صفحہِ اول

بدھ, فروری 04, 2015

" غازی کی باتیں"

ڈاکٹرصاحب
تاریخ پیدائش.....15 دسمبر 1938
بمقام.... ضلع سہارن پور... ہندوستان
تاریخِ وفات...... 4 جنوری 2015۔۔۔بمطابق 12 ربیع الاول۔1436 ہجری
بمقام.... اسلام آباد.... پاکستان
 جائے مدفن....۔ایچ الیون قبرستان۔۔۔اسلام آباد

انسان چلا جاتا ہےبس اُس کی یاد رہ جاتی ہے۔۔۔۔
آواز گم ہوجاتی ہےسماعت پہ فقط چند دستکیں رہ جاتی ہیں۔۔۔
سانس لیتا لہجہ کھو جاتا ہے لیکن!بےجان لفظ رہ جاتے ہیں۔۔
وہ لفظ ۔۔۔۔جو اس کی زندگی کہانی کہتے ہیں۔۔۔
جو اس کے دل کی بات سنتے تھے۔۔۔
وہ خاموشی میں اس کے ساتھ گنگناتے تھے۔۔
وہ سارے لفظ زندہ رہتے ہیں۔
انہی لفظوں کے سہارے
ہم اس کو یاد کرتے ہیں ۔۔
ہم اس کو یاد کرتے ہیں۔
(نورین تبسم) 

ابو کی ڈائری سے۔۔۔۔
سورہ یونس آیت 107۔۔۔اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اگر تم سےبھلائی کرنا چاہے تو اس کے سوا اس کو کوئی روکنے والا نہیں۔وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہےاور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا۔۔۔ چار عادتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ چار عادتیں ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے۔ وہ چار عادتیں یہ ہیں۔۔ جب اسے کسی امانت کا امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔۔۔جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔۔۔جب عہد کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے۔۔۔ اور جب کسی سے جھگڑا کرے تو بدزبانی کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔
٭ زندگی کے صرف دو رُخ ہیں۔۔۔غم اور خوشی۔
٭ مر کر وہ جیتے ہیں جو جینے کے قابل ہوں۔
٭علم اور دولت کے پیچھے بھاگنے والوں کی ہوس سدا قائم رہتی ہے۔
٭بےوقوف آدمی ہمیشہ اُونچا بولتا ہے اور بہت بولتا ہے۔
٭زندگی ایک طویل اور اُکتا دینے والی کہانی ہے۔
٭سپنے ضرور دیکھو لیکن تعبیر کی خواہش نہ کرو۔
٭کانٹا چھوٹا ہو یا بڑا چُبھنے پر تکلیف ضرور دیتا ہے۔
٭غلطی مان لینا فراخ دلی کی نشانی ہے۔
٭ عقل مند وہ ہے جو وقت دیکھ کر بات کرے۔
٭ خیالات کی جنگ میں کتابیں ہتھیار کا کام کرتی ہیں۔
٭ رشتے اہم نہیں ہوتے۔اِن کو نبھانے کے طریقے اہم ہوتے ہیں۔
٭جوانی میں محنت سے جی چُرانا آئندہ زندگی میں سکون اور وقت سے محروم کر دیتا ہے۔
٭ جب دل ٹوٹ جاتا ہے تو زندگی ویران اور بےمقصد ہو جاتی ہے۔
 ٭بُرے وقت کبھی کسی انسان کے دروازے پر دستک نہ دو ،صرف اور صرف اللہ سے رجوع کرو۔
٭ خاموشی ہزار بلائیں ٹالتی ہے بلکہ وقار اور سلامتی کی بھی ضامن ہے۔
٭ خاموشی بہت زیادہ آسان کام ہے اور سب سے زیادہ نفع بخش عادت ہے۔
٭ جسے سلامتی کی ضرورت ہو اُسے خاموشی اختیار کر لینی چاہیے۔
٭ تھکاوٹ محنت سے بھی ہوتی ہے تو کاہلی سے بھی۔لیکن محنت کا تنیجہ  صحت اور دولت ہے اور کاہلی کا بیماری اور افلاس۔
٭معاملات کو عقل کی بجائے غصے سے حل کرنے والا نہ صرف اپنا نقصان کرتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
"اقوالِ غازی"
٭ اگر ہم اپنے حال کو پرکھتے رہیں تو دنیا وآخرت دونوں جگہ پھل پائیں۔
٭جہاں میں ایک کام دوسرے کام کے ذریعے سے پیدا ہوتا ہے۔
٭ آدمیت وانسانیت دولت کا نام نہیں۔بُت سونے کا بھی  ہو تب بھی آدمی وانسان نہیں بن سکتا۔
٭اگر بیماری ومصیبت سے چھٹکارا چاہتا ہے تو اپنے پیدا کرنے والے کو راضی کر۔
٭جو شخص ڈرتا ہے کہ کہیں مغلوب نہ ہو جائے اُس کی شکست یقینی ہے۔ 
٭ اس مقام ومرتبےتک پہنچنے کے پیچھے بےشمار قربانیاں،لامحدود مشقتیں اور طویل صبروبرداشت کا ان منٹ سلسلہ موجود ہے۔
 ٭ نوجوانی کی عمر۔۔۔ بیس سے تیس چالیس سال تک آپ کے پاس وقت اور طاقت تو ہوتے ہیں مگر دولت نہیں ہوتی۔
درمیانی عمر۔۔۔چالیس سے ساٹھ سال تک آپ کے پاس دولت اور طاقت  ہوتی ہے لیکن وقت نہیں ہوتا۔
 بڑھاپا۔۔۔ساٹھ سے پینسٹھ سال کے بعد وقت اور دولت تو ہوتے ہیں لیکن طاقت نہیں (1999)۔
٭ خواہش ۔۔۔تحمل۔۔۔علم۔۔۔ضمیر۔( کئی جگہ لکھا ملا)۔
٭ حسبنا اللہ ونعم الوکیل( اللہ تعالیٰ ہمارے لیے کافی ہے۔۔۔وہی بہتر مددگار ہے)۔
 ۔۔۔۔ 
٭ ایک اقتباس ۔۔۔"بادام کا درخت"۔جاوید چوہدری اتوار 23 فروری 20144 
 ۔۔۔۔ دنیا کا جو بھی رشتہ لالچ پر مبنی ہو گا اس کا اختتام تکلیف پر ہو گا‘آپ رشتوں میں سے لالچ نکال دو‘ بیٹے کوبیٹا رہنے دو؛ بیٹی کو بیٹی‘ ماں کو ماں‘ باپ کو باپ‘ بہن اور بھائی کو بھائی بہن اور دوست کو دوست رہنے دو‘ آپ کو کبھی تکلیف نہیں ہوگی‘ ہم جب بیٹے یا بیٹی کو انشورنس پالیسی بنانے کی کوشش کرتے ہیں یا والد صاحب کو تیل کا کنواں سمجھ بیٹھتے ہیں یا پھر دوستوں کو لاٹری ٹکٹ کی حیثیت دے دیتے ہیں تو ہماری توقعات کے جسم پر کانٹے نکل آتے ہیں اور یہ کانٹے ہمارے تن من کو زخمی کر دیتے ہیں‘ رشتے جب تک رشتوں کے خانوں میں رہتے ہیں یہ دھوکہ نہیں دیتے‘ یہ انسان کو زخمی نہیں کرتے‘ یہ جس دن خواہشوں اور توقعات کے جنگل میں جا گرتے ہیں‘ یہ اس دن ہمیں لہولہان کر دیتے ہیں‘ یہ یاد رکھو دنیا کی ہر آسائش اور ہر تکلیف اللہ کی طرف سے آتی ہے‘ دنیا کا کوئی شخص ہمیں نواز سکتا ہے اور نہ ہی ہماری تکلیف کا ازالہ کر سکتا ہے‘ ہمیں جو ملتا ہے اللہ کی طرف سے ملتا ہے‘ جو چھن جاتا ہے‘ اللہ کی رضا سے چھینا جاتا ہے‘ ہمارا چھینا ہوا کوئی واپس دلا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی شخص اللہ کی مرضی کے بغیر ہم سے کوئی چیز چھین سکتا ہے اور دنیا کے کسی شخص میں اتنی مجال نہیں وہ ہمیں اللہ کی مرضی کے بغیر نواز سکے‘ جب دیتا بھی وہ ہے اور لیتا بھی وہ ہے تو پھر لوگوں سے توقعات وابستہ کرنے کی کیا ضرورت؟‘‘۔
۔۔۔۔۔۔ 
ایک درخواست پڑھنے والوں سے۔۔۔
ایک بار درورد شریفﷺ پڑھ کر اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں ۔ شکریہ
فروری 4 ۔۔۔2015
 دس بجے رات

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں