صفحہِ اول

منگل, دسمبر 09, 2014

" پرت در پرت"

" پرت در پرت"
 کچھ انسان پیازکی مانند ہوتے ہیں۔۔۔ پرت اتارتے جاؤ۔۔۔آنسو بہاتے جاؤ۔۔۔ آخر میں اکثر کائی زدہ ،بدبودار ہی نکلتے ہیں۔
 کچھ بند گوبھی کی طرح بھی ہوتے ہیں کہ بنا کسی خوشبو یا احساس کے پرت اتارتے جاؤ۔آخر میں یوں پاک ان چھوئے لگتے ہیں جیسے ہمارے ہی لیے اتارے گئے ہوں۔
 کچھ انسان کریلے کی طرح ہوتے ہیں۔۔۔ انہیں برتنے کا طریقہ نہ آئے۔۔۔چاہت کا قرینہ نہ آئے اور اپنانے کا سلیقہ نہ آئے تو اُن کی کڑواہٹ کے سامنے اُن کی خوش نمائی اور زیبائی ہوا ہو جاتی ہے۔جو اس راز کو جان جاتے ہیں( کہ یہ راز اتنا بھی پوشیدہ نہیں ہوتا) وہ نہ صرف اس کڑواہٹ کو دل وجان سے قبول کرتے ہیں بلکہ اپنے ذوق اپنے ظرف اوراپنی ضرورت کے مطابق اس کڑواہٹ میں سے لذت اور ذائقے کا شہد کشید کر لیتے ہیں۔
ہم میں سےہر شخص ہری مرچ سے آشنا ہے اور کسی نہ کسی حد تک اُس کی محبت میں گرفتار بھی ہے۔ ہری مرچ انسان کی ذات اس کی خصلت کی عکاس بھی ہے۔ہری مرچ چال ڈھال سے لے کر نین نقش تک پل پل رنگ بدلتی جاتی ہے۔کبھی اتنی بھرپور اتنی خوش رنگ کہ دل بےاختیار کھنچتا چلا جائےاور قریب جا کر چھونے اور چکھنے میں اتنی بےضرراتنی بےلذت کہ جیسے گیلی پھلجھڑی۔اوریوں بھی ہوتا ہے کہ بظاہر منحنی سی ہری مرچ انسان کے چودہ طبق روشن کردے۔ ہری مرچ لذت کام ودہن کا وہ جزوِزریں ہے جس کے بغیر وصال میں ہجر کی تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ اور اس کے سنگ زندگی کے دسترخوان پر اگر رنگ بکھرتے ہیں تو وہیں اس کی قربت کا تیکھا پن اندر تک جلا کر بھی عشق کا الاؤ بھڑکا دیتا ہے۔
کچھ لوگ بینگن کی خاصیت رکھتے ہیں اپنے کام سے کام  رکھنے والے۔رنگوں اور شوخی کی اپنی ہی دُنیا میں مگن ۔نہ لینے میں اور نہ دینے میں۔قدردان اپنے ہنر سے سجا سنوار کر جس سانچے میں ڈھالنا چاہے ڈھال لے۔ ساتھی انفرادیت کا خواہش مند ہو تو چمتکار بھی دکھاتے ہیں ورنہ گرد سفر میں گم ہو جاتے ہیں ۔
کچھ لوگ کچھ رشتے آلو کی طرح کم مایہ لیکن اہم ہوتے ہیں۔ جب تک ملتے رہیں ساتھ رہیں ان کی قدر کا احساس نہیں ہوتا ۔ہر رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور اسے گلنار بنا دیتے ہیں۔ان کا ساتھ طمانیت اور تقویت کا غیر مرئی احساس دیتا ہے۔۔۔ایک ایسا شجرسایہ دار جو ہر آندھی طوفان میں پناہ گاہ ثابت ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔
پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ  کسی سبزی پر اپنا احساس لکھنا چاہیں تو ضرور شئیر کریں۔ شکریہ


2 تبصرے :

  1. عمر یوں ہی گزر گئی قربِ لحد معلوم ہوا کہ سبزیوں کی بساط کیا ہے ۔ اور سمجھ میں آیا کہ لوگ کیوں کہتے تھے ”وہ کسی باغ کی مُولی ہے“۔ آج بیگم کسی دم ذہنی اور جسمانی فراغت میں پائی گئیں تو پوچھیں گے کہ ہم کونسی سبزی ہیں کہ 47 سال ہمارے ساتھ گذار لئے ؟

    جواب دیںحذف کریں