صفحہِ اول

بدھ, جولائی 17, 2013

" اعراب القرآن "

"اعراب "
کلام ِالٰہی کی تلاوت کرتے ہوئے اعراب کا خیال رکھنا بےحد ضروری ہے۔کہیں پر رُکنا ہوتا ہے۔۔۔کہیں ملا کر پڑھنا پڑتا ہے۔۔کہیں لفظ پر زور ڈال کے پڑھا جاتا ہے۔۔۔کسی جگہ پر ضرور ٹھہرنا چاہیے ورنہ معانی میں ابہام پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔یہ رموز اوقاف کہلاتے ہیں۔قرآن پاک میں سترہ یا  بیس ایسے مقامات " بتائے گئے ہیں جہاں اعراب وحرکات ( زیر،زبر ،پیش ) کی تبدیلی سے آیات کا مطلب اس حد تک بدل جاتا ہےکہ نوبت کلمۂ کفر وشرک تک جا پہنچتی ہے۔
قرآن کا موضوع انسان ہے اور اس کا پیغام غور وفکرہے ۔اپنی زندگی کے حوالے سے ہم شش وپنج کا شکار رہتے ہیں کہ ہم کوئی بھی منصوبہ بندی (پلاننگ ) کر لیں ہوگا وہی جو اللہ چاہے گا ہم مجبور ہیں اوریوں خود ترسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔قرآن پاک کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی زندگی پر غور کریں تو بھید یوں کھلتا ہے کہ ہمارے ذمے اپنی زندگی کی تحریر لکھتے چلے جانا ہے کسی رموز واوقاف کے بغیر ،اعراب سے ماورا ۔فقط لکھائی میں روانی ہو کوئی کانٹ چھانٹ نہ ہو ،اُسے دوبارہ پڑھنے میں وقت ضائع نہ کریں ،اُس کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے بلا وجہ بیل بوٹے نہ بنائیں ،جیسی ملی ہے جس حال میں رکھا گیا ہے آنکھیں بند کر کے صبروشکر سے راضی برضا رہنا ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رموز اوقاف ،اعراب ہی تو تحریر کا اصل ہیں،اِن کے بغیر تو معانی سمجھنا دُشوار ہے۔غور کریں تو بات یوں سمجھ آتی ہے کہ ہمارے ذمے لکھنا اور لکھتے  چلے جانا ہے۔پڑھنا اور سمجھنا جب ہم اپنے اوپر فرض کر لیتے ہیں تب ہی پریشانی اور خوف طاری ہو جاتا ہے۔
رموزاوقاف اور اعراب ڈالنا کاتب ِتقدیر کا کام ہے کب کس جگہ پر وقف کرنا ہے ،کس حرف پر زورڈالنا ہے ،کس جگہ بغیر رُکے گزرجانا ہے یہ سب سوچنا اور عمل کرنا ہمارا کام نہیں۔زندگی کے مسائل میں اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم اپنی مرضی سے اپنے آپ کو عقل ِکُل جان کر اعراب لگاتے جاتے ہیں۔جہاں رُکے بغیر گزرنا ہے وہاں اپنی برداشت کے ختم ہونے کا فل اسٹاپ لگا دیتے ہیں۔جہاں ٹھہرنا لازم ہے وہاں بےصبری سے آنکھیں بند کر کے گزر جاتے ہیں یوں خود ہی اپنی زندگی میں اُلجھاؤ پیدا کرتے ہیں۔یہ پرچہ حل کرنے کا وہ بنیادی اصول ہے جو جتنا جلد آ جائے اُتنی  جلدی زندگی کی تحریر میں رضا کی روانی اور پرچے میں سکون کی خوبصورتی پیدا ہوتی چلی جائے گی۔
"اللہ دُنیا اور آخرت کے ہر امتحان میں کامیاب کرے "

1 تبصرہ :