِحیات  کا  مرکزی کردار   ایکسٹرا کی جانب بڑھنے لگتا ہے۔ پچاس ساٹھ سال کی بھاگ دوڑ کے بعدانسان سوچتا ہے کہ اس شجرِسایہ دار کےنیچے کچھ دیر آنکھیں موند کر اپنی مرضی سے پیر پھیلا کر چند سانسیں لے لیکن یہ کیا کہ اب تو  اپنے وجود میں سمٹ کر بھی رویوں کی چکاچوند اجنبی مسافر بنا دیتی ہے۔
۔" مکان محنت سے بنتے ہیں اور گھر نصیب سے" ۔۔۔ 
 مکان بنانا  دُشوار تو ہے کہ مکان مکینوں کے لیے بنتے ہیں جو مکان بنانے کی صعوبت سے آشنا ہوتے ہیں لیکن مکان کو گھر کی  صورت دے کر آباد کرنا دُشوار  تر ہے کہ ان جان مکینوں سے گھر آباد ہوتے ہیں ۔جو گھر  کی قدروقیمت سے تو واقفیت رکھتے ہیں لیکن گھر بنانے والے کی قدر سے  ناواقف بلکہ کہا جائے تو قطعاً نابلد ۔ ستم تو یہ ہے کہ اُنھیں اس کا رتی برابر احساس بھی نہیں ہوتا۔ کیا کیا جائے کہ یہی  دائرۂ زندگی ہے تو حاصلِِ زندگی بھی یہی۔ اہم یہ ہے کہ گھر بنانے والے ہی گھر آباد رکھنے  کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔  لیکن اس سے بڑھ کر کڑوا سچ یہ ہے کہ اپنی زندگی برباد کر کے ہی گھر آباد ہوتے ہیں۔" مکان محنت سے بنتے ہیں اور گھر نصیب سے"۔ لیکن نصیب کو دوش دے کر محنت ترک نہیں کرنی چاہیے کہ محنت کا پھل بھی نصیب سے ملتا ہے۔۔۔کبھی ساری عمر کولہو کا بیل  بن کر بھی سر پر چھت نہیں ملتی  اور کبھی چھت مل بھی جائے تو زندگی دوگام سستانے کی مہلت نہیں دیتی۔اہم یہ ہے کہ راضی رہو خواہ گھر ہو یا مکان۔جان لو سب عارضی ہے ،حتمی اور ذاتی صرف دوقدم کے فاصلے پر مٹی کا ٹھکانہ ہے۔ستم یہ ہے کہ وہ بھی خوش نصیبوں کا نصیب ہے۔
٭زندگی سفردرسفر ہے تو زندگی کہانی تھکن درتھکن۔۔۔ ڈھلتی عمر کی چاپ سنتے  ذمہ داریوں کی چیختی چلاتی تھکن اُترنے لگے تو زندگی کی  تھکن یوں  خاموشی سے  اپنے حصار میں جکڑتی ہے کہ  ہر رنگ بےرنگ اور ہر عکس میں بس ایک ہی نقش نظر آتا ہے۔ساتھ رہنے والے،ساتھ چلنے والے  چلتی گاڑی میں دِکھتے منظروں کی طرح   رُخ بدلتے ہیں تو ہمیشہ کے لیے  رُخصت ہو جانے والے چہرے احساس کی شدت لیے یاد کے دریچوں سے جھانکتے ہیں۔ کبھی ہم رشتوں کو ترستے ہیں تو کبھی خاندان مکمل کرنے کی  جدوجہد میں  سفرِزندگی طے کرتے ہیں۔  رشتے برتتے سمے  جب دنیاوی رشتوں کی حقیقت اور محبتوں کی قلعی اُترتی ہے تو  انسان کچھ کہنے کے قابل رہتا ہے اور نہ ہی کسی سے  بانٹنے کے۔ چاہ سےجوڑے گئے رشتوں کے رویے انسان  کو ذہنی تھکن کی ایسی بندگلی میں پہنچا دیتے ہیں کہ  جسم ہزار کوشش کے باوجود آگے بڑھنے سے انکاری ہو جاتا ہے۔
٭۔۔بس کر اے زندگی کہاں تک ہم  تیرے عذاب جھیلیں۔کبھی کوئی تھک کر سو جاتا ہے اور کوئی اس ڈر سے نہیں سوتا کہ تھک گیا تو مر جائے گا۔
۔"یہ شام پھر نہیں آئے گی"۔ 
زندگی اگر دن کے رات اور رات کے دن میں ڈھلنے سے آگے بڑھتی ہے تو انہی رات اور دن کے بیچ میں ہماری زندگی کی صُبحیں اور شامیں بھی آتی ہیں۔ایک پُرسکون رات کے اختتام پر طلوع ہونے والی صبح  کی مہک اگر  جسم وجاں میں جذب ہو کر اسے تازہ دم کرتی ہےتو دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد  چائے کے کپ  کے  ساتھ اپنی ذات کی تنہائی میں سرکنے والی شام کے چند لمحے روح کے بوجھ اتار دیتے ہیں۔ جو وقت  بیت جائے وہ کبھی پلٹ کر نہیں آتا خواہ وہ درد بھرے لمحات ہوں یا خوشیوں کی کہکشاں پر رقص کرتے جگنو لمحے ہوں یا   دکھ اور تکلیف کے آسیب میں 
جکڑےکیکر لمس۔
 دھوپ ڈھلنے کے لیے ہوتی ہے آج یا کل زندگی کی شام نے آ کر رہنا ہے۔ ایک    ایسی شام  جو  بیک وقت گونگی بھی ہوتی ہے اور چیختے چلاتے اپنے حصار میں بھی جکڑ لیتی ہے۔


1 تبصرہ:

"آدم ،اولادِ آدم اورجنت کہانی"

یکم محرم الحرام بمطابق 1444 ہجری 31 جولائی 2022 بروز اتوار " جنت سے نکلنے میں یا تو غلطی ہوتی ہے یا پھر جنت نہیں" ۔ جن...