صفحہِ اول

منگل, جولائی 09, 2013

"حدیث ِنبوی صلیٰ اللہ صلیہ وسلم "

 ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا :اے ابو الحسن ! کئی مرتبہ آپ حضور ﷺ کی مجلس میں موجود ہوتے تھے اور ہم غائب ہوتے تھےاور کبھی ہم ہوتے تھے اورآپ غیرحاضر- تین باتیں آپ سے پوچھنا  چاہتا ہوں کیا وہ آپ کو
 معلوم  ہیں ـ
 دریافت کیا گیا وہ کیا تین باتیں ہیں  ؟
 پہلی یہ کہ ایک آدمی کو محبت ہوتی ہے حالانکہ اُس نے اس میں کوئی خیر کی بات نہیں دیکھی ہوتی اور ایک آدمی کو ایک سے دوری ہوتی ہے حالانکہ اس میں کوئی بُری بات نہیں دیکھی ہوتی- اس کی کیا وجہ ہے - فرمایا - ہاں اس کا جواب مجھے معلوم ہے - حضورﷺ نے  فرمایا کہ انسانوں کی روحیں ازل سے ایک جگہ اکٹھی رکھی ہوئی تھیں وہاں وہ ایک دوسرے کے قریب آ کر  دوسرے سے ملتی رہیں - جن میں وہاں آپس کا تعارف ہو گیا ان میں یہاں دُنیا میں اُلفت  ہو جاتی ہے اور جس میں وہاں اجنبیت رہی وہ یہاں دُنیا میں بھی  ایک دوسرے سے الگ رہتے ہیں ـ 
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک بات کا تو جواب مل گیاـ
 دوسری بات یہ ہے کہ آدمی کوئی بات بیان کرتا ہے  کبھی بھول جاتا ہے ،کبھی یاد آ جاتی ہے -اس کی کیا وجہ ہے ؟
 فرمایا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے  میں نے اللہ کے نبیﷺ کو یہ فرماتے سُنا جیسے چاند کا بادل ہوتا ہے ایسے دل کا بھی بادل ہے - چاند خوب چمک رہا ہوتا ہے تو بادل اس کے سامنے آ جاتا ہے اور اندھیرا ہو جاتا ہے اور جب بادل چھٹ جاتا ہے چاند پھر چمکنے لگتا ہے ـ
ایسے ہی آدمی ایک بات بیان کرتا ہے وہ بادل اس پر چھا جاتا ہے تو وہ یہ بات بھول جاتا ہے اور جب اس سے یہ بادل ہٹ جاتا ہے تو اسے وہ بات یاد آ جاتی ہےـ
تیسری بات یہ ہےکہ آدمی خواب دیکھتا ہے توکوئی خواب سچا ہوتا ہے
اور کوئی جھوٹا اس کی کیا وجہ ہے ـ
  فرمایاحضرت علی کرم اللہ وجہہ نے-اس کا جواب بھی مجھے معلوم ہے- میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سُنا جب انسان گہری نیند سو جاتا ہے تو اس کی روح کو عرش تک چڑھا لیا جاتا ہے جو روح عرش پرپہنچ کر جاگتی ہے اس کا خواب تو سچا ہوتا ہے اور جو اس سے پہلے جاگ جاتی ہے
 اس کا خواب جھوٹا ہوتا ہے ـ
 فرمایا  حضرت عمررضی اللہ عنہ نے  میں ان تین باتوں کی تلاش میں ایک عرصے سے لگا ہوا تھا -اللہ کا شکر ہے کہ میں نے مرنے سے پہلےان کو پا لیا ـ
 حوالہ
از امام ابن القیم رحمتہ الله علیہ کتاب الروح ترجمہ مولانا عبد المجید 

2 تبصرے :