چھتری ایک عورت کی ذات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔اس کا بنیادی جزو اس کا دستہ ہوتا ہے اور اس کی تمام تر صلاحیت کا دار ومدار اُس کے دستے پر ہے - دستے سے چھتری کو کھولا جا سکتا ہے اور اُس کو گرفت میں لینے سے ہی چھتری کی افادیت سامنے آتی ہے۔اگر دستے کو عورت کے حقوق اُس کی خواہشات کے مماثل قرار دیا جائے تو چھتری کے شیڈ کا تعلق عورت کے فرائض اور اُس کی ذمہ داریوں سےہے۔ہر شے کو اس کے مقام پر عزت دی جائے تو پھر ہی اُس سے بھرپور اُٹھایا جاسکتا ہے۔
۔لکھ...اُس کے اذن سے...جو کہی اور ان کہی خوب جانتا ہے۔ رہنمائی...صرف اللہ سے اور اپنے دل سے۔۔۔انسان صرف دھوکا اور رکاوٹ ہیں۔
جمعہ, فروری 22, 2013
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
"رونا"
اس جہاں رنگ وبو میں ہمارا آنا کمال ہے تو جانا بھی کمال ہے۔ہمارے رونے سے شروع ہونے والا آنے کا یہ سفر دوسروں کے ہمارے لیے آنسو بہانے پر ا...
-
قلم سے آواز تک سوانح حیات۔۔۔ رضا علی عابدی مصنف :: خرم سہیل سال اشاعت:: 2014 دیباچہ :: انتظار حسین کُتب خانہ۔۔۔ شائع ہونے وا...
-
نکلے تِری تلاش میں "۔۔۔۔۔پہلی کتاب۔۔۔۔۔پہلا صفحہ۔۔ پہلے لفظ۔۔ " تمہیں معلوم ہے کہ ایک ایسی جگہ ہے جس کے دونوں طرف اونچے...
-
اب مِرا انتظار کر۔۔۔ انتظار حسین سے متعلق مستنصرحسین تارڑ صاحب کی ایک لازوال تحریر۔ انتظار بھولنے والوں یا معاف کردینے والے قبیلے کے ن...

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں