ہفتہ, اکتوبر 13, 2012

"اللہ کے نام سے "



سورۂ الفاتحہ (1)آیت ۔2۔۔ ترجمہ
۔"سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے"۔
سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔۔۔
جب ہم کسی شے سے پُوری طرح مُطمئن ہوتے ہیں تو پھر ہی اُس کی تعریف کرتے ہیں لیکن اللہ کےمعاملےمیں ہم ڈراور خوف سے۔۔۔ایک فرض اور جبرکےطورپر جب تعریف کرتے ہیں تو اللہ سےلاشعوری طور پر دُور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ہم  اللہ کےسامنےاپنی کمزوریاں نہیں لانا چاہتے۔
ہم اللہ سے ڈرتے ہیں۔۔۔اُس کی عبادت کرتے ہیں۔۔۔آخرت پرایمان لاتے ہیں لیکن سب سے ضروری کام کے وقت ہم تھک چُکے ہوتے ہیں۔ہم عمل پہلے کرتے ہیں اورسوچتے بعد میں ہیں۔قُرآن پاک کی پہلی سورۂ کی دوسری آیت پراپنی توجہ مرکوز کریں۔۔
"سب تعریف اللہ کے لیے ہے"
اِس آیت میں کسی عبادت کے کرنے کا حُکم نہیں دیا گیا۔اللہ کی تعریف کرنا ہے۔اگرہم اللہ کو جانتے ہوں گے پھر ہی اُس کی تعریف کر سکیں گے۔ ہم نے اپنے کاموں کی ترتیب ٹھیک کرنی ہے۔یعنی پہلےغور کرنا ہے۔۔۔سوچنا ہے۔۔۔سوچ کے بعد جب عمل کیا جائے گا،وہ ذمہ داری نہیں بلکہ ہماری رگوں میں دوڑتے خون کی مانند ہوگا۔۔۔جواپنا رستہ آپ بناتا ہےاور جسم کو تقویت بخشتا ہے۔اگربغیر سوچے سمجھےعمل کیا جائے گا۔۔۔تو وہ اُس خون کی طرح ہو گا۔۔۔جوراستہ تو اُسی طرح کا اختیار کرتا ہے لیکن کہیں رگوں میں جا کرکلوٹ پیدا کرتا ہے۔۔۔ توکہیں ہیمریج کا سبب بنتا ہے۔ پھرکبھی معمولی علاج سے روانی بہتر ہو جاتی ہے اورکبھی ساری عمر اس روگ کو پالتے گزر جاتی ہے۔
اپریل 21 ، 2011

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"بچپن سےپچپن تک"

"بچپن سے پچپن تک" پچیس جنوری ۔۔۔1967۔ پچیس جنوری۔۔۔2022۔ "جانا توبس یہ جانا کہ کچھ نہیں جانا" بچپن اور پچپن کے بیچ لفظی...