سوموار, ستمبر 14, 2015

"کرنیں (7)"

جب زندگی ہاتھ سے سرکنے لگے پھر قارون کا خزانہ بھی بےمعنی ہوجاتا ہے۔
۔۔۔۔۔
٭زندگی سے زندگی میں ملنے کی صرف ایک شرط ہے کہ زندگی باقی رہے۔
۔۔۔۔۔ 
٭اس سے اچھی بات ہو ہی نہیں سکتی کہ مور ناچتے ہوئے اپنے پیروں کو نہ بھولے۔
 ۔۔۔۔۔۔۔ 
 ٭خیال تخیل کے سمندر میں لہروں کی مانند ہوتا ہے۔جو لہر ایک بار آ کر چلی جائے وہ دوبارہ کبھی نہیں ملتی۔
۔۔۔۔۔
٭اور اور کی چاہ انسان کو حال میں کبھی خوش نہیں رہنے دیتی۔
۔۔۔۔۔۔
٭ جسم کی بھوک بولنے پر مجبور کرتی ہےتو روح کی پیاس سوچنے پر اُکساتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
٭کانچ کے گھروں میں رہنے والوں کی عافیت پتھر سے بھی زیادہ سخت ہونے میں ہے۔
۔۔۔۔۔ 
٭یہی زندگی ہے اسی میں ہم نے کچھ پانا بھی ہے اور کھونے سے بچنا بھی ہے۔
۔۔۔۔۔
٭محبت روح کی زبان ہے جسے جسم لکھتا تو ہے لیکن سمجھتا نہیں۔
۔۔۔۔۔
٭حیا آنکھ میں ہوتی ہے لیکن جسم کی بولی اس کو بیان کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔
٭لفظ ہمارے اندر کی کہانی کہتے ہیں تو کبھی دنیا کی وسعت کی ترجمانی کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
 ٭کہانیاں صرف وہی نہیں ہوتیں جو"کہی"جاتی ہیں بلکہ اصل کہانی ہی وہی ہے جو ان کہی ان چھوئی رہ جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
 ٭کچھ باتوں کو ان کہا نہیں رہنا چاہیے۔جو بات وقت پر نہ کہی جائے وہ بےفائدہ بے نتیجہ رہتی ہے۔
۔۔۔۔۔
 ٭دوستی اور خلوص بیان کی جانے والی داستان نہیں بلکہ محسوس کرنے والی اور جذب ہو جانے والی ان کہی کہانی ہے۔ وہ کہانی جو نہ سمجھی جا سکتی ہے اور نہ سمجھائی جا سکتی ہے۔
 ۔۔۔۔۔۔ 
٭ لفظ وہی دل میں اترتا ہے جو ہمارے حسبِ حال ہو۔
۔۔۔۔۔
٭لفظ  کے رشتے اگرچہ رسمی تعلقات کی طرح "دو اور لو" یا "سنواور سناؤ"کے ضابطوں کے محتاج نہیں ہوتےلیکن لفظ کے رشتوں کی پائیداری اور خوبصورتی اسی میں ہے کہ وہ کبھی بھی لفظ کی حدود سے باہر نہ نکلیں۔جیسے ہی اپنی فطرت اور جبلت کے زیرِاثر لفظ سے شخصیت کی جانب سفر شروع ہوتا ہے انسان کشش کا بنیادی مرکزِثقل کھو دیتا ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔ 
 ٭عزت دل میں ہوتی ہے اکثرالفاظ سے زیادہ رویے اس کا اظہار کرتے ہیں۔کبھی بلا سوچے سمجھے اچانک بولے جانے والے لفظ سب راز کھول دیتے ہیں تو کبھی ہمارے رویے اصلیت پر پردہ ڈالے رہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
 ٭ادب وہی ہے جو ہمیں زندگی کے ہر رنگ سے نہ صرف روشناس کرائے بلکہ زندگی برتنے کا قرینہ بھی سکھائے۔
۔۔۔۔۔۔
٭خواب زندگی کی علامت ہیں اور رنگ بینائی کا ثبوت۔
 ۔۔۔۔۔ 
٭تنہائی رب کی بہترین نعمتوں میں سے ایک ہے اگر اس کے ساتھ  مثبت سوچ کی روانی بھی نصیب ہو جائے۔
۔۔۔۔۔۔
٭ہمیں کیا معلوم ہماری دعا ہمارے حق میں بہتر بھی ہے یا نہیں۔
 ۔۔۔۔۔ 
٭رب کی عطا کو عقل کی کسوٹی سے پرکھنے کی شعوری کوشش سے گریز کرو۔
 ۔۔۔۔ 
 ٭زندگی دھوپ چھاؤں کا نام ہے کبھی ہم کسی کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں تو کبھی خود بڑی بھاری ذمہ داری بن جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
 ٭ اہم سفر کرتے رہنا ہے۔ چلتے رہے تو کہیں پہنچ ہی جائیں گے نہ بھی پہنچےاپنے اندر سے بہت کچھ سیکھ لیں گے۔
۔۔۔۔۔۔ 
 ٭نقش قدم پر چلنا انسان ہونے کی دلیل ہے تو اپنی ذات کی بےثباتی اور کائنات کے سربستہ رازوں پر تفکر باعثِ نجات اور باعث ِسکون بھی ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔ 
 ٭خالی ڈھول کی طرح بجنے والے بےشک جتنا بھی مجمع اکٹھا کر لیں لیکن اُن کے اندر کا خلا ان کے قریب جانے والے پہچان لیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
*عادت ڈالی نہیں جاتی۔۔۔عادت پڑ جاتی ہے۔
۔۔۔۔
٭عمر چاہیے تو اپنے ساتھ جیو۔زندگی چاہیے تو ساتھی کو اپنا کر جیو۔
۔۔۔۔۔
٭بارش اور رات انسانوں کو سمجھنے کی کوشش میں کبھی بہت خطرناک بھی ثابت  ہوتے ہیں۔ بارش میں کچے رنگ اور رات میں انسان کا اصل چہرہ دکھائی دیتا ہے۔بہت کم کوئی بارش اور رات کے امتحان میں پورا اتر سکا صرف وہی جنہیں اپنے رنگوں پر یقین ہوتا ہے اور چہرے پر اعتماد۔
۔۔۔۔۔۔۔
 ٭بڑی باتیں انسان کے کردار کا تعین کرتی ہیں تو چھوٹی چھوٹی باتیں اقدار کی نشاندہی۔انسان کا کردار محض اُس کا نفس ہی نہیں بلکہ اُس کے مکمل وجود کی بُنت کا نام ہے۔ یہ انسان کا وہ لباس ہے ظاہری آنکھ جسے دیکھ کر معاشرے میں اُس کا مقام جانچتی ہے۔لباس حق ہے کہ اس کے بغیر کوئی وجود وجود ہی نہیں لیکن یہ بھی حق ہے کہ محض لباس کی تراش خراش دیکھ کرحتمی فیصلہ سنا دینا سب سے بڑا فریب ہے جو صرف اور صرف دیکھنے والی آنکھ کی کجی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔ 
 ٭کچھ لوگ زندہ ہوتے ہوئے بھی مر جاتے ہیں اور کچھ مر کر زندہ ہوتے ہیں اور کچھ اس ایک مختصر سی زندگی میں ہی اتنے سفر طے کر لیتے ہیں کہ زندگی اُن کے پاؤں سے لپٹی چلی جاتی ہے اور راستوں کی دھول مقدر کا ستارہ بن کر جگمگانے لگتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

قرانِ پاک کی سورتیں

   قران پاک کی وہ سورتیں جوایک سے زیادہ ناموں سے جانی جاتی  ہیں ۔۔۔ ٭ 1)سورۂ فاتحہ(1)۔۔۔ سورۂ واجبہ۔۔اُم القران ٭2)سورۂ التوبہ(9)۔۔سور...