ہفتہ, نومبر 28, 2015

" جیون ساگر کا عالی"



اس وقت سے میں ڈرتا ہوں
جب وقت سے میں ڈر جاؤں
"لاحاصل"
جیوے پاکستان،جیون ساگر (اتنے بڑے جیون ساگر میں تونے پاکستان دیا۔۔۔گلوکار،الن فقیر) سے لے کر میرا پیغام پاکستان کے خالق جناب جمیل الدین عالی ایک شاعرِبےمثل ہی نہیں بلکہ ایک سچے کھرے پاکستانی بھی تھے جنہوں نے 1951 میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے سرکاری ملازمت اختیار کی ۔یہ وہ دور تھا جب وسائل نہ ہونے کے برابر پر جذبہ ہمت اور لگن انمول اور بےمحابا تھی۔ جمیل الدین عالی کی ایک پہچان" ببول کے کانٹے" بھی ہیں جو آپ اس دور میں فائلوں پر کامن پنوں کی جگہ استعمال کرتے۔ جتنی عزت سے آپ نے یہ کانٹےسمیٹے اتنی ہی خوشبو اور رس سےآپ کا لہجہ ہمیشہ مہکتا رہا۔
دوہےلکھتے اور تحت اللفظ پڑھتے ہوئے اردو شاعری میں ایک نئے اسلوبِ بیان کی بنیاد بھی رکھی۔۔۔"انسان“کے نام سے پندرہ ہزار اشعار کی طویل نظم جس کو وہ اپنا لکھا ہوا منظوم ڈراما بھی کہتے تھے۔ یہ رزمیہ نظم ایک مکمل کتاب اورایک شاہکار تخلیق ہےجس میں انہوں نے انسان کے تمام پہلوؤں کی عکاسی کی،جن میں مذاہبِ عالم، نفسیات، فلسفہ،ادب اخلاقیات، جمالیات، سائنس، اور تاریخ جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔
جمیل الدین عالی کی شاعری سے انتخاب۔۔۔۔
اب جو یہ میرے بغیر انجمن آرائی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ تم کو میری یاد آئی ہے
یہ جو عالی ہے یہ شاعر نہیں سودائی ہے
یہ تو سچ ہے ہے مگر آگے تری رسوائی ہے
میرے شکووں پہ نہ جا میں تو وہی ہوں جس نے
بارہا ترکِ محبت کی قسم کھائی ہے
خود بھی گمنام رہیں اُن کو بھی گمنام رکھیں
ہائے وہ لوگ جنہیں نازِ شکیبائی ہے
ہاں بھلا ترے خدوخال کو ہم کیا سمجھیں
دل میں یوں ہی تری تصویر اتر آئی ہے
ان کو آزردہ بھی کرتے نہیں بنتی ورنہ
اپنی باتوں پہ بھلا کس کو ہنسی آئی ہے
ہم نے صحرا میں بھی رہ کر جو پکارا ہے تجھے
کتنے غنچوں کے چٹکنے کی صدا آئی ہے
اہلِ شہر،اہلِ چمن،اہلِ قفس خیر تو ہے
کیا خبر بھی نہیں آئی کہ بہار آئی ہے
میری ہنگامہ پسندی پہ نہ الزام رکھو
شاید اِک یہ بھی علاج غمِ تنہائی ہے
۔۔۔۔۔۔
عالی" جی اب آپ چلو تم اپنے بوجھ اٹھائے
ساتھ بھی دے تو آخر پیارے کوئی کہاں تک جائے
جس سورج کی آس لگی ہے شاید وہ بھی آئے
تم یہ کہو خود تم نے اب تک کتنے دیے جلائے
اپنا کام ہے صرف محبت باقی اس کا کام
جب چاہے وہ روٹھے ہم سے جب چاہے من جائے
کیا کیا روگ لگے ہیں دل کو کیا کیا اب کے بھید
ہم سب کو سمجھانے والے،کون ہمیں سمجھائے
ایک اسی امید پہ ہیں سب دشمن دوست قبول
کیا جانے اس سادہ روی میں کون کہاں مل جائے
جب تم سب ہو سچے سادھو،میں بھی سچا سادھو ہوں
ایک غریب اکیلا پاپی کس کس سے شرمائے
اتنا بھی مجبور نہ کیجو ورنہ ہم بھی کہہ دیں گے
او عالی پر ہنسنے والے! تو عالی بن جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔
کب تم بھٹکے کیوں تم بھٹکے کس کس کو سمجھاؤ گے
اتنی دور تو آپہنچے ہو اور کہاں تک جاؤ گے
اس چالیس برس میں تم نے کتنے دوست بنائے ہیں
اب جو عمر بچی ہے اس میں کتنے دوست بناؤ گے
بچپن کے سب سنگی ساتھی آخر کیوںکر چھوٹ گئے
کوئی یار نیا پوچھے تو اس کو کیا بتلاؤ گے
جو بھی تم نے شہرت پائی جو بھی تم بدنام ہوئے
کیا یہی ورثہ اپنے پیارے بچوں کو دے جاؤ گے
اس جوشِ خود آگاہی میں آگے کی کیا سوچی ہے
شعر کہو گے،عشق کرو گے،کیا کیا ڈھونگ رچاؤ گے
عالی کس کو فرصت ہوگی ایک تمہی کو رونے کی
جیسے سب یاد آجاتے ہیں تم بھی یاد آ جاؤ گے
۔۔۔۔۔۔۔
اب عالی جی اہلِ سخن کی صحبت سے گھبراتے ہیں
جب کہیں بیٹھنا ہی پڑ جائے گیت پرانے گاتے ہیں
گیت پرانے سوہنے لیکن کب تک گائے جاؤ گے
ایک سے بول اور ایک سی لَے سے کن رس بھی تھک جاتے ہیں
یہ سب شکوے سر آنکھوں پر،لیکن یارو! سوچو تو
ایسے خوش گویانِ سخن کیوں چپ ہو کر رہ جاتے ہیں
کچھ تو ایسے جرم تھے جن کا رنگ کچھ ایسا گہرا ہے
لوگ جتائیں یا نہ جتائیں، یہ خود سے شرماتے ہیں
کچھ ناکام ارادوں نے بھی ہمت توڑ کے رکھ دی ہے'
کچھ اپنی کم مائیگیوں کے خوف سے بھی گھبراتے ہیں
نوعمری میں عشق کی گلیاں اندھےپن سے مل نہ سکیں
اور اب جاتی عمر کے سائے کوسوں دور بھگاتے ہیں
بےتقصیر وہ جیون ساتھی ایسا ساتھ نبھاتی ہے
اس کو کوئی بھی دکھ دینے کے دھیان سے ہی تھراتے ہیں
اب جو بھولے بھٹکے کوئی دعوتِ شوق آ جاتی ہے
کیا کیا وعدے،کیا کیا وہم اور کیا کیا دھیان ستاتے ہٰیں
ایسی نیند بھی لے نہیں سکتے جس سے اٹھنا مشکل ہو
بھولے بھالے چاہنے والے بچے روز جگاتے ہیں
جب سے چین میں گھوم آئے ہیں بےچینی سی رہتی ہے
کیا کچھ پایا،کیا نہیں،پایا کچھ بھی کہہ نہیں پاتے ہیں
جس دنیا کے خواب کتابوں اور قصوں میں دیکھے تھے
وہ نہ ملی اور یہ سب کو وہی خواب دکھاتے ہیں
۔۔۔
میری ڈائری سے۔۔
جس میں جناب جمیل الدین عالی کے مارچ 1986 کے دستخظ ثبت ہیں تو اسی صفحے پر تقریباً انتیس سال بعد اُن کے بیٹے راجو جمیل کے دستخظ بھی ہیں۔
 

"گرہ در گرہ"

مرد اور عورت کے بیچ بہت سے رشتے اور گرہ درگرہ تعلق ہوتے ہیں۔ہر رشتہ ایک دوسرے رشتے میں خود کو بدلتا ہوا اور ہرتعلق ایک اور نامعلوم سمت کی جانب سفر کرتا ہوا۔ہررشتے کی بنیاد اگرجسمانی تعلق سے سر اُبھارتی ہے تو ہر تعلق کی جڑیں ذہنی وقلبی رشتے سے پھوٹتی ہیں۔رشتے جسمانی ہم آہنگی کی بدولت قائم ہوتے ہیں تو تعلق ذہنی ہم آہنگی کے بغیر کبھی پروان نہیں چڑھ سکتے۔جسمانی تعلق کا ہم صرف ایک شخص کے حوالے سے ایک ہی مطلب نکالتے ہیں اسی لیے لکھنے میں ہچکچاہٹ بھی محسوس کرتے ہیں ورنہ دیکھا جائے تو انسان کے دوسرے انسانوں سے صرف جسم بانٹنے کے رشتے ہی تو ہوتے ہیں جو ہر رشتے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اجنبی مرد اورعورت شادی کےتعلق کے بعد جب ایک خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں تو مرد کے حوالے سے ماں،بہن اور بیٹی کے رشتے وجود میں آتے ہیں اسی طرح عورت کی زندگی میں باپ، بھائی اور بیٹے کا رشتہ کبھی ختم نہ ہونے والا تعلق بن جاتا ہے۔
۔"رشتے محبت تو دے سکتے ہیں لیکن آسودگی ہمیشہ تعلق سے ملتی ہے چاہے وہ ذہنی ہو یا جسمانی"۔
مقدر کےرشتے ہمیشہ بنے بنائے ملتے ہیں ہمارا ان کی بنت پر  کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ ۔۔اُن کے لیےکوئی بھاگ دَوڑنہیں۔۔۔جِگ سا پزل کی طرح ایک دوسرے سے جُڑتے ہوئے۔۔۔ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ۔ تعلُق ہمیشہ اپنے دائرے سے باہر قائم کیا جاتا ہے۔ اس میں اپنی جگہ تلاش کرنا پڑتی ہے۔۔۔ ایک دوسرے کو جگہ دینی ہوتی ہے۔اس کے لیے جاننا معنی نہیں رکھتا،حسب نسب،بڑائی چھوٹائی اس کا کوئی معیارنہیں۔یہ ایک نگاہ کا کمال ہےجوجسم کے پاراترے تو بظاہربےجوڑ تعلق دُنیا کے کامیاب ساتھ بن جاتے ہیں۔اگر یہ نگاہ روح پر پڑ جائے توانسان تکمیلِ ذات کے اُس مقام پرجا پُہنچتا ہے جہاں دنیا کی ہر خوشی معمولی دکھائی دیتی ہے۔
رشتے صرف ایک بات پر فوقیت رکھتے ہیں ہےاور وہ ہے"اعتماد "انسان رشتے پراندھادُھند اعتماد کرتا ہے جبکہ تعلق پرکبھی اعتبارنہیں آتا۔زندگی کے اس سفرمیں مات ہوتی ہے تو رشتوں کے ٹھکرائے ہوئے ساری عمر سسکتے رہتے ہیں،بےچین رہتے ہیں۔اگر تعلق دھوکا دے جائے تو اگرچہ ادھورے تو رہ جاتے ہیں لیکن اپنے اندر سے شانت ہوتے ہیں کہ ہمیں کون سا اعتبار آیا تھا۔
انسانی فہم کے یقین کے ساتھ بظاہر ذہنی ہم آہنگی جسمانی سے زیادہ ضروری دکھتی ہےکہ اول اگر ہو تو دوسری خودبخود مطمئن    ہو جاتی ہےاگراس بات کو حتمی مان لیا جائے تو پھرذہنی ہم آہنگی والے رشتے ناکام کیوں ہو جاتے ہیں ؟اورمکمل جسمانی ہم آہنگی اور محبت کے باوجود انسان کی تلاش کیوں جاری رہتی ہے؟کیا یہ محض انسان کے کردار کی خرابی ہے؟یہ بہت اہم سوال ہے جن کا جواب جاننا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اسے محض اپنے کردار کی کجی کہہ کر دامن نہیں چھڑا سکتے۔
سرسری نگاہ سے جائزہ لیا جائے تو مردعورت خواہ کاغذ کے بندھن میں ساتھ رہیں یا کسی ان دیکھے تعلق کی ڈور میں بندھ جائیں ایک دوسرے کی ضرورت بن جاتے ہیں۔وہ اپنی اپنی ضرورتیںِ،خواہشیں ،حسرتیں اور جبلتیں ہرانداز میں ایک دوسرے کے حوالے کرنے کو بھی آزاد ہوتے ہیں۔جسمانی تعلقات اور ذہنی رشتے قائم کرنا انسانی فطرت اور جبلت کاحصہ ہے جس میں محبت اور کشش کو ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔چاہ کی ڈور میں گندھے ایسے جذبے ہیں جن کے سرے تلاش کرنا اکثراوقات ناممکن دکھتا ہے۔جسمانی ہم آہنگی اور محبت دو متضاد چیزیں ہیں۔اسی طرح محبت کے بغیر محض ذہنی ہم آہنگی فقط اپنے آپ کو دھوکا دینے یا راہِ فرار اختیار کرنے کی بات ہے۔درحقیقت ذہنی ہم آہنگی کا بُت ٹوٹنے کے بعد انسان کسی کو کچھ کہنے کے قابل نہیں رہتا۔مکمل جسمانی آسودگی ذہنی تعلق کے بنا صرف تھکن اور بوجھ ہے اور صرف ذہنی قربت ایسے ریشمی دھاگوں کا فریب بن جاتی ہے جس کی گرہوں کو کھوجتے انگلیاں تھکنے لگتی ہیں لیکن کہیں سے فرار کے سرے نہیں ملتے۔ایسی جامد خاموشی روح کو اپنے حصار میں جکڑتی ہے کہ انسان کسی کو پکارنے کے قابل رہتا ہےاور نہ اپنے آپ سے کچھ کہنے کی ہمت رکھتا ہے۔اس بات کو جناب اشفاق احمد نے اپنی کتاب "سفردرسفر(صفحہ67)" میں یوں بیان کیا۔
۔"جب انسانوں کے درمیان جسم کی محبت ہو تو وہ ایک دوسرے کی طرف مقناطیس کی طرح کھچنے لگتے ہیں جب ان میں آگہی اور دانش کی قدر مشترک ہوتو وہ لمبی سیروں ،لمبے راستوں اور لمبے سفر کے ساتھی بن جاتے ہیں اور جب ان کی محبت میں روحانیت کا ابر اُتر آئے تو وہ بستروں کے انبار میں دو معصوم بچوں کی طرح ٹانسے کی چادریں بن جاتے ہیں جس سے ان کی رہائی مشکل ہو جاتی ہے وہ یا تو چیخ چیخ کر مدد کرنے والوں کو بلاتے ہیں یا دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں"۔
اِسی اُلجھن میں زندگی سرکتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ تعلقات خواہ کسی بھی انسان سے کسی بھی سطح پر کیوں نہ ہوں کچھ وقت گزرنے کے بعد اپنی اصل میں بےرنگ ہو جاتے ہیں۔اکثراوقات ذہنی ہم آہنگی بھی ذہنی لاتعلقی میں بدلتے دیر نہیں لگاتی۔
اسباقِ زندگی کے رٹے لگاتے لگاتے ساری عمرعمرِرائیگاں کی طرح گزار کر انسان آخر میں خالی ہاتھ خالی ذہن رہ جاتا ہے۔محبت نفرت،غرض بےغرضی ہر چیز بےمعنی دکھتی ہے۔اس سمے اگر ہم ذہن ودل کی کشادگی کے ساتھ اس فانی دنیا میں فانی جذبوں کی رمز سمجھنے کی کوشش کریں تو دکھائی دیتا ہے کہ بحیثیت انسان ہمارے دوسرے انسانوں سے گر جسمانی رشتے ہیں تو محبت کے تعلق بھی ہوتے ہیں لیکن ان سے ہٹ کر ایک احساس کا تعلق بھی ہوتا ہے جسے ہم مانتے تو ہیں لیکن سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔احساس کا یہ تعلق جسمانی اور ذہنی ہم آہنگی سے بھی بہت آگے ہے۔حد تو یہ ہے کہ احساس کی قربت کی خوشبو وقت اور فاصلوں کے حساب کتاب کی بھی پابند نہیں اورنہ ہی جنسِ مخالف کی جانب فطری کشش اس کا سبب بنتی ہے۔مجازی تسکین کے اس احساس کو سمجھنے کے لیے ہمیں مالک ِحقیقی اور انسان کے اسی ربط پر غور کرنا ہے جس کی وضاحت قران پاک کی کئی آیات میں ملتی ہےاور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کبھی اپنے جسمانی اور روحانی رشتوں کا تقابل نہیں کرنا ورنہ شدید قسم کی الجھن کا شکار ہو جائیں گے۔ہرجذبے،ہراحساس کو سمجھنا اور ہر رشتے میں توازن برقرار رکھنا  نہ صرف ہمارے سکون  بلکہ اس کی بقا کے لیے بھی ضروری ہے۔
کچھ رشتے یا تعلق ہم بہت ناپ تول کر بناتے ہیں اورکچھ بغیرکسی حساب کتاب کے خود ہی بن جاتے ہیں۔خون کے تعلق سے جُڑے اٹوٹ رشتے ہوں یا روح کی تسکین کا حاصل غیرمرئی تعلق،وقت کی کسوٹی سب بھید کھول دیتی ہے۔رشتے روگ بن جائیں تو زندگی چاٹ جاتے ہیں اور تعلق روگ بن جائے تو مقصدِ حیات سے دُور کر دیتا ہے۔
 رشتے ایک بار قائم ہو جائیں تو پھر اُن کو نبھانا پڑتا ہے،سنوارنا پڑتا ہے،بہلانا پڑتا ہے،نکھارنا پڑتا ہے۔یہ زندگی کے وہ  دھاگے ہیں جو اُلجھ جائیں تو اُن کو بڑے رسان سے ایک ایک کر کے الگ کرنا پڑتا ہے کہ  جتنے ریشمی دِکھتے ہیں اُتنے ہی نازک بھی ہوتے ہیں،جتنے کُھردرے لگتے ہیں اُتنا ہی زخمی بھی کر سکتے ہیں،جتنے بکھرے ملتے ہیں اُتنا ہی اُن کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔بہرحال زندگی کی تصویر کی بُنت  ہموار  نقوش سے کرنا ہے تو ان دھاگوں کے سروں کو تلاش کرنے میں ہی عافیت ہے جبکہ تعلقات میں ایسا نہیں ہوتا اُن کے الجھے سِرے اگر سنور نہ رہے ہوں تو وقت کی چادر میں ڈھانپے بھی جا سکتے ہیں ،اُن کو بعینٰہہ اِسی طرح چھوڑ کر بھی اپنے ساتھ رکھا جا سکتا ہے یا پھر جتنا جلد ہوسکے کنارہ کشی کا اختیار بھی اپنے پاس رہتا ہے بغیر کسی جھجھک کے۔
حرفِ آخر

مقدر سے بنے والے رشتے چیزوں کی طرح ہوتے ہیں۔ بنانے سے پہلے خواہ کتنی ہی چھان پھٹک کر لو، عمر کے تجربے سے جانچ لو،رنگ ونقش کی ضمانت کی قسمیں اُٹھوا لو۔جب تک قریب سے برتنے کی نوبت نہیں آتی۔سب ہوائی اور فرضی باتیں ہی رہتی ہیں۔اصل امتحان تو یہ ہے کہ زندگی کے سودے میں سب خسارا جاننے،سمجھنے کے بعد کبھی تو اپنی زندگی کی قیمت پر،کبھی خود سے وابستہ خونی رشتوں کے سکون کی خاطر"آخری حد" تک سمجھوتے کا کڑوا گھونٹ امرت جان کر پینا ہے۔ بس "آخری حد" کی سمجھ ہی زندگی کہانی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔خواہ یہ آخری حد زندگی کے آخری سانس تک چلے۔

بدھ, نومبر 04, 2015

سرورق کتب۔۔۔۔مستنصرحسین تارڑ



کالم۔۔۔صادقین، ایم ایف حسین سے لے کر عمران قریشی تک کا سفر ــــ مستنصر حسین تارڑ
۔22 جولائی   2015
پچھلے دنوں تقریباً پچیس برس بعد میرے افسانوں کا دوسرا مجموعہ"15۔۔ کہانیاں"شائع ہوا تو اس کےسرورق  کو بہت سے پڑھنے والوں نے پسند کیا،وہاں کچھ  لوگ ایسے تھے جنہوں نے  باقاعدہ احتجاج کیا کہ سرورق پر خون کے چھینٹے طبع پر گراں گزرتے ہیں۔ اتنا خون چھڑکنے کی کیا ضرورت تھی، تو میں نے ان سے گزارش کی کہ ادبی کتابوں کے سرورق بھی اس عہد کے سیاسی، ثقافتی اور مذہبی رجحانات کی نمائندگی کرتے ہیں، اس مجموعے میں چونکہ بہت سی کہانیاں دہشت گردی اور مذہبی تعصب کے نتیجے میں ہونے والے قتل و غارت کو بیان کرتی ہیں، سانحہ بابوسر ٹاپ، سوات میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات، پشاور کے بچوں کے قتل عام اور ایک مسیحی جوڑے کو زندہ جلا دینے والے بہیمانہ سانحے کے بارے میں ہیں تو سرورق پر خون کے چھینٹوں کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔
 البتہ آپ اگر غور کریں تو خون کے ان چھینٹوں میں کہیں کہیں گلاب کے سرخ پھول بھی کھلتے نظر آتے ہیں یعنی کم از کم میں اب بھی امید کے شجر سے پیوستہ ہوں اور امیدِ بہار رکھتا ہوں۔ ’’15 کہانیاں‘‘ کا یہ سرورق پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور عمران قریشی کی تخلیق ہے جس کی تصویریں دنیا کی بیشتر آرٹ گیلریوں میں آویزاں ہیں یہاں تک کہ میٹرو پالٹن میوزیم نیویارک کی چھت پراس کا ایک خصوصی شو بھی منعقد کیا گیا تھا اورآج اس کی تصویریں بین الاقوامی مارکیٹ میں ہزاروں ڈالروں میں فروخت ہوتی ہیں۔۔۔ وہ اس عہد کا نمائندہ مصور ہے اور مجھے فخر ہے کہ اس نے بغیر کسی معاوضے کے میرے افسانوں کے مجموعے کا سرورق تخلیق کیا۔
 ادیبوں اور شاعروں کی نسبت میں مصوروں سے زیادہ قریب رہا ہوں اور اسی لئے میری کتابوں کے سرورق پاکستانی مصوری کی ایک نمایاں آرٹ گیلری کی صورت اختیار کر گئے ہیں، اور اپنے ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مجھے اپنی نمائش مقصود نہیں میں صرف پاکستان کے ان عظیم مصوروں کو ہدیۂ تبریک پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی معاوضے کے میری کتابوں کے سرورق بنائے۔۔۔ میری کتابوں کی تعداد ساٹھ سے بڑھ چکی ہے ، اس لئے سب کا تذکرہ ممکن نہیں، سرورق کے حوالے سے جو سفرنامے، ناول اور کالم وغیرہ اہم ہیں ان کے مصوروں کا مختصر تذکرہ کروں گا۔
۔ 19711ء میں شائع ہونے والے میرے پہلے سفرنامے’نکلے تری تلاش میں‘‘کا سرورق مصورِمشرق عبدالرحمن چغتائی کا ایک انوکھا شاہکار تھا۔ چغتائی صاحب کے ساتھ میری کبھی ملاقات نہ ہوئی۔ یہ کمال مقبول جہانگیر کا تھا کہ انہوں نے میرے سفرنامے کے کمالات کے بارے میں ایسی لچھے دار گفتگو کی کہ چغتائی صاحب نے ٹائٹل بنانے کی ہامی بھری۔۔۔ سرورق کی یہ ڈرائنگ آج بھی میری سٹڈی ٹیبل کے پہلو میں آویزں ہے، اسی سفرنامے کے دوسرے ایڈیشن کے لئے صادقین نے زبردست سرورق بنایا۔
 میری پورٹریٹ کے علاوہ بیس سے زیادہ خاکے بھی تصویر کئے، ان میں سے کچھ خاکے شائع نہ ہوسکے کہ ان میں صادقین خواتین کو کپڑے پہنانا بھول گئے تھے، ازاں بعد ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کے درجنوں ایڈیشن شائع ہوئے جن کے سرورق معروف مصوروں نے تخلیق کئے۔۔۔
 ۔"اندلس میں اجنبی"کا پہلا سرورق جناب آزر زوبی نے بنایا۔
دوسرے ایٖڈیشن  کا سرورق فیض صاحب کی بیٹی سلیمہ ہاشمی نے اور تیسرے ایڈیشن کے ماتھے پر لمحۂ موجود میں پاکستان کے سب سے بڑے مصور سعید اختر کا ایک شاہکار تھا۔۔۔ ’’خانہ بدوش‘‘کا ٹائٹل جو میری آوارگیوں کا ایک نقش تھا وہ بھی سعید اختر کا تخلیق تھا۔۔۔ ایک مرتبہ پھر ’’بہاؤ‘‘ کے پہلے ایڈیشن کا سرورق سعید اخترنے بنایا اور پھر ذوالفقار تابش نے اپنے مخصوص انداز میں اپنے جوہر دکھائے۔۔۔’’راکھ‘‘ کا سرورق جدید مصوری کے نمائندہ ترین مصور قدوس مرزا نے تخلیق کیا۔ میں قدرے شرمندگی سے عرض کرتا ہوں کہ میری بیشتر کتابوں کے چونکہ درجنوں ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اس لئے ممکن نہیں کہ میں ہر مصور کے سرورق کا تذکرہ کر سکوں۔۔’’قربت مرگ میں محبت‘‘کے پہلے ایڈیشن کے لئے سعید اختر اور نذیر احمد نے مشترکہ طور پر ایک تصویر بنائی۔۔۔ ’’خس و خاشاک زمانے‘‘کے دوسرے ایڈیشن پر غلام رسول کمال کے مصور ہیں۔۔۔ بشیر فراز نے بھی میرے لئے خصوصی سرورق تیار کئے، اور ہاں بعدازاں’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کے لئے عبدالرحمن چغتائی کے بھتیجے اور میرے دوست عبدالوحید چغتائی نے کیا ہی دلکش سرورق بنایا۔۔۔ میرے ناول ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ کے تادم تحریر ساٹھ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اس کے سروق کی تزئین متعدد نامور مصوروں نے کی لیکن ان میں کلاسیک سعید اختر کی پاسکل کی دلکش پورٹریٹ کو قرار دیا گیا۔۔۔’’نیپال نگری‘‘ کا سرورق لینڈ سکیپ کے باکمال مصور نذیراحمد نے بنایا۔
 ایک زمانہ تھا جب ادبی کتابوں کے سرورق کے لئے ان زمانوں کے بڑے مصور بخوشی اپنے رنگ پیش کرتے تھے اور میں بھی بہت تردد کیا کرتا تھا۔ اور اب تو یہ ہے کہ میری بیشتر کتابوں کے سرورق کمپیوٹر کی مصوری اور تزئین سے آراستہ ہوتے ہیں کہ یہ کام آسان ہو چکا ہے۔ کتاب کی روح سرورق میں ہوتی ہے اور ایک مدت سے سرورق بے روح ہو چکے ہیں۔
 اور ہاں میں بھولنے کو تھا میرے اولین ناولٹ ’’فاختہ‘‘ کے تازہ ایڈیشن پر ہندوستان کے سب سے بڑے مصور ایم ایف حسین کے ہاتھوں سے تخلیق کردہ ایک فاختہ کا نقش ہے اور اس سرورق کے لئے میں نے حسین صاحب کی بہت منت سماجت کی تھی۔۔۔ اور حسین کا بنایا ہوا فاختہ کا یہ نقش بھی میری سٹڈی ٹیبل کے پہلو میں چغتائی صاحب کی ڈرائنگ کے برابر میں آویزاں ہے، اور پھر ایک عجیب اتفاق ہوا، مسجد نبویؐ میں منبر رسولؐ کی قربت میں نفل ادا کرتے ہوئے میں سلام پھیرتا ہوں اور دائیں جانب ایک سفید ریش بوڑھا روتا ہوا نظر آتا ہے اور اس کی مشابہت شناسا سی ہے اور وہ ایم ایف حسین ہے۔ اس کے برابر میں اس کا بھتیجا بیٹھا ہے اور وہ اپنے چچا کو قرآن پاک پڑھ کرسنا رہا ہے۔ حسین کی بنائی ہوئی ہندو دیو مالا کی کچھ دیویوں کی برہنہ تصویریں بنانے پر ہندو علمائے کرام مشتعل ہو گئے کہ ہائیں ایک مسلمان کی یہ جرأت، حسین کو اپنی جان بچانے کے لئے ہندوستان سے فرار ہونا پڑا۔۔۔ قطر نے اسے خوش آمدید کہہ کر اپنی شہریت سے نوازا۔ ظاہر ہے میں مسجد نبویؐ میں حسین کی عبادت میں مخل ہوا، انہیں میں یاد آگیااور ہم نے کچھ باتیں کیں۔ حسین کچھ عرصہ بعد دربدری کی حالت میں لندن میں مر گیا۔
 چنانچہ پچھلے پینتالیس برس میں میری جو ساٹھ سے تجاوز کرتی کتابیں شائع ہوئی ہیں ان کے سرورق اپنے زمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور اب اگر ’’15 کہانیاں‘‘ کے سرورق پر خون کے چھینٹے ہیں تو کیا یہ ہمارے عہد کی تصویر نہیں ہیں؟

بدھ, اکتوبر 21, 2015

" خزاں "


زندگی موسموں کےآنے جانے کا نام ہے اور موت انہی موسموں کے ٹھہر جانے سے وجود میں آتی ہے۔زندگی موت کی یہ آنکھ مچولی ہم اپنے آس پاس مظاہرِ فطرت میں ہر آن دیکھتے چلے جاتے ہیں۔۔۔کبھی اپنے جسم وجاں میں اِن کا لمس محسوس کرتے ہیں تو کبھی بنا چکھے بنا دیکھے یوں اِس کا حصہ بن جاتے ہیں کہ سب جان کر بھی کچھ نہیں جان پاتے اور بہت کچھ سمجھتے ہوئے بھی سرسری گزر جاتے ہیں کہ ہماری عقل کی حد ہماری آنکھ کے دائرے سے باہر پرواز کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔خزاں ہو یا بہار آنکھ کی چمک باقی رہے تو  دیکھنے    والی آنکھ ہررنگ میں زندگی کے نقش تلاش کر لیتی ہے۔
ایسی ہی ایک خزاں رُت کا احوال پہاڑوں کے ایک مکین کی زبانی۔۔۔۔
دُور پہاڑوں پر خزاں رُت کی پکار
خنک ہوا اور یہ رات
ادھر ذرا خزاں کا سنو
جب اکتوبر شروع خزاں شروع
شروعات اخروٹ کے درخت سے۔ ۔جب زمین پر اخروٹ گرنا شروع ہوتے آواز کے ساتھ ۔۔۔۔
آواز ایسی جیسے طبلِ جنگ۔۔۔
یوں کہ اک لمبی خزاں کی یلغار
مگر شروعات بہت سحرانگیز
جب ہوا اک مست کر دینے والی آواز کے ساتھ اپنے مدھر ساز بجائے۔۔۔
جب پتے زردی کا لبادہ اُوڑھ لیتے ہیں۔۔۔۔
ہوا کے ساتھ سرسراتے ہیں۔۔۔۔
خنکی بےخود کرنے والی۔۔۔۔
پھر ایک دم ہوا کا رُک جانا۔۔۔ یوں کہ ایک ایک پتہ گرتا محسوس ہو۔۔۔
جیسے آپ کی روح پہ وہ زردی گر رہی ہو۔۔۔
پھر سرِعام ایک ماتمی نظارہ۔۔۔۔ زمین پہ پڑے پتوں کے لاشے۔۔۔اور پیلے سُرخ پیرہن۔۔۔۔
اُن پتوں پہ چلنا آہستہ آہستہ ۔۔۔ہر قدم کے ساتھ وہ ٹوٹتے لاشے۔۔۔۔
ساتھ سنسان تاریک راتوں میں اخروٹ کے گرنے کی آواز۔۔۔
کرچ کرچ کی ایسی آواز جو رات کو آپ کی سماعتوں میں بسیرا کر کے رت جگا کرائے۔۔۔
ارے نادان!اصل خزاں پہاڑوں پر ہی تو ہوتی ہے۔جو پوری سردی آپ کو اُداس رکھتے ہیں۔۔۔ایک ایک پتے کے گرنے کی آواز دل پہ جا کر لگتی ہے۔۔۔اور اُن درختوں کو سوگوار دیکھ کر آپ کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
.....
شجر بےسایہ ہو جائے تو سمجھو
بچھڑ جانے کا موسم آ گیا ہے
دریچے بند کر کے سونے والو
محبت عمر بھر کا رت جگا ہے
کہاں ہم اور کہاں ترک مراسم
مگر وہ لمحہ شاید آ گیا ہے

۔(امید فاضلی)۔ 

جمعرات, اکتوبر 08, 2015

" آفتِ ارضی۔۔۔ آٹھ اکتوبر 2005"


 
آیا ہے تو جہاں  میں مثالِ شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستیء ناپائیدار دیکھ (علامہ اقبال)۔
انسانی زندگی حادثات وواقعات سے عبارت ہے۔تباہی ازل سےانسان کے ہم قدم رہی ہے۔ دنیا کو جائےعبرت کہا جاتا ہے اور عبرت کے یہ مناظر ہم ہر روز کسی نہ کسی شکل میں اپنے اِردگرد دیکھتے ہیں۔۔۔کبھی انسان پر انسان کے ہاتھوں ظلم سے اور کبھی قدرتی آفات کی صورت میں المیوں کی ایک بھیانک داستان ہماری نظر کے سامنے سے گزرتی جاتی ہے۔
پاکستان اور دنیا کی تاریخ زلزلوں سے بھری پڑی ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک  میں مختلف درجوں کے زلزلے سارا سال آتے رہتے ہیں اور تباہی وبربادی کے انمنٹ نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن ایسا ہی ایک زلزلہ پاکستان کے لاکھوں لوگوں کو تہس نہس کر دے گا یہ ہمارے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔
آٹھ اکتوبر2005 کو رمضان المبارک کا تیسرا روزہ تھا۔جمعے کی صبح آٹھ سے نو بجے کے درمیان  پاکستان کے شمال مشرقی پہاڑی علاقے میں7.6 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس کے نتیجے میں انسانی جان مال کے ضیاع کی صورت میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ وقوع پذیر ہوا۔انتہائی کم گہرائی میں ہونے والے اس عظیم ارضیاتی تغیر نے صوبہ سرحد اور آزادکشمیر کے اضلاع میں چہارسو قیامتِ صغریٰ برپا کر دی۔آزاد جموں وکشمیر اور صوبہ سرحد کی پندرہ تحصیلیں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔
آزاد جموں و کشمیر اور صوبہ سرحد کی 15 تحصیلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ - See more at: http://www.suchtv.pk/urdu/pakistan/general/item/23709-10th-anniversary-of-devastating-earthquake-in-pakistan.html#sthash.S0zh097n.dpuf
آزاد جموں و کشمیر اور صوبہ سرحد کی 15 تحصیلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ - See more at: http://www.suchtv.pk/urdu/pakistan/general/item/23709-10th-anniversary-of-devastating-earthquake-in-pakistan.html#sthash.S0zh097n.dpuf آزاد جموں و کشمیر اور صوبہ سرحد کی 15 تحصیلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔
آزاد جموں و کشمیر اور صوبہ سرحد کی 15 تحصیلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ - See more at: http://www.suchtv.pk/urdu/pakistan/general/item/23709-10th-anniversary-of-devastating-earthquake-in-pakistan.html#sthash.S0zh097n.dpuf
آزاد جموں و کشمیر اور صوبہ سرحد کی 15 تحصیلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ - See more at: http://www.suchtv.pk/urdu/pakistan/general/item/23709-10th-anniversary-of-devastating-earthquake-in-pakistan.html#sthash.S0zh097n.dpuf
آزاد جموں و کشمیر اور صوبہ سرحد کی 15 تحصیلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ - See more at: http://www.suchtv.pk/urdu/pakistan/general/item/23709-10th-anniversary-of-devastating-earthquake-in-pakistan.html#sthash.S0zh097n.dpuf
ایک منٹ کے اندر زبردست چنگھاڑ کے ساتھ زلزلے کے پےدرپے شدید جھٹکوں نے لوگوں کو  گھروں سے باہر نکلنے کی مہلت ہی نہ دی۔بلندوبالاعمارتیں خس وخاشاک کا ڈھیر بن گئیں،ہزاروں لوگ ٹنوں ملبے تلے دب گئے۔بہت کم لوگ اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہوئے۔پہاڑ اپنی جگہ سے سرک گئے،سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ کی نذر ہو گئیں اور ان پر رواں دواں گاڑیاں دریا میں جا گریں، رُکاوٹوں کے باعث  دریا کے بہاؤ تھم گئے اور سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا۔غرض یہ کہ بےچارگی اور بےبسی کی ایک نہ ختم ہونے والی داستان نےجنم لیا۔جہاں بےشمار لوگ دنیا سے رخصت ہوئے وہیں شدید جسمانی اور ذہنی گھاؤ ہزاروں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محتاجی دے کر زندہ درگور کر گئے۔خاندان کے خاندان  ختم ہو گئے،بچے اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔ہزاروں تعلیمی ادارے بچوں کے مدفن بن گئے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہوئے،ہزاروں ذہنی اور جسمانی طور پرمعذور ہوگئے۔اس سے بڑھ کر لاکھوں افراد نہ صرف سر پر چھت بلکہ پیروں تلے آبائی علاقوں کی زمین سے بھی محروم ہو گئے۔ان علاقوں کوزلزلے کے ممکنہ خدشے کے پیشِ نظر رہائش کے لیے خطرناک قرار دے کر ریڈزون کہا گیا۔اقوامِ متحدہ کے مطابق اسی لاکھ سے زائد آبادی اس المیے سے متاثر ہوئی
کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام ودر
یہ وہی دیار ہے دوستو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر  (ناصرکاظمی)۔
آزادکشمیر کا دارالخلافہ مظفرآباد جو حسین وادیوں جہلم اور نیلم کے سنگم پر ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی معیار کا سیاحتی شہر بن رہا تھا لمحوں میں یہ جیتا جاگتا شہرعہدِجدید کا آثارِقدیمہ بن گیا۔ دیکھنے والے اسےنئےعہد کا ہڑپہ کہتے جہاں صدیوں تک دے ہوئے ملبے سے انسانی اعضاءاور تہذیبِ انسانی سے وابستہ دوسری اشیاء برآمد ہو کر آنے والے دور میں تہذیبوں  کے لیے عبرت کا سامان بنتی رہیں گی۔آزادکشمیر کے وزیرِاعظم بےساختہ کہہ اُٹھے کہ میں اب قبرستان کا وزیرِاعظم ہوں۔
زلزلے کی تباہ کاریوں سے قریبی شہر دارالحکومت اسلام آباد بھی محفوظ نہ رہا۔اس کے سیکٹر ایف ٹین میں جدید سہولیات سے آراستہ رہائشی ٹاور  پہلے ہی جھٹکے میں زمین بوس ہوگیاجس میں قریباً سو کے قریب افراد جاں  بحق ہوگئے۔ 
 افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر 
ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
آٹھ اکتوبر کا زلزلہ جہاں ایک بہت بڑی قدرتی آفت تھا وہیں یہ ہر لحاظ سے پوری پاکستانی قوم کا امتحان بھی ٹھہرا۔گلگت سے کراچی تک  اور خیبر سے گوادر تک پاکستانی عوام نے ہر طرح کے اختلافات پسِ پشت ڈال کر متاثرینِ زلزلہ کی بھرپور جانی اور مالی امداد کی۔جدید مشینری کی عدم دستیابی کے باوجود آہنی عزم کے بل بوتے پر ہمارے جوان زندگیاں بچانے میں  پیش پیش رہے۔ہسپتالوں میں خون دینے والوں کی قطاریں لگ گئیں۔ایک جذبہ تھا۔۔۔ایک لگن تھی جس کے پاس جو صلاحیت تھی اُس نے قوم کے سامنےرکھ دی نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک سے بھی دردمند پاکستانی کشاں کشاں اپنی قوم کی مدد کو چلے آئے۔انسانی جذبوں اور اٹوٹ رشتوں کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔اُداسی اور غم کی اندھیری شام کے بعد ایک نیا سورج طلوع ہوا جس نے فرقہ واریت،لسانی تعصب،علاقائی تفریق اور سیاسی گروہ بندیوں سے قوم کو آزاد کر دیا۔اہلِ پاکستان نے پوری دنیا سے یہ منوا لیا کہ عام حالات میں یہ قوم جس قدر بکھری ہوئی اور الگ الگ راستوں کی مسافر نظر آتی ہے مصائب اور آفات کے وقت تسبیح کے دانوں کی طرح جُڑ جاتی ہے۔علامہ اقبال نے بہت پہلے اس حقیقت کا ادراک ان الفاظ میں کیا۔۔۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے بعد اگر پاکستانی قوم کا جذبۂ خدمت  اُبھر کر سامنے آیا تو انسان کی سفاکی اوربےحسی کے لرزہ خیز واقعات نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا۔جب مرتے ہوئے جسموں سے زیورات نوچے گئےتو کہیں بہت سےبےسہارا بچےاورخواتین نامعلوم افراد کی خباثت کی بھینٹ چڑھ گئے۔سینکڑوں ابھی تک لاپتہ ہیں جن کی موت یا زندگی کے بارے میں ان کے پیارے شاید ہمیشہ شک وشبے کا شکار رہیں گے۔
اس ہولناک زلزلے کو آئے ایک عشرہ گذر گیا اور آج یہ عالم ہےکہ اِن علاقوں کے بہت سے لوگ اب بھی خیموں اورعارضی مکانوں میں مقیم ہیں۔زلزلے سے منہدم ہو چکے تعلیمی ادارے بمشکل پچاس فیصد بحال ہوئے۔صوبہ سرحد  میں وادی کاغان کا سیاحتی دروازہ بالاکوٹ کا شہر جو تقریباً پورا کا پورا تباہ ہو گیا تھا فالٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے یہاں حکومت کی طرف سے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا گیا۔حکومتی سطح پر  بحالی کے اقددامات صرف دعوؤں اور وعدوں کی حد سے آگے نہ بڑھ سکے۔اپنی نسلوں کو حرام کی دولت وراثت میں دینے والے اہلِ اقتدار نے کرپشن اور لوٹ مار کی بہتی گنگا میں اپنا حصہ خوب وصول کیا، وقت گذرنے سے مالی اور معاشی زخم تو کسی حد تک مندمل ہو ہی گئے لیکن ایک قومی سانحہ محض ان خاندانوں کی ذاتی یاد بن کر رہ گیا جن کے اپنے  اس زلزلے کی نذر ہو گئے تھے۔    
رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیئے تھمے
نَے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں(غالب)۔
 نوٹ: زیرِنظر مضمون میں حوالوں کے لیے اخباری  مضامین سے مدد لی گئی۔

منگل, اکتوبر 06, 2015

"منظر، قربت اور نگاہ "

 محبت کے رنگ خواہ فطرت میں ملیں یا انسان کے اپنے اندر جھلکیں جب تک کسی ساتھ کی قربت نہ ملے مہک سے دور ہی رہتے ہیں۔ مہک سے خالی منظر بےجان تصویر میں دِکھتا تو ہے کسی حد تک محسوس بھی کیا جا سکتا ہے لیکن بہت اندر تک جذب نہیں ہو سکتا۔ پہنچ سے دور بہت دور روح میں جذب ہونے والا منظر ہیرے کی طرح ہوتا ہے انمول اور کم یاب،پر جب تک جوہری کی نگاہ نہ پڑے اور تراش خراش کے مرحلے سے نہ گذرے بےمول اور گمنام ہی رہتا ہے۔ نگاہ کے لمس کے بعد کیمرے کا کلک فطرت کے شاہکار کو محفوظ کر دیتا ہے۔خوبصورتی "نگاہ" میں ہوتی ہے ورنہ منظر ہو یا چہرہ ہر دل میں گھر نہیں کرتا۔منظر کی محبت ہو یا محبت کا منظر ساتھ کی قربت سے مہکتے ہیں تواپنے بھید کھولتے ہیں۔فطرت سے ہم آہنگی روح میں جذب ہو کر ایک عجیب سی سرشاری اور طمانیت کا تحفہ عطا کرتی ہے۔لیکن اس سےعجیب بات یہ ہےکہ کسی منظر کسی احساس کو ساتھ کی قربت نہ ملے تو جہاں ایک گہری تنہائی جنم لیتی ہے وہیں تنہائی کی اُداسی گر مثبت رُخ اختیار کر لے تو ایسے شاہکار تخلیق ہوتے ہیں جن کا عشرِعشیر بھی کسی ساتھ کے ساتھ ممکن نہیں۔انسان اپنی ذات میں ایک مکمل کائنات بن جاتا ہے۔انسانی فطرت کی یہ کایا پلٹ صرف دیکھنے والی آنکھ ہی سمجھ سکتی ہے ورنہ ظاہری آنکھ کبھی رقصِ بسمل تو کبھی جوشِ جنوں کی کارفرمائی قرار دیتی ہے۔اصل کشش نگاہ میں ہے جس کے حصار میں کوئی بھی منظر کوئی بھی حسن اپنا آپ،اپنی اصل دان کر دیتا ہے۔اب یہ لینے والی آنکھ کا ظرف ہے کہ وہ پتھر کے بت کی طرح بس اپنی "میں" میں مست رہتی ہے یا پھر اسے جذب کر کے اس کی خوشبو آگے پھیلا دیتی ہے۔
 یہ  کمال نگاہ کا  ہی ہے کہ کس رنگ میں کون سا منظر اُس کے سامنے اُترتا ہے  یا  وہ کس منظر کو کس رنگ میں دیکھتی ہے۔ ہر متنفس ایک جیسا ہو کر بھی اپنی الگ پہچان الگ شناخت رکھتا ہے۔آنکھ کھلی ہو تو ہر جگہ اللہ کی رحمت کی قربت محسوس کی جا سکتی ہےماننے والوں کے لیے ہر منظر میں نشانیاں ہیں۔لیکن شک کرنے والوں کے لیےراہ میں دلائل کے پہاڑ حائل ہیں تو کہیں شک کی کھائیاں۔
 اپنے آپ کو دوسروں کی ظاہری نگاہ سے ضرور دیکھو لیکن عمل اپنے دل کی آواز پر کرو نہ کہ اپنے علم کی بنیاد پر کہ علم کی بنیاد پر عمل کرنے کا یقین اکثر انا اور تکبر کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان کو اس کے دل سے سچی گواہی اور کہیں سے نہیں ملتی ۔ دل کی سچائی کے لیے صرف ایک شرط کہ اس پر رب تعالیٰ کی طرف سے مہر نہ لگی ہوئی ہو۔اللہ سب اہل دل کو اس کا اہل بنائے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
زندگی کے چیختے چلاتے حقائق ہوں یا فطرت کا منظر کسی کو رنگ کا کوئی شیڈ زیادہ دکھتا ہے تو کسی کو کم۔ اللہ اپنی افضل تخلیق کو کیسے کیسے رنگ کیسے کیسے نقش عطا کرتا ہےہم کبھی نہیں جان سکتے لیکن رب کی تخلیق سے محبت کرنا اس کو محسوس کرنا رب سے قربت کا ایک وسیلہ ہے اور کچھ بھی تو نہیں۔
منظر ہمیشہ دوسرے کی آنکھ سے دیکھ کر ہی واضح ہوتا ہے۔دُنیا ایک آئینہ خانہ ہے۔جابجا بکھرے آئینےہمیں ہمارا اصل چہرہ دکھاتے ہیں ۔آئینہ کوئی بھی ہو عکس کی خوبصورتی اُس کے درمیان فاصلے سے مشروط ہے۔ حد سے بڑی قربت نہ صرف منظر دھندلا دیتی ہے بلکہ سوچ کے کینوس کو بھی محدود کر دیتی ہے۔  آئینے شفاف ہوں تو ہمارے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں۔ دھندلے۔۔۔کرچی کرچی آئینے ہمارے وجود کو ہزار ٹکڑوں میں بانٹ دیتے ہیں۔نوکیلے عکس کے یہ آئینے بہت تکلیف دیتے ہیں۔کہیں ایک بھی آئینہ ہمارے نقش کا رازداں بن جائے تو سکون کی ایک گھڑی اذیت کے ہزارہا برس پر بھاری پڑتی ہے۔
لیکن کیا کیا جائے ! سکون کا یہ پل نرم ہوا کے جھونکے کی طرح ہے اور کرب کی شدت رگوں میں اتر کر ہڈیوں کا گودا تک نچوڑ لیتی ہے۔"وجود کے تپتے ریگ زار میں ہوا کی یہ سرگوشیاں سرابِ نظر ہی ہیں اور کچھ بھی نہیں"۔

"عقل"

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا یاں راہ میں ہر سفری کا
(میر تقی میر)
کائنات کا سب سے بڑا سچ انسان کا اشرف المخلوقات ہونا ہے اور انسان کا سب سے بڑا شرف اپنے اس اعزاز کو پہچاننا ہے۔
اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سب سے بڑا تحفہ"عقل"ہے اللہ کی عطا جان کر جب وہ اس نعمت کو استعمال کرتا ہے تو ایمان کی بلندی چھو لیتا ہے اورجب اپنے آپ کو عقلِ کُل جان کر اپنے خدا خود تخلیق کرتا ہے تو ذلت کے گڑھے کو اپنی معراج تصور کر کے اپنی جنت دُنیا میں بنا لیتا ہے۔
عقل انسان کی سب سے بڑی رہنما۔۔۔ سب سے مخلص دوست اور سب سےعظیم نعمت ِاٖلٰہی ہے۔ اس کے بل بوتے پر انسان حیرت انگیز کارنامےسرانجام دیتا ہے تو کہیں تلاشِ ذات کی کٹھن منازل یوں طے کرتا چلا جاتا ہے جیسے کوئی پھولوں کی روش پرسہج سہج اُترے اور انجان کانٹوں کا لمس ایک لحظے کی ٹیس سے زیادہ محسوس نہ ہو۔عقل نہ صرف محبتوں کی پہچان سکھاتی ہے بلکہ عشق وجنوں کی بھول بھلیوں سے بحسن وخوبی بچا کر نکالنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔
عقل بہت کچھ ہے لیکن عقل سب کچھ نہیں۔عقل "کُل" کے ایک "جزو" سے بھی کم تر ہے۔عقل کو مختارِکل کا درجہ دینے والے وقت کے فرعون بن جاتے ہیں۔ عقل انسان کو فخر وغرورکا نشہ اتنی خاموشی سے لگا دیتی ہے کہ آخری سانس سے پہلے تک انسان اس کے خمار میں مدہوش رہتا ہے۔
ہمیں کہا گیا ہے۔۔۔عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔۔۔ تم غورکیوں نہیں کرتے ۔۔۔ تم سوچتے کیوں نہیں۔
جب کہا گیا کہ آنکھوں والے نابینا ہیں تو اس کا کیا مطلب ۔۔۔ یہی کہ بصارت بصیرت کے ساتھ موجود ہو تو کوئی منظر واضح ہوتا ہے۔ انسان اور حیوان کا بنیادی فرق سوچ کا ہے۔۔۔ سوچ کے انداز کا ہے۔
ایک سچ یہ بھی ہے کہ کچھ چیزوں کا فیصلہ عقل نہیں وقت کرتا ہے۔اور کچھ باتیں عقل سے توبہت سی باتیں عمر سے سمجھ آتی ہیں۔ دعا یہ کرنا چاہیے کہ جب ہماری عمر اُن باتوں کو سمجھنے کے قابل ہو جائے تو ہماری عقل بھی سلامت رہے ورنہ عمر کے تجربے بےکار ٹھہرتے ہیں۔اور عقل سے بات سمجھنے کا بس ایک اصول ہے کہ مانتے جاؤ سنتے جاؤ اور فیصلے صادر نہ کرو وقت خود ہی ہر شے کی اصلیت ظاہرکر دے گا۔
عقل اورجنون دو متضاد رویے ہیں۔۔۔ ایک دوسرے سے بہت دوردریا کے دو کنارے جو کبھی نہیں ملتے۔ ہرقدم سوچ کر رکھو تو سفر طے ہوتا ہے ورنہ قدم قدم پرکھائیاں اوردلدل ہیں۔
عقل کا چور دروازہ صرف انہی کو دکھتا ہے جن کی تلاش کا سفر جاری ہے ورنہ اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے 

والے ڈوبتی ناؤ کی طرح بنا کسی نام ونشان کے صفحۂ ہستی سے مٹ جایا کرتے ہیں۔


"منیرہ قریشی اور اُن کی کُتب"

تعارف مصنف   منیرہ قریشی    درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ    سماجی اور رفاعی اداروں کے قیام کے حوالے سے  واہ کینٹ کا ایک ...