۔لکھ...اُس کے اذن سے...جو کہی اور ان کہی خوب جانتا ہے۔ رہنمائی...صرف اللہ سے اور اپنے دل سے۔۔۔انسان صرف دھوکا اور رکاوٹ ہیں۔
ہفتہ, نومبر 28, 2015
" جیون ساگر کا عالی"
"گرہ در گرہ"
سرسری نگاہ سے جائزہ لیا جائے تو مردعورت خواہ کاغذ کے بندھن میں ساتھ رہیں یا کسی ان دیکھے تعلق کی ڈور میں بندھ جائیں ایک دوسرے کی ضرورت بن جاتے ہیں۔وہ اپنی اپنی ضرورتیںِ،خواہشیں ،حسرتیں اور جبلتیں ہرانداز میں ایک دوسرے کے حوالے کرنے کو بھی آزاد ہوتے ہیں۔جسمانی تعلقات اور ذہنی رشتے قائم کرنا انسانی فطرت اور جبلت کاحصہ ہے جس میں محبت اور کشش کو ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔چاہ کی ڈور میں گندھے ایسے جذبے ہیں جن کے سرے تلاش کرنا اکثراوقات ناممکن دکھتا ہے۔جسمانی ہم آہنگی اور محبت دو متضاد چیزیں ہیں۔اسی طرح محبت کے بغیر محض ذہنی ہم آہنگی فقط اپنے آپ کو دھوکا دینے یا راہِ فرار اختیار کرنے کی بات ہے۔درحقیقت ذہنی ہم آہنگی کا بُت ٹوٹنے کے بعد انسان کسی کو کچھ کہنے کے قابل نہیں رہتا۔مکمل جسمانی آسودگی ذہنی تعلق کے بنا صرف تھکن اور بوجھ ہے اور صرف ذہنی قربت ایسے ریشمی دھاگوں کا فریب بن جاتی ہے جس کی گرہوں کو کھوجتے انگلیاں تھکنے لگتی ہیں لیکن کہیں سے فرار کے سرے نہیں ملتے۔ایسی جامد خاموشی روح کو اپنے حصار میں جکڑتی ہے کہ انسان کسی کو پکارنے کے قابل رہتا ہےاور نہ اپنے آپ سے کچھ کہنے کی ہمت رکھتا ہے۔اس بات کو جناب اشفاق احمد نے اپنی کتاب "سفردرسفر(صفحہ67)" میں یوں بیان کیا۔
۔"جب انسانوں کے درمیان جسم کی محبت ہو تو وہ ایک دوسرے کی طرف مقناطیس کی طرح کھچنے لگتے ہیں جب ان میں آگہی اور دانش کی قدر مشترک ہوتو وہ لمبی سیروں ،لمبے راستوں اور لمبے سفر کے ساتھی بن جاتے ہیں اور جب ان کی محبت میں روحانیت کا ابر اُتر آئے تو وہ بستروں کے انبار میں دو معصوم بچوں کی طرح ٹانسے کی چادریں بن جاتے ہیں جس سے ان کی رہائی مشکل ہو جاتی ہے وہ یا تو چیخ چیخ کر مدد کرنے والوں کو بلاتے ہیں یا دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں"۔
اِسی اُلجھن میں زندگی سرکتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ تعلقات خواہ کسی بھی انسان سے کسی بھی سطح پر کیوں نہ ہوں کچھ وقت گزرنے کے بعد اپنی اصل میں بےرنگ ہو جاتے ہیں۔اکثراوقات ذہنی ہم آہنگی بھی ذہنی لاتعلقی میں بدلتے دیر نہیں لگاتی۔
اسباقِ زندگی کے رٹے لگاتے لگاتے ساری عمرعمرِرائیگاں کی طرح گزار کر انسان آخر میں خالی ہاتھ خالی ذہن رہ جاتا ہے۔محبت نفرت،غرض بےغرضی ہر چیز بےمعنی دکھتی ہے۔اس سمے اگر ہم ذہن ودل کی کشادگی کے ساتھ اس فانی دنیا میں فانی جذبوں کی رمز سمجھنے کی کوشش کریں تو دکھائی دیتا ہے کہ بحیثیت انسان ہمارے دوسرے انسانوں سے گر جسمانی رشتے ہیں تو محبت کے تعلق بھی ہوتے ہیں لیکن ان سے ہٹ کر ایک احساس کا تعلق بھی ہوتا ہے جسے ہم مانتے تو ہیں لیکن سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔احساس کا یہ تعلق جسمانی اور ذہنی ہم آہنگی سے بھی بہت آگے ہے۔حد تو یہ ہے کہ احساس کی قربت کی خوشبو وقت اور فاصلوں کے حساب کتاب کی بھی پابند نہیں اورنہ ہی جنسِ مخالف کی جانب فطری کشش اس کا سبب بنتی ہے۔مجازی تسکین کے اس احساس کو سمجھنے کے لیے ہمیں مالک ِحقیقی اور انسان کے اسی ربط پر غور کرنا ہے جس کی وضاحت قران پاک کی کئی آیات میں ملتی ہےاور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کبھی اپنے جسمانی اور روحانی رشتوں کا تقابل نہیں کرنا ورنہ شدید قسم کی الجھن کا شکار ہو جائیں گے۔ہرجذبے،ہراحساس کو سمجھنا اور ہر رشتے میں توازن برقرار رکھنا نہ صرف ہمارے سکون بلکہ اس کی بقا کے لیے بھی ضروری ہے۔
کچھ رشتے یا تعلق ہم بہت ناپ تول کر بناتے ہیں اورکچھ بغیرکسی حساب کتاب کے خود ہی بن جاتے ہیں۔خون کے تعلق سے جُڑے اٹوٹ رشتے ہوں یا روح کی تسکین کا حاصل غیرمرئی تعلق،وقت کی کسوٹی سب بھید کھول دیتی ہے۔رشتے روگ بن جائیں تو زندگی چاٹ جاتے ہیں اور تعلق روگ بن جائے تو مقصدِ حیات سے دُور کر دیتا ہے۔
مقدر سے بنے والے رشتے چیزوں کی طرح ہوتے ہیں۔ بنانے سے پہلے خواہ کتنی ہی چھان پھٹک کر لو، عمر کے تجربے سے جانچ لو،رنگ ونقش کی ضمانت کی قسمیں اُٹھوا لو۔جب تک قریب سے برتنے کی نوبت نہیں آتی۔سب ہوائی اور فرضی باتیں ہی رہتی ہیں۔اصل امتحان تو یہ ہے کہ زندگی کے سودے میں سب خسارا جاننے،سمجھنے کے بعد کبھی تو اپنی زندگی کی قیمت پر،کبھی خود سے وابستہ خونی رشتوں کے سکون کی خاطر"آخری حد" تک سمجھوتے کا کڑوا گھونٹ امرت جان کر پینا ہے۔ بس "آخری حد" کی سمجھ ہی زندگی کہانی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔خواہ یہ آخری حد زندگی کے آخری سانس تک چلے۔
بدھ, نومبر 04, 2015
سرورق کتب۔۔۔۔مستنصرحسین تارڑ
کالم۔۔۔صادقین، ایم ایف حسین سے لے کر عمران قریشی تک کا سفر ــــ مستنصر حسین تارڑ
۔22 جولائی 2015
پچھلے دنوں تقریباً پچیس برس بعد میرے افسانوں کا دوسرا مجموعہ"15۔۔ کہانیاں"شائع ہوا تو اس کےسرورق کو بہت سے پڑھنے والوں نے پسند کیا،وہاں کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے باقاعدہ احتجاج کیا کہ سرورق پر خون کے چھینٹے طبع پر گراں گزرتے ہیں۔ اتنا خون چھڑکنے کی کیا ضرورت تھی، تو میں نے ان سے گزارش کی کہ ادبی کتابوں کے سرورق بھی اس عہد کے سیاسی، ثقافتی اور مذہبی رجحانات کی نمائندگی کرتے ہیں، اس مجموعے میں چونکہ بہت سی کہانیاں دہشت گردی اور مذہبی تعصب کے نتیجے میں ہونے والے قتل و غارت کو بیان کرتی ہیں، سانحہ بابوسر ٹاپ، سوات میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات، پشاور کے بچوں کے قتل عام اور ایک مسیحی جوڑے کو زندہ جلا دینے والے بہیمانہ سانحے کے بارے میں ہیں تو سرورق پر خون کے چھینٹوں کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔
البتہ آپ اگر غور کریں تو خون کے ان چھینٹوں میں کہیں کہیں گلاب کے سرخ پھول بھی کھلتے نظر آتے ہیں یعنی کم از کم میں اب بھی امید کے شجر سے پیوستہ ہوں اور امیدِ بہار رکھتا ہوں۔ ’’15 کہانیاں‘‘ کا یہ سرورق پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور عمران قریشی کی تخلیق ہے جس کی تصویریں دنیا کی بیشتر آرٹ گیلریوں میں آویزاں ہیں یہاں تک کہ میٹرو پالٹن میوزیم نیویارک کی چھت پراس کا ایک خصوصی شو بھی منعقد کیا گیا تھا اورآج اس کی تصویریں بین الاقوامی مارکیٹ میں ہزاروں ڈالروں میں فروخت ہوتی ہیں۔۔۔ وہ اس عہد کا نمائندہ مصور ہے اور مجھے فخر ہے کہ اس نے بغیر کسی معاوضے کے میرے افسانوں کے مجموعے کا سرورق تخلیق کیا۔
ادیبوں اور شاعروں کی نسبت میں مصوروں سے زیادہ قریب رہا ہوں اور اسی لئے میری کتابوں کے سرورق پاکستانی مصوری کی ایک نمایاں آرٹ گیلری کی صورت اختیار کر گئے ہیں، اور اپنے ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مجھے اپنی نمائش مقصود نہیں میں صرف پاکستان کے ان عظیم مصوروں کو ہدیۂ تبریک پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی معاوضے کے میری کتابوں کے سرورق بنائے۔۔۔ میری کتابوں کی تعداد ساٹھ سے بڑھ چکی ہے ، اس لئے سب کا تذکرہ ممکن نہیں، سرورق کے حوالے سے جو سفرنامے، ناول اور کالم وغیرہ اہم ہیں ان کے مصوروں کا مختصر تذکرہ کروں گا۔
۔ 19711ء میں شائع ہونے والے میرے پہلے سفرنامے’نکلے تری تلاش میں‘‘کا سرورق مصورِمشرق عبدالرحمن چغتائی کا ایک انوکھا شاہکار تھا۔ چغتائی صاحب کے ساتھ میری کبھی ملاقات نہ ہوئی۔ یہ کمال مقبول جہانگیر کا تھا کہ انہوں نے میرے سفرنامے کے کمالات کے بارے میں ایسی لچھے دار گفتگو کی کہ چغتائی صاحب نے ٹائٹل بنانے کی ہامی بھری۔۔۔ سرورق کی یہ ڈرائنگ آج بھی میری سٹڈی ٹیبل کے پہلو میں آویزں ہے، اسی سفرنامے کے دوسرے ایڈیشن کے لئے صادقین نے زبردست سرورق بنایا۔
میری پورٹریٹ کے علاوہ بیس سے زیادہ خاکے بھی تصویر کئے، ان میں سے کچھ خاکے شائع نہ ہوسکے کہ ان میں صادقین خواتین کو کپڑے پہنانا بھول گئے تھے، ازاں بعد ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کے درجنوں ایڈیشن شائع ہوئے جن کے سرورق معروف مصوروں نے تخلیق کئے۔۔۔
۔"اندلس میں اجنبی"کا پہلا سرورق جناب آزر زوبی نے بنایا۔
دوسرے ایٖڈیشن کا سرورق فیض صاحب کی بیٹی سلیمہ ہاشمی نے اور تیسرے ایڈیشن کے ماتھے پر لمحۂ موجود میں پاکستان کے سب سے بڑے مصور سعید اختر کا ایک شاہکار تھا۔۔۔ ’’خانہ بدوش‘‘کا ٹائٹل جو میری آوارگیوں کا ایک نقش تھا وہ بھی سعید اختر کا تخلیق تھا۔۔۔ ایک مرتبہ پھر ’’بہاؤ‘‘ کے پہلے ایڈیشن کا سرورق سعید اخترنے بنایا اور پھر ذوالفقار تابش نے اپنے مخصوص انداز میں اپنے جوہر دکھائے۔۔۔’’راکھ‘‘ کا سرورق جدید مصوری کے نمائندہ ترین مصور قدوس مرزا نے تخلیق کیا۔ میں قدرے شرمندگی سے عرض کرتا ہوں کہ میری بیشتر کتابوں کے چونکہ درجنوں ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اس لئے ممکن نہیں کہ میں ہر مصور کے سرورق کا تذکرہ کر سکوں۔۔’’قربت مرگ میں محبت‘‘کے پہلے ایڈیشن کے لئے سعید اختر اور نذیر احمد نے مشترکہ طور پر ایک تصویر بنائی۔۔۔ ’’خس و خاشاک زمانے‘‘کے دوسرے ایڈیشن پر غلام رسول کمال کے مصور ہیں۔۔۔ بشیر فراز نے بھی میرے لئے خصوصی سرورق تیار کئے، اور ہاں بعدازاں’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کے لئے عبدالرحمن چغتائی کے بھتیجے اور میرے دوست عبدالوحید چغتائی نے کیا ہی دلکش سرورق بنایا۔۔۔ میرے ناول ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ کے تادم تحریر ساٹھ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اس کے سروق کی تزئین متعدد نامور مصوروں نے کی لیکن ان میں کلاسیک سعید اختر کی پاسکل کی دلکش پورٹریٹ کو قرار دیا گیا۔۔۔’’نیپال نگری‘‘ کا سرورق لینڈ سکیپ کے باکمال مصور نذیراحمد نے بنایا۔
ایک زمانہ تھا جب ادبی کتابوں کے سرورق کے لئے ان زمانوں کے بڑے مصور بخوشی اپنے رنگ پیش کرتے تھے اور میں بھی بہت تردد کیا کرتا تھا۔ اور اب تو یہ ہے کہ میری بیشتر کتابوں کے سرورق کمپیوٹر کی مصوری اور تزئین سے آراستہ ہوتے ہیں کہ یہ کام آسان ہو چکا ہے۔ کتاب کی روح سرورق میں ہوتی ہے اور ایک مدت سے سرورق بے روح ہو چکے ہیں۔
اور ہاں میں بھولنے کو تھا میرے اولین ناولٹ ’’فاختہ‘‘ کے تازہ ایڈیشن پر ہندوستان کے سب سے بڑے مصور ایم ایف حسین کے ہاتھوں سے تخلیق کردہ ایک فاختہ کا نقش ہے اور اس سرورق کے لئے میں نے حسین صاحب کی بہت منت سماجت کی تھی۔۔۔ اور حسین کا بنایا ہوا فاختہ کا یہ نقش بھی میری سٹڈی ٹیبل کے پہلو میں چغتائی صاحب کی ڈرائنگ کے برابر میں آویزاں ہے، اور پھر ایک عجیب اتفاق ہوا، مسجد نبویؐ میں منبر رسولؐ کی قربت میں نفل ادا کرتے ہوئے میں سلام پھیرتا ہوں اور دائیں جانب ایک سفید ریش بوڑھا روتا ہوا نظر آتا ہے اور اس کی مشابہت شناسا سی ہے اور وہ ایم ایف حسین ہے۔ اس کے برابر میں اس کا بھتیجا بیٹھا ہے اور وہ اپنے چچا کو قرآن پاک پڑھ کرسنا رہا ہے۔ حسین کی بنائی ہوئی ہندو دیو مالا کی کچھ دیویوں کی برہنہ تصویریں بنانے پر ہندو علمائے کرام مشتعل ہو گئے کہ ہائیں ایک مسلمان کی یہ جرأت، حسین کو اپنی جان بچانے کے لئے ہندوستان سے فرار ہونا پڑا۔۔۔ قطر نے اسے خوش آمدید کہہ کر اپنی شہریت سے نوازا۔ ظاہر ہے میں مسجد نبویؐ میں حسین کی عبادت میں مخل ہوا، انہیں میں یاد آگیااور ہم نے کچھ باتیں کیں۔ حسین کچھ عرصہ بعد دربدری کی حالت میں لندن میں مر گیا۔
چنانچہ پچھلے پینتالیس برس میں میری جو ساٹھ سے تجاوز کرتی کتابیں شائع ہوئی ہیں ان کے سرورق اپنے زمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور اب اگر ’’15 کہانیاں‘‘ کے سرورق پر خون کے چھینٹے ہیں تو کیا یہ ہمارے عہد کی تصویر نہیں ہیں؟
بدھ, اکتوبر 21, 2015
" خزاں "

زندگی موسموں کےآنے جانے کا نام ہے اور موت انہی موسموں کے ٹھہر جانے سے وجود میں آتی ہے۔زندگی موت کی یہ آنکھ مچولی ہم اپنے آس پاس مظاہرِ فطرت میں ہر آن دیکھتے چلے جاتے ہیں۔۔۔کبھی اپنے جسم وجاں میں اِن کا لمس محسوس کرتے ہیں تو کبھی بنا چکھے بنا دیکھے یوں اِس کا حصہ بن جاتے ہیں کہ سب جان کر بھی کچھ نہیں جان پاتے اور بہت کچھ سمجھتے ہوئے بھی سرسری گزر جاتے ہیں کہ ہماری عقل کی حد ہماری آنکھ کے دائرے سے باہر پرواز کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔خزاں ہو یا بہار آنکھ کی چمک باقی رہے تو دیکھنے والی آنکھ ہررنگ میں زندگی کے نقش تلاش کر لیتی ہے۔
ایسی ہی ایک خزاں رُت کا احوال پہاڑوں کے ایک مکین کی زبانی۔۔۔۔
دُور پہاڑوں پر خزاں رُت کی پکار
خنک ہوا اور یہ رات
ادھر ذرا خزاں کا سنو
جب اکتوبر شروع خزاں شروع
شروعات اخروٹ کے درخت سے۔ ۔جب زمین پر اخروٹ گرنا شروع ہوتے آواز کے ساتھ ۔۔۔۔
آواز ایسی جیسے طبلِ جنگ۔۔۔
یوں کہ اک لمبی خزاں کی یلغار
مگر شروعات بہت سحرانگیز
جب ہوا اک مست کر دینے والی آواز کے ساتھ اپنے مدھر ساز بجائے۔۔۔
جب پتے زردی کا لبادہ اُوڑھ لیتے ہیں۔۔۔۔
ہوا کے ساتھ سرسراتے ہیں۔۔۔۔
خنکی بےخود کرنے والی۔۔۔۔
پھر ایک دم ہوا کا رُک جانا۔۔۔ یوں کہ ایک ایک پتہ گرتا محسوس ہو۔۔۔
جیسے آپ کی روح پہ وہ زردی گر رہی ہو۔۔۔
پھر سرِعام ایک ماتمی نظارہ۔۔۔۔ زمین پہ پڑے پتوں کے لاشے۔۔۔اور پیلے سُرخ پیرہن۔۔۔۔
اُن پتوں پہ چلنا آہستہ آہستہ ۔۔۔ہر قدم کے ساتھ وہ ٹوٹتے لاشے۔۔۔۔
ساتھ سنسان تاریک راتوں میں اخروٹ کے گرنے کی آواز۔۔۔
کرچ کرچ کی ایسی آواز جو رات کو آپ کی سماعتوں میں بسیرا کر کے رت جگا کرائے۔۔۔
ارے نادان!اصل خزاں پہاڑوں پر ہی تو ہوتی ہے۔جو پوری سردی آپ کو اُداس رکھتے ہیں۔۔۔ایک ایک پتے کے گرنے کی آواز دل پہ جا کر لگتی ہے۔۔۔اور اُن درختوں کو سوگوار دیکھ کر آپ کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
.....
شجر بےسایہ ہو جائے تو سمجھو
بچھڑ جانے کا موسم آ گیا ہے
دریچے بند کر کے سونے والو
محبت عمر بھر کا رت جگا ہے
کہاں ہم اور کہاں ترک مراسم
مگر وہ لمحہ شاید آ گیا ہے
۔(امید فاضلی)۔
جمعرات, اکتوبر 08, 2015
" آفتِ ارضی۔۔۔ آٹھ اکتوبر 2005"
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے بعد اگر پاکستانی قوم کا جذبۂ خدمت اُبھر کر سامنے آیا تو انسان کی سفاکی اوربےحسی کے لرزہ خیز واقعات نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا۔جب مرتے ہوئے جسموں سے زیورات نوچے گئےتو کہیں بہت سےبےسہارا بچےاورخواتین نامعلوم افراد کی خباثت کی بھینٹ چڑھ گئے۔سینکڑوں ابھی تک لاپتہ ہیں جن کی موت یا زندگی کے بارے میں ان کے پیارے شاید ہمیشہ شک وشبے کا شکار رہیں گے۔
اس ہولناک زلزلے کو آئے ایک عشرہ گذر گیا اور آج یہ عالم ہےکہ اِن علاقوں کے بہت سے لوگ اب بھی خیموں اورعارضی مکانوں میں مقیم ہیں۔زلزلے سے منہدم ہو چکے تعلیمی ادارے بمشکل پچاس فیصد بحال ہوئے۔صوبہ سرحد میں وادی کاغان کا سیاحتی دروازہ بالاکوٹ کا شہر جو تقریباً پورا کا پورا تباہ ہو گیا تھا فالٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے یہاں حکومت کی طرف سے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا گیا۔حکومتی سطح پر بحالی کے اقددامات صرف دعوؤں اور وعدوں کی حد سے آگے نہ بڑھ سکے۔اپنی نسلوں کو حرام کی دولت وراثت میں دینے والے اہلِ اقتدار نے کرپشن اور لوٹ مار کی بہتی گنگا میں اپنا حصہ خوب وصول کیا، وقت گذرنے سے مالی اور معاشی زخم تو کسی حد تک مندمل ہو ہی گئے لیکن ایک قومی سانحہ محض ان خاندانوں کی ذاتی یاد بن کر رہ گیا جن کے اپنے اس زلزلے کی نذر ہو گئے تھے۔
نَے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں(غالب)۔
منگل, اکتوبر 06, 2015
"منظر، قربت اور نگاہ "
یہ کمال نگاہ کا ہی ہے کہ کس رنگ میں کون سا منظر اُس کے سامنے اُترتا ہے یا وہ کس منظر کو کس رنگ میں دیکھتی ہے۔ ہر متنفس ایک جیسا ہو کر بھی اپنی الگ پہچان الگ شناخت رکھتا ہے۔آنکھ کھلی ہو تو ہر جگہ اللہ کی رحمت کی قربت محسوس کی جا سکتی ہےماننے والوں کے لیے ہر منظر میں نشانیاں ہیں۔لیکن شک کرنے والوں کے لیےراہ میں دلائل کے پہاڑ حائل ہیں تو کہیں شک کی کھائیاں۔
"عقل"
اسباب لٹا یاں راہ میں ہر سفری کا
(میر تقی میر)
کائنات کا سب سے بڑا سچ انسان کا اشرف المخلوقات ہونا ہے اور انسان کا سب سے بڑا شرف اپنے اس اعزاز کو پہچاننا ہے۔
اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سب سے بڑا تحفہ"عقل"ہے اللہ کی عطا جان کر جب وہ اس نعمت کو استعمال کرتا ہے تو ایمان کی بلندی چھو لیتا ہے اورجب اپنے آپ کو عقلِ کُل جان کر اپنے خدا خود تخلیق کرتا ہے تو ذلت کے گڑھے کو اپنی معراج تصور کر کے اپنی جنت دُنیا میں بنا لیتا ہے۔
عقل انسان کی سب سے بڑی رہنما۔۔۔ سب سے مخلص دوست اور سب سےعظیم نعمت ِاٖلٰہی ہے۔ اس کے بل بوتے پر انسان حیرت انگیز کارنامےسرانجام دیتا ہے تو کہیں تلاشِ ذات کی کٹھن منازل یوں طے کرتا چلا جاتا ہے جیسے کوئی پھولوں کی روش پرسہج سہج اُترے اور انجان کانٹوں کا لمس ایک لحظے کی ٹیس سے زیادہ محسوس نہ ہو۔عقل نہ صرف محبتوں کی پہچان سکھاتی ہے بلکہ عشق وجنوں کی بھول بھلیوں سے بحسن وخوبی بچا کر نکالنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔
عقل بہت کچھ ہے لیکن عقل سب کچھ نہیں۔عقل "کُل" کے ایک "جزو" سے بھی کم تر ہے۔عقل کو مختارِکل کا درجہ دینے والے وقت کے فرعون بن جاتے ہیں۔ عقل انسان کو فخر وغرورکا نشہ اتنی خاموشی سے لگا دیتی ہے کہ آخری سانس سے پہلے تک انسان اس کے خمار میں مدہوش رہتا ہے۔
ہمیں کہا گیا ہے۔۔۔عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔۔۔ تم غورکیوں نہیں کرتے ۔۔۔ تم سوچتے کیوں نہیں۔
جب کہا گیا کہ آنکھوں والے نابینا ہیں تو اس کا کیا مطلب ۔۔۔ یہی کہ بصارت بصیرت کے ساتھ موجود ہو تو کوئی منظر واضح ہوتا ہے۔ انسان اور حیوان کا بنیادی فرق سوچ کا ہے۔۔۔ سوچ کے انداز کا ہے۔
ایک سچ یہ بھی ہے کہ کچھ چیزوں کا فیصلہ عقل نہیں وقت کرتا ہے۔اور کچھ باتیں عقل سے توبہت سی باتیں عمر سے سمجھ آتی ہیں۔ دعا یہ کرنا چاہیے کہ جب ہماری عمر اُن باتوں کو سمجھنے کے قابل ہو جائے تو ہماری عقل بھی سلامت رہے ورنہ عمر کے تجربے بےکار ٹھہرتے ہیں۔اور عقل سے بات سمجھنے کا بس ایک اصول ہے کہ مانتے جاؤ سنتے جاؤ اور فیصلے صادر نہ کرو وقت خود ہی ہر شے کی اصلیت ظاہرکر دے گا۔
عقل اورجنون دو متضاد رویے ہیں۔۔۔ ایک دوسرے سے بہت دوردریا کے دو کنارے جو کبھی نہیں ملتے۔ ہرقدم سوچ کر رکھو تو سفر طے ہوتا ہے ورنہ قدم قدم پرکھائیاں اوردلدل ہیں۔
عقل کا چور دروازہ صرف انہی کو دکھتا ہے جن کی تلاش کا سفر جاری ہے ورنہ اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے
والے ڈوبتی ناؤ کی طرح بنا کسی نام ونشان کے صفحۂ ہستی سے مٹ جایا کرتے ہیں۔
"منیرہ قریشی اور اُن کی کُتب"
تعارف مصنف منیرہ قریشی درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ سماجی اور رفاعی اداروں کے قیام کے حوالے سے واہ کینٹ کا ایک ...
-
قلم سے آواز تک سوانح حیات۔۔۔ رضا علی عابدی مصنف :: خرم سہیل سال اشاعت:: 2014 دیباچہ :: انتظار حسین کُتب خانہ۔۔۔ شائع ہونے وا...
-
نکلے تِری تلاش میں "۔۔۔۔۔پہلی کتاب۔۔۔۔۔پہلا صفحہ۔۔ پہلے لفظ۔۔ " تمہیں معلوم ہے کہ ایک ایسی جگہ ہے جس کے دونوں طرف اونچے...
-
اب مِرا انتظار کر۔۔۔ انتظار حسین سے متعلق مستنصرحسین تارڑ صاحب کی ایک لازوال تحریر۔ انتظار بھولنے والوں یا معاف کردینے والے قبیلے کے ن...








