پیر, نومبر 04, 2013

"کرب و بلا"

"کرب و بلا "
کربلا ایک پیغام ہے اس کو ڈی کوڈ کرو اور جان لو ۔
کرب وبلا ایک واقعہ نہیں ایک تسلسل ہے ،ایک ڈرامہ نہیں ایک سیریل ہے جس میں کردار بدلتے جاتے ہیں کہانی وہی چل رہی ہے۔
یاد کرنا اچھا ہے اگر بھلانے کے ڈر سے نہ کیا جائے۔
ہاتھ ملنا اچھا ہے اگر پیچھے رہ جانے پرکیا جائے ورنہ آگے بڑھنے والوں کی منزل کھوٹی نہیں کرنی ۔
ماتم جینز میں ہوتا ہے،ماحول اور اسباب بعد میں پیدا ہوتے ہیں۔
ماتم کچھ لوگوں کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے اورگریہ فطرت میں ۔
ماتم بہترین ہے اگر اپنی ذات کے کرب وبلا کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔
ماتم اپنی کمزوری پرہو تو بہتر ہے۔
رونا گڑگڑانا رحمت ِخداوندی کے قرب کا ذریعہ ہے۔
آنسو اگر اندر کی طرف بہیں تواندرکی صفائی کرتے ہیں اورباہرآ جائیں تو ہرشے دھندلا دیتے ہیں ۔
ہم سارا سال روتے ہیں کبھی اپنے اندر تو کبھی سب کے سامنے ۔
ہر شخص شناخت چاہتا ہے چاہے وہ عزاداری سے ہو یا شکرگزاری سے۔
ہم جن سے محبت کرتے ہیں اُن کے قدموں کے نشان توچومتے ہیں لیکن ان پر چلنے سے ڈرتے ہیں۔
اپنے پیاروں کے جانے کا گریہ تو کرتے ہیں لیکن اُن کی زندگی کی خوشی نہیں مناتے۔
اُن کی کامیابی کا ذکر نہیں کرتے۔اُس راستے پر چل کر ابدی بقا کے طالب نہیں ہوتے۔
کربلا کیا ہے ؟ کرب و بلا ۔ ہم اس لفظ سے آگے نہیں بڑھتے یہ نہیں سوچتے کہ جن پر گزرا انہیں کیا ملا ۔
جسم کی حرمت بجا ہے لیکن اگر روح بےقرار ہو جائے تو صدیوں بھٹکتی رہتی ہے۔
کربلا اگر موت ہے،خون ہے رشتوں کا، اُن کی تقدیس کا ،عظمتِ انسانی کا تو یہ حیات بھی ہے انسانی عزم وحوصلے کی، راضی با رضا رہنے کی ، صبر کے پھل کی ،رب العالمین کی عطا کی ۔
محرم قیامت کا نام ہے اور قیامت نے ابھی آنا ہے۔ ہم مرنے سے پہلے مرنا نہیں چاہتے۔ محرم گزر جائے تو ڈھارس بندھ جاتی ہے کہ قیامت کا خطرہ ٹل گیا ۔
ہر انسان اپنے اپنے کرب و بلا میں ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ حسین بن کر نکلتا ہے یایزید بن کر ۔

1 تبصرہ:

"بچپن سےپچپن تک"

"بچپن سے پچپن تک" پچیس جنوری ۔۔۔1967۔ پچیس جنوری۔۔۔2022۔ "جانا توبس یہ جانا کہ کچھ نہیں جانا" بچپن اور پچپن کے بیچ لفظی...