جمعہ, جولائی 04, 2014

" محبت ۔۔۔ اِک حقیقتِ منتظر"

محبت"۔۔۔ اِک حقیقتِ منتظر"
کیا ہے محبت ؟۔۔۔
محبت ایک ادا جو ہر احساس کو مہکا دے۔
محبت ایک پل جو ہاتھ نہ آ سکے۔۔۔ لیکن روح کو چھو جائے تو اس سے مضبوط ساتھ اور کوئی نہیں۔
محبت ایک جھلک جو دیکھی نہ جا سکے۔۔۔ اور جن کے اندر کی آنکھ کھل جائے ان کے لیے جلوے ہی جلوے۔
محبت ایک لفظ جو بولا نہ جا سکے۔۔۔ اور جو ان کہی کو سن لے ؟؟ محبت اُس کے انگ انگ سے بولتی ہے۔
محبت اور خوشبو کی ایک سی سرشت ہے جو اپنا اظہار آپ ہے۔
محبت ایک زندگی جو پل میں بیت جائے۔۔۔ اور وہی پل زندگی کا حاصل ٹھہرے۔ چاہے زندگی کا آخری پل ہی کیوں نہ ہو۔
محبت کا خوف اگر روشنی میں عیاں نہیں تو تاریکی میں جگنو کی چمک بن کر راہ منور کرتا ہے۔
محبت وہ تحفہ ہے جو نہ صرف لینے والے بلکہ دینے والے کو بھی مالا مال کر دیتا ہے۔
محبت سزا صرف ان اذہان کے لیے جو ماہ وسال کے آنے جانے کو جینا تصور کریں۔
محبت کے گھر میں اعتماد اور یقین کی ننھی سی درز تازہ ہوا کے جھونکوں کی نوید ہے۔
محبت ایک جھرنا جو پتھروں سے ٹکرا کر گزرے۔۔۔ اور درد کی میٹھی میٹھی کسک چھوڑ جائے۔
محبت ایک دریا جو کناروں کے بیچ گنگناتا رہے۔۔۔۔۔ اور روح و جسم اس کی موسیقیت کےساتھ محورقص رہیں۔
محبت صرف اور صرف " ایک انعام جو بن دیکھے دل پر اترے" ۔۔۔۔ ان دلوں پر جو ہر مادی طلب سے بے نیاز ہونے کی خواہش رکھتے ہوئے ایک راہ کے مسافر ہوں۔
!حرف آخر
محبت خیال کی ہم آہنگی کا نام ہے جو زمان و مکان کی ہر قید سے آزاد صرف پاک دلوں پر اترتی ہے۔
جون26۔2014

1 تبصرہ:


  1. 19 جولائی 2015
    حسن یاسر نے کہا۔۔۔
    محبت کسی ایک وجود میں کہاں ڈھلتی ہے اس کے ہزاروں رنگ اور لاکھوں روپ ہیں۔ لوگوں کے بےہنگم ہجوم میں بےسروپا باتوں میں پھولوں کی شگفتگی اور تتلی کی اڑان میں بےآواز برف کے گرنے میں کسی انجان وادی کی اترتی شام میں محبت ان آنکھوں اور دلوں پر وحی بن کر اترتی ہے جو اس کو ماننے والے ہوتے ہیں گھاس کے بھرے میدانوں میں سرسراتے ہوا کے جھونکے محبت کی سرگوشیاں کرتے گزرتے ہیں ان آوازوں کو وہی کان سن سکتے ہیں جو خاموشی کی گفتگو سے آشنا ہوتے ہیں رات کے گہرے سکوت میں دھڑکنیں محبت کے آفاقی گیت گنگناتی ہیں شیشہ جھیلوں اور منہ زور ندیوں کے دامن سے اٹھنے والی سرد ہوائیں تنگ وتاریک کمروں کی گھٹن تک زندگی کا پیغام پہنچاتی ہیں۔محبت کی آواز صحرا میں بھٹکتے مسافر کے لیے زندگی کی نوید بنتی ہے محبت کی خوشبو صحرائے حیات میں راہبر بن کر پیش قدمی کرتی ہے اور یہ خوشبو دلوں کی بنجر سر زمینوں میں اتر کر انہیں زندگی کے مفہوم سے معطر کر دیتی ہے ..

    جواب دیںحذف کریں

"بچپن سےپچپن تک"

"بچپن سے پچپن تک" پچیس جنوری ۔۔۔1967۔ پچیس جنوری۔۔۔2022۔ "جانا توبس یہ جانا کہ کچھ نہیں جانا" بچپن اور پچپن کے بیچ لفظی...