جمعرات, جون 13, 2013

"ماضی حال "

"ماضی حال "
کھونے سے کل بھی ڈر لگتا تھا
بچھڑنے سے آج بھی ڈر لگتا ہے
گرنے سے کل بھی ڈر لگتا تھا
ٹوٹنے سے آج بھی ڈر لگتا ہے 
اندر کا بچہ کبھی بڑا نہیں ہوتا
 سر اُٹھانے سے سایہ جدا نہیں ہوتا

۔۔۔۔۔۔
چاہو تو رستہ مل ہی جاتا ہے
میں بے سمت جنگل تو نہیں
۔۔۔۔۔۔
تبسم چہرے سے عیاں ہے
تھکن آنکھوں میں نیہاں ہے
سفر دستورِزمانہ ٹھہرا ورنہ
مقدر لکیروں میں پنہاں ہے
۔۔۔۔۔

1 تبصرہ:

"ایک زرداری سب پہ بھاری"

گو ہاتھ کو جُنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے رہنے دو ابھی ساغرومینا مِرے آگے آنکھوں دیکھی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔8ستمب...