منگل, مارچ 08, 2016

"کرنیں(9)"

٭بےشک اللہ سب جانتا ہے۔۔۔۔ہم تو اپنے آپ کو بھی نہیں جانتے۔
٭ علم کی انتہا ۔۔۔۔
٭علم کی انتہا حیرت نہیں۔ لیکن اپنی ذات کا علم ہمیں ضرور ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔
٭علم کی انتہا حق الیقین کی وہ کیفیت ہے جو دنیا میں آنکھ بند ہونے کے آخری لمحے آنکھ پر وارد ہوتی ہےکہ اس لمحے اندر کی آنکھ کھل جاتی ہے۔اس کیفیت کا بیان پاک کتاب اور احادیث رسول ﷺ سے تو ثابت ہے لیکن فانی انسان۔۔۔۔ جو اس کیفیت کا امین ہے۔ وہ اظہار کی قدرت کھو دیتا ہے۔
۔۔۔۔
٭ہاتھ کی لکیریں "علم" ہیں اور قسمت کا حال اور مستقبل کی پیش گوئی"غیب کا علم" ۔۔۔۔۔ علم کے حصول کے لیے چین تک جانے کی "حدیث" اس امر کی دلیل ہے کہ علم صرف آگہی کا نام ہے اورعلم کے بعد اصل فہم اس پر "عمل" کا ہے جو درست غلط کا فیصلہ کرتا ہے۔ اور "غیب کا علم " صرف اورصرف اللہ کی صفت ہے ۔ اور ہمارا اس پر ایمان ہے۔
۔۔۔
٭تحریر علم کی غمازی کرتی ہے اور تخلیق عمل کی عکاس ہوتی ہے۔
۔۔۔۔
٭اہم یہ ہے کہ ہماری بہت سی جہت ہیں ہمیں خود کو کسی ایک سمت محدود نہیں کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔
٭راز ِزندگی۔۔۔۔
رازِ زندگی ہے تو فقط یہ کہ جو راز کو پا گیا وہ زندگی سے نکل گیا اور جس نے زندگی کی خواہش کی وہ محرمِ راز نہ بن سکا۔
۔۔۔۔۔
٭ زندگی میں آخری سانس تک کبھی حرفِ آخر نہیں آتا۔
۔۔۔۔۔
٭اونچی پرواز سے پہلے زمین سے نسبت ختم کرنا پڑتی ہے۔
۔۔۔
٭کھلےآسمان پر پرواز سے طاقت پرواز کا اندازہ ہوتا ہے۔لیکن ! پرندے جتنا جلد گھر لوٹ آئیں اچھا ہے ورنہ ڈار سے بچھڑ کر کہیں کے نہیں رہتے۔
۔۔۔۔۔۔
٭ بے وزنی کی کیفیت تو چاند پر پہنچ کر بھی اپنے اوپر اعتماد سے محروم رکھتی ہے۔
۔۔۔
٭عقل کا صدقہ یہ ہے کہ "کسی کو جاہل سمجھا ہی نہ جائے"۔ اپنی زندگی میں آنے والے ہر کردار اور ہر ایک کی بات میں ہمارے لیے کوئی نہ کوئی سبق پوشیدہ ہے۔
۔۔۔۔۔
٭جو دھیمی رفتار سے چلتے ہیں اُن کو ٹھوکر لگنے کی تکلیف بھی کم کم محسوس ہوتی ہے۔
۔۔۔۔
٭سفر چاہے زندگی کا ہو یا دنیا ،فرق صرف اور صرف جانے والے کو پڑتا ہے۔
۔۔۔
٭سفر پر جانے والا اپنی تھکان بتانے کے قابل رہتا ہے اور نہ ہی دکھانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ پیچھے رہنے والے صرف شور ہی مچاتے ہیں لاحاصل اور لایعنی۔
۔۔۔۔
٭لاحاصل آسمانوں کے خواب دیکھنے والے زمینی حقائق کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
٭ دل سے نکلی بات روح پر دستک دیتی ہے۔
۔۔۔۔
٭ بڑی نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی باتیں بہت بڑے بڑے راز افشا کرتی ہیں۔
۔۔۔۔۔
٭ اپنی جہالت کا اعتراف علم کی راہ کی پہلی سیڑھی ہے۔
۔۔۔
٭ جتنی جستجو کسی شے کی کی جائے اتنی ہی ناکامی اس کےحصول اوراتنی ہی نا مکمل تسکین اس کے قرب سے ملتی ہے۔ زندگی میں بس جو ملتا ہے چپ چاپ لے لینا چاہیے۔
۔۔۔۔
٭ یہ حُسنِ نظر ہی  توہے جو اپنی نگاہ ِآئینہ ساز سے معمولی سے آئینوں کو جگمگا دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔
انسان جتنا متاثر ہوتا ہے اتنا ہی ناکام رہتا ہے۔اس لیے کسی کے پاس جاؤ تو بِناکسی احساس کے جاؤ۔ قدم خود ہی رک جاتے ہیں۔
۔۔۔۔
٭سچے رشتے،لازوال تعلق
مکمل تنہائی،لامحدود وقت اور بھرپور توجہ چاہتے ہیں
یہ رشتے چا ہے انسانوں سے ہوں یا
۔"اللہ" سے۔
۔۔۔۔
٭مٹی کا بنا فانی انسان جب تک مٹی کی بےجان چیزوں سےقربت محسوس نہیں کرے گاوہ کیونکر اپنی گہرائی محسوس کر سکے گا۔
۔۔۔۔۔
٭ انسان تو ہے ہی خسارے کا سوداگر اس کی تصدیق کلامِ پاک میں مل چکی بس اسے سمجھتے ہوئے اس پر غور کرتے ہوئےآگے بڑھنا زندگی برتنے کا اصل قرینہ ہے بجائےاس کےاپنی کم علمی یا نااہلی پر افسوس کرتے اپنے احساس کی بزدلی میں منجمد رہتے زندگی گزار دی جائے۔
۔۔۔۔
٭ان خودساختہ عقل مندوں اور ہوس پرستوں سے ہم بےوقوف ہی بھلے جو محبت کرتے ہیں تو اسے چھوڑنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔
٭سنی سنائی پر یقین کرنے والوں کو بدگمان کہتے ہیں۔
۔۔۔۔
کسی  کو دی گئی دعا ہو یا بددعا ایسی سرگوشی ہے جو دل  کی اتھاہ گہرائیوں سے نکلتی  ہے تو بازگشت بن کر اپنی ہی روح کو اجالتی ہے اور یا پھر ہمیشہ کے
 لیے مایوسی کے پاتال میں دھکیل دیتی ہے۔
 دعااور بددعا وہ آخری ہتھیار  ہیں  میدانِ دُنیا میں جیتنے کے سارے حربے ناکام ہونے کے بعد ہمارے احساس کی مُٹھی میں اُترتے ہیں۔یہ تاش کے وہ پتے ہیں جو ساری چالیں چلنے کے بعد ہمارے ہاتھ میں بچتے ہیں۔کہا جاتا ہےکہ دعا یقین کے ساتھ مانگی جائے تو معجزے رونما ہوتے ہیں ۔دراصل معجزے تو تقدیرِالٰہی میں لکھے جا چکے ہوتے ہیں بس دعا کا وسیلہ درکار ہوتا ہے۔
 بددعائیں لگتی نہیں ہیں بس پیچھا کرتی ہیں۔۔۔دینے والے کا اور سُننے والے کا۔
بددعائیں  وقت کی کمان سے نکلا وہ تیر ہیں  جو پلٹ  جائیں تو دینے والے کی روح وجسم چھید ڈالتی ہیں
۔۔۔۔
٭جس کی جتنی بڑی کمزوری ہے وہ اُس کی اتنی ہی بڑی طاقت بھی ہے۔اور اسی طرح جس کی جو طاقت ہے وہ کسی بھی وقت اتنی ہی بڑی کمزوری میں بدل سکتی ہے۔ طاقت اورکمزوری کا فیصلہ صرف وقت کرتا ہے۔ نامور وہی ہوتے ہیں جو اپنی کمزوری کو طاقت بنا لیتے ہیں۔اور فرعون صفت اپنی ہی طاقت کے بدمست ہاتھی کے پاؤں تلے چیونٹی کی طرح کچلے جاتے ہیں۔
۔۔۔دراصل ہماری کمزوری اور ہماری طاقت دونوں کچھ اس طرح باہم ملی جلی ہوتی ہیں کہ جو ہماری طاقت دکھتی ہے وہ ہماری کسی کمزوری کا عکس ہوتی ہے اور جو ہماری کمزوری ہوتی ہے وہ کسی بھی لمحے ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔اہم بات اور اصل دانائی نہ صرف اپنی طاقت اور کمزوری کا ادراک ہے بلکہ دوسروں کو بھی اس خاص نظر سے دیکھنے کی اہلیت کا نام ہے۔یہی وہ معمولی سا فرق ہے جو ظاہر اور باطن کی آنکھ کا فرق نمایاں کرتا ہے۔ جیسے کہ ہماری پاک کتاب میں کئی جگہ کہا گیا " تم دیکھتے کیوں نہیں"۔
۔۔۔۔۔۔

٭"مٹی ،رزق اور سفر"۔۔۔ سفر انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔   انسان سمجھتا ہے کہ   یا تو  حالات اُسے ہجرت پر مجبور کر دیتے ہیں     یا   وہ اپنی مرضی سے، باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے  سفر  پر روانہ ہوتا ہے۔کبھی  وہ  زندگی کی لگی بندھی  رفتار سے  اُکتا کر بس     ہوا کے بےپروا جھونکوں کی مانند  اُڑنا چاہتا ہے۔  ایسا ہرگز نہیں۔   سفر صرف "بلاوا " ہے،  جسم کا بلاوا۔۔۔ اُس  مقام کی "مِٹی" اور اُس جگہ کے "رزق"  کا۔ جو اُسے  اپنی  جانب  بلاتا ہے تو  اپنے پاس روک بھی لیتا ہے۔ رزق   وقت کے دائرے میں شانت کر کے واپسی کی راہ  دِکھاتا ہے تو مٹی اپنی آغوش میں چھپا کر ہر نقش مٹا دیتی ہے ۔ رزق  صرف روزی ، روزگار،کھانے پینے کاہی نام نہیں۔ رزق  علم ہے تو تجربہ بھی۔رزق خوشی ہے تو سکون کا احساس بھی  ہے۔ رزق پانے کا نام ہے۔رزق سیرابی کی کیفیت ہے۔ 

۔۔۔۔

٭"ہجرت”محض ایک عمل ہی نہیں،ایک بہت بڑا انسانی رویہ ہےچاہے اپنی رضا سے ہی کیوں نہ اختیار کیا جائے۔ہجرت ابتدائی طور پر انسان  کا اعتماد صفرکر دیتی ہےجب اسے نئی جگہ نئے ماحول میں قدم قدم پر سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں۔

۔۔۔۔۔

٭دیکھنے والی آنکھ وہی منظر دیکھتی ہے جو اس کی آنکھ کے دائرے میں گردش کرتا ہے۔
۔۔۔
٭ ہم وہی دیکھتے ہیں جو نظر آتا ہےاور پھر وہی کہتے ہیں جو نوشتۂ دیوار دکھتا ہے۔
۔۔۔۔۔ 
٭انسان ہمیں کچھ بھی نہیں دے سکتے لیکن جو بھی ملتا ہے انسان کے وسیلے سے ملتا ہے۔اکثر دینے والا خود بھی نہیں جانتا کہ کیا دے رہا ہے اور کیوں دے رہا ہے۔
۔۔۔
٭اپنی مایوسی اور کمزوری کوصبر کا نام دے کر محض وقتی تسلی مل سکتی ہے لیکن صبر کے اصل مفہوم کو جان کر ہی شکر کے سکون کی لذت حاصل ہوتی ہے
۔۔۔۔۔۔
٭محبوب کے ساتھ کا ایک پل ہی کافی ہے چہ جائیکہ ہم اپنی نہ ختم ہونے والی خواہشوں کا کاسہ دراز کرتے چلے جائیں۔
۔۔۔
٭علم ڈگری میں نہیں اور نا ہی ڈگری سے علم ملتا ہے۔
۔۔۔۔۔
٭اپنی نظر میں اپنی پہچان اہم ہے دوسرے کبھی بھی ہمیں مکمل طور پر جان نہیں سکتے۔
۔۔۔۔۔۔ 
٭اندر کا موسم اچھا ہو تو باہر کے موسم بھی اچھے لگتے ہیں۔
۔۔۔۔۔

٭خوبصورتی اس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک بامعنی نہ ہو۔اور معنی ہر ایک پر اس کے ظرف کے مطابق اترتے ہیں۔
۔۔۔۔
٭اصل خوبصورتی دیکھنے والی آنکھ میں ہے منظر میں نہیں۔
۔۔۔۔۔۔ 
٭ محبت پر بات وہی کر سکتا ہے جو محبت کرنے والا ہو چاہے وہ اپنے آپ سے ہی محبت کیوں نہ کرتا ہو۔
۔۔۔۔
٭محبت انسان کے لیے دنیا کی سب سے بڑی ضرورت ہرگز نہیں بلکہ روٹی روزی کی فکر میں صبح وشام کرتے انسان کے لیے یہ ذہنی عیاشی یا مسائل سے فرار کے سوا کچھ بھی نہیں۔
۔۔۔۔
٭ ہم انسانوں کی بےاعتباری کی سب سے بڑی وجہ "غلط فہمی"کے تیزی سے بڑھتے جالوں سے جنم لیتی ہے اور رفتہ رفتہ اپنے حصار میں بری طرح جکڑ کر ہمیں اپنی ذات کے اندر قید کر دیتی ہے۔
۔۔۔۔
٭ انسانی سوچ دل اور دماغ کے باہم ربط سے تشکیل پاتی ہے۔ دل کی اوّلیت سے انکار نہیں کہ یہ انسان کی جبلتوں،جذبات اور فطرت کی نمائندگی کرتا ہے۔لیکن اہم کام دماغ کا ہے جو اس پر مہرِِتصدیق ثبت کرتا ہے۔اور کسی بھی مہر کے بغیر کوئی وزنی سے وزنی دلیل یا قیمتی سے قیمتی احساس بےمعنی ہے۔
۔۔۔۔
٭جب انسان کو کوئی قطب نما دکھائی نہ دے تو آپ اپنا رہبر بننا پڑتا ہے بجائے اس کے بےسمتی کے کمزورجواز سے اپنے آپ کو بری الذمہ کر کے راہ فرار اختیار کی جائے ۔
۔۔۔۔۔
٭پزل چاہے کھیل کی ہو یا زندگی کی ایک خاص ٹکڑا ہی خالی جگہ بھرتا ہے۔ ذرا سا بھی بڑا یا چھوٹا ہو خواہ کتنا ہی دلکش ہو ہمیشہ مس فٹ ہی رہتا ہے۔ ہر تعلق کی اپنی جگہ ہے، زندگی کی پزل گیم میں ہم ایک ٹکڑا بھی اِدھر سے اُدھر کرنے کے مجاز نہیں۔
۔۔۔۔ 
٭عورت صرف خیال کی اڑان میں ہی تنہا پرواز کر سکتی ہے۔ زمینی حقائق میں وہ اپنے رشتوں کے حصار سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکال سکتی ۔
۔۔۔۔
٭یہ وقت کی طاقت ہے جو ہماے اثاثوں کو دوسروں پر آشکار کرتی ہے ورنہ ہم تو خود بھی نہیں جانتے کہ"ہماری اوقات کیا ہے"۔
۔۔۔۔
٭دُنیا میں کچھ بھی غیر متوقع نہیں ہے۔ ہر چیز جب لکھ دی گئی ہے تو پھر ہم نے صرف اُس کو اپنی زندگی کی سلیٹ پر نقل کرتے جانا ہے۔ خود سے ردوبدل کر کے تحریر بہتر کرنے یا بدلنے کی خواہش پالنا وقت کا ضیاع ہے۔

پیر, مارچ 07, 2016

"آبرو"


 
سمندر نہیں جانتا
پانی کے قطرے کی قدر
ایک سیپ کب تک
!!!گُہر کی آبرو چاہے

منگل, فروری 23, 2016

" زندگی اور ٹرک آرٹ"


یقین اور بےیقینی کی ناہموار ڈھلانوں پر بےسمت سفر کرتے ہوئے زندگی کا طویل رستہ کبھی کبھی جی ٹی روڈ پر رات کے اندھیرے میں ٹرک کے پیچھے جگمگاتی روشنیوں کی رہنمائی میں نامعلوم منزل کی اؐمید میں دھیرے دھیرے آگے بڑھنے کا ہےاور پھر دن کے اجالے میں اپنی نادانی اور حماقت پر مسکرانے اور جھنجھلانے کا ہے جب پتہ چلتا ہے کہ وہ روشن چمکتی بتیاں تو محض خاص قسم کے رنگ برنگے کاغذی اسٹیکر تھے جو رات کی تاریکی میں درمیانی فاصلہ خطرناک حد تک کم ہونے کے کسی ممکنہ حادثے سے بچنے کی خاطر چسپاں کیے جاتے ہیں۔ 
آج کے ترقی یافتہ دور کو گلوبل ولیج کہا جاتا ہےجب انسان اپنے گھر کے ایک گوشے میں بیٹھ کر ساری دُنیا گھوم لیتا ہے۔ وقت کے ایک ہی لمحے میں ہزاروں میل بسنے والے چہروں کو نگاہوں سے چھو لیتا ہے۔ آواز سے محسوس کرسکتا ہے اور اپنے دل کی آواز کسی کے دل تک بخوبی پہنچا دیتا ہے۔دورِجدید کی تیزرفتار ٹیکنالوجی کی بدولت زمینی فاصلے صرف خواہش اور وسائل کے محتاج ہیں۔ انسان خواہ ذہنی طور پر کتنا ہی آگے کیوں نہ نکل جائے اسے اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔
شیرشاہ سوری کی بنائی گئی جرنیلی سڑک جسے انگریزی میں گرینڈ ٹرنک روڈ یا مختصراً "جی ٹی روڈ" کہا جاتا ہے۔اس کی مخصوص پہچان وہ بھاری بھرکم ٹرک ہیں جو اگر ٹریفک کے بہاؤ میں خلل ڈالتے ہیں تو اپنے رنگوں سے نظروں کو اپنی طرف مائل بھی کرتے ہیں۔چمکتے دمکتے شوخ رنگوں سے سجے ٹرک اگر نئی نویلی دُلہن کی طرح مہکتے ہیں تو وقت کی گرد میں اٹے اُجڑے ٹرک سفرِمسلسل کی کہانی کہتے ملتے ہیں۔گردشِ دوراں اُن کی خوبصورتی نچوڑکرظاہری طور پر بےحیثیت بنا بھی دے لیکن اُن کی قدروقیمت اُن کے چلتے رہنے کی وجہ سے کم نہیں ہوتی۔ایسے بوسیدہ تھکے ہوئے ٹرکوں کی اصل کشش اُن کے عارضی رنگ کی زندگی میں نہیں بلکہ اُن پر موتی کی صورت لکھے لفظ میں ملتی ہے۔ وہ لفظ جو لکھنے والے یا تو اپنی ذہنی استعداد کے مطابق لکھتے ہیں یا پھر اُن سے لکھوائے جاتے ہیں۔
تعلیم وادب کا معیار کسی معاشرے کے مہذب ہونے کی پہلی سیڑھی ہے یہ ٹوٹے پھوٹے بےربط جملے یا بےوزن اور بظاہر عامیانہ اشعار کےلکھنے والے اگرچہ ادب یا اعلیٰ تعلیم سے بےبہرہ ہوتے ہیں لیکن معاشرے میں عام فرد کی ذہنی سطح کی بخوبی ترجمانی کرتے ہیں اور اکثر ان لفظوں اور جملوں کی گہرائی کسی ادب کی کتاب سے بڑھ کر محسوس ہوتی ہے۔ کتاب کسی بھی لکھنے والے کی خاص ذہنی صلاحیت کو سامنے لاتی ہے تو نامعلوم افراد کی طرف سے لکھے گئے یہ مختصرجملے جو سفر کرتے ہوئے بس کچھ ہی لمحوں کواچانک نظروں کے سامنے آتے ہیں اکثر بہت خاص سبق دے جاتے ہیں۔
" وقت سے پہلے نہیں نصیب سے زیادہ نہیں "
"دیکھ پیارے زندگی ہماری"
"موت سے دوستی سڑک سے یاری"
"ہم تیرے بن جی نہ سکے"
......
٭ٹرک آرٹ (سلائیڈ شو۔۔ایکسپریس نیوز)۔۔۔
۔۔۔
      

ہفتہ, فروری 20, 2016

"جنازہ"

ظہر کے وقت ایک جنازہ اپنے آخری مقام پر روانگی کے لیے تیار تھا۔عجیب اتفاق ہے کہ آج سے تین برس پہلے اسی تاریخ اور اسی وقت گھر کی بنیاد رکھنے والے شراکت دار نے جانے میں پہل کی تھی۔آج سب چھوڑ جانا تھا۔
زندگی کی شام کا سورج ہمیشہ کے لیے ڈوبنے کو تھا۔ دیہاڑی دار مزدور نے اپنے حصے کا کام کر کے خاموشی سے چلے جانا تھا۔وہ مکان جس کے ایک ایک راز سے وہ باخبر رہا خواہ وہ برسوں پہلے بچھائے گئے زمین دوز پائپ ہوں یا برقی قمقموں کی روشنیاں۔ وہ سب کا نگران اور محافظ تھا اور چٹکیوں میں ہر مسئلے کو جان جاتا۔آج اس لمحے اس نے ہر شے سے اجنبی ہو جانا تھا۔یہ محض ایک انسان کی کہانی نہیں،ایک خاندان کی بنیاد رکھنے والے مرد وعورت کی کتھا نہیں بلکہ ہر مشقتی کی داستان بھی ہے۔سڑک بنانے والے محنت کش کی بےبسی ہے تو ہم سب کا فسانۂ زندگی بھی۔
یہ تاریخ تو ہر ماہ آ جاتی ہے اور ظہر سے پہلے کا وقت بھی دن کے چوبیس گھنٹوں میں روز آتا ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی تاریخ،وقت اور مقام پر کوئی ایک خاص لمحہ ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتا ہے۔غور کرنے والے ذہن اور چاہنے والی آنکھ میں وہ منظر یاد کی ایک چھوٹی سے نظر نہ آنے والی قبر بن کر کچی مٹی کی مہک دیتا ہے اور اس لمحے آنکھ کا آنسو اس مٹی کو خشک نہیں ہونے دیتا۔
سنو!!! اگر تم چاہتے ہو کہ اتنے مضبوط ہو جاؤ ۔۔۔اتنےعقل مند ہو جاؤ کہ جانے والوں کی یاد میں کبھی آنکھ نم نہ ہو اورایسی محبتیں جن کے نشان تمہارے جسم وروح پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئے کبھی یاد نہ آئیں۔تو کبھی اس لمحے اس جگہ نہ جانا جہاں تم آخری بار ملے تھے۔آخری بار تھاما ہاتھ چھوڑا تھا۔۔۔آخری بار الوداع کہا تھا۔۔۔آخری بار نظر نے نظر کو چھوا تھا اور آخری بار یہ وعدہ کیا تھا کہ اب ہم نے زندہ تو رہنا ہے لیکن اپنے اپنے جسم میں اپنی ادھوری روح کے ساتھ۔۔
تم تو چلے گئے لیکن وہ جگہ اس موسم اور اس لمحے نے تمہاری محبت کی ساری تشنگی اپنے اندر اُتارلی۔جان لو!اگر کبھی پلٹنا پڑ گیا تو اپنی بےحسی،بڑے پن یا فہم وفراست سے کچھ نہ کچھ دان کرنا پڑے گا۔اس سمے سمجھداری کا جیسا بھی رین کوٹ پہن لو۔۔۔بن بادل برسات تمہیں اندر باہر سے شرابور کر دے گی۔

پیر, فروری 15, 2016

"ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم "


۔
۔"شکاری" کے خالق معروف لکھاری جناب احمد اقبال کی ایک پراثر تحریر۔۔۔۔
ڈھونڈو گے گر ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1987 ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺑﺪﺣﻮﺍﺱ ﺗﮭﺎ ﺟﺘﻨﺎﮨﺮﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ کا انتظام کرنا تھا۔جون ایلیا ﻧﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ "ﺟﺎﻧﯽ ﺭئیس ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯﭘﻮچھ ،ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺎﺕ ﮨﯿﮟ" رئیسﺍﻣﺮﻭﮨﻮﯼ ﻓﮑﺮِﺳﺨﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ۔ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﮯ"ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺳﺐ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﺎ۔۔ﻻﻟﻮ ﮐﮭﯿﺖ ﺳﭙﺮﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ "ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺤرِﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻏﻮﻃﮧ ﺯﻥ۔۔۔۔ﺑﮍﯼ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺐ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﮯﭘﮩﻠﮯﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ۔ﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﮯ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻧﺌﮯ ﺑﺎﻭﺭﭼﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍﻭﭘﺮ ﻟﭩﮭﮯ ﮐﯽ ﻭﺍﺳﮑﭧ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﺎﺭﺧﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻟﻨﮕﯽ۔ﺳﺘﺮ ﮐﮯ ﭘﯿﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺑﺪﻥ ﺳﺮﺳﯿﺪ ﺧﺎﻥ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺁﻭﺍﺯ۔ﻭﮨﯿﮟ ﭘﭩﯽ ﭘﺮ ﭨﮏ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﻣﺪﻋﺎ ﮐﯽ۔ﺭئیس ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍئے ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﻗﻄﻌﮧ دیکھ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﮯ " ﮔﺮﻡ ﻣﺴﺎﻟﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﺁﺝ۔۔ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﺎ ۔۔ﺧﯿﺮﻣﯿﺎﮞ۔۔۔ﮐﯿﺎ ﮐﮭﻼؤﮔﮯ ﺑﺎﺭﺍﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮ۔ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﮐﺎ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻧﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﻧﮯ ﻟﮕﮯ"ﮔﺎﺟﺮ ﮐﺎ ﺣﻠﻮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ "۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺧﻔﮕﯽ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﮯ" ﻣﯿﺎﮞ ﺳﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔۔۔ﻧﺌﯽ ﮔﺎﺟﺮ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻭﺍﻟﯽ۔۔ﮐﮭﻮئے ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ ﺭﮐﮭﻮﮔﮯ ﮐﮭﺎﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎئے یہ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ"ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ۔ﺩﯾﮕﺮ ﺍﻣﻮﺭ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺑﯿﭩﮭﺎ " ﻣﯿﮟ ﺭئیس ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﺁ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﮑﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ"۔ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺮﯼ ﻟﮕﯽ۔۔۔ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻟﮕﺘﯽ۔۔ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮩﺪﯼ ﺣﺴﻦ ﺧﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟائے ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮔﺎﺗﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﯿﮟ۔۔ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ۔ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﻧﮯ ﺭئیس ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﻟﺤﺎﻅ ﮐﯿﺎ۔ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﺭﺍﺕ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﮐﺎﻝ ﺑﯿﻞ ﭘﺮﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﻮﺵ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﺎ ﺗﮭﺎﻝ لیے ﻣﻮﺟﻮد۔۔۔ﮐﺴﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ سے ﻟﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ۔۔ﺑﻮﻟﮯ"ﻟﻮ ﻣﯿﺎﮞ۔ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮨﻢ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﮑﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ"ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺯﻭﮐﯽ ﻣﯿﮟ بیٹھ ﯾﮧ ﺟﺎ ﻭﮦ ﺟﺎ۔۔ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﻋﺒﺚ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻓﻨﮑﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﺗﮭﺎ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ"ﻣﯿﺎﮞ ﺑﻨﮍﮮ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ "۔ﻣﯿﮟ ﺳﭩﭙﭩﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ "ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ"۔ ﻭﮦ ﮨﻨﺴﮯ ﺍﻭﺭﺑﻮﻟﮯ"ﻣﯿﺎﮞ ﺩﻟﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎئے ﮔﺎ۔۔ﺧﯿﺮﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﮔﮯﮨﻢ"ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎتھ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮔﻮﭨﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﻮﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﯽ ﺩﻭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺩﯾﮕﯿﮟ ﺍﻟﮓ ﻻئے۔۔ﺧﻮﺩ ﺳﻨﮩﺮﮮ ﻃﺮﮮ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﮕﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺮﻭﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﺼﺎ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮﮈﺍﻧﭧ ﮈﭘﭧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺨﺸﺎ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻓﺎﺭﻍ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮈﺍﻧﭧ ﻟﮕﺎﺗﮯ "ﻣﯿﺎﮞ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﻮ؟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮨﻮ ﺗﻢ۔۔ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ۔ﮐﺴﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﮐچھ ﮐﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ "ﺭﺧﺼﺘﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮﻭﮦ ﻏﺎﺋﺐ۔۔ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔۔ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻠﮯﮔﺌﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ؟ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺳﻤﯿﺖ ﺟﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻭﻟیمہ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﺭﺳﻢ۔۔ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﻓﺮﺻﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ۔ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮈﺍﻟﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻣﻠﮯ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯﮔﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ۔خرابی ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮐﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﻟیے ﺑﻐﯿﺮﭼﻠﮯ ﺁئے"۔ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍئے ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ ﻟﮍﮐﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﮯﮨﻢ ﻧﮯ۔ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ، ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ﻧﺼﯿﺐ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺁﺗﺎ "ﻣﯿﮟ ﺩﻡ ﺑﺨﻮﺩ ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﮐﻮ،ﺍﺱ ﺑﺎﻭﺭﭼﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻃﺮﮦ ﺩﺳﺘﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﯾﻘﯿﻦ ﻭﺿﻌﺪﺍﺭﯼ ﻓﺮﺍﺧﺪﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮐﻞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮﻣﯿﮟ ﻣﺎؤﻧﭧ ﺍﯾﻮﺭﺳﭧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ ﯾﮧ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺗﮭﯽ۔ ﺁﺝ ﺳﮯ ﺳﺘﺎﺋﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺁﺝ ﮐﮯ ﮐﻢ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﻭ ﻻکھ ﺗﻮ ﺗﮭﮯ ﺷﺎﯾﺪ۔ ﺟﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﺼﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻮں گے ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﺗﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻓﻮﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺏ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍئے ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ۔ﻟﮍﮐﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﮯﮨﻢ ﻧﮯ۔ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ، ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ﻧﺼﯿﺐ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩﮨﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺁﺗﺎ "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮈﮬﻮﻧﮉﻭ ﮔﮯ ﮔﺮ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﻣﻠﮑﻮﮞ ، ﻣﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻧﺎﯾﺎﺏ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ
ماخوذ
احمد اقبال




پیر, جنوری 25, 2016

" ایک دن ایک داستان "


پچیس جنوری ۔۔۔1967۔۔۔۔پچیس جنوری۔۔۔2016
دنیاوی بلندیوں کے دھوکوں اور فانی پستیوں کی ذلتوں میں دھنستے،گرتے اور سنبھلتے ہوئےعمر فانی کے اُنچاس برس مکمل ہوئے اور پچاسواں جنم دن آن پہنچا۔جسے ایک ایسی مسافرت کا سنگِ میل بھی کہا جا سکتا ہےجس کی منزل کی خبر ہے اور نہ ہی راستوں کی سمجھ۔
دنیا کی محدود زندگی میں ہندسوں کا ماؤنٹ ایورسٹ  بھی تو یہی ہے کہ جسے سر کرتے ہوئے ناسمجھی کی اندھی دراڑیں ملیں تو کبھی برداشت کی حد پار کرتی گہری کھائیاں دکھائی دیں۔جذبات کی منہ زور آندھیوں نے قدم لڑکھڑائے توکبھی پل میں سب کچھ تہس نہس کر دینےوالے طوفانوں نے سانسیں زنجیر کر لیں۔بےزمینی کے روح منجمد کر دینے والے خوف نے پتھر بنا دیا تو کبھی خواب سمجھوتوں کی حدت سے موم کی مانند پگھل کر اپنی شناخت کھو بیٹھے۔
 ہم انسان زندگی کہانی میں حقوق وفرائض کے تانوں بانوں میں الجھتے،فکروں اور پریشانیوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے، خواہشوں کی سرکتی چادر میں بمشکل اپنا تن 'من' ڈھانپتے لمحہ لمحہ جوڑ کر دن اور پھر سال بِتاتے ہیں۔ کیا مرد کیا عورت سب کی زندگی تقدیر کے لکھے پر ایک جیسی گزرتی چلی جاتی ہے۔
 اپنے فطری کردار اور جسمانی بناوٹ کے تضاد کے باعث عمر کے اس سنگِ میل پر پہنچتے ہوئےمرد اورعورت کے احساسات بھی مختلف ہوتے ہیں۔دونوں کے حیاتیاتی تضاد کا اصل فرق عمر کے اس مرحلے پر واضح ہوتا ہے۔ زندگی کی مشقتوں سے نبردآزما ہوتے ہوئےمرد کے لیے اگر یہ محض تازہ دم ہونے اور نئے جوش و ولولے کے ساتھ زندگی سے پنجہ آزمائی کرنے کی علامت ہے تو عورت کے لیے جسم و روح پرہمیشہ کے لیے ثبت ہوجانے والی ایک مہر۔۔۔ایسی مہر جس کے بعد ساری زندگی کا نصاب یکسر تبدیل ہو کر رہ جاتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں قدم رکھتے ہوئے مرد عمومی طور پر زندگی کمائی میں سے اپنی محنت ومشقت کے مطابق فیض اٹھانے کے بعد کسی مقام پر پہنچ کر نئے سفر کی جستجو کرتا ہےتو عورت ساری متاع بانٹ کر منزلِ مقصود پر خالی ہاتھ پہنچنے والے مسافر کی طرح ہوتی ہےجس کے سامنے صرف دھندلا راستہ،ناکافی زادِ سفر اور بےاعتبار ساتھ کی بےیقینی ساتھ رہتی ہے۔
عمر کے اس دور تک مقدور بھر جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ  پہنچناعورت کے لیےایسی بارش کی طرح ہےجس کی پھوار سکون بخش تو دکھتی ہے لیکن اس کی چمک میں محبت، نفرت،رشتوں،تعلقات اور اپنے پرایوں کے اصل رنگ سامنے آ جاتے ہیں۔ زندگی کی سب خوش فہمیوں یا غلط فہمیوں کی گرہیں کھل جاتی ہیں۔ہم سے محبت کرنے والے اور اپنی جان پر ہماری جان مقدم رکھنے والے درحقیقت ہمارے وجود میں پیوست ہونے والی معمولی سی پھانس بھی نکالنے پر قادر نہیں ہوتےاسی طرح ہم سے نفرت کرنے والے،ٹھوکروں پر رکھنے والے،ٹشو پیپر سے بھی کمتر حیثیت میں استعمال کرنے والے اس وقت تک ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتےجب تک ہمارے ذہن کو مایوسی اپنی گرفت میں لے کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ سلب کر ڈالے۔
 دنیا کی زندگی میں عمر کے ساتھ جڑنے والا پچاس برس کا ہندسہ اگر کسی بلند چوٹی کی مانند ٹھہراجس کی بلندی تک پہنچتے راستہ بھٹکنے کےخدشات ساتھ چلتے ہیں تو دوسری سمت اترائی کی مرگ ڈھلانوں میں قدم لڑکھڑانے اور پھسلنے کے خطرات حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔
"ہم وہ ہرگز نہیں جو نظر آتے ہیں "
 عمر کی بچاسویں دہائی کے آخری پائیدان پر قدم رکھتے ہوئے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو زندگی کہانی میں چہروں اور کرداروں کی ایک دنیا آباد ہے۔۔۔۔ایسے مہربان چہرے جو زندگی کا زندگی پر یقین قائم رکھتے ہیں تو ایسے مکروہ کردار بھی جو انسان کا رشتوں اور انسانیت پر سے اعتماد زائل کر دیتےہیں۔ یہ نقش اگرچہ گزرچکے ماضی کا حصہ بن چکے لیکن ان کا خوشبو عکس احساس کو تازگی دیتا ہے تو کبھی کھردرے لمس کی خراشیں ٹیس دیتی ہیں۔ان چہروں کے بیچ میں دور کسی کونے میں چھپا خفا خفا سا اور کچھ کچھ مانوس چہرہ قدم روک لیتا ہے۔ہاں !!! یہی وہ چہرہ تھا جس نے دنیا کے ہر احساس سے آگاہ کیا اسی کی بدولت محبتوں کی گہرائی اور اُن کے رمز سے آشنائی نصیب ہوئی تو زندگی میں ملنے والی نفرتوں اور ذلتوں کا سبب بھی یہی ٹھہرا۔ اس کی فکر اور خیال نےاگر سب سے بڑی طاقت بن کر رہنمائی کی تو اس کی کشش کی اثرپزیری زندگی کی سب سے بڑی کمزوری اور دھوکےکی صورت سامنے آئی۔اسی چہرے نے دنیاوی محبتوں کے عرش پر پہنچایا تو اسی چہرے کے سبب زمانے کے شکنجے نے بےبس اور بےوقعت کر ڈالا۔ کیا تھا یہ چہرہ کہ اس نے بڑے رسان سے دنیا کی ہر کتاب سے بڑھ کر علم عطا کیا تو پل میں نہایت بےرحمی سے جہالت اورلاعلمی کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی۔ایسا چہرہ جو ہم میں سے ہر ایک کا رہنما ہے۔۔۔ ہمارا آئینۂ ذات جوہماری نگاہ کے لمس کو ترستا ہے لیکن ہم اس سے انجان دوردراز آئینوں میں اپنا عکس کھوجتے رہ جاتے ہیں۔ظاہر کی آنکھ سے کبھی یہ چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن جیسے ہی ہم اپنے اندر کی آنکھ کھول کراپنے آپ سے سوال جواب شروع کریں۔یہ جھلک دکھلا دیتا ہے۔ اسی چہرے نے بتایا کہ انسان کہانی صرف اُس کے آنکھ کھلنے اور آنکھ بند ہونے کی کہانی ہےاور درمیانی عرصے میں صرف صرف دھوکے ہیں محبتوں کے اور نفرتوں کے۔۔علم کے اور لاعلمی کے۔۔ عزتوں کے اور ہوس کے۔۔۔اندھی عقیدتوں کے سلسلے ہیں تو کہیں وقتی احترام کی ردا میں لپٹی نارسائی کی کسک سرابھارتی ہے۔ 
آخری بات
"ترجیحات"
زندگی کہانی میں پچاس کے ہندسے کوچھوتی عمرِفانی نے  سب سے بڑا سبق یہی دیا کہ ہمیں اپنے آپ کی پہچان ہوجائے تو پھر ہر پہچان سے آشنائی کی منزل آسان ہوجاتی ہے۔یہ پہچان جتنا جلد مجازی سے حقیقی کی طرف رُخ کرلے اتنی جلدی سکون کی نعمت بھی مل جاتی ہے اور یہی پہچان زندگی کی ترجیحات کے تعین میں رہنمائی کرتی ہے۔اللہ ہم سب کو پہچان کا علم عطا فرمائے۔ آمین۔ 
زندگی کی خواہش ہے 
زندگی کو جانا ہے
زندگی تو ڈستی ہے
موت اِک بہانہ ہے
فنا کے سمندر میں
یوں ڈوب جانا ہے
زندگی تو رہتی ہے
زندگی کو پانا ہے 
جنوری25۔۔۔2016


منگل, جنوری 19, 2016

"دُھند اور زندگی"

اسلام آباد کی صبح ۔جنوری۔2016۔
 
زندگی کی حقیقت "دُھند"  میں  ہے۔"دُھند" میں سفر کرو تو حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔
دُھند کتنی ہی ظالم ہو جائے اتنی جگہ تو دے دیتی ہے کہ انسان اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے اورجب چل پڑو تو رستہ خودبخود ہی ملتا چلا جاتا ہے بس فرق یہ رہتا ہے کہ پیچھے والے گزر جانے والوں کا نام ونشان ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں اور جانے والا یوں غائب ہو جاتا ہے کہ جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔آگے کون ہمسفر ہو گا اورکتنا سفر باقی ہے؟ یہ ہمیشہ نامعلوم ہی رہتا ہے۔
دُھند میں سفر کرنے پر ہماری مرضی ہمارا اختیارہرگزنہیں۔انسان ہمیشہ سے ایک روشن چمکدار دن میں سفر کرنے کی خواہش میں جیتا ہے یہ جانے بنا کہ اُس کی پیدائش ہی دُھند سے ہے اوراس نے ہمیشہ دُھند میں ہی زندہ رہنا ہے۔دُھند ہی اُس کی روشنی ہے،اُس کی آبرو ہے اوراُس کی اوقات بھی ہے۔ لیکن دُھند موت بھی ہے ایسی سفاک تیز رفتارموت جو سوچنے سنبھلنے کا ایک پل بھی نہیں دیتی ۔ سفرِزیست طےکرتے ہوئے دُھند کا سامنا خواہ موسم کے زیرِاثرکسی سفرکے دوران ہویا اپنی زندگی کی گاڑی دھکیلتے ہوئے کوئی فیصلہ کرتے وقت ہرجگہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔یہ احتیاط یہ خوف ہی ہمیں اپنی رفتار دھیمی رکھنے پراُکساتا ہےلیکن جب وقت کا فیصلہ سامنے آ جائے تو سب احتیاط دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ اللہ کسی بھی آزمائش میں ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
اگر ہم اپنے آپ کو پرکھ لیں ،جانچ لیں تو کیا دُھند کیا اجالا ہرمنزل اورنشان ِمنزل آسان اورواضح ہوتا چلا جاتا ہے۔
زندگی کی حقیقت دُھند میں پوشیدہ ہے تو دُھند زندگی کے بہت سے حقائق کوآشکاربھی کرتی ہے۔ دٗھند سے زیادہ پُرفریب محبوب اور کوئی نہیں کہ یہ اپنے خوبصورت چہرے پر نقاب درنقاب اوڑھے زندگی کی دلہن کا شکار کرتی ہے۔اگر آگہی کے سورج کی کرنیں نہ پھوٹیں تو یہی حسن ایک ایسی سفاک موت کی آغوش بن جاتا ہے جہاں پل میں سب تہس نہس ہو کر رہ جاتا ہے۔
بچے اس دُھند میں روشنی کی ایسی کرن کی مانند ہوتے ہیں جو نہ صرف انسان کا دوسرے انسان پر اعتبار قائم رکھتے ہیں بلکہ ہماری  اپنی ذات کا جواز بھی عطا کرتے ہیں۔
٭جنوری کی "دھندلی صبح "۔۔۔ بچےسکول جانے کے لیے بس کا انتظار کرتے ہوئے


"منیرہ قریشی اور اُن کی کُتب"

تعارف مصنف   منیرہ قریشی    درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ    سماجی اور رفاعی اداروں کے قیام کے حوالے سے  واہ کینٹ کا ایک ...