سوموار, اکتوبر 24, 2016

"مستنصرحسین تارڑ۔۔۔ ہمارا بےمثال لکھاری "



"بارش کا پہلا قطرہ"
۔24 اکتوبر 2014۔۔۔24 اکتوبر 2016"
جناب مستنصرحسین تارڑ کو خاموشی سے پڑھتے برسوں بیت گئے ۔ دو برس پہلے آج کے روز محترمہ ثمینہ طارق کے بلاگ کو پڑھنے کے بعد اس پر کمنٹ کی صورت پہلی بار جناب تارڑ کو سوچتے ہوئے لکھنا شروع کیا اور پھرتخیل کی رم جھم لفظ کے ملبوس میں اتنا برسی کہ آج تک تھمنے میں نہیں آئی۔
جناب مستنصرحسین تارڑ کے لفظ وقتی لذت یا سحر سے بہت  آگے زندگی برتنے اور اپنی عمر کے ہر ہر دور کے رویے اور احساسات سمجھنے کا قرینہ ہیں۔جناب مستنصرحسین تارڑ کا زرخیز تخیل  نشے کی طرح قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے تو اُن کے لفظ اُردو ادب کے نخلستان میں اس  ٹھنڈے میٹھے چشمے کی مانند ہیں کہ جس کے بعد کہیں اور پڑاؤ کی  طلب رہتی ہے اور نہ خواہش۔۔۔کم ازکم ہماری اس محدود عمر اور اُردو زبان میں  ہماری وسعتِ نگاہ  کی حد تک۔ورنہ دنیا میں اور  بھی بہت سے ادبی شاہکار ضرور ہوں گےاور یقیناً ہیں بھی جن تک ہماری رسائی نہیں۔لفظوں سے تصویر کشی کرتے ہوئے  فطرت اور فطرتی مناظر سے محبت کا سفر دیکھنے والی آنکھ کو اپنے ساتھ بہت دور تک بہا لے جاتا ہے لیکن سیلابی ریلے کی طرح ڈوبنے نہیں دیتا بلکہ آخر میں کنارے پر پہنچا ہی دیتا ہے۔۔۔ اگر کوئی پار لگنا چاہے۔جناب تارڑ کی ایک خاص بات یہ بھی  ہے کہ اپنی تحاریر کے آئینے میں  ہمیں نہ صرف دُور دیسوں کی سیر کراتے ہیں بلکہ وہاں  کے لکھاریوں ،ثقافت اور تاریخ سے بھی روشناس کراتے ہیں۔
شکریہ ثمینہ طارق۔۔۔،جناب  مستنصرحسین تارڑ کے حوالے سے میرے لکھنے کا سارا کریڈٹ آپ کے نام۔ 
اور شکریہ "مستنصرحسین تارڑ ریڈز ورلڈ" (فیس بک گروپ)کہ اس پلیٹ فارم نے نہ صرف میرے لفظ کو جگہ دی بلکہ میرے تخیل کو مہمیز کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔

یہ صرف "پلیٹ فارم" کا کمال ہے اوروسیع معنوں میں سمجھا جائے تو "زمین" کے لشکارے ہیں جو انسان کو کسی بھی مدار میں محوِرقص کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ دیکھا دیکھی کی جذباتی لہر ہرگز نہیں  اور نہ ہی عقیدت کی کسی بھاگ دوڑ میں تمغہ لینے کی ہوس ہے۔"مستنصرحسین تارڑ ریڈزورلڈ" میں بطورِخاص جناب تارڑ کے لفظ سے محبت کا سفر ان کے لمس کی قربت تک جا پہنچا اور ان کے چاہنے والے جہاں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فطرت سے قریب ہوتے ہیں وہیں ان کی شخصیت کے سحر میں گزرے چند لمحے عجیب خمار میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ اس گروپ میں جناب تارڑ کے حوالے سے نری عقیدت کی جہالت ہرگز نہیں بلکہ صرف اور صرف محبت ہے اور اس کے بےشمار رنگ اور انداز۔  "مستنصرحسین تارڑ ریڈرز ورلڈ"جناب مستنصرحسین  تارڑ کو پڑھنے والوں کا گروپ تو ہے ہی لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک ایسا"ہائیڈپارک" "بھی ہے جہاں مستنصرحسین تارڑ کے لفظ سے محبت کرنے والے بلاجھجکے اپنا دل کھول کر رکھ دیتے ہیں اور دل والے اسے اپنے دل کی آواز سمجھتے ہیں۔ بقول تارڑ یہ دیوانوں کی دنیا ہے۔ یہ گروپ عجیب دنیا ہے کہ اس نے  جناب تارڑ کے قارئین کو لکھاری بنا دیا، تارڑ کے لفظوں نے اگر دشت گردی اور فطرت کے سفر پر اکسایا، تو اس گروپ نےمناظر کی ہوس اور لذت میں مبتلا ان کوہ نوردوں کو عزت دی ان کے احساس کی قدر کی۔ یہاں لکھنے والے تو لکھتے ہی ہیں لیکن پڑھنے والے جو سب کہہ نہیں سکتے اور ان جگہوں پر جا بھی نہیں سکتے وہ اپنے دل کی بات سمجھتے ہیں اور اسی طور سراہتے بھی ہیں۔"تکیہ تارڑ" کے عنوان سے جمنے والی محفلوں  کے حوالے سے تحاریر  یاد کے ایسے سچے موتیوں سے لکھی جاتی ہیں  جن کی چمک نہ صرف لکھاری کی شخصیت کو روشن کرتی ہے بلکہ  قاری کی آنکھ کی نمی اس احساس کو سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
کبھی دیارِغیر میں ، برفیلی بارشوں میں جناب مستنصرحسین تارڑ  سے اُن کی تحاریر کے آئینوں  میں گرما گرم ملاقات کی روئیداد پڑھنے والے کو اُنہی لمحوں کا سیر کر دیتی ہے۔دور دیس میں  رہنے والے اپنی زبان اور ادب  کا علم اُٹھائے  جناب مستنصرحسین تارڑ کی تحاریر سے محبت  کرنے والے  اُن مہربان موسموں کی نوید  دیتے ہیں  جب بوئی گئی ان ننھی ننھی بےضرر خوشیوں کے بیج سےکتنے رنگا رنگ پھول کھلیں گےاور  اپنے وطن کی مٹی سے  محبت اور اپنائیت کی خوشبو کا اضافہ ہو گا۔
ایک ذرا سی خلش یا خامی کہہ لیں کہ جناب مستنصرحسین تارڑ کے لفظ سے سفر کرتی ان کی ذات تک پہنچنے والی محبت کے شیرے میں لبالب ڈوبی اُن کے قارئین کی تحاریر کی اس گروپ سے باہر کہیں جگہ نہیں۔ حتٰی کہ ہم میں سے بہت سوں نے کبھی اپنی ذاتی وال پر بھی  جناب تارڑ اور اُن ک کی تحاریر اپنے "دلی جذبات واحساسات" شئیر کرنے کی جئرات نہیں کی۔ اور یہی بات خاصی اہم بھی ہے کہ محبت یا عشق کی گہرائی اور پائیداری اس بات پر منحصر ہےکہ انسان ببانگِ دہل سب کے سامنے کہہ سکے دوسرے لفظوں میں اسے "اون" کرے۔
اور ایک خلش اور کہ اس گروپ میں بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ جناب تارڑ کے بارے میں کوئی اختلافی بات کی جائے گرچہ ایڈمنز اجازت دیتے ہیں لیکن اس گروپ کے قاری تصویر کے دوسری طرف دیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔۔۔اور اور اس میں ہرج بھی کوئی نہیں جس کی جتنی نظر ہے اس نے اسی کے دائرے میں سفر کرنا ہے۔ہم دوسرے کو کبھی بھی اپنے نظر کی حد میں دکھائی دینے والا منظر دیکھنے پر نہ مجبور کر سکتے ہیں اور نہ ہی ایسا ممکن ہے۔
گروپ کی مین وال صرف جناب تارڑ کی تحریر یا ان کی تصاویر کے لیے ہے اور اپنے ذاتی احساس کو اسی گروپ کے دوسرے لنک میں شئیر کیا جاتا ہے، لیکن چاہے جان بوجھ کر نہ بھی ہو ہوتا یہ ہے کہ جو جناب تارڑ سے لفظ سے ہٹ کر ذاتی طور پر قریب ہے اس کے احساس کے سامنے کوئی ضابطے نہیں چاہے وہ محض تصاویر ہوں یا "رائٹ اپ"۔۔۔۔
سو باتوں کی ایک بات ۔۔۔۔۔۔ "پارس"۔ ہم خودغرض انسان ہیں اپنا بھلا سوچیں تو جناب تارڑ کا ایک ہی کمال کافی ہے کہ انہوں نے اپنے قارئین کو لکھاری بنا دیا۔۔۔۔  پڑھنا ایک نشہ تو ہے لیکن لکھنا ایک ایسا نشہ ہے جس کا خمار انسان کو اپنی نظر میں محترم بنا دیتا ہے یوں جیسے کہ جینے کا  ایک مقصد  یہ بھی ہو۔کسی نئے نام کی پہلی تحریر دل میں اترنے والے لفظوں کی ایسی رم جھم ہوتی ہے جو روح میں جذب ہو کر اسے ایک عجیب سی سرخوشی میں مبتلا کر دیتی ہے اور دل بےاختیار اس مہان لکھاری کے لفظ اور خیال کی سچائی پر مہرِتصدیق ثبت کرتا ہے جس کا فیض روزاول کی طرح جاری ہے اور جو اپنے قاری کے دل میں رہتا ہے۔جو بھی ہے ہمارا لکھاری بےمثال ہے کہ اپنے قاری کو عزت کے بلند مقام پر بٹھا دیتا ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ جناب مستنصرحسین تارڑ کی زندگی کی روانی آپ کے قلم کی اسی تازگی کی طرح غیرمحسوس انداز میں سفر طے کرتی رہے۔ آمین اللہ سے دعا ہے تو صرف یہی کہ راضی برضا رکھے ہر حال میں ہر ساتھ میں اور سفر بخیر ہو 
چاہے دنیاوی ہو یا ابدی -آمین
جناب  مستنصرحسین تارڑ کے لفظ،اُن کی شخصیت اور ان کی کتابوں سے قربت کی خوشبو محسوس کرتے میرے  بیس سے زائد بلاگ میرا بہت قیمتی سرمایہ ہیں۔درج ذیل لنک پر جناب تارڑ کے حوالے سے میرے تمام بلاگ دیکھے جا سکتے ہیں ۔
http://noureennoor.blogspot.com/…/%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%86%…
دو برس پہلے آج کے روز ثمینہ طارق کے بلاگ  پر میرا اظہار۔۔۔
طویل سفر کے بعد ۔۔۔۔ لفظ کی خوشبو سے لمس کی مسکراہٹ کی عکاسی آپ نے بہت خوبی سے بلاگ کے کینوس پر بکھیری۔ تارڑ صاحب کے لفظ سے قربت کا میرا تعلق بھی برسوں پرانا ہے ۔ فطرت سے رومانس کا جو احساس جناب کے سفرناموں میں ملتا ہے وہ محبت کے جذبے کی آفاقیت پر یقین کی مہر ثبت کرتا ہے۔ محبت کی عام انسانی روش اور جبلی خواہشات کی غمازی کرتے لفظ "پیار کا پہلا شہر" کی جپسی میں یوں چپکے سے دل میں اتر جاتے ہیں کہ جیسے ہماری ہی کہی ان کہی ہو ۔
 پھروقت کی گرد جب ہر چیز کی اصلیت سے آگاہ کرتی ہے تو " غارحرا میں ایک رات " اور " منہ ول کعبہ شریف" اس عشق کی پاکیزگی کی گواہی دہتے ہیں ۔ تارڑ صاحب کے لفظوں کی خوشبو ہمیشہ اپنے آس پاس محسوس کی۔ چاہے وہ شمالی علاقوں میں پہاڑوں کی نکھری شفاف مہک میں ملی یا پھر غار حرا کی بلندیوں کو پاؤں کا بوسہ دینے کی سعادت نصیب ہوئی ۔
اور ہاں اس سال 2014 میں تارڑ صاحب سے چند لمحے کی ملاقات بھی ہوئی۔ لیکن اس سے پہلے بڑی دیر تک ان کے سامنے بیٹھ کر ان کے آس پاس "عقیدت مندوں "کو دیکھ دیکھ کر مسکراتی بھی رہی کہ " محبت کا جادو ہمیشہ سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اور اس میں عمر کی قید نہیں ۔ اور جب بات لفظ کی محبت کی ہو تو پھر زمان ومکان کے فاصلے بھی بےمعنی ہو جاتے ہیں۔
(نورین تبسم)
محترمہ ثمینہ طارق کے بلاگ "طویل سفر کے بعد ایک خوشبو بھری ملاقات، مستنصر حسین تارڑ صاحب کے ساتھ" کا لنک

8 تبصرے:

  1. السلام علیکم
    اتفاق کی بات کہ میں آپ کو کچھ دنوں سے بہت یاد کر رہا تھا ۔ اللہ آپ کو صحتمند اور خوش رکھے ۔ بہت دنوں سے آپ کی تحریر بھی نظر نہ آئی تھی تو میں خیر کی دعا کرتا رہا ۔ مُستنصر حسین تارڑ کو میں نے اُس زمانہ مں پڑھنا شروع کیا تھا جب وہ جوان تھے اور میں بھی جوان تھا ۔ وہ مجھ سے 5 ماہ بڑے ہیں ۔ ان کے والد صاحب کی کمپنی (کسان اینڈ کمپنی) کا بنا ہوا پھلوں کا جام میں بچپن سے ناشتہ میں کھایا کرتا تھا

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. وعلیکم السلام
      لفظ کے رشتوں کی انفرادیت ہی یہی ہے کہ ان میں دست بستہ خیریت طلب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی توقع۔ آپ کی خیریت آپ کی تحاریر سے ملتی رہتی تھی۔ البتہ حیرت ہے کہ آپ کو میری تحاریر کیوں نہ مل سکیں۔ اپنے بلاگ پر آپ کی غیرحاضری البتہ محسوس ضرور کی لیکن یہ سوچ کر خاموش رہی کہ اہم یہ ہے کہ کسی خاص مقام پر رُکے بغیر لفظ کے آسمانوں پر سفر جاری رہے۔
      رہی بات جناب مستنصرحسین تارڑ کی تو آپ اُن کی آج کی تحاریر بھی ضرور پڑھیں۔ عمر کے ماہ و سال نے ان کی تحریر کی روانی اور خیال کی جولانی کو ذرا بھی متاثر نہیں کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بند مٹھی میں سرکتی ریت کی مانند کم ہوتی زندگی کا جس حقیقت پسندی سے اظہار کرتے ہیں وہ بےمثال ہے۔
      ان کے روزمرہ کالمز کے لنک
      http://www.urducolumnsonline.com/columnists/100498/mustansar-hussain-tarar

      حذف کریں
  2. السلام و علیکم ورحمتہ اللہ :)

    اتفاق کی بات ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی میں نے ٹی وی پر 'سفر ہے شرط' نامی پروگرام دیکھنا شروع کیا ہے اس میں مستنصر حسین تارڑ کی سربراہی میں وادی حراموش کا سفر پیش کیا جا رہا ہے اور وقتا فوقتا ان کی کچھ تحریریں نظر سے گزریں ہیں (میں با قاعدہ کوئی قاری نہیں ) ۔۔ ان تحریروں میں بہت کچھ سکیھنے کو ملتا ہے ۔۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. وعلیکم السلام
      بالکل ٹھیک کہا آپ نے۔

      حذف کریں
    2. آپ کے دیا ہوئے لنک سے ان کے حالیہ کالم پڑھے کل میں نے ۔۔۔ بہت لطف آیا ۔۔ جزاک اللہ :)

      حذف کریں
    3. ان کے کچھ خاص کالم آپ میرے بلاگ میں بھی پڑھ سکتی ہیں، خاص طور پر جو انہوں نے اپنی بیماری کے بعد لکھے۔
      http://noureennoor.blogspot.com/2015/12/Mustansar-Hussain-Tarar9.html

      حذف کریں
  3. میں آپ کی تحاریر پڑھتا رہتا ہوں جب بھی نظر آئے ۔ لیکن بعض ایسی چیزیں ہوتی ہیں جنہیں کچھ دن گذریں تو مہینے محسوس ہوتے ہیں ۔ فروری مارچ 2014ء میں ایک الرجی یا وائرس نے پکڑ لیا تھا ۔ وہ جان نہیں چھوڑتی ۔ بار بار تنگ کرتی ہے ۔ اس سال جنوری میں میری بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ آخری سفر پر چلی گئیں ۔ مئی کے شروع میں دونوں خالائیں 8 دن کے وقفہ سے چلتی بنیں ۔ ان میں ایک آفیسر کالونی واہ چھاؤنی میں میں رہتی تھیں ۔ فوت اسلام آباد میں ہوئیں جب اپنے بیٹے ڈاکٹر عامر غضنفر کے پاس آئی ہوئی تھیں

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. یہ دنیا بس چل چلاؤ کا میلہ ہے لیکن اس بات کا اصل احساس ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب ہمارا پیارا اور ہمارے قریبی احباب میں سے کوئی رختِ سفر اختیار کرتا ہے۔
      اللہ پاک جانے والوں کی مغفرت فرمائے آمین۔اورہمارے لیے اس سفر کی مشکلیں آسان بنائے آمین۔

      حذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...