صفحہِ اول

بدھ, نومبر 04, 2015

سرورق کتب۔۔۔۔مستنصرحسین تارڑ


پچھلے دنوں تقریباً پچیس برس بعد میرے افسانوں کا دوسرا مجموعہ"15۔۔ کہانیاں"شائع ہوا تو اس کے سرورق کو جہاں بہت سے پڑھنے والوں نے پسند کیا وہاں کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے باقاعدہ احتجاج کیا کہ سرورق پر خون کے چھینٹے طبع پر گراں گزرتے ہیں۔ اتنا خون چھڑکنے کی کیا ضرورت تھی، تو میں نے ان سے گزارش کی کہ ادبی کتابوں کے سرورق بھی اس عہد کے سیاسی، ثقافتی اور مذہبی رجحانات کی نمائندگی کرتے ہیں، اس مجموعے میں چونکہ بہت سی کہانیاں دہشت گردی اور مذہبی تعصب کے نتیجے میں ہونے والے قتل و غارت کو بیان کرتی ہیں، سانحہ بابوسر ٹاپ، سوات میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات، پشاور کے بچوں کے قتل عام اور ایک مسیحی جوڑے کو زندہ جلا دینے والے بہیمانہ سانحے کے بارے میں ہیں تو سرورق پر خون کے چھینٹوں کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔
البتہ آپ اگر غور کریں تو خون کے ان چھینٹوں میں کہیں کہیں گلاب کے سرخ پھول بھی کھلتے نظر آتے ہیں یعنی کم از کم میں اب بھی امید کے شجر سے پیوستہ ہوں اور امیدِ بہار رکھتا ہوں۔ ’’15 کہانیاں‘‘ کا یہ سرورق پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور عمران قریشی کی تخلیق ہے جس کی تصویریں دنیا کی بیشتر آرٹ گیلریوں میں آویزاں ہیں یہاں تک کہ میٹرو پالٹن میوزیم نیویارک کی چھت پراس کا ایک خصوصی شو بھی منعقد کیا گیا تھا اورآج اس کی تصویریں بین الاقوامی مارکیٹ میں ہزاروں ڈالروں میں فروخت ہوتی ہیں۔۔۔ وہ اس عہد کا نمائندہ مصور ہے اور مجھے فخر ہے کہ اس نے بغیر کسی معاوضے کے میرے افسانوں کے مجموعے کا سرورق تخلیق کیا۔
ادیبوں اور شاعروں کی نسبت میں مصوروں سے زیادہ قریب رہا ہوں اور اسی لئے میری کتابوں کے سرورق پاکستانی مصوری کی ایک نمایاں آرٹ گیلری کی صورت اختیار کر گئے ہیں، اور اپنے ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مجھے اپنی نمائش مقصود نہیں میں صرف پاکستان کے ان عظیم مصوروں کو ہدیۂ تبریک پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی معاوضے کے میری کتابوں کے سرورق بنائے۔۔۔ میری کتابوں کی تعداد ساٹھ سے بڑھ چکی ہے ، اس لئے سب کا تذکرہ ممکن نہیں، سرورق کے حوالے سے جو سفرنامے، ناول اور کالم وغیرہ اہم ہیں ان کے مصوروں کا مختصر تذکرہ کروں گا۔
۔ 1971ء میں شائع ہونے والے میرے پہلے سفرنامے’نکلے تری تلاش میں‘‘کا سرورق مصورِمشرق عبدالرحمن چغتائی کا ایک انوکھا شاہکار تھا۔ چغتائی صاحب کے ساتھ میری کبھی ملاقات نہ ہوئی۔ یہ کمال مقبول جہانگیر کا تھا کہ انہوں نے میرے سفرنامے کے کمالات کے بارے میں ایسی لچھے دار گفتگو کی کہ چغتائی صاحب نے ٹائٹل بنانے کی ہامی بھری۔۔۔ سرورق کی یہ ڈرائنگ آج بھی میری سٹڈی ٹیبل کے پہلو میں آویزں ہے، اسی سفرنامے کے دوسرے ایڈیشن کے لئے صادقین نے زبردست سرورق بنایا۔
میری پورٹریٹ کے علاوہ بیس سے زیادہ خاکے بھی تصویر کئے، ان میں سے کچھ خاکے شائع نہ ہوسکے کہ ان میں صادقین خواتین کو کپڑے پہنانا بھول گئے تھے، ازاں بعد ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کے درجنوں ایڈیشن شائع ہوئے جن کے سرورق معروف مصوروں نے تخلیق کئے۔۔۔
۔"اندلس میں اجنبی"کا پہلا سرورق جناب آزر زوبی نے بنایا۔۔۔ دوسرے ایڈیشن کا سرورق فیض صاحب کی بیٹی سلیمی ہاشمی نے اور تیسرے ایڈیشن کے ماتھے پر لمحۂ موجود میں پاکستان کے سب سے بڑے مصور سعید اختر کا ایک شاہکار تھا۔۔۔ ’’خانہ بدوش‘‘کا ٹائٹل جو میری آوارگیوں کا ایک نقش تھا وہ بھی سعید اختر کا تخلیق تھا۔۔۔ ایک مرتبہ پھر ’’بہاؤ‘‘ کے پہلے ایڈیشن کا سرورق سعید اخترنے بنایا اور پھر ذوالفقار تابش نے اپنے مخصوص انداز میں اپنے جوہر دکھائے۔۔۔’’راکھ‘‘ کا سرورق جدید مصوری کے نمائندہ ترین مصور قدوس مرزا نے تخلیق کیا۔ میں قدرے شرمندگی سے عرض کرتا ہوں کہ میری بیشتر کتابوں کے چونکہ درجنوں ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اس لئے ممکن نہیں کہ میں ہر مصور کے سرورق کا تذکرہ کر سکوں۔۔’’قربت مرگ میں محبت‘‘کے پہلے ایڈیشن کے لئے سعید اختر اور نذیر احمد نے مشترکہ طور پر ایک تصویر بنائی۔۔۔ ’’خس و خاشاک زمانے‘‘کے دوسرے ایڈیشن پر غلام رسول کمال کے مصور ہیں۔۔۔ بشیر فراز نے بھی میرے لئے خصوصی سرورق تیار کئے، اور ہاں بعدازاں’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کے لئے عبدالرحمن چغتائی کے بھتیجے اور میرے دوست عبدالوحید چغتائی نے کیا ہی دلکش سرورق بنایا۔۔۔ میرے ناول ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ کے تادم تحریر ساٹھ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اس کے سروق کی تزئین متعدد نامور مصوروں نے کی لیکن ان میں کلاسیک سعید اختر کی پاسکل کی دلکش پورٹریٹ کو قرار دیا گیا۔۔۔’’نیپال نگری‘‘ کا سرورق لینڈ سکیپ کے باکمال مصور نذیراحمد نے بنایا۔
ایک زمانہ تھا جب ادبی کتابوں کے سرورق کے لئے ان زمانوں کے بڑے مصور بخوشی اپنے رنگ پیش کرتے تھے اور میں بھی بہت تردد کیا کرتا تھا۔ اور اب تو یہ ہے کہ میری بیشتر کتابوں کے سرورق کمپیوٹر کی مصوری اور تزئین سے آراستہ ہوتے ہیں کہ یہ کام آسان ہو چکا ہے۔ کتاب کی روح سرورق میں ہوتی ہے اور ایک مدت سے سرورق بے روح ہو چکے ہیں۔
اور ہاں میں بھولنے کو تھا میرے اولین ناولٹ ’’فاختہ‘‘ کے تازہ ایڈیشن پر ہندوستان کے سب سے بڑے مصور ایم ایف حسین کے ہاتھوں سے تخلیق کردہ ایک فاختہ کا نقش ہے اور اس سرورق کے لئے میں نے حسین صاحب کی بہت منت سماجت کی تھی۔۔۔ اور حسین کا بنایا ہوا فاختہ کا یہ نقش بھی میری سٹڈی ٹیبل کے پہلو میں چغتائی صاحب کی ڈرائنگ کے برابر میں آویزاں ہے، اور پھر ایک عجیب اتفاق ہوا، مسجد نبویؐ میں منبر رسولؐ کی قربت میں نفل ادا کرتے ہوئے میں سلام پھیرتا ہوں اور دائیں جانب ایک سفید ریش بوڑھا روتا ہوا نظر آتا ہے اور اس کی مشابہت شناسا سی ہے اور وہ ایم ایف حسین ہے۔ اس کے برابر میں اس کا بھتیجا بیٹھا ہے اور وہ اپنے چچا کو قرآن پاک پڑھ کرسنا رہا ہے۔ حسین کی بنائی ہوئی ہندو دیو مالا کی کچھ دیویوں کی برہنہ تصویریں بنانے پر ہندو علمائے کرام مشتعل ہو گئے کہ ہائیں ایک مسلمان کی یہ جرأت، حسین کو اپنی جان بچانے کے لئے ہندوستان سے فرار ہونا پڑا۔۔۔ قطر نے اسے خوش آمدید کہہ کر اپنی شہریت سے نوازا۔ ظاہر ہے میں مسجد نبویؐ میں حسین کی عبادت میں مخل ہوا، انہیں میں یاد آگیااور ہم نے کچھ باتیں کیں۔ حسین کچھ عرصہ بعد دربدری کی حالت میں لندن میں مر گیا۔
چنانچہ پچھلے پینتالیس برس میں میری جو ساٹھ سے تجاوز کرتی کتابیں شائع ہوئی ہیں ان کے سرورق اپنے زمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور اب اگر ’’15 کہانیاں‘‘ کے سرورق پر خون کے چھینٹے ہیں تو کیا یہ ہمارے عہد کی تصویر نہیں ہیں؟

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں