صفحہِ اول

جمعرات, اکتوبر 13, 2016

"سوال جواب"

زندگی کے پرچے کو حل کرتے وقت ہمیں قدم قدم پر سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسی لمحے اُن کے جواب  بھی دینا پڑتے ہیں۔ نصاب طے ہے۔۔۔وقت طے ہے تو سوال بھی طے ہیں۔وہی سوال جن کے جواب ہم بار بار لکھ کر تھک جاتے ہیں تو وہ مٹ کر پھر کہیں سے ذہن کی شفاف سلیٹ پر نمودار ہوجاتے ہیں۔
اہم یہ ہے کہ سوال اُنہی کے سامنے آتے ہیں جوجواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اگلے سوال کا انتظار کرتے ہیں ورنہ ہم میں سے بہت سے تو سوال جواب کی تکرار سے بیزار ہو کر بغیر پڑھے بنا سمجھے اِدھر اُدھر سے نقل کر کے جان چھڑاتے ہیں۔ایک بات کا یقین کر لو پھر جواب دینے میں آسانی ہو جاتی ہے کہ سوال کبھی غلط نہیں ہوتے چاہے باربار سامنے آئیں۔ ہر بار نئے سرے سے اُن کا جواب تلاش کرنا ہی ہمارا اصل امتحان ہے۔
سوال کرنا اچھا ہے چاہے ہم اپنے جیسے انسان سے کریں یا اپنے رب سے۔ یہ ہمارے تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے اور جواب  دل کو چھو جائےتو جواب دینے والے کی سچائی کو۔سوال کرنا اہم ہے جواب ملنا بعد کی بات ہے۔سوالوں کے جواب نہ ملنا ہی انسان کو مزید چلنے پر اکساتا ہے, جب تک ہم میں سوال پوچھنے,سوال سوچنے کی اہلیت پیدا نہیں ہو گی ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ 
زندگی میں کوئی ایسا سوال نہیں جس کا جواب ہمیں اپنے اندر سے نہ مل سکے۔ انسانوں کو چھوڑکر پہاڑوں کی بلندیاں چھونے،
صحراؤں کی خاک  چھاننے اور جنگلوں میں گیان دھیان کرنے سے بھی تلاش کا سفر مکمل نہیں ہوتا۔جب باہر کی دنیا سے جواب نہ ملیں تو اور بھی اچھا ہے کہ پھرانسان اپنے آپ سےرجوع کرتا ہے اپنی ذات کی گہرائی میں جا کر آسمانوں کی جستجو کرتا ہے۔یہی وہ کھلا راز ہے،جو نہ صرف دانشوروں اور مفکرین بلکہ دنیا کے ہر تحقیق کار، ہر دریافت کنندہ اور ہر سائنس دان کے فکروعمل کا پہلا پائیدان ہے۔اسی عمل پر ربِِ کائنات عقیدے اور ایمان سے بےنیاز ہو کر نوازتا چلا جاتا ہے اور ہم جیسے پیدائشی مومنین بس اسی سوال پر اٹکے رہ جاتے ہیں کہ اللہ تو صرف ہمارا ہے وہ کافروں پر کیوں مہربانی کرتا ہے؟
حق یہ ہے کہانسانوں کے جواب ہمیں کبھی بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں کر سکتے اور مالک ہمارےقلب وروح میں چھپی ہوئی پھانس بھی نکالنے پر قادر  ہے۔اپنے ہرقول ہر فعل کو پہلے اللہ کے سامنے پیش کریں اُس کی تائید مل جائے تو قدم بڑھائیں۔دل مطمئن نہ ہو تو اللہ سے سوال جواب ضرور کریں۔ بےشک اللہ  ہمارے ہر سوال سے واقف ہے۔
 انسانوں کے درمیان رہ کر اُن کو جانچنے کے بعد انسان تلاش ِحق کے سفر پر نکلتا ہے تو پھر اُس کو راہ نمائی نصیب ہوتی ہےاور یہ رہنمائی اُسے دوبارہ انسانوں تک لے آتی ہے۔پہچان کے بعد جب تک بندوں کو اس سے فیض یاب نہ کریں تو ہمارا علم محض کتابی علم ہوگا۔علم کے ساتھ عمل لازم ہے۔یہ ہم پر فرض ہے تومجبوری بھی کہ اس کےبغیر ساری تپسیا سارا کشت سفرِرائیگاں ہےاور کچھ بھی تونہیں۔
"لا"۔۔۔جان لینا کہ ہم کچھ نہیں جانتے،  تلاش کی سیڑھی  پر پہلا قدم ہے۔ہم بہت کچھ جاننے کےبعد صرف یہ سمجھ جائیں کہ  ہم کچھ بھی نہیں جانتے،جواب  توصرف ایک ذات  جانتی ہےیہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
اپنے اندر سے اٹھنے والےسوال اہم ہیں تو ملنے والے جواب بھی قابلِ غور ہیں۔ ہم ایک ہی راستے پرچلنے کےخواہش مند 
ہوں،من وعن اس فیصلے کو تسلیم کرنے پرتیار بھی ہو جائیں اور سفر جاری رہے تو جواب ضرور ملتا ہے۔جواب مل جائےتو بتاتے ہوئے جھجھک یا خوف نہیں ہونا چاہیے۔۔۔بس الفاظ کا چُناؤ ہو۔۔۔ کہ بات کہہ بھی دی جائے اور اپنے اوپر اعتماد بھی برقرار رہے۔
سوال کرو خوب کرو لیکن جواب کے لیے دوڑ بھاگ نہ کرو۔وقت خود ہی بہت سے سوالوں کے جواب دیتا چلا جائے گا۔آخر 
کب تک ہم سوال کرتے رہیں گے؟ زندگی میں وہ وقت جلد آ جانا چاہیے جب سوالوں کے جواب ملنا شروع ہو جائیں۔


3 تبصرے :

  1. السلام و علیکم ورحمتہ اللہ

    جان لینا کہ ہم کچھ نہیں جانتے۔۔۔ یہی تو تلاش کی پہلی سیڑھی ہے
    بلاشبہ جو یہ جان لے کہ وہ کچھ نہیں جانتا تو وہ بہت کچھ جان سکتا ہے 'جان لینے کا زعم' ہماری سوچ کی بلندی کو محدود کردیتا ہے۔

    ما شاء اللہ خوبصورت تحریر ۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. وعلیکم السلام
      لفظ کا مفہوم محسوس کرنے اور اپنا احساس شئیر کرنے کا بےحد شکریہ۔

      حذف کریں
  2. Pure words of wisdom. Very deep enjoyed reading. May Allah swt give us Toufeeq to act

    جواب دیںحذف کریں