صفحہِ اول

جمعرات, جنوری 12, 2017

"لکھاری"

لفظ کہنے کا حوصلہ سننے والے کان سے ملتا ہے اور لفظ لکھنے کی لذت دیکھنے والی آنکھ کی عطا ہے۔
سوچنا اور لکھنا اہم نہیں بلکہ وہ نظر اہم ہے جو اس کے معنوں کی گہرائی میں جا کر اپنی مرضی کے سیپ کا انتخاب کرتی ہے، ور نہ کتنے ہی بند موتی اتھاہ گہرائیوں میں ان چھوئے رہ جاتے ہیں۔ ہم سب اللہ کی شاندار تخلیق ہیں بس دیکھنے والی آنکھ چاہیے سب سے پہلے اپنی آنکھِ،جو اپنی ذات کے سمندر میں جھانکنے کا عزم کر لے تو پھر ہی ہم کسی دوسرے کی آنکھ سے اپنی ذات کے اندر اترنے کا حوصلہ اور اعتماد حاصل کر سکتے ہیں۔
سب کہہ دینا چاہیے۔۔کوئی سمجھے یا نا سمجھے۔لیکن لکھنے سے ہماری اپنی بہت سی گرہیں ضرور کھل جاتی ہیں۔خود کلامی کی زبان کی پکار بہت سی بےزبانی سے نجات عطا کرتی ہے۔لکھنا دل کا بوجھ نہیں بلکہ مکمل ہونے یا چھوئے جانے کی خواہش ہے جو انسان کی جبلت میں ازل سے پرو دی گئی ہے۔اب انسان کی اپنی فطرت ہے کہ وہ کس طرح اس خواہش یا طلب کو پورا کرنے کی سعی کرتا ہے۔ کچھ کے لیے جسم کی خواہش جسم سے عبارت ہے ۔کچھ کو روح کی پیاس بےچین رکھتی ہے۔
اپنے خیال کو لفظ میں بیان کرنا  لکھنے والے کے لیے ایک عجیب سا نشہ ہے تو  ایسی خوشی بھی جو انسان دوسروں سے شئیر کرنا چاہتا ہے۔لفظ لکھنا اگر اللہ کا انعام ہے تو اسے دوسروں تک پہنچانا ایک تحفہ ہے لیکن اس تحفے کو  دینے سے پہلے کسی بھی عام تحفے کو دینے والی نظر سے ضروردیکھنا چاہیے۔۔۔۔ 
تحفہ دیتے ہوئے قیمت اہم نہیں ہوتی بلکہ دینے والے اور لینے والے کا ذوق اہمیت رکھتا ہے۔ اب لفظ کا تحفہ تو بےغرض ہوتا ہے اور ہر ایک اپنے ظرف کے مطابق اس کی خوشبو محسوس کرتا ہے۔ بات صرف  نیت کی ہے کہ دینے والا اس تحفے سے کیا چاہتا ہے۔اپنے دل کا غبار نکالنا ۔۔۔ اپنے ذہن میں جس خیال نے اسے جکڑ رکھا تھا اس کے اندر گھٹن پھیلا رکھی تھی وہ اسے دوسروں کے ذہن میں ڈال کر پرسکون ہونا چاہتا ہے اور یوں کہیں تو دوسروں کے ذہن اس کے لیے محض کوڑے دان ہیں ۔نیت سے متعلق ایک اہم بات یہ ہے کہ ہم میں کسی چیز کی صلاحیت نہ ہو بلکہ صرف ہوا کا رخ دیکھ کر محض وقتی واہ واہ یا تحفہ دینےکی دوڑ میں زبردستی اپنا نام لکھوانا چاہیں۔ بجا کہ ایسا محض شعور کی کجی نہیں بلکہ انسان لاشعوری طور پر بھی اپنی ذات کا اظہار چاہتا ہے لیکن سب سے اہم بات اپنے احساس اور اپنی ذات کی پہچان کی ہے۔ بےشک انسان اشرف المخلوقات کا درجہ رکھتا ہے اور اس کو اللہ نے  بیش بہا صلاحیتیں عطا کی  ہوئی ہیں  اور جن کو وہ اپنی عمرِفانی کی قلیل مدت میں کلی طور پر جان ہی نہیں سکتا۔لیکن اپنی زندگی  سمجھنے    میں اُس کی دستیاب عقلی   صلاحیت  بہت حد تک رہنمائی کر سکتی ہے۔ نیت کی سچائی اور بےغرضی ہر تحفہ دینے کی شرطِ اولین ہے۔معنویت خوبصورتی کے ساتھ ہو تو دل میں اترتی ہے اور محض لفاظی کاغذی پھول کی طرح ہے۔۔ خوش رنگ لیکن خوشبو سے خالی جیسے کہ رومانوی شاعری صرف شاعری ہے اس کا مقصد سوائے اپنے جذبات کے اظہار کے اور کچھ نہیں۔ جسے اپنے دل کی آواز لگتی ہے وہ اسے دل سے لگا کر رکھتا ہے ۔ اردو ادب میں شاعری کا برابر کا حصہ ہے۔ شعراء کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اس لیے شاعری کو ادب سے کلی طور پر منفی نہیں کیا جا سکتا۔دوسری بات اپنی سوچ پر اعتماد کی ہے  کہ ہمارا تحفہ  کس قابل ہے؟  ہم   دینے سے پہلے ہی شش وپنج کی کیفیت کا شکار  ہوں اور مسترد کیے جانے کے واہموں میں مبتلا ہو جائیں تو تحفہ  ہماے ہاتھ میں ہی اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ جب بےغرض دے رہے ہوں تو پھر نفع نقصان کی پروا کرنا بےمعنی ہے کہ جس کا جتنا طرف ہے وہ اتنا پائے گا۔  کوئی بھی تحفہ دیتے ہوئے ہم اپنی طرف سے اس  کی  خوبصورتی،معنویت اور  قابلِ قبول ہونا مدِنظر رکھتے ہیں۔تحفہ تو پھر خاص چیز  ہے ہم خیرات دیتے وقت  بھی  کھرے کھوٹے سکے کا دھیان رکھتے ہیں تو پرانے کپڑے  اور پرانے برتن دیتے وقت بھی پھٹے ہوئے اور ٹوٹے ہوئے کبھی بھی نہیں دینا چاہتے۔ سو لفظ کا تحفہ جو ہماری روح  کی آواز ہوتی ہے اسے دیتے ہوئے ہم کیوں چاہتے ہیں کہ لینے والا ہمارے ٹوٹے   پھوٹے لفظ قبول کر لے۔اگر ہم  تحریر لکھنے کے بعد دوسری نظر نہیں ڈالیں گے تو کسی سے یہ توقع رکھنا بےکار ہے کہ پہلی نظر ڈالے اور وہ ٹھہر بھی جائے۔
سوچ کو لفظ میں پرونا اگر ایک آرٹ ہے تو دیکھنے والی آنکھ کا اس لفظ کے معنی کو محسوس کرنا اس سے بڑا فن نہیں تو اس کے ہم پلہ ضرور ہے اور پھر اپنے احساس کو لفظ کا گلدستہ بنا کر سراہنا لفظ پڑھنے کا حق ادا کرنا ہے ، لکھنے والا کسی کی واہ واہ کے لیے ہرگز نہیں لکھتا، بلکہ لکھنا بذات خود رب کا اتنا بڑا انعام ہے کہ اس کی جزا انسان دینے کا اہل ہی نہیں۔جو لفظ کسی مادی منفعت کے لیے لکھا جائے وہ پیٹ تو بھر سکتا ہے لیکن روح کی تسکین نہیں کر سکتا۔
دنیا کی معلوم تاریخ میں آج تک کسی پیغمبر یا اولیاء یا عظیم مفکروں کو ان کے سامنے نہیں مانا گیا۔تو ایک عام انسان جو رب کے عطا کردہ تحفۂ فکر سے کچھ موتی چنتا ہے ۔وہ کیسے اپنے جیسے عام انسانوں سے کچھ توقع رکھ سکتا ہے۔ افسوس یا دکھ قطعی نہیں کبھی بھی نہیں ۔انسان ہونے کے ناطے بس ایک خلش یہ ضرور رہتی ہے کہ جو سچ جو راز رب نے دل ودماغ پر افشاء کیے وہ امانت ہیں اوراس کے بندوں تک پہنچانا ایک ذمہ داری۔۔۔جلد یا بدیر جاننے والے جان ہی جائیں گے۔وقت پر جان جائیں تو ان کے لیے اچھا۔
 کسی خوبصورت سوچ کا زاویہ اگر ہماری سوچ سے مل جائے پھر احساس کی جگمگاتی کہکشاں تک رسائی خواب نہیں ہوتی"۔"

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں