اتوار, دسمبر 23, 2018

"دلیل پر 100 تحاریر"

"سامان سو برس کا "
۔  100 کا ہندسہ زندگی کے کلینڈر میں جس موڑ پر بھی آئے  اپنے اندر  ایک عجیب سی کشش  اور خوشی رکھتا ہے جیسے ایک سنگِ میل چھو لیا ہو۔۔۔یوں کہ جیسے  بہت کچھ مکمل ہو گیا ہو۔
انسانی عمر میں 100 برس اگر ناممکنات میں سے ہیں تو  ذہنی وجسمانی قوا کی مجبور ی اور لاچاری کی علامت بھی ہیں۔۔رب کی بنائی انسانی جان کی مشینری کا سو برس تک  پہنچنا محال ہے۔اس میں شک نہیں کہ   سو تو بہت دور کی بات ہےہم انسان تو اسی سے  نوے برس بھی اپنے مکمل ہوش وحواس ،جسمانی اور ذہنی  طاقت کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے۔پچاس کا ہندسہ پھلانگتے ہی انسانی عمر میں تنزلی کا سفر شروع ہو جاتا ہے اور یہاں تک آتے آتے انسان   رب کی طرف سے عطا کردہ  محدود مہلتِ عمر میں بد سے بدترین اور بہتر سے بہترین نشیب وفراز سے گزر چکا ہوتا ہے۔آسمانِ دنیا پر نئی کہکشاؤں  کو  دریافت کرنے اور ذہن کے زور پر  ساری دنیا پر حکومت کرنے والے   اپنی زندگی اور صحت   کے حوالے سے   یہاں آ کراپنے ہی جسم   سے شکست کھا جاتے ہیں۔
 جو بھی ہو سب جانتے بوجھتے اور سمجھتے ہوئے بھی ہم اپنی زندگی کے معاملات اور مشاغل میں  اعدادوشمار کو بہت  اہمیت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کرکٹ کے کھیل میں "نروس 99" کی اصطلاح بہت عام ہے۔اور سو رنز پورے ہوتے ہیں کھلاڑی اگلی ہی گیند  پر آؤٹ بھی ہوجائے تو  نہ صرف دیکھنے والے بلکہ وہ خود  بھی اطمینان کا سانس لے کر واپس لوٹتا ہے۔
 اب بات   دلیل پر میری سو تحاریر کے سنگِ میل کی۔۔۔ دلیل ویب سائیٹ کا آغاز جولائی 2016 ہوا۔ اپنی کسی  بھی تحریر کی اشاعت سے بےپروا  دو ماہ کے عرصے میں   بحیثیت قاری دلیل سے تعلق  جڑا رہا ۔دلیل انتظامیہ کی جانب   سے اگست  2016 کو میری پہلی تحریر" گود کی گور" شائع ہوئی۔ اپنا نام اور تحریر اچانک سے دلیل ویب سائیٹ پر دیکھ کرخوشگوار حیرت  ہوئی۔بس اُس کے بعد سے جو سلسلہ شروع ہوا وہ تادمِ تحریر رُکا نہیں۔ دلیل انتظامیہ کی مشکور ہوں کہ  آج تک میری  طرف سے بھیجی گئی کسی  ایک تحریر کو بھی رد نہیں کیا گیا اور نا ہی کسی ایک لفظ کی  کانٹ چھانٹ کی  نوبت آئی۔ دو سال کی مدت میں سو تحاریر کی مسلسل اشاعت کے اس سفر میں   گر  ایک ماہ میں دس سے زیادہ تحاریر شائع ہوئیں تو   دلیل کی طرف سے کسی تکنیکی مسئلے کی وجہ سے   ایک یا دو ماہ   کے وقفے بھی ہوئے۔ دلیل پر شائع شدہ 100 تحاریر کے اس گلدستے میں    جہاں میرے احساس کے کینوس پر  رنگ بکھیرنے  والے مختلف النوع موضوعات  کی  جھلک  ملتی ہے   وہیں  رب کی طرف سے   دی  گئی  صلاحیت  اور اہلیت  کو بروئے کار لاتے ہوئے   یہ تحاریر   ایک قاری ہونے کے ناطے اپنے لکھاریوں کی  محبت کا احسان  چکانے کی ادنیٰ سی کوشش بھی ہیں۔ میرے نزدیک لفظ کا قرض لفظ سے ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔سوشل میڈیا کی بدولت  آج کل "سب کہہ دو" کا زمانہ ہے۔ جس کے مثبت کے ساتھ منفی پہلو بھی ہیں کہ ہم اپنی عمر اور دوسرے کے تجربےکے ساتھ مسابقت بازی سے لے کر اپنی انا کی سربلندی تک پیچھے نہیں ہٹتے۔
میری تحاریر  تو بلاگ یا کتاب  کے معیار اور اصول وضوابط کے ایک فیصد پر بھی پورا نہیں اترتیں  کہ نہ  تومیں نے ڈھیر ساری کتب پڑھی ہیں اور نہ ہی بلاگ پڑھنے کا دعٰوی کر سکتی ہوں۔ میں نے تو شاید اتنے بلاگ بھی نہیں پڑھے جتنے لکھ چکی ہوں۔میری کم علمی سے صرفِ نظر رکھتے ہوئے اپنے بلاگز پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آپ کے قیمتی وقت کی خواہش رکھتی ہوں۔۔۔"شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات"۔
 دلیل ویب سائیٹ   اور اس کی انتظامیہ  کے اعتماد کے لیے تہہ دل سے ممنون  ہوں کہ دلیل پر اشاعت سے میری تحاریر   کی ایک منظم  فہرست مرتب ہوئی۔زندگی نے ساتھ دیا  اوردلیل ویب سائیٹ نے   آئندہ موقع دیا  تو اس کے پلیٹ فارم سے  اپنی اب تک کی بہترین تحاریر  ضرور سامنے لاؤں گی۔ ان شااللہ ۔
ویب سائیٹ "دلیل" پر2016 سے شائع ہونے والی تحاریر۔۔۔۔
٭۔2016 (34)۔۔۔۔اگست (1) ۔۔ستمبر(10)۔۔اکتوبر(11)۔۔ نومبر(6)۔۔دسمبر(6)۔
٭۔ 2017(55)۔۔جنوری (7)۔۔۔فروری(7)۔۔۔مارچ(7) ۔۔۔اپریل (4)۔۔۔مئی (3)۔۔۔ جون(4)۔۔۔جولائی(2)۔۔اگست(5)۔۔۔ستمبر(2)۔۔۔اکتوبر(6)۔۔۔نومبر(6)۔دسمبر (2)۔
٭۔ 2018(11)۔.مارچ (2)۔۔اپریل (1)۔ مئی (3)۔ جولائی (1)۔ستمبر(1)۔اکتوبر(3)۔دسمبر (1)۔
۔۔۔۔
٭1)گود کی گور۔۔۔31 اگست 2016
۔۔۔۔
٭2)عورت ۔پیر کی جوتی۔۔یکم ستمبر2016
۔۔۔۔
٭3)لفظ اور کتاب سے دوستی۔۔3 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭4)آہ ہم عوام،واہ ہم عوام۔۔5 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭5)مستنصرحسین تارڑ۔۔عکس سے نقش تک۔7 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭6) تین لفظ۔۔8 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭7زندگی کا زیرو پوائنٹ۔9ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭8)اشفاق احمد اور 7 ستمبر کی رات۔۔بانو قدسیہ۔۔15 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭9)ماں کا دُکھ۔۔19 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭10) بیٹی اور اُس کا دُکھ۔25 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭11) پچیس برس کا سفرِزندگی مکمل ہونے پر ماں کا احساس بیٹے کے نام۔29 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭12)چاند اور زندگی کی چاندنی۔یکم اکتوبر 2016
۔۔۔
٭13)سوکن۔۔2 اکتوبر2016
۔۔۔۔۔
٭14)سرقہ۔6اکتوبر 2016
۔۔۔
٭15)آفتِ ارضی۔8 اکتوبر 2016
۔۔۔
٭16) رازِ زندگی 9 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
٭17) کتے،کتاپن اور ہماری خواہشات۔ 18 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
٭18)سال گرہ۔19 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
٭19)اکرامِ میت۔23 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
٭20)منتظمِ اعلیٰ اور استعفٰی۔25 اکتوبر 2016
۔۔۔۔۔۔
٭21)دھرنے اور آج کا اسلام آباد۔۔29اکتوبر2016۔
۔۔۔۔۔۔
٭22)کٹڑ پنجابی،کٹر پاکستانی اورکٹر اُردو ادیب۔۔ 31اکتوبر2016۔
۔۔۔۔۔۔
٭23)تبدیلی کی لہر کی واپسی اور جوان خون۔2 نومبر 2016۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
٭24)خودغرضی کی بھوک۔15نومبر2016۔
۔۔۔۔۔
٭25) نکاح۔۔کاغذ کہانی۔۔18 نومبر۔2016۔
۔۔۔۔۔۔
٭26) سیاسی حمام اور لولی پاپ کی سیاست 19۔نومبر۔2016۔
۔۔۔۔۔۔
٭27) ساتھ اور لباس کہانی ۔،20 نومبر 2016
۔۔۔۔۔
۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔
٭97) سرکاری ملازم۔۔30 ستمبر2018
۔۔۔
٭98) ماں کی ڈائری سے۔13 اکتوبر 2018
۔۔۔
٭99) آٹوگراف۔۔17 اکتوبر 2018

3 تبصرے:

  1. https://daleel.pk/2018/12/23/92943?fbclid=IwAR0caPlY4uFsTl2s-9Ur4FqVqtigbH8BzU2V_x9HflS2mXPowj0jes6gOg0

    جواب دیںحذف کریں
  2. آپ کو 100 تحاریر مبارک ہوں. آپ کی وساطت سے معلوم ہوا کہ دلیل نام کی بھی کوئی ویب سائٹ ہے.
    الله کریم آپ کو صحتمند خوش اور خوش حال رکھے اور آپ اپنی زندگی کے بھی 100 مکمل کریں

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. خیر مبارک ۔۔۔
      میرے بلاگ کے علاوہ یہ صرف دلیل ویب سائیٹ ہی تو ہے جہاں میری تحاریر شائع ہوتی رہیں۔ پُرخلوص دعاؤں کے لیے آپ کی ممنون ہوں۔ رہی بات زندگی کے سو کی تو یہ دعا ہرگز نہیں البتہ نادانستگی میں کہی جانے والی ایک بددعا ضرور ہو سکتی ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو ایمان کی سلامتی کے ساتھ آخری عمر کی ساعتوں کے اس امتحان میں کامیاب کرے آمین۔

      حذف کریں

مکافاتِ عمل

مکافاتِ عمل۔۔۔ کاروبارِ حیات میں نفع نقصان کا حساب کتاب کرتے ہم دیکھتے ہیں کہ پکڑ ہمیشہ اُس گناہ کی نہیں ہوتی جو جانے انجانے میں سرزد ہ...