صفحہِ اول

سوموار, اگست 12, 2013

"عورت کا مقدمہ ۔۔۔۔۔۔۔ غلام اکبر ملک "

الحمدّللہ ! مجھے فخر ہے کہ میں عورت ذات کے متعلق کسی بھی قسم کے تحقیر آمیز نظریات نہیں رکھتا۔
  اُس نے مجھے زندگی دی ہے اور میں اُس سے زندہ رہنے کا حق نہیں چھین سکتا۔
  وہ میرا لباس ہے لہذٰا میں اُسے ننگِ انسانیت ہونے کا طعنہ نہیں دے سکتا۔
  اُس نے میری نجاستیں دھو کر مجھے پاک صاف رکھا لہذٰا میں اُسے نجس مخلوق قرار نہیں دے سکتا۔
  اُس نے مجھے انگلی پکڑ کر زمین پر چلنے کا طریقہ سکھایا،لہذٰا میں اُس کے پاؤں سے زمین نہیں کھینچ سکتا۔
  اُس نے میری تربیت کرکے مجھے انسان بنایا لہذٰا میں اُسے ناقص العقل نہیں کہہ سکتا۔
  اُس کا ودیعت کردہ خون میری رگوں میں دوڑ رہا ہے،لہذٰا میں اُسے شیطان کا دروازہ یا لغزش کا محل نہیں کہہ سکتا۔
 اُس نے مجھے گھر کی پُر آسائش و پُرسکون زندگی عطا کی ہے،لہذٰا میں اُسے فتنہ وفساد کی جڑ قرار نہیں دے سکتا۔
 اُس نے مجھے کامل بنایا لہذٰا میں اُسے ناقص نہیں کہہ سکتا۔.
  اُس نے مجھے انسان بنایا ، لہذٰا میں اُسے آدھا انسان قرار نہیں دے سکتا۔
اُس نے اپنی زندگی کی ہر سانس کے ساتھ مجھے اپنی دعاؤں سے نوازا ہے،لہذٰا میں اُسے حقارت آمیز گالیاں نہیں دے سکتا۔
  اگر میں ایسا کروں تو میری اپنی ہی ذات کی تحقیر تذلیل اور نفی ہوتی ہے۔

اللہ کا شکر ہے کہ میں عورت ذات کے متعلق ہر طرح کا حُسنِ ظن رکھتا ہوں"۔ "
" عورت کا مقدمہ “ (غلام اکبر ملک) سے اقتباس

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں