منگل, فروری 17, 2015

"توازن"

مالک کی تخلیق کردہ کائنات سے لے کر آنکھوں پر آشکار ہوتی ہماری دُنیا تک ہر چیز کی بنیاد توازن ہے۔
توازن یعنی برابری ۔۔۔اعتدال۔۔۔ مادے کی صفتِ اول جس کے بغیر کوئی وجود اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔
سوچ کی محدود پرواز سے اس لامحدود خاصیت کا احاطہ کائنات کے ہر ذرے میں کیا جا سکتا ہے۔ توازن ہماری زندگی کی وہ آکسیجن ہے جو کیمیائی آکسیجن کی طرح بےرنگ، بےبو اوربےذائقہ ہے توغیر مرئی بھی۔۔۔ ہمارے وجود کے ہر گوشے میں اس کا احساس ضرور ہے لیکن ہمیں اس کا ادراک نہیں ہوتا جب تک کہ اس میں بال برابر بھی کمی نہ آجائے۔
توازن دُنیا کا وہ سب سے نازک پیمانہ ہے جس میں کسی طرف ذرا سا بھی جھکاؤ سارے سسٹم کو زیر زبر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ توازن ترازو کے دو پلڑوں کے برابر ہونے کا نام ہے۔ ایک میں وزن کم ہو گیا تو دوسرے میں لازمی بڑھ جائے گا۔۔۔یہ جھکاؤ بظاہر کتنا ہی زندگی بخش کیوں نہ دکھتا ہو لیکن ایک پورے نظام کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
کائنات کا سسٹم رب نے اپنے اختیار میں رکھا ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دے کر عقل وشعور سے آراستہ کر کے کسی حد تک توازن کا عمل اُس کے حوالے ہے۔یہ اعزاز ہے اور امتحان بھی کہ انسان کہاں تک اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرتا ہے۔
انسان کے اختیار کی بہت سے جہت ہیں ۔ جسمانی توازن ذہنی توازن کے تابع ہے ۔ ذہنی توازن درست ہو تو جسمانی توازن کی کمی بیشی کو سنبھال لیتا ہے۔ لیکن مکمل جسمانی توازن ذہنی توازن کے معمولی سی بھی فرق سے ڈگمگا جاتا ہے۔ زندگی کے ابتدائی پانچ عشرے انسان کی ذہنی اورجسمانی صلاحیت کی فتح کے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس کی بقا کا توازن جسمانی صحت کی طرف چلا جاتا ہے۔پچاس سال کی عمر تک انسان اپنی قوتِ ارادی کے عروج پر ہوتا ہے ذہنی طور پر صحت مند ہو تو جسمانی صحت بھی شاندار رہتی ہے۔۔۔ زندگی کے مسائل کا بڑی بےجگری سے سامنا کرتا ہے۔ جسمانی عوارض میں مبتلا بھی ہو جائے تو مثبت سوچ توانائی دیتی ہے۔جسمانی اورذہنی توازن سے ہٹ کراحساسات اور رویوں میں توازن بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے۔ یوں تو عمر کے کسی بھی مرحلے میں رویوں میں اعتدال کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن اس توازن کی سب سے زیادہ ضرورت اوائل عمر سے ادھیڑ عمر تک ہے۔یہی انسان کے دنیاوی اور ابدی سکون کا پیمانہ بھی ہے۔
اپنی ذات کی پہچان کے حوالے سے انسان اکثر حدِ اعتدال کو عبور کر جاتا ہے۔ احساس برتری اوراحساسِ کمتری جیسے رویے شخصیت کا توازن برباد کر دیتے ہیں۔ جب ان کا قریب سے جائزہ لیا جائے تو کہانی کچھ اورہوتی ہے۔ برتری کے نشے میں رہنے والے بہت بونے ملتے ہیں یا یوں کہہ لیں ڈھول کی طرح پرشور اوراندر سے خالی۔ جبکہ کمتری کی کھائی میں گرنے والے اپنی پہچان سے ناآشنا۔۔۔اندھیروں کو ہی زندگی کا حاصل جان کر زندگی کی بند گلی میں سر ٹکراتے رہتےہیں۔ نہیں جانتے کہ بند گلی میں کسی درز سے تازہ ہوا کا جھونکا بھی منتظر ہے۔ انسان وہی ہے جو صرف ایک بات جان لے کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"معلوماتِ قران"

٭لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس(50) بار اور بطور نکرہ اسی(80) بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویس...