صفحہِ اول

جمعہ, اگست 02, 2013

" شناسائی سے آشنائی تک "

خدا شناسی کی منزل خود شناسی کے راستے سے گُزر کر ہی قریب آتی ہے اور خودشناسی اپنےاندر کی تنہائی میں می رقصم  ہونے کا نام نہیں ۔یہ انسان شناسی کی پتھریلی راہگزر پر برہنہ پا چلنے کا نام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس راستے پر پہلا قدم زمانۂ قدیم سے جاری اس رسم کے برابر دکھتا ہے جب جھوٹ سچ کا فیصلہ انگاروں پر چلنے سے کیا جاتا تھا۔تماش بین سپاٹ چہروں اورخالی ذہن کے ساتھ بظاہر لاتعلقی کا سا انداز اپنائے مجمع لگاتے ۔ ہر الزام سے پاک اپنا آپ بچاتے ہوئے اس بات سے بےخبر کہ چلنے والے پر کیا بیت رہی ہے ۔بڑی عدالت میں شنوائی سے پہلے خود ساختہ قائم کردہ اس پنچائت میں اپنے کردہ ناکردہ گناہوں کی سزا پانے کے لیے خود پیش ہونے کا جرم شاید قابل ِمعافی نہیں ۔ خود شناسی کے لیے انسان شناسی کے انگاروں پر چلنا لازم ٹھہرا۔ وقت کا فیصلہ اکثر خلاف ہی آتا ہے کہ انگارے جلانے کے لیے ہوتے ہیں تاوقت یہ کہ خدا شناسی کی اس منزل تک رسائی ممکن ہوسکی ہو جب آگ بھی گل وگلزار بن جایا کرتی ہے ورنہ وقت کے فرعون تو جلتے انگارے زبان پر رکھ کر بھی مطمئن نہیں ہو پاتے۔ یہ ممکن نہیں کہ جلتے انگاروں پر سے سبک رفتار گزر جانے کے باوجود قید سے رہائی مل سکے کہ چند قدم  کے فاصلے پراور آتش فشاں ملتے جاتے ہیں ۔یہ راستہ بھی ہر کسی کا مقدر نہیں صرف آنکھ کھولنے والے ہی انگاروں سے آشنائی اور ان کی جلن سے واقف ہو پاتے ہیں ۔ آنکھ بند ہو تو یہی راستے کہیں پھولوں کی راہ گزر ہیں۔ کہیں  برہنہ پاؤں خود فریبی کی چادر سے ڈھانپ کر دوسروں کی آنکھ میں دھول جھونک کر گزر جانے سے بھی سفر طے ہو جاتا ہے۔
!آخری بات
 آنکھ  کُھلنا آنکھ بند ہونا اپنے اختیار میں نہیں ۔اپنے اختیار میں صرف احساس ہے جسے اگر مثبت طور پر لیا جائے تو جابجا بکھرے انگاروں پر چلنے کا حوصلہ مل جاتا ہے ورنہ اکثر اس احساس کی گرفت آکٹوپس کی طرح شکنجے میں جکڑ کر اپنی ذات کے اندر قید کر دیتی ہے ۔ 

2 تبصرے :

  1. بہت ثقیل تحریر ہے ۔ ذرا آسان اُردو میں سمجھایئے ۔ البتہ میں آگ سے بہت ڈرتا ہوں ۔ اللہ آگ سے بچائے

    جواب دیںحذف کریں