جمعرات, اپریل 16, 2015

"کرنیں (5) "

کرنیں (5)۔
رزقِ خیال ۔۔۔۔
خدا اور خودی باعثِ نجات ہیں۔۔۔دنیا کی پستیوں اور آخرت کی ذلتوں سے رہائی کے لیے۔
۔۔۔۔۔
سر جھکانے میں  نہ ختم ہونے والی لذت ِحیات ہے اور نادان فقط ماہ وسال کی زندگی کے طلب گار رہتے ہیں۔
۔۔۔
چراغ جتنے مرضی جلا لیں   لیکن خود اپنے لیے کبھی چراغ تلے اندھیرا    نہیں  ہونا چاہیے۔ وہ روشنی جو جگ کو تومنور کرے لیکن ہمارے اندر کی تاریکی دور نہ کر سکے، ہمارے اپنے راستے کو روشن نہ کر سکے اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔
۔۔۔۔
 مکافاتِ عمل۔۔۔بےحسی بانجھ نہیں ہوتی اس کی کوکھ سے کبھی نہ کبھی آزمائش جنم لے ہی لیتی ہے۔
۔۔۔۔۔

 جو انسان کا شکرگزارنہیں وہ رب  کا شکرگزار بھی نہیں۔
۔۔۔۔
زمانے سے کوئی گلہ کبھی نہ  کرو۔۔۔زمانہ اپنی سمجھ کے مطابق عمل کرتا ہے۔ اور شکوہ بھی نہیں ورنہ رب کی ناشکری ہو جائے گی۔
۔۔۔۔۔
تخیل کی پرواز سولو فلائیٹ کی سی ہے جس کا نشہ ایک ہواباز ہی جان سکتا ہے۔
۔۔۔۔
ہرجنس کا رزق اُس کی تلاش میں پنہاں ہےاور یہ رزق ہی اس کے شرف کا تعین کرتا ہے۔
۔۔۔
حسد اگر نیکیوں کو کھا جاتا ہے تو شک زندگی کی خوشیاں نگل لیتا ہے۔
...
زندگی صرف شیطان کو کنکریاں مارنے کا نام ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
خوش ہونے اور خوش فہم ہونے میں صرف فہم کا ہی فرق ہے۔
.......
دل کی آنکھ ہر ایک کے پاس ہوتی ہے بس کھلتی کسی کسی کی ہے۔
۔۔۔۔۔
ہم ناقدر شناس قوم ہیں، زندہ کو نظرانداز کر جاتے ہیں اور مرنے والے کے قدموں میں بیٹھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
جن پانیوں سےمسکراہٹوں کے بےدریغ چشمے پھوٹتے ہیں وہ کتنے گہرے اور تنہا ہوتے  ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
جسم کی مشقت اتنا نہیں تھکاتی جتنا رویے انسان کو نچوڑ دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
انصاف فطرت ہے۔۔۔حق ہے اور حق لُوٹا نہیں جاسکتا اور نہ کبھی لوٹنے سے ملتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
نصیب کی کنجیاں عمل اور نیت سے ہی کھلتی ہیں ورنہ ہمارے لئے سب سے آسان کام الزام دینا ہی رہا ہے۔
 ۔۔۔۔
کسی اپنے" کی تلاش ہمیں در در بھٹکاتی ہے اور جو اپنا ہو وہ خود ہی مل جاتا ہے جب ہم تھک ہار کر بیٹھ جائیں۔
۔۔۔۔۔۔
محبت اور موت کے درمیان توازن ہی تو زندگی کہانی کی کامیابی کا راز ہے۔جس کا تعین وقت کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔
ہر انسان دینے کی صلاحیت رکھتا ہے بس لینے والا اسے پہچاننے کی اہلیت رکھتا ہو۔.
۔۔۔
سوال میں سے ہی بہت سے سوالوں کے جواب ملتے ہیں۔
۔۔۔۔
 زمانے کی ٹھنڈ ہمارے اندر اُتر کر ہمیں گلیشئیر بنا دیتی ہے۔ بظاہر منجمد ہو کر ایک آتش فشاں سدا کہیں اندر دہکتا رہتا ہے۔ وقت کی چادر سرک کر ذرا سی چنگاری دکھا بھی دے لیکن شعلہ جوالہ کبھی پیدا نہیں کر سکتی۔
۔۔۔۔
ذہن کی گرد صاف کرنے کے لیے جسم کو ہر وقت پاک رکھیں۔
۔۔۔۔۔
 کچھ انسان بادلوں کی طرح ہوتے ہیں۔ کبھی بن برسے گزر جاتے ہیں اور کبھی اندر باہر سے شرابور کر دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
کبھی تصویر کے ایک ہی چوکھٹے میں لگا دوسرا عکس دکھائی نہیں دیتا۔اور کبھی ہم کسی کے بہت قریب ہو کر بھی بہت دور ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
زندگی بند آنکھوں سے سب کچھ مان لینے اور اندر کی آنکھ کھول کر جان لینے کا نام ہے۔چاہےخوش فہمیوں کے سہارے سے گزاری جائے یا اپنی عقل کی لاٹھی سے راستہ تلاش کرنے کی لاحاصل سعی کی جائے۔ زندگی کسی کی پروا نہیں کرتی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"آدم ،اولادِ آدم اورجنت کہانی"

یکم محرم الحرام بمطابق 1444 ہجری 31 جولائی 2022 بروز اتوار " جنت سے نکلنے میں یا تو غلطی ہوتی ہے یا پھر جنت نہیں" ۔ جن...