بدھ, نومبر 02, 2016

"محبّت، ضرورت اور بُلّھے شاہ"

محبّت، ضرورت اور بلّھے شاہ از شہریارخاور

شہریارخاور ورلڈپریس ڈاٹ کام ۔۔یکم  نومبر2015

اس کی شادی ہوئے دس پندرہ دن گزر چکے تھے لیکن میں اب بھی حقیقت سے سمجھوتہ نہیں کر پایا تھا. اور حقیقت یہ تھی 
کہ ہماری محبّت اور وہ بےنام سا رشتہ جس نے ہمیں تین سال تک جوڑے رکھا تھا، کب کا ختم ہو چکا تھا. وہ کسی اور کی ہو چکی تھی اور میں اب بھی اکیلا تھا.شاید اس کا جانا مجھ پہ اتنا گراں نہ گزرا تھا جتنا میرا دل اس کی آخری دنوں کی بےرخی پہ ٹوٹا تھا. کبھی اپنے آپ کو سمجھاتا، کبھی اس کی طرف سے وکیل بن جاتا. کبھی غصّہ، کبھی غم، کبھی محبّت ، کبھی نفرت. ایک عجیب عذاب میں جان پھنس گئی تھی۔
کچھ انھی دنوں کی بات تھی. اکتوبر کے اوائل کا ایک گرم خشک دن تھا. لاہور ابھی تک گرمی کی لپیٹ میں تھا. صبح ہی سے دل میں بےچینی تھی۔اک عجیب اضطراب تھا جو میرے اندر تلاطم برپا کئے ہوئےتھا۔ ہلچل حد سے بڑھی تو میں نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور گھر سے نکل پڑا ۔ کہاں جانا تھا کہاں چلا گیا؟ اتنا کہنا کافی ہوگا کہ کوئی انجان طاقت تھی جومیری اضطرابی کیفیت کا فائدہ اٹھائے مجھے کہیں کھینچے لئے جا رہی تھی۔خیر یہ سب تو میں اب سوچ رہا ہوں، اس وقت ان سب باتوں کا ادراک نہیں تھا۔
مزنگ چونگی سے گاڑی فیروز پور روڈ پربائیں موڑی تو پھر سیدھا ہی چلتا گیا.۔منی ویگنوں کے ہارن، گاڑیوں کے شیشوں سے منعکس ہوتی سورج کی شعائیں، راہگیروں اور ٹھیلے والوں کا شور اور گالیاں، آنکھوں اور کانوں میں پڑتی تو رہیں مگر اداسی کے خول میں قید میرے وجود کو شعور نہ تھا۔
مسلم ٹاؤن پر نہر کے پل پہ اشارہ بند تھا۔ آس پاس کی گاڑیوں میں کئی حسین چہرے تھے مگر اداسی کے عدسوں چھپی میری آنکھیں صرف میک اپ زدہ چہروں کی یاسیت دیکھ رہی تھی.۔بےچینی میں ساتھ کی خالی سیٹ پہ ہاتھ بڑھا کر اس کے لمس کی گرمی تلاش کرنی چاہی۔ پھر زور سے نتھنوں سے سانس کھینچا کہ شاید گاڑی کے ماحول میں بسی اس کی یاد کی خوشبو کا کوئی جھونکا ہی محسوس ہوجائے۔مگر سب بےسود۔
اردگرد کے دھول زدہ ماحول سے تنگ آ کے میں نے ٹیپ ریکارڈر آ ن کر دیا۔۔۔
کوئی نیا قوال تھا اور بابا بُلّھےشاہ کا کلام گا رہا تھا
پتھر ذہن گلاب نئیں ہوندے
کورے کاغذکتاب نئیں ہوندے
جے کر لائی یاری بُلھیا
فیر یاراں نال حساب نئیں ہوندے
ایک بابا جی کے کلام کا اثر ، دوسرا کمبخت قوال کے گلے کا سر ، مانو کچھ دیر کے لئے زندگی ہی بدل گئی سوچوں کو راستہ مل گیا. دل کو ٹکڑے ہونا یاد آیا اور عشق کو روٹھنا. ذرا دیر کو کلام کے اثر سے باہر آیا تو دیکھا گاڑی قصور کے مضافات میں داخل ہو چکی تھی۔ سوچا اتنا قریب آ ہی چکا ہوں تو کیوں نا بابا جی کا مزار ہی دیکھ لیا جائے۔پوچھتا پچھاتا مزار تک پہنچ ہی گیا۔ اندر جانے کا ارادہ نہیں تھا کیوں کے ایک تو بلا کی گرمی اور چلچلاتی دھوپ، اوپر سے سینے میں دھڑکتا ماڈرن دل۔سوچا بس باہر سے ہی ٹھیک ہے۔
سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے اور ایئر کنڈیشنر سے لہروں کی مانند آتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے دوش کچھ لمحے آنکھیں بند ہی کی تھیں  کے کھڑکی کا شیشہ کسی نے کھٹکھٹا دیا. آنکھیں کھولی تو ایک پٹھان بچے پر نظر پڑی۔ معصوم چہرہ، دس یا پھر گیارہ کا سن، پیشانی پر گرمی کی سرخی اور پسینے کے قطرے، میلے کپڑے، ہاتھ میں پکڑا جوتے پالش کرنے کا برش اور کندھے سے لٹکتا چھوٹا سامیلا کچیلا سیاہ پڑتی لکڑی کا بکسہ۔ نا چاہتے ہوئے بھی میں نے کھڑکی کا شیشہ نیچے سرکا دیا۔
کیا بات ہے بیٹے؟ کیا چاہیے؟’، میں نے مسکراتے ہوے پوچھا۔
وہ کچھ لمحے کھڑکی سے آتے ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کو محسوس کرتا رہا اور پھر بولا۔
‘صاحب جوتے پالش کرا لو‘
مگر میرے جوتے تو صاف ہیں’، میں ٹالنے کے انداز میں بولا۔
کہاں صاف ہیں؟’، اس نے کھڑکی میں سے اچکتے ہوئے میرے ٹخنے تک اونچے بھورے جوتوں پہ نظر ڈالی۔
پالش کرا لو، اتنا چمکائے گا کے شکل صاف نظرآئے گی۔
اس کے اس معصوم استعارے پر میں مسکراتا گاڑی بند کر کے اتر آیا۔
صاحب ، یہاں اس قدردھوپ میں پالش کرائے گا؟’ اس نے سورج کی جانب آنکھیں بھینچ کے نظر ڈالی۔
کہاں کراؤں پھر؟ گاڑی میں بیٹھ جاؤں؟’ میں ابھی بھی مسکرا رہا تھا۔
ایسا کرتا ہے، مزار کی ڈیوڑھی میں چل کے بیٹھ جاتا ہے. پسینہ بھی سوکھ جائے گا اور پالش بھی ہو جائے گی۔
وہ میرے جواب کا انتظار کئے بغیر ہی مزار کی جانب چلنا شروع ہوگیا. کچھ سوچ کر میں خاموش رہا اور چپ چاپ اس کے پیچھے بڑھ گیا۔
محرابی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی مجھے چھوٹے خان صاحب کی عقل کا اعتراف کرنا پڑا. اونچی چھت، قدیم طرز تعمیراور اینٹوں کےگیلے فرش نے مل جل کر ایک عجیب خنکی سی پیدا کر دی تھی. اوپر سے گلاب اور موتیے کی بھینی بھینی خوشبو. ماحول پرسکون تھا. میں نےہاتھ کی پشت سے پیشانی پہ آیا پسینہ صاف کیا اور ادھر ادھر نگاہ ڈالی. ڈیوڑھی کے دونوں جانب دو فٹ اونچا لکڑی کا مسلسل پلیٹ فارم اور ان کے پیچھے دیواروں سے لگی الماریاں جن میں جوتے رکھنے کے خانے بنے تھے. تھوڑا اور غور کیا تو پتا چلا کے وہاں میرے اور اس بچے کے عللاوہ دو نفوس اور بھی تھے. ایک تو جوتوں کی نگرانی کرنے والا جوان لڑکا تھا۔تقریباً پٹھان بچے والا ہی حلیہ مگرتیل میں چپڑے لمبے بال۔ایک کلائی کےگرد پیلا پڑتا موتیے کا ہار لپٹا تھااور دوسرے ہاتھ میں پکڑی ٹوکونوں کی میلی سی گڈی. اس کی شخصیت میں مزید کچھ دلچسپی نہ پا کے میں نے اپنے دائیں  جانب نظر گھمائی. دروازے کے ساتھ ہی زمین پر چھوٹی سی لکڑی کی چوکی رکھے ایک بابا جی بیٹھے تھے اور  ایک شفیق مسکراہٹ لیے میری جانب  دیکھ رہے تھے۔
عجیب پُراثر سی شخصیت تھی ان کی بھی. گورا چٹا رنگ، ستّر یا پھر پچھتر کا سن، آنکھوں میں سرمے کی سلائی پھری ہوئی، سفید صاف ستھرا پاجامہ کرتا، سر کے گرد بندھا سفید عمامہ اور ہاتھ میں پکڑی زمرد کی تسبیح. پیشانی کی چوڑائی اور ابروؤں کی بناوٹ عقل و دانش کی غماز تھی اور چہرے پہ جھریوں کی موجودگی اور آنکھوں کے گرد ان کا پھیلاؤ ظاہر کرتا تھا کہ بابا جی کی زندگی زیادہ ترمسکراتے گزری ہے. اک عجیب دلنشیں شخصیت تھی ان کی. بابا جی کے سامنے ایک سرکنڈوں کی ٹوکری تھی، جس پہ پھیلائی سفید چادر پر رنگین بتاشوں کا میلہ سا لگا تھا۔
بابا جی کی مسکراہٹ میں اپنائیت محسوس کرتے ہوئے میں نے سلام کیا۔
وعلیکم السلام’، انھوں نے سر کو ہلاتے زیرِلب جواب دیا۔
بتاشے لو گے؟’ انھوں نے سامنے پڑی ٹوکری میں ایسے ہاتھ گھمایا کہ جیسے بتاشے نہ ہوں، دنیا کی کوئی بہت بڑی نعمت ہو.
جی نہیں بابا جی. شکریہ. میں میٹھا نہیں کھاتا’. میں نے اپنی جانب سے ٹالنے کی پوری کوشش کی۔
‘میٹھا نہیں کھاتے؟’، انھوں نے نہایت حیرانی  کا اظہار کیا. ‘اسی لیے تو اداس ہو‘
جی؟’ مجھے اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا. ‘بابا جی کو میری اداسی کا کیسے پتا چلا؟’ میں نے سر جھٹکتے سوچا. پھر ذہن میں آیا کے بابا جی کا اتنے برسوں کا تجربہ ہے اور پھر مزار پہ بیٹھے ہیں جہاں زیادہ تر دنیا اداس اور پریشان حال ہی آتی ہے۔
یہ بتاشے میٹھا نہیں ہیں. یہ خوشیاں ہیں چھوٹی چھوٹی. کھاؤ  پیو اور خوش ہو جاؤ. وہ ابھی بھی مسکرا رہے تھے۔
ان کی دیسی معصومیت اور سادگی کا لحاظ رکھتے میں نے انہیں تولنے کا اشارہ کیا. انہوں نے ایک ہاتھ بڑھایا اور مٹھی میں جتنے بتاشے آئے، ایک چھوٹے سے کاغذی لفافے میں ڈال کر میری طرف بڑھا دیے۔
جی کتنے ہوئے؟’ میں نے جیب سے بٹوا نکالتے ہوے پوچھا’۔
بس جتنی خوشی چاہیے، اس کے حساب سے پیسے دے دو’. ان کی آنکھوں کی چمک دیدنی تھی’۔
میں ہنس پڑا اور ایک پانچ سو کا نوٹ نکال کر بابا جی کی خدمت میں پیش کر دیا. انھوں نے نوٹ کی طرف دھیان دینے کی ضرورت نہیں سمجھی. مٹھی میں دبایا، ایک بتّی سی بنائی اور ساتھ پڑے چندے کے ڈبّے میں ڈال دیا۔
ارے یہ کیا؟ عجیب آدمی ہے. نا نوٹ دیکھا، نا کھلا واپس کیا. اور اٹھا کے چندے کے ڈبّے میں ڈال دیا.’ میں نے حیران ہوتے سوچا اور ان کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
بیٹے جس کے گھر میں بیٹھے ہیں، بتاشے بھی اس کے اور پیسے بھی اس کے.’ انھوں نے ایسے بات کی جیسے میں کوئی چھوٹا سا بچہ تھا۔
شاید گفتگو کا سلسلہ مزید جاری رہتا اگر وہ بوٹ پالش والا بچہ مجھے اپنی طرف متوجہ نا کرتا. اس کےمیری قمیض کا دامن کھینچنے پر میں نے مڑ کر دیکھا۔
‘صاحب، ادھر کھڑے کیا کر رہے ہو؟ جوتے پالش نہیں  کرانے کیا؟‘
میں نے اس کی طرف دیکھ کر سر ہلایا اور لکڑی کے پلیٹ فارم پر بیٹھ کر جوتوں کے تسمے کھولنے لگا.۔
صاحب، کیا کرتے ہو؟ جوتے مت اتارو. میں ایسے ہی پالش کر دیتا ہوں.’ اس نے مجھے روکنے کی کوشش کی۔
نہیں بیٹا، پاؤں کو ہاتھ نہیں لگاتے. میں اتارتا ہوں تو تم پالش کر دینا.’ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا۔
اور پھر میں نے دعا بھی تو کرنی ہے مزار پر. جوتے تو اتارنے ہی پڑیں گے’. میں نے اس کی بےچینی محسوس کرتے ہوئے، نہ چاہتے ہوئے بھی دعا کا ارادہ کر لیا۔
میں نے جوتے اتار کر بچے کے حوالے کیے. مزار کے صحن میں داخل ہونے ہی لگا تھا کے بابا جی کی آواز نے پھر قدم پکڑ لئے۔۔۔
دعا کرنے جا رہے ہو یا ملاقات کرنے؟’ ان کے چہرے پر مسکراہٹ بدستور جلوہ گر تھی’۔
جی ملاقات کس سے؟’ میں نے حیرانی سے پوچھا’۔
اسی سے ہی ، جس کے گھر آئے ہو.’ انہوں نے کمال آسانی سے ایسے جواب دیا کے جیسے کسی واضح حقیقت کا اظہار کر رہے ہوں۔
میں نے اس بات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور آگے بڑھ گیا۔
چلو کوئی بات نہیں. دعا کرنا نہ کرنا تمہاری مرضی، ملاقات کرنا نہ کرنا گھر والے کی مرضی.’ پیچھے سے ان کی آواز کان میں پڑی،لیکن میں چلتا رہا۔
سادہ سا مزار تھا. گرمی اور دوپہر ہونے کی وجہ سے رش بھی بہت کم تھا. ایک برآمدے سے گزر کر میں مزار میں داخل ہوگیا. باقی مزاروں کی نسبت چمک دمک بہت کم تھی. سبز رنگ کی چادر سے ڈھکا قبر کا تعویذ کچھ اتنا اونچا نہ تھا. سادہ سے بھورے رنگ کے کتبے پر صرف بڑا بڑا کر کے ‘حاجی عبدللہ عرف بلھے شاہ’ لکھا تھا. نا کوئی ‘مرقد پرنور’، نا ‘مزار اقدس’ اور نا ہی کوئی ‘مرکزتجلیات’. صرف ‘حاجی عبدللہ عرف بلھے شاہ’ کے جیسے کوئی ولی الله نہیں بلکہ کوئی غریب زمیندار دفن ہو۔
فاتحہ خوانی کے بعد سوچا کے کیا مانگوں؟ پھر صرف دل کا سکون مانگا اورباہر نکل آیا. واپس جانے کے لئے باہر دروازے کی جانب قدم بڑھائے ہی تھے کہ مزار کے صحن میں موجود ایک برگد کے درخت پر نظر پڑی. وہ بھی ایسا ہی مزار تھا اور ایسا ہی برگد کا پیڑ جس کے نیچے ہماری ایک یادگار ملاقات ہوئی تھی. یاد گار اس لیے کے اس دن پہلی دفعہ اس نے میرے لئے اپنی محبّت کا اعتراف کیا تھا۔
میں تم سے اتنی محبّت کرتی ہوں کے ساری زندگی تمہارے نام پر گزار سکتی ہوں’. اس نے مٹیالی ٹائلوں کی درزوں کو ایک تنکے سے کریدتے ہوے کہا۔
اور میں تمہاری خوشی اور تمہاری ایک مسکراہٹ کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دےسکتا ہوں.’ میں نے بھی اپنی اوقات سے بڑھ کر دعوی کیا۔
کسے معلوم تھا کے ہم دونوں بیوقوفوں کی جنّت میں رہ رہے تھے. نا اس کی محبّت اتنی دیرپا تھی اور نا میری ہمّت تھی بڑی قربانیاں دینے کی. اور آخر میں اس سےقربانی مانگی بھی تو کیا مانگی؟ اپنی خوشی کے لئے میری محبّت کی قربانی. کہنے کو تو میں نے اس کے بوڑھے باپ کا لحاظ کیا اور اس کوباپ کی مرضی سے شادی پر رضامند کیا تھا. مگر حقیقت کیا تھی، ہم دونوں اس سے بخوبی واقف تھے. وہ مجھ سے تنگ آ چکی تھی. اس کو جانا ہی تھا. میں روکتا تو اپنی خود کی بے عزتی کرواتا.۔
نا چاہتے ہوئے بھی میں برگد کی طرف بڑھ گیا. اس کے سائے میں بہت سکون تھا. میں چبوترے سے ٹیک لگا کے بیٹھ گیا اور مزار کے گنبد پہ ناچتے کبوتر دیکھنے لگا۔
تو اصل میں کیا ہوا؟ اس نے تمھیں چھوڑ دیا یا تم نے اسے چھوڑ دیا؟’ میں نے چونک کے آواز کے منبع کی جانب دیکھا. بتاشوں والے بابا جی ساتھ کندھے سے کندھا ملائے  ایسے بیٹھے تھے جیسے مدتوں کی دوستی ہو۔
بابا جی، آپ کب آئے؟ پتہ ہی نہیں چلا.’ میں نے اپنی حیرانی پر قابو پاتے ہوئے پوچھا’۔
بتاؤ نا. وہ تمھیں چھوڑ گئی یا تم نے اسے چھوڑ دیا؟’ انہوں نے میرے سوال کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور اپنا سوال دُہرا دیا۔
جی بات تو پیچیدہ ہے مگر اس نے مجھے چھوڑ دیا.’ میں نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا’۔
‘ارے واہ!’ انہوں نے ایک قہقہہ لگایا. ‘یہ توبہت اچھا ہوا
جی؟’ مجھے اپنے کانوں پر اور ان کے اس ظالم قہقہے پر یقین نہیں آیا’۔
طنز نہیں کر رہا بیٹے، ٹھیک ہی توکہہ رہا ہوں’ انہوں نے شفقت سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
جی وہ مجھے چھوڑ گئی ، یہ کیسے اچھا ہوا؟’ مجھے ان کی بات میں چھپی کوئی سچائی نظر نہیں آ رہی تھی۔
وہ دیکھو سامنے.’ باباجی نے ہاتھ سے دور اشارہ کیا جہاں مزار کی دیوار کے سائے میں ایک خانہ بدوش عورت بیٹھی، آنچل کی اوٹ میں اپنے بچے کو غالباً دودھ پلا رہی تھی۔
اس عورت کو دیکھ رہے ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر اسکا بچہ روئے یا پھر چیخے چلائے تو ماں اسے چھوڑ دے گی؟’ انھوں نے عورت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
جی نہیں. ماں کبھی بچے کو نہیں چھوڑتی’. میں نے جواب دیتے ہوئے زیادہ سوچ بچار نہیں کی’۔
ٹھیک کہتے ہو. ماں کبھی بچے کو نہیں چھوڑتی.’ انھوں نے سر ہلایا. ‘لیکن جب یہ بچہ بڑا ہوجائے گا. جوان ہوگا. نوکری کرے گا. اس کی شادی ہوگی. بیوی آئے گی. کہے گی ماں کو چھوڑ دو. تو یہ ماں کو چھوڑ دے گا یا نہیں؟
میں نے آج کل کے زمانے اور آج کل کی اولاد کے بارے میں سوچا. ‘آج کل فرماں برداری کا زمانہ نہیں باباجی. میرا خیال ہے، بیوی زیادہ اصرار کرے گی تو بوڑھی ماں کو چھوڑ دے گا۔
تو پھر، محبّت کے درجے میں کون بلند ہوا؟’ باباجی نے مسکرا کر پوچھا’۔
جی ظاہر ہے ماں بڑی ہوئی جو کسی صورت اولاد کو نہیں چھوڑتی’. مجھے اب بھی لگ رہا تھا کے باباجی میرا مذاق اڑا رہے تھے
شاباش! اچھا یہ بتاؤ، خدا کبھی اپنی مخلوق کو چھوڑتا ہے؟’ مجھے لگا جیسے باباجی گفتگو کا رخ موڑ رہے تھے۔
میں نے سوچ میں سر جھکا دیا اور خدا سے اپنے رشتے کے بارے میں سوچا. کتنے بےشمار گناہ کیے میں نے. کبھی نماز روزے میں دلچسپی نہیں لی لیکن جب خدا کو یاد کیا، اسے ساتھ کھڑے پایا. کبھی خدا نے مجھے اکیلا نہیں ہونے دیا۔
میں نے سنا ہے باباجی کہ خدا اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبّت کرتا ہے. تو جب ماں اولاد کو نہیں چھوڑتی تو خدا بندے کو کیسے چھوڑ سکتا ہے؟’ میں نے نظر اٹھا کے باباجی کی طرف دیکھا۔
شاباش! شاباش!’ باباجی کی خوشی دیدنی تھی. یوں لگ رہا تھا کے ابھی اٹھ کر ناچنا شروع کر دیں گے۔
پھر میرا کندھا بھینچ کر انھوں نے پوچھا، ‘بندا خدا کو چھوڑ دیتا ہے کہ نہیں؟
‘ہاں جی!’ میں نے شرمندگی سے سر جھکا کے کہا، ‘چھوڑ دیتا ہے‘
بابا جی نے پھر ایک زندگی سے بھرپور قہقہہ لگایا اور میرے زانو پر بےتکلّفی سے ایک ہاتھ مارا۔
اب یہ بتاؤ کہ کون بہتر ہوا؟  چھوڑنے والا یا چھوڑ کے جانے والا؟ کس کی محبّت بڑی ہوئی؟ چھوڑنے والے کی یا چھوڑ کے جانے والے کی؟
مجھے یوں لگا جیسے میرے دماغ کے اندر کوئی بہت پیچیدہ گانٹھ کھل گئی ہو. کوئی بہت بڑی الجھن تھی جو حل ہوگئی تھی. باباجی کی بات نے میری زخمی انا کے لئے بھی مسیحا کا کام کیا. میری انا کا سرخ جھنڈا پھر زور سے پھڑپھڑانے لگا. میں نے اسے نہیں چھوڑا. وہ مجھے چھوڑ گئی. محبّت کے امتحان میں وہ ہار گئی اور میں جیت گیا. لیکن کچھ الجھنیں اب بھی باقی تھیں۔
لیکن یہ بتائیں  باباجی کہ اس نے مجھے کیوں چھوڑا؟’ میں نے سر اٹھا کے باباجی کی طرف دیکھا. ‘میں نے اس کی ہر خوشی کے لئے اپنی خوشی قربان کی. میں نے اس کی ایک مسکراہٹ کے لئے اپنی ہزار مسکراہٹوں کا خون کیا. پھر اس نے مجھے کیوں چھوڑا؟ محبّت بھی میری بڑی اور غم بھی میرا بڑا؟ ایسا کیوں ہوا؟’ مجھے اپنے گلے سے آنسوؤں کا نمک اترتا محسوس  ہوا۔
باباجی خاموش رہے. اپنے کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈالا، مٹھی بھر  جوار کے دانے نکالےاور ہاتھ سامنے کی طرف بڑھا دیا. باباجی کا ایسا کرنا تھا کبوتر جوق در جوق مزار کے گنبد سے پر پھڑپھڑاتے اترنے لگے. دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے سامنے میلہ لگ گیا. مزار کا مٹیالا فرش سرمئی سفید رنگ کے پروں سے ڈھک سا گیا. ایک کے بعد ایک کبوتر اچکتا ہوا آگے بڑھتا اور بابا جی کے ہاتھ سے دانہ چگتا. میں حیرانی  سے باباجی اور کبوتروں کے لگاؤ کو دیکھتا رہا۔
میں یہیں رہتا ہوں نا. یہ کبوتر میرے دوست بن گئے ہیں. مجھ سے نہیں ڈرتے.’ باباجی نے میری حیرانگی کو محسوس کرتے کہا۔
تھوڑی ہی دیر میں دانے ختم ہوگئے اور کبوتر اُڑ کر واپس مزار کے گنبد پر جا بیٹھے۔
دیکھو بیٹے، مرد اور عورت دونوں ہی محبّت کرتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے نہیں.’ باباجی نے واپس میری طرف توجہ کا رخ مبذول کرتے ہوے کہا۔
ایک دوسرے سے نہیں تو پھر کس سے؟’ میں نے کچھ نا سمجھتے ہوئے پوچھا’۔
مرد اور عورت دونوں ضرورت سے محبّت کرتے ہیں. کچھ ضرورتیں دونوں کی مشترک ہیں جیسے جسم کی ضرورتیں. لیکن انا کی ضرورتوں میں اختلاف ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کے دونوں کی اناؤں میں ازل سے ابد تک ایک جنگ چھڑی رہتی ہے.’ باباجی نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔
انا کی ضرورتیں کیا ہیں باباجی اور جنگ کیسی؟’ میں بدستور الجھا ہوا تھا’۔
مرد کی پسلی سے عورت کو خدا نے کیا پیدا کیا، مرد خود کو خدا سمجھ بیٹھتا ہے. مذہب سے ڈر کر خود کو خدا تو نہیں کہلاتا مگر مجازی خدا ضرور کہلانا پسند کرتا ہے.’ باباجی کے چہرے پر پھر ایک مسکراہٹ نے ڈیرے ڈال دیے۔
لیکن مرد کی بات تو کچھ کچھ ٹھیک معلوم پڑتی ہے. ظاہراً تو مرد کو خدا نے افضل پیدا کیا ہے. عورت کو یہ بات معلوم بھی ہے تو پھر اس کی انا جنگ پر کیوں آمادہ ہے؟’ میں نے سر کھجاتے عرض کیا تو باباجی ہنس پڑے. میں کچھ شرمندہ سا ہوگیا۔
دیکھو بیٹے تم ایک بات بھول رہے ہو. مرد کو الله نے اپنی بہت سی خوبیوں میں سے حصّہ دیا ہے. رازق بنایا ہے، متکبّر بنایا ہے، قابض بنایا ہے، عادل بنایا ہے. لیکن عورت کو وہ صفت دی ہے جو مرد کو نہیں دی۔
وہ کونسی صفت ہے باباجی؟’ میں نے حیران ہو کے پوچھا’
عورت کو الله نے خالق بنایا ہے بیٹے. پیدا کرنے کی طاقت دی ہے. اور یہ طاقت عورت کی انا کو دوام بخشتی ہے. قوت دیتی ہے. مرد کے مقابلے لا کھڑا کر دیتی ہے.’ باباجی نے میرے کندھے کو دباتے ہوئے کہا۔
ہاں یہ تو ٹھیک فرمایا آپ نے لیکن میرا سوال تو وہیں کا وہیں کھڑا ہے نا. میں نے تو یہ پوچھا تھا کے وہ مجھے کیوں چھوڑ گئی؟’ میں نے بےصبری سے پوچھا۔
باباجی مسکرائے، ‘بتاتا ہوں بیٹے، بتاتا ہوں. تمہارا سوال عورت کی ایک اہم ضرورت سے متصل ہے اور وہ ضرورت ہےنام کی، پناہ گاہ کی، ٹھکانے کی، جہاں وہ زمانے بھر کے طوفانوں سے بچنے کے لئے چھپ سکے. اس کواپنی اس ضرورت سے بہت محبّت ہے. اور ہونی بھی چاہیے.’ باباجی تھوڑا سانس لینے کو رکے، ‘اب تم مجھے یہ بتاؤ کہ  کیا تمہاری محبّت میں وہ پناہ تھی؟
میں کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگیا. مجھے بہت سے مواقع یاد آئے جب وہ مجھ سے شادی کے لئے اصرار کرتی تھی مگر میں کسی نا کسی مصلحت کے سہارے اس کی بات ٹال دیتا تھا۔
میں اس سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے تھوڑا اور وقت چاہیے تھا.’ میں نے اداس لہجے میں جواب دیا۔
وقت ؟ وقت ہی تو عورت کا سب سے بڑا دشمن ہے. وقت ایک پاگل کتے کی طرح عورت کے پیچھے پیچھے بھاگتا ہے. اور اس کتے کے ڈر سے عورت کو پناہ گاہ کی تلاش ہوتی ہے. تم نے اس کتے کو اس غریب کے پیچھے بھاگتے نہیں دیکھا.’ باباجی نے شفقت سے مجھے سمجھایا۔
مجھے یاد آیا کہ کئی دفعہ اس نے مجھے کہا  وہ میرے بچے کی ماں بننا چاہتی ہے. اس کو اپنی تیزی سے بڑھتی عمر سے بہت ڈر لگتا تھا. باباجی کی باتوں سے میں بہت کچھ سمجھ چکا تھا. میں جان چکا تھا کے اس نے مجھے کیوں چھوڑا. وہ اپنی ضرورت اور ڈر کے ہاتھوں بہت مجبور تھی. مگر یہ سب کچھ سمجھنے کے باوجود میری انا کو سکون نہیں تھا. شاید مجھے اپنے آپ پر غصّہ تھا جو اس سے اتنا قریب ہونے پر بھی اس کی ضرورت اور ڈر کو نہیں پہچان سکا۔
اپنے دکھ کو کہاں لے جاؤں باباجی؟’ میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنا شروع ہو چکے تھے. غم کے آنسو یا شاید پچھتاوے کے آنسو. دونوں کا نمک ایک جتنا ہی کڑوا ہوتا ہے۔
تم اس کو معاف کر دو بیٹے. دل سے معاف کر دو. اور اپنے آپ کو بھی معاف کر دو. دل صاف ہو جائے گا.’ باباجی نے محبّت سے میرا سر اپنی گود میں رکھا اور ایک شفیق باپ کی طرح میرے بالوں کو سہلانے لگے۔
معاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے باباجی’ مجھے اپنی آواز کہیں دور سے آتی سنائی دی’۔
ہاں بہت مشکل ہوتا ہے. مگر محبّت کرنے والوں کے لئے کچھ مشکل نہیں ہوتا. معاف کر دو بیٹے. الله تم دونوں پر اپنا فضل اور اپنا کرم کرے گا۔
یہ کہہ کے باباجی کچھ گنگنانا شروع ہوگئے. میں نے غور کیا تو وہ بلھے شاہ کا کلام تھا۔
پتھر ذہن گلاب نئین ہوندے
کورے کاغذ کتاب نئیں ہوندے
جے کر لائی یاری بلھیا
فیر یاراں نال حساب نئیں ہوندے
باباجی  کی باتیں سن کے مجھے لگا کے واقعی محبّت کا تقاضہ ہے کہ میں معاف کر دوں. لہذا میں نے سچے دل سے اسی وقت، اسے اور اپنے آپ کو معاف کر دیا۔
جانے میں کب تک باباجی کی گود میں سر رکھے روتا رہا اور جانے کب میری آنکھ لگ گئی، پتا ہی نہیں چلا. جب آنکھ کھلی، سورج اسی طرح چمک رہا تھا اور کبوتر اسی طرح مزار کی چھت  پر بیٹھے غٹرغوں کر رہے تھے. البتہ باباجی کا کچھ پتا نہیں تھا. پتا نہیں کب اٹھ کے چلے گئے تھے۔
میں نے اٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑے اور وضو کے لئے لگائے گئے نلکے سے منہ دھویا. میں نے محسوس کیا کے میرا دل پھول کی طرح ہلکا ہو چکا تھا. میں نے دل میں جھانک کر دیکھا تو اس کے لئے صرف محبّت پائی. کوئی کدورت نہیں تھی. کوئی شکایت نہیں تھی. کوئی شکوہ نہیں تھا. بس محبّت تھی۔
باہری ڈیوڑهی میں داخل ہوتے میری نظر باباجی کو تلاش کر رہی تھی. میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہ رہا تھا. مگر نا وہاں باباجی تھے نا ان کا بتاشوں کا چھابڑا۔
صاحب، اتنی جلدی واپس آ گئے؟ دعا نہیں کی آپ نے؟’ اچانک پالش والے پٹھان بچے کی آواز نے میرے خیالات کی ڈور توڑ دی۔
نہیں بیٹے جلدی کہاں؟ کافی وقت لگ گیا’. میں نے اس کے ہاتھ میں پکڑے اپنے جوتے کی طرف دیکھا. ابھی تک اس نے صرف مٹی ہی جھاڑی تھی. میں نے سوچا کہیں کھیل میں لگ گیا ہوگا اور زیادہ بحث مناسب نہیں سمجھی۔
‘اچھا تم جلدی جلدی پالش کرو. اور یہ بتاؤ کے وہ باباجی کہاں گئے؟‘
کونسے باباجی صاحب؟’ بچے کی ساری توجہ میرے جوتوں پر مرکوز تھی’۔
ارے وہی جو یہاں دروازے کے ساتھ بیٹھے بتاشے بیچ رہے تھے. جن سے میں باتیں کر رہا تھا. وہ ہی جن کو پیسے دیے تھے میں نے’، میں ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا. بچہ میری طرف منہ کھول کر حیرانی سے دیکھتا رہا اور پھر سر جھکا کر جوتے پالش کرنے لگا۔
یہاں کوئی باباجی نہیں ہوتے سر. کوئی یہاں بتاشے نہیں بچتا.’ جوتوں کے نگران نے میری بےچینی کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔
یار کیسے کوئی باباجی نہیں ہوتے؟ یہ دیکھو میں نے ان سے بتاشے خریدے تھے.’ میں نے اپنی جیبیں ٹٹولیں مگر بتاشوں کا کہیں کچھ پتا نہیں تھا۔
شاید برگد کے نیچے گر گئے ہوں.’ میں نے سوچا. خیر جلدی جلدی جوتے پالش کرائے، بچے کو پیسے دیے اور گاڑی میں جا کے بیٹھ گیا. میری نظریں اب بھی باباجی کو تلاش کر رہی تھی۔
ارے یہ کیا؟’ یکایک ساتھ والی سیٹ پے ایک مانوس سے کاغذی لفافے پر نظر پڑی. کھول کے دیکھا تو باباجی سے لئے بتاشے. میرا تو سر چکرا کر رہ گیا۔
یا خدا یہ کیا گھن چکّر ہے؟ وہ باباجی کون تھے؟ یہ لفافہ گاڑی میں کہاں سے آیا؟’ سوالات سے گھبرا کر میں گاڑی بند کر کے پھر اترآیا۔
مزار کی ڈیوڑھی میں داخل ہو کر میں چندے کے بکس کی طرف بڑھا اور جیب میں جتنے پیسے تھے، نکال کر ڈال دیے. باباجی کی خالی جگہ کی طرف دیکھ کر اونچی آواز میں سلام کیا اور نکل گیا۔
لگتا ہے صاحب دعا کرنے آیا تھا اور ملاقات ہوگئی ’ نکلتے  ہوئے جوتوں والے لڑکے کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔
راستے بھر میں سوچتا ہی رہا، خواب تھا،دعا تھی یا ملاقات، میری تو زندگی سیدھی کر دی باباجی نے۔

1 تبصرہ:

  1. میری اور اس کہانی میں واحد فرق۔۔۔ برگد کے پیڑ کا ہے۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...