منگل, فروری 11, 2014

" لمس سے لفظ تک"

محبت احساس کا نام ہے اورقربت اس احساس کا اظہار ہے۔۔۔ جذبوں کی روانی ہے۔۔۔ ایک بہتا مدھرچشمہ ہے جس پراگر لمس کا بند نہ باندھا جائےتو یہ بےفائدہ ۔۔۔ بےفیض چُپ چاپ دریا سے ہم آغوش ہو کر وقت کے گہرے سمندروں کی نذرہوجاتا ہے۔ یا کسی پُرشور ندی نالے سے مل کر نہ صرف اپنی پہچان کھو بیٹھتا ہے بلکہ تباہی وبربادی کی نئی داستانیں بھی رقم کرتا ہے۔
لمس کی اہمیت اس کی بےپناہ طاقت سےانکار نہیں۔ لمس جسم کا ہوتا ہے یا سوچ کا اور سب سے بلند تر کہیں تو روح کا اور پھر نور کا۔
لمس  کائنات کی سب سے بڑی لذت ہے لیکن حدودوقیود کے اندر رہ کر ہی اس کا ثمر پایا جا سکتا ہے ورنہ بظاہر خوشنما اوردل فریب نظر آنے والے پھل جان لیوا حد تک زہریلے بھی ہو سکتے ہیں۔
لفظ لمس کے بنا ادھورا ہےاورکبھی لمس اتنا طاقتور ہو جاتا ہے کہ لفظ اُس کے سامنے بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔لفظ کبھی گم نہیں ہوتے بس ہم ہی اپنی طلب کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔
لمس خواہ محبت کا ہو نفرت کا یا پھردرد تکلیف کا بہت طاقتور ہوتا ہے۔نرم ونازک احساسات کو جڑ سے اُکھاڑ کر نئے سرے سے اُن کی نمو کرتا ہے۔ یہ مقناطیسیت محض لمحوں کا کھیل ہوتی ہے۔۔۔ برقی مقناطیس کی طرح ۔۔۔ اُس پل لگتا ہے جیسے سب ختم ہو گیا۔ لیکن اگرمحبت کا لمس وجود کو گل وگلزار بناتا ہے۔۔۔زمینوں میں زرخیزی کی مہر لگاتا ہے تو نفرت کا لمس تذلیل کااحساس بن کردوسروں سے اس کا بدلہ لینے پر اُکساتا ہے۔۔۔کبھی چوٹ کا لمس جسم پر نہ مٹنے والے نشانات چھوڑ جاتا ہے جن کے گھاؤ کبھی نہیں بھرتے اور نارسائی کا کرب احساس کو بنجر بھی کر دیتا ہے۔
 لمس کوئی بھی ہو اگراپنا انمنٹ اثر نہ چھوڑے تو پھرانسان کو گونگا یا بےحس بنا دیتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب لفظ کی اہمیت کھل کر سامنےآتی ہے۔ پھر صرف لفظ ہی بچتے ہیں جو لمس کے احساس کو بچانے کی سعی کرتے ہیں ۔لفظ وہ نہیں جانتے جو ہم جانتے ہیں اور جو ہم جانتے ہیں وہ لفظوں میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا اور  حقیقت یہ بھی  ہے کہاحساس کو جب تک لفظ کی زبان نہ ملے وہ بےحیثیت ہی رہتا ہے۔
لفظ  روح کے زخم کا وہ مرہم ہے جو تمام درد اپنے اندر اُتار لیتا ہے اور مندمل کرنے کا کام وقت پر چھوڑ دیتا ہے۔لفظ پڑھے ہی نہیں جاتے محسوس بھی کیے جاتے ہیں، کبھی چُھوتے ہیں تو گُدگُدیاں کرتے ہیں،رُلاتےہیں،ستاتے ہیں تو کبھی دُوربھگا دیتے ہیں ۔ جب سنائی دیتے ہیں تو کبھی مرہم بنتے ہیں کبھی نمک ۔اِن کی نغمگی اگر کانوں میں رس گھولتی ہے تو نشتر بن کردل چیر بھی دیتی ہے۔ وہ لفظ جو ہمارے قریب آتے ہیں،ہماری سوچ کے لمس کو چھوتے ہیں یا ہماری زبان سے ادا ہوتے ہیں آئینے کی طرح ہمارا ہی عکس ہوتے ہیں۔کسی  کے کہے مسرور کریں تو ہمارے اندر کی کہانی سناتے ہیں اور ہماری زبان سے کسی کے سامنے ادا ہوں تو ہمارے اندر کا راز دوسروں پر فاش کرتے ہیں۔یہی لفظ کسی کو قریب لاتے ہیں، فاصلے کم کرتے ہیں تو کبھی اُن کی تلخی اور جہالت ہمیں بدظن کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے فاصلے بڑھا بھی دیتی ہے۔

لفظ ہیرے کی طرح ہوتے ہیں جس رُخ سے دیکھیں ایک نئے انگ میں مسحورکرتے ہیں۔احساس کو چھو جائیں تو پھول سے بھی زیادہ نرم ونازک ۔ نقصان پہنچانے پر آئیں تو جان لے کر ہی چھوڑتے ہیں۔انسان کا احساس بہت قیمتی ہے جو دوسری نعمتوں کی طرح رب کی انمول عطا ہے اور خاص ہے ان کے لیے جو خاص ہوتے ہیں۔اہم یہ ہے کہ اگر لمس اورلفظ کا تعلق بھی نہ رہے تو انسان اس وسیع کائنات میں اپنی ذات کے بھنور میں یوں ڈوب جاتا ہے کہ کوئی اس کی پکار سننے والا بھی نہیں 
ہوتا۔
آخری بات
لمس کی طاقت پرجو لوگ یقین رکھتے ہیں وہ اس کا اظہار نہیں کرپاتے۔اورجو اظہار کرتے ہیں وہ اِس کی طاقت سے بےخبرہی رہتے ہیں۔  
  

6 تبصرے:

  1. بہت خوبصورت طریقے سے آپ نے لمس اور لنظ کا رشتہ بیان کیا ہے ۔۔۔ زبردست تحریر

    جواب دیںحذف کریں
  2. https://www.facebook.com/seems.77/posts/10151920765541987

    جواب دیںحذف کریں
  3. میں نے سوچا، بہت، بہت سوچا پھر مجھے نیند کے غلبے میں خود کو جانے سے کوئی روک نہ سکا اور اسی خواب مہکار میں غلطاں تھا کہ مجھے وہ خشبو آئی جو ہمیشہ میری نیندوں کو جاگ دیتی رہی ہے۔ تبھی ایک سرسراہٹ سی چلمن کی میری ذات پر پھسلتی چلی گئی اور یہ باور کرا گئی کہ واقعی لمس اول احساس ہوتا ہے جو محسوسات سے گزار کر کسی من چلے کو بھی وہ فکر دے جاتا ہے جو اسے ایک ایسا لکھاری بنا دیتا ہے جو پھر عشق کو قیس رانجھا پنوں کے روپ میں پیش کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ذرا سا دھیان دینا اس من چلے کی من چلی بات پر آپ بھی لمس کا احساس دینے والی من چلی احساس نم۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. پندرہ دفعہ پڑھا، لیکن سمجھ نہیں آیا۔ سولہویں دفعہ صرف دو الفاظ "لمس" اور "لفظ" کو بالترتیب "ابے کا چھتر" اور " چیخ" سے تبدیل کر کے پڑھا۔ بہت لطف آیا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ کی تحریر میں مخفی معانی بھی ھو سکتے ھیں۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. پہلے تو آپ کے پندرہ بار پڑھنے کی مشقت اٹھانے کی دل سے معذرت ۔ سولہویں بار کا آپ کا اپنا انداز ہے اور سترھویں بار پڑھنے کی میری درخواست ہے۔
      سچ مجھے بھی بہت مزا آیا ۔ بہت شکریہ تحریر میں سے ایک نیا رُخ دریافت کرنے کا ۔

      حذف کریں
  5. لمس کی اہمیت اس کی بےپناہ طاقت سےانکار نہیں۔ لمس جسم کا ہوتا ہے یا سوچ کا اور سب سے بلند تر کہیں تو روح کا اور پھر نور کا۔
    لمس کائنات کی سب سے بڑی لذت ہے لیکن حدودوقیود کے اندر رہ کر ہی اس کا ثمر پایا جا سکتا ہے ورنہ بظاہر خوشنما اوردل فریب نظر آنے والے پھل جان لیوا حد تک زہریلے بھی ہو سکتے ہیں۔
    ----------------------------------
    سب سے بلند تر کہیں تو روح کا اور پھر نور کا۔
    جنہیں نور کا لمس مل جائے وہ دنیا کا خوش نصیب انسان ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...