جمعہ, اگست 18, 2017

"کردار سے دائرہ کار تک"

معاشرہ فرد سے بنتا ہے۔مرد اورعورت معاشرے کے بنیادی جزو ہیں۔معاشرتی،معاشی،اخلاقی اورمذہبی زنجیروں سےقطع نظردنیا کا ہرانسان خواہ مرد ہو یا عورت اپنے افعال وکردار میں آزاد پیدا ہوتا ہے۔ساری زندگی اِن زنجیروں کی جھنکار اسے اُس کی اوقات یاد دلاتی رہتی ہے۔۔یہ قید طاقت بھی ہے جو درحقیقت اُس کی سیماب صفت فطرت کے لیے آب حیات کا کام کرتی ہے۔انسان اپنی طبعی عمر پوری کر کےاس فانی دنیا کی ہر قید وبند سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔آگے کی جزاوسزا ایک الگ کائنات کی کہانی ہے۔
مرد کا دائرہ کار اُس کے کردار کا تعین کرتا ہےجبکہ گھر میں عورت کا کردار اُس کے دائرہ کار کی راہ متعین کرتا ہے۔گھر اور معاشرے میں عورت کے کردار کے حوالے سے مرد اور عورت دونوں اپنے طور پر ہمیشہ سے اُلجھن کا شکار رہے ہیں ایک"تہذیب یافتہ"معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے ہم سب جانتے ہیں سمجھتے ہیں لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی حقائق کو اپنے خیال پر فوقیت دینا پڑتی ہے۔اگر مرد اپنی ذاتی زندگی میں کم ازکم خیال کی حد تک عورت کی اہمیت اور ضرورت محسوس کر لے اورعورت حقیقت کی آنکھ سے دیکھ کر اپنا اصل مقام پہچان لے۔۔۔ توجہاں مثبت طرزفکر مرد کی گھریلو زندگی پرسکون بنا دیتا ہے۔۔۔وہیں اپنے اصل مقام کی پہچان اور اس سے دیانت داری عورت کے لیے فکر وخیال کی نئی دنیاؤں کے راستے کھول سکتی ہے۔ہمارے معاشرے میں عورت کی سوچ اور فکر کی تازگی کے لیے سازگار ماحول کا ہونا خواب وخیال کی بات ہے۔۔ ہر وہ عورت جو ایک بنے بنائے راستے پر نہ چلنا چاہے اورخود سے وابستہ رشتوں کو ساتھ رکھتے ہوئے بھی صرف اپنی ذات کے لیے ایک نئے راستے کی چاہ کرے ۔اس کے لیے یہ سفر عشق کے سفر کی طرح پہاڑ میں سے دودھ کی نہر نکالنے کے مترادف ہے۔عورت وہ چراغ ہے جس کی روشنی جانتے ہوئے،مانتے ہوئے بھی سب اُس سے خائف رہتے ہیں۔
عورت کا اصل مقام صرف اس کا گھر ہے۔وہ گوشۂ عافیت خواہ جہاں اس کی سوچ کی عزت دو کوڑی کی بھی نہ ہو۔۔۔ اس کے ذہن کو نہیں اس کے جسم کو اہمیت دی جاتی ہے۔۔۔اس کی انفرادی حیثیت نہیں بلکہ اس سے جڑے رشتوں کی وجہ سے اس کو پہچانا جاتا ہے،عورت جتنا جلد یہ بات سمجھ جائے اتنا جلد سمجھوتہ کرنے میں آسانی رہتی ہےلیکن یہ وہ پھانس ہے جو اکثر بہت چبھن دیتی ہے۔معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی کمزور اور ان پڑھ عورت کے مسائل سے پرے وہ عورت جو ڈگری یافتہ ہی کیوں نہ ہو اور معاشرے میں ایک مقام بھی رکھتی ہو اپنے گھر والوں کے حوالے سے ناقدری کی سوچ کبھی نہ کبھی اس کو ڈنگ ضرور مارتی ہے۔کچھ کے لیے یہ زہر زندگی بخش ثابت ہوتا ہے اور وہ اسے کہیں  اندر جذب کر کے،سر جھٹک کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔
عورت کی دوسری انتہا،ایک اور رُخ یہ ہے کہ  بظاہر ترقی وکامرانی کی بلندیاں ہی کیوں نہ چھوتی نظر آئیں،کچھ آگہی کے اس  زہر کے اثر سے  زہر آلود ہو جاتی ہیں پھر نہ صرف خود کو تباہ کر بیٹھتی ہیں بلکہ ایک خاندان اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔اس بارے میں ہم تقریباً ہر روز کہیں نہ کہیں دیکھتے اورپڑھتے رہے ہیں۔اندر کی بات نہ جانتے ہوئے بھی گھر بچانے میں عورت کا کردار مرد سے زیادہ اہم ہےاور زیادہ ذمہ داری عورت پر ہی عائد ہوتی ہے۔۔  دیکھنے والی آنکھ ہر دو رویے بخوبی  محسوس کر سکتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"بچپن سےپچپن تک"

"بچپن سے پچپن تک" پچیس جنوری ۔۔۔1967۔ پچیس جنوری۔۔۔2022۔ "جانا توبس یہ جانا کہ کچھ نہیں جانا" بچپن اور پچپن کے بیچ لفظی...