صفحہِ اول

منگل, فروری 24, 2015

"سوال کی موت"



صرف ایک بات کا خیال کیا جائے تو آپ کی اینگزائیٹی ختم ہو سکتی ہے۔وہ یہ ہے۔
زندگی میں کبھی خدا بننے کی کوشش نہ کرنا اور نہ کبھی رسول بننے کی۔
جو چاہا وہ ہوجائے،وہ خدا ہوتا ہے جو مانگا وہ مل جائے وہ رسول ہوتا ہے۔

 کتاب سوال کی موت  پڑھنے کے بعد میرا احساس ۔۔۔
 سال 2014 کے آخری مہینے میں بغیر کسی خاص چاہ یا کوشش کے اچانک ملی اور پھر بقول شاعر۔۔
۔۔"چراغوں میں روشنی نہ رہی "۔ 
سوال کے جتنے بھی چراغ وجود کے ویران قبرستان میں ٹمٹمانے کی لاحاصل سعی کرتے تھے۔۔۔۔ ورق ورق پلٹنے پر یوں سامنے آتے گئے کہ لگا جیسے کسی نے وہ چوری پکڑ لی ہو جس کو دل کے سب سے اندھے گوشے میں اپنی نظر سے بھی بچا کر چھپایا گیا ہو۔
یہ کتاب کیا ہے ایک آئینہ ہے۔۔۔۔جس میں دیکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے تو چھوڑنے کو بھی جی نہیں چاہتا۔۔۔ اگر اندر کا اندر دکھتا ہے تو ایک ایسا ساتھ بھی محسوس ہوتا ہے جو بن کہے۔۔۔ بنا جھگڑا کیے سوچ سفر کے ہر موسم میں روح کی پرواز کا رازداں ہے۔
 اس کتاب میں کل  48 افسانے ہیں ۔ جودرج ذیل لنک پر کلک کر کے  پڑھے جا  سکتے ہیں۔ اس لنک میں  شروع کے نو افسانے موجود  نہیں جن میں کتاب کے نام 'سوال کی موت' والا ایک بہت اہم افسانہ بھی شامل ہے۔
 شروع کے نو افسانوں کے نام ۔۔۔
٭ 1) ظرف۔۔۔
٭ 2)ہجرت کا سکندر
٭3) کتاریس
٭5) علیم وخبیر
٭6) دوست
٭7) جنازگاہ
٭8)سوال کی موت
٭9)دائرہ
 آخر میں جناب طارق بلوچ صحرائی کے الفاظ میں دعا ۔۔۔
اللہ ہم سب کو لاحاصل محبتوں کا ظرف عطا فرمائے۔آمین

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں