صفحہِ اول

منگل, اگست 13, 2013

" قیدی "

ہم سب قیدی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے خیال میں۔۔۔ اپنے دام میں۔۔۔ اپنے جسم میں۔۔۔ اپنی روح میں۔۔۔ اپنے دفتروں میں اور اپنے گھروں میں بھی ۔
بہت سے سوال سراٹھاتے ہیں کہ قیدی کون ہوتا ہے؟ قیدی کیوں قیدی ہوتا ہے؟ قیدی کیا کرسکتا ہے؟ اور قید کی مدت کیا ہے یا کتنی ہوسکتی ہے؟۔ ان سوالوں کے جواب کوئی گہرا فلسفہ نہیں بلکہ عام انسانوں کی عام کہانی ہے۔اپنی ذات پر غور کریں جواب ملتےچلے جائیں گے۔
سب سے پہلے قیدی وہ ہوتا ہے جو کسی جیل میں رہتا ہے۔اُس کی اپنی کوئی مرضی کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ایک لگے بندھے شیڈول پراُس کا دن گزرتا ہے۔۔۔ کھانے پینے، ملنے ملانے۔ سونے جاگنے میں دوسروں کا دست ِنگر۔۔۔ ملاقاتی وقت لے کر ہی اُس سے مل سکتے ہیں وہ بھی کڑے پہرے میں وقت کی زنجیروں میں جکڑے۔۔۔ محنت مشقت سب طے شدہ۔۔۔ اُسے کولہو کا بیل کہہ لیں یا بوجھ اُٹھانے والا گدھا بس اپنے کام سے کام رکھنا ہی اُس کا مقصدِ حیات ہے۔۔۔ کوئی چوں چرا نہیں کہ بھاگنا بس میں نہیں۔۔۔اگرناکام کوشش بھی کی بھاگنے کی تو پابندیاں مزید سخت ہو جاتی ہیں سر پرنظر آنے والاآسمان دیکھنے کو نگاہیں ترس جاتی ہیں۔ اس چکی سے وہ ٹارچرسیل جنت دکھتا ہے جہاں تازہ ہوا تو میسر تھی۔بس آس ہے تو فقط یہ کہ سزا کب ختم ہو گی ۔ نہیں جانتا کہ یہ تو چھوٹی جیل ہے باہرنکل کر ایک بڑی جیل بڑی سزا منتظر ہے۔
اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ قیدی کیوں قیدی ہوتا ہے؟۔ اس میں بھی اس کا کوئی دوش نہیں۔ کبھی نادانی کا کوئی لمحہ اُس پر ایسا حاوی ہو جاتا ہے کہ ساری زندگی کی نیک نامی ساری کمائی لُٹ جاتی ہے اور وہ ذلت ومعصیت کی پکڑ میں آجاتا ہے۔۔۔ کبھی خواہش نفسانی عارضی خوشی کے حصول میں وہ ان جان ہمیشہ کی لذت سے محروم ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ بحُز کسی ارادے کسی ترغیب کے وہ بے گناہ بھی قید میں آ جاتا ہے۔۔۔ کسی اور کے کیے کی سزا بُھگتا ہے۔۔۔ وہ ہوا میں اُڑتا پنچھی ڈال ڈال مہکتی تتلی کی طرح ہوتا ہے کہ وقت کے کرخت ہاتھ اسے اپنی مٹھی میں یوں بھینچ لیتے ہیں کہ طاقت ِپروازتو جانے دو اُس کا وجود بھی شناخت کھو بیٹھتا ہے۔ شکاری کسی اور کی قضا کے منتظر ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی تقدیر کے چکر کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔
 سوال یہ ہے کہ قیدی کیا کر سکتا ہے اور کیا کرتا ہے؟۔ یہ اہم سوال ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو مجبور سمجھنے لگ جائے تو پھر اُس کی عمرقید اور قید ِبامشقت میں کوئی کمی نہیں کر سکتا یہاں تک کہ وہ سزائے موت کے سیل میں ڈال دیا جاتا ہے پھر وقت ہی فیصلہ کرتا ہے۔اوران فیصلوں پرعمل درآمد میں بھی سالوں بیت جاتے ہیں ۔انسان مرمر کے جیتا ہے اور ہر پل مرتا ہے۔
قیدی وہ بھی ہے جو کوئی وسائل نہ ہونے کے باوجود اپنا مقدمہ خود لڑتا ہے آگے بڑھ کر جیل کے دروازوں پر آنےوالی روشنی کی کرن محسوس کرتا ہے جو قید وبند سے آزاد۔۔۔صرف دیکھنے والی آنکھ کا مقدر ہے۔ وہ دُنیا کے بدبو دار جوہڑ میں رہ کر خوشبو کا لمس چھونے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ آخری سانس آخری لمحے تک ہار نہیں مانتا وہ اپنے دائرے کو جان جاتا ہے۔۔۔ وہ مان جاتا ہے کہ فرار کے راستے مسدود ہیں لیکن سانس کے راستے کھلے ہیں اور جب تک سانس ہو آس باقی رہتی ہے۔ وہ کچھوے کی طرح چپ چاپ اپنے راستے چلتا جاتا ہے۔۔۔ کبھی یوں ہوتا ہے کہ اُس کی خاموشی اُس کی تنہائی اُس کی لگن ایسے جگمگا اٹھتی ہے کہ آزاد دُنیا کے باسی اُس پر رشک کرتے ہیں کہ قید میں اتنی روشنی ہے تو اگر یہ روشنی کی قید میں ہوتا تو یقیناً اس کی چمک جگ کو خیرہ کر دیتی ۔
قیدی کی خواہشات کی کوئی انتہا نہیں۔ خواہش پر پاپندی بھی ممکن نہیں۔ اس کی خواہش نشہ ہوتی ہے۔۔۔ جس کی وقتی لذت میں وہ سب بھلا دیتا ہے۔ خواہش جینے کا۔۔۔ وقت گزارنے کا۔۔۔ حوصلہ دیتی ہے اگر دوستی کر لو۔ لیکن فاصلہ رکھنا بےحد ضروری ہے۔خواہش کو اپنی ذات کے اندر نہ اُترنے دو ورنہ دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔۔۔ کھوکھلا کر کے کسی قابل نہیں چھوڑتی ۔۔۔ چوری چوری اس کا حصول سزا میں اضافے کا باعث بنتا ہے تو! لذت زحمت میں بدل جاتی ہے محبت ذلت بن جاتی ہے اورعادت مجبوری ۔
!حرف ِآخر
رب نے جس نفس کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔۔۔اس کے لیے ہر قید اختیاری ہےجو وہ بقائمی ہوش وحواس قبول کرتا ہے۔" بےاختیاری" کا خودساختہ دکھ صرف راہ فرار کا ایک راستہ ہے جو بند گلی پر ختم ہوتا ہے۔ 
زندگی ایک قید ہے یہ قید بھی صرف ان کا مقدر ہے جو غور کرتے ہیں ورنہ زندگی کے رنگوں سے رس کشید کرتے بے پروا لوگوں کے لیے زندگی ایک نہ ختم ہونے والا خوبصورت باغ ہے اور زندگی کی محرومیوں اور ناکامیوں کو سمیٹنے والوں کے لیے محض ایک بوجھ اور دوزخ کا سدا رہنے والا عذاب۔ اس قید کو محسوس کرو تو یہ ایک دائرہ ہے اس کو جان لو اور مان لو کہ دائرے پھیلنے کے لیے ہوتے ہیں جتنا آگے بڑھو گے دائرہ بڑھتا چلا جائے گا ۔
وسعت ِنظر سے بڑھ کرایک قیدی کا انعام اورکوئی نہیں

1 تبصرہ :

  1. جمعہ, جولائی 10, 2015

    9 جولائی 2015
    حسن یاسر نے کہا۔۔۔
    میرا احساس کہتا ہے۔۔۔
    خوشبو جب تک پھول میں قید رہتی ہے۔۔اپنے وجود کو برقرار رکھتی ہے۔۔پھول مرجھانے کے ساتھ ہی وہ اپنا وجود کھو کر فضاؤں میں تحلیل ہو جاتی ہے۔حیات کے اسرار اس وقت تک آشکار نہٰیں ہو سکتے جب تک ہستی کو محبت اور لگن کی زنجیروں میں مقید نہ کر دیا جائے۔ قید زندگی کے ان گنت تجربات میں سے ایسا تجربہ ہے جس کا ادراک انسان کو فضائے بسیط میں گردش کرتے اجسام کے پاس لے جاتا ہے جو اپنے راستے سے ہٹ کر خاک ہو جاتے ہیں کسی بھی تعلق کی خوبصورتی اس کی قید وبند میں پوشیدہ ہے۔۔۔محبت عقیدت تعلق جب تک کسی سانچے میں ڈھل کر اپنی ماہیت اور شکل کا تعین نہ کر لیں بکھری ہوئی ریت کے انبار ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب خواہشات کے بےلگام گھوڑے کے سموں تلے اپنی ذات کو مٹی کر دیا جاتا ہے خواہشات کا اسیر ہو کر جو آزادی حاصل ہوتی ہے وہ حقیقت میں اس قید سے مشابہہ ہے جو قلب آدم کو رنج سے بھر دیتی ہے۔
    ایک خوش نظر منظر کی چاہت میں گرفتار ہو کر اسے خود پر اوڑھ لینا نیلے شوخ رنگوں والی سرد دوپہر یا برف زاروں کی وسعتوں میں اپنا آپ بصد مسرت فراموش کر دینا نبض چلنے تک دل کو دھڑکن کا پابند رکھنا ایسی حقیقتوں کو عیاں کرتے ہیں کہ آزادی اور قید کے جو معیار ہم نے طے کر رکھے ہیں معاملہ وہ نہیں ہے اور ہم تو سورج کی طرف پیٹھ کیے کھڑے ہیں ..
    جواب دیںحذف کریں

    جواب دیںحذف کریں