صفحہِ اول

بدھ, جنوری 25, 2017

"میرے پچاس سال"

جنوری 25۔۔۔1967
جنوری 25۔۔۔2017
پچاس سال۔۔۔نصف صدی۔۔۔بظاہر زندگی کی بےسمت بہتی جھیل میں پچاسواں بےضرر کنکر۔۔۔دیکھا جائے تودو صدیوں کے درمیان ہلکورے لیتی عمر کی کشتی نے وقت کے سمندر میں صدیوں کا سفر طے کر لیا ۔دو صدیوں کے ملاپ سے بنتی پچاس برسوں کی ایسی مالا۔۔۔جس میں  اپنے بڑوں سے سنے گئے اور کتابوں کی زبان سے محسوس کیے گذرنے والی صدی کے پکے رنگ عکس کرتے ہیں تو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی بدولت آنے والے دور  کے انوکھے رنگ نظریں خیرہ کیے دیتے  ہیں۔
زندگی اے زندگی!تونےبچھڑ جانے والوں کے تجربات،احساسات اور مشاہدات جذب کیے تو اب آنے والی نسل کے لیے خدشات تیرا دامن تھامے ہیں۔پچاس برس کا سفر  کیا ہے گویا سرپٹ بھاگتی زندگی کی  ریل گاڑی پچاس اسٹیشنوں پر پل بھر کر رُکی ہو۔بہت سوں کی تو یاد بھی باقی نہیں،بس یہ ہوا کہ ہر پڑاؤ پر سامان میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔اب جب طوق گلےتک آن پہنچے تو سوچنا پڑ گیا کہ اگلے کسی بھی اسٹیشن پر اترنا پڑ گیا توکس بوجھ سےکس طور جان چھوٹے گی اور کیا سامان ساتھ رہ جائے گا۔حد ہو گئی۔۔۔۔زندگی خواہ کتنی ہی بےکار اور لاحاصل ہی کیوں نہ گذرے،واپسی کی گھٹیاں سنائی دینے لگیں تو اُداسی اور مایوسی کی دُھول یوں قدموں سے لپٹتی ہے جیسے کچھ سانسیں اُدھار کی ملنے سےنہ جانے عظمت وکامیابی کا کون سا ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا جا سکے گا۔
کوئی کچھ بھی کہے،خواہ مخالفت میں کتنے ہی مضبوط دلائل کیوں نہ دے لیکن یہ حقیقت ہے کہ   زندگی کے سرکتے ماہ وسال  کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پر صبح شام کرتے پچاس کا سنگِ میل ایک ایساپڑاؤہے جس کے بعد چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ہر صورت اترائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔واپسی کے سفر کے آغاز کےبعد انسان خواہ کتنا ہی کامیابی کے جھنڈے گاڑ لے،اس کی محنت ومشقت کتنی ہی بارآور کیوں نہ ہوجائے،اُس کی ذہنی صلاحیت کتنےہی آسمان کیوں نہ چھو لے۔اس کے جسمانی قویٰ ہرگزرتےپل نقارۂ کوچ کی صدا لگاتے ہیں،یہ اور بات کہ ہم  میں سے زیادہ تر اس کو سننا ہی نہیں چاہتے یا جان کر انجان بنے رہنے میں بھلاسمجھتے ہیں۔زندگی کےسفر میں صحت وعافیت کے  پچاس برس  ایک پھل دار  درخت پر لگنے والےرسیلےپھل کی  مانند ہوتے ہیں  جسے  اگر بروقت  توڑا نہ جائے تو  اس کا رس اندر ہی اندر  خشک ہونے لگتا ہے، بظاہر وہ کتنا ہی تروتازہ کیوں نہ دکھائی دے۔محترم اشفاق احمد  "من چلے کا سودا "(صفحہ436) میں لکھتے ہیں " خوش رنگ  مطمئن پھول وہ ہوتا ہے جس کی پتیاں بس گرنے  ہی  والی ہوں  "۔
   کتاب زندگی  کے ورق اُلٹتے جب ہم اس کے پچاسویں باب پر پہنچتے ہیں تو وہ ہمارے  نصابِ زندگی کا بہت اہم موڑ ہوتا   ہے،یہاں پہنچ کر اگر پچھلے اسباق ازبر نہ ہوں،ذیلی امتحانات میں کی گئی غلطیوں کا احساس نہ ہو  تو آنے والے آخری  امتحان میں پاس ہونا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔زندگی کی شاہراہ پر  پچاس برس کا سنگِ میل ایک ایسا آئینہ ہے  جسے انسان  کےتجرباتِ زندگی صیقل کرتے ہیں تو رشتوں،تعلقات اور جذبات کے حوالے سے ذہن ودل پر چھائی دھند بھی بہت حد تک  چھٹ جاتی ہے۔آسمانِ دل کی وسعت دکھائی دیتی ہے تو اپنی طاقتِ پرواز کی اصلیت بھی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ ہم میں سے بہت کم روز روشن کی طرح عیاں اس سچائی کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ورنہ زیادہ تر  اپنے آئینوں سے منہ چھپاتے دوسروں کی فکر کرتے ہیں  اور یا پھر اپنے چہرے پر  بناوٹ کے غازوں کی تہہ جمائے لاحاصل رقصِ زندگی میں  خسارے کے سودے کرتے چلے جاتے ہیں۔ زندگی سمجھنے سے زیادہ برتنے کی چیز ہے۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ساری عمر کتابِ زندگی سمجھنے میں گزار دیتے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ زندگی آخری صفحے کے آخری لفظ سے پہلے سمجھ آ ہی نہیں سکتی جس  لمحے اس کی پہچان آنکھ میں اترتی ہےتو انسان ایک کائنات چھوڑ کر دوسری کائنات کے سفر پر روانہ ہونے کو تیار ہوتاہے۔
گزرے برسوں کے احساسات کو عشروں میں سمیٹا جائے اور ہر عشرےکے کینوس پر بنتی تصویر پر نگاہ ڈالی جائے  تو زندگی کے پہلے دس برس لفظوں اور رشتوں سے خوشیاں کشید کرنے اور ہمیشہ کے لیے اپنی روح میں جذب کرنے کی کیفیت کا عکس تھے۔اگلے دس برس محبتوں کی بےیقینی  کی دھند میں سانس لینے کی کوشش کرتے گذرے تو بیس سے تیس  کا عشرہ یقین کی ایسی خودفراموشی کی نذر ہو گیا جس میں نئے ماحول اور نئے زندگیوں کو پروان چڑھانے میں اپنی ذات،اپنے احساسات اور اپنے جذبات  کہیں کھو کر رہ گئے۔زندگی شاید اسی طرح گزر جاتی کہ تیس سے چالیس کےعشرے کے  بالکل درمیان پینتیس برس ایک اہم موڑ تھا  گویا کسی خواب غفلت نے چونکا دیا ہو۔۔۔یہ کیا ! زندگی تو گزر گئی؟کیا یہی حاصلِ زیست تھا؟  کیا بس یہی آنے کا مقصد تھا ؟ بس اتنی ہی کہانی تھی؟۔ اس دور میں خود سے الجھتے، سوچ کو ان الفاظ میں سمیٹا۔۔
۔" ادھورا خط" سے اقتباس۔۔"یہ کہانی 25 جنوری 2002 سے شروع ہوتی ہے۔جب میں 35 برس کی ہوئی ۔تو گویا خواب ِغفلت سے بیدار ہو گئی۔میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں نے کیا کھویا کیا پایا۔ مجھے اب ہر حال میں آگے دیکھنا تھا۔۔35 برس کا سنگِ میل یوں لگا جیسے باقاعدہ کلاسز ختم ہو گئی ہوں اور امتحانوں سے پہلے تیاری کے لیے جو عرصہ ملتا ہے وہ شروع ہو گیا ہو۔ دسمبر تک مجھے ہر حال میں بستر بوریا سمیٹنا تھا۔ ہر چیز نامکمل تھی۔۔۔میں ایک ایسے سوٹ کیس کی طرح تھی جس میں ہر قسم کا سامان اُلٹا سیدھا ٹھسا تھا۔۔۔اُس کو بند کرنا بہت مشکل کام تھا۔۔۔ہر چیز کو قرینے سے رکھنا تھا۔۔۔فالتو سامان نکالنا تھا۔۔۔میں بیرونی پرواز پر جانے والے اُس مسافر کی مانند تھی جس کو ایک خاص وزن تک سامان لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان حالات میں جبکہ میں ڈوب رہی تھی مجھے کسی بھی قابل اعتماد یا ناقابلِ اعتماد سہارے کی تلاش تھی۔۔۔ یقین جانیں میں اس کیفیت میں تھی کہ روشنی کی جستجو میں آگ سے کھیلنے کو بھی تیار تھی"۔

۔۔۔۔۔۔

زندگی کی سیڑھی چڑھتے  عمر کے پینتیسویں پائیدان نے مقناطیس کی طرح  برسوں سے جامد سوچ کو اس طور گرفت  میں لیا کہ برف احساسات کے پگھلنے سے لفظوں کی آبشار جاری ہو گئی لیکن اس خودکلامی کو سمجھنے اور منظم ہونے میں ابھی کچھ وقت  درکار تھا اور یہ وقت دس برسوں پر محیط ہو گیا۔پینتالیس برس کی عمر میں کمپیوٹر سے دوستی ہوئی تو اس نے  ایک وفادار دوست کی طرح  دامنِ دل وسیع کر دیا اور یوں بلاگ ڈائری میں احساس کی رم جھم  جذب ہونے لگی اور دھنک رنگ  فیس بک صفحے اور ٹویٹر کی زینت بنتے چلے گئے۔

نصف صدی کا قصہ تمام ہونے کو ہے۔اللہ بس خاتمہ ایمان پر کرے آمین۔زندگی سے اور کچھ بھی نہیں چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزرے برسوں کی کتھا،کچھ یادیں۔۔۔میری بھوری ڈائری سے بلاگ ڈائری میں۔۔۔۔۔
٭خلیل جبران۔۔۔۔(1982)۔۔۔سوچ جزیرے پر پہلی کشتی
٭تجربات ِزندگی۔۔۔جنوری 67۔۔جنوری 87 ۔۔(20سال)۔ہو س،محبت،عشق؟؟؟عام خیال ہے کہ "مرد عورت کی حفاظت کرتا ہے لیکن!مرد عورت کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ بھائی بہن کی،میاں بیوی کی اور  بیٹا ماں کی حفاظت کرتا ہے۔۔۔ ۔"حفاظت صرف مقدس رشتوں کی کی جاتی ہے عورت کی نہیں"۔۔۔آج کی اور آج سے چودہ سو سال کی لڑکیوں میں اس کے سِوا کوئی فرق نہیں کہ وہ ایک دم اپنے انجام کو پہنچتی تھیں اور آج کی آہستہ آہستہ۔
٭حاصلِ زندگی۔۔ ۔جنوری 1967۔۔جنوری  1992۔(25 سال)۔۔بچےِ،گھر،میں
٭احساسِ زندگی۔۔۔25جنوری1994۔۔۔
بجھنے سے پہلےبھڑکنا نہیں آیا مجھ کو
زندگی تجھ  کو   برتنا نہیں آیا مجھ کو
سوچ کے اُفق پر جنم لینے والے یہ لفظ احساس کی ٹھہری جھیل میں پہلا کنکر بن کر طلوع ہوئے اورتخیل کی  دھیرے دھیرے خشک ہوتی مٹی کو سیراب کرتے چلے گئے۔ 
٭سرکتے و قت کا نوحہ۔"بندگلی"۔ 25جنوری 67 ----25جنوری۔97۔(30 سال)۔
وہ ایک دائر ے میں گھوم رہی تھی۔سر اُٹھا کر دیکھتی تو کو ئی بھی دروازہ اُس کے لیے نہیں تھا آس پاس اُونچے مکان تھے،وہ سانس لینا چاہتی،گھٹن تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی،چیخیں مارکر رونا چاہتی،جو اندر ہی رہ جاتیں۔بھاگنا چاہتی لیکن پاؤں میں زنجیریں تھیں۔زنجیریں ٹوٹ بھی جائیں تو  بھاگ  کیسےسکتی تھی کہ یہ تو ایک بند گلی تھی۔
٭تحفۂ زندگی۔12 جنوری 2003۔۔دوست کا نامہ میرے نام۔۔۔اس میں سے اقتباس۔۔
۔"وظیفہ"۔۔۔۔ "اللہ تعالیٰ نے جو حساس دل ودماغ تمہیں دے دئیے ہیں اور جس طرح تم خود 'تلاش' کے سفرپرہو۔اس کو رُکنے نہ دو۔تم بہت خوش قسمت ہو کہ اپنے احساسات کو صفحے پر الفاظ کی صورت لکھ دیتی ہو،میں نے اس عمر تک یہ کوشش بارہا کی لیکن الفاظ ساتھ دےبھی دیتے ہیں مگر احساس ِجئرات ساتھ نہیں دے پاتا۔یہی وجہ ہےکہ گول مول طریقوں سے،ڈھکےچھپے الفاظ سے دل ودماغ ہلکا کرلیتی تھی یا ۔۔۔۔۔ہوں۔بس میری شدید خواہش ہے کہ تم اپنی حساس طبیعت کے تحت اتنا اچھا لکھ لیتی ہو تو کیوں نہ اچھے افسانے لکھو تا کہ کسی طرح تمہیں آؤٹ پُٹ ملے۔ جذبات کا نکاس روح کو کافی حد تک ہلکا پھلکا کرڈالتا ہے۔تم نے عمر کے اس دورمیں قدم رکھا ہے جہاں سے زندگی اب صحیح معنوں میں شروع ہوتی ہے۔اس سے پہلے کا دورتو امیچوراورپھر پچاس کے بعد کا دور ناطاقتی کا دورہو گا۔ اس گولڈن دورمیں جسمانی اور روحانی طاقتوں کو اپنی ذات کے اندر بیلنس کرو کہ تمہارے جیسے لوگ کم ہوتے ہیں،اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانیاں عطا کرے اورکرے گا کیوں کہ تم دوسروں کو آسانیاں مہیا کر رہی ہو"۔
٭تفکرِزندگی۔۔25 جنوری 2003۔۔۔ خلیل جبران،ممتازمفتی ،اشفاق احمد اورجناب واصف علی واصف کی تحاریر  پڑھتے پڑھتے محترم  پروفیسراحمدرفیق اختر کے نام اور اُن کی کتب سے پہلی بار شناسائی ہوئی۔
سب سے پہلے پڑھی گئی کتاب "پسِ حجاب"سےنوٹ کیا گیا اقتباس۔۔صفحہ 135۔۔ اگر کوئی جاننا چاہے کہ کون اللہ کے قریب ہے،تو جان لیجیئے کہ اللہ اپنے نزدیک دیوانوں اور احمقوں کو نہیں رکھتا،اس نے نسلِ انسان کو ایک شرف اور ٹیلنٹ بخشا ہوا ہے،وہ یہ چاہے گا کہ انسان اس شرف کو استعمال کرے۔یہ تمام اوصاف ایک چیز سے حاصل ہوتے ہیں یعنی جلدسے جلد اپنی ترجیحات کا تعین،جتنی زندگی ضائع کر کے آپ ان ترجیحات کےتعین تک پہنچیں گے،اتنے ہی آپ مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔وہ چاہے فرد ہو سوسائٹی یا ملک ہو،جس قدر وہ ان ترجیحات سے دور رہے،اُتنا ہی ڈسٹرب اور مصیبت زدہ ہے۔
ایک آدمی پچاس سال میں جن ترجیحات کو پاتا ہےمگر پچاس سال میں خدا کے نزدیک اس کی ترجیحات کی قدروقیمت کم ہو گئی،ایک شخص پچیس سال میں اپنی ترجیحات کو پا لیتا ہے اور اس کو پتہ ہےکہ میری زندگی میری سوچ،سب کچھ کا واحد مقصد یہ ہے کہ میں خدا کو پہچانوں۔جب ذہن ترجیحِ اول کا اعلان کر دیتا ہے تو خدا اور بندے کے ذاتی اختلافات ختم ہو جاتےہیں۔وہ کہتا ہے کہ بندے سے یہی توقع تھی کہ وہ غور کرے سوچے اور  مجھے انٹلیکچوئل ترجیحِ اول واضح کر لے۔ہو سکتا ہے کہ ذہنی طور پر اس کو اولیت اور اولین ترجیح قرار دینے کے باوجود آپ اپنی زندگی میں اس کی اولیت قائم نہ رکھ پائیں،اس لغزش کی معافی مل سکتی ہے۔
گناہوں کی بخشش اس کے ہاں صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ نے بنیادی سوال تو حل کر لیا ہے۔آپ کی کمزوریاںِ،کمیاں،ہو سکتا ہے آپ کو ترجیحات کے فقدان پرمائل کریں مگر یہ آپ کا ذہن اور آپ کی سوچ وفکر سے بھرپور طاقت ہے جس نے یہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔حتیٰ کہ خدا انسان کی کمزوری کی وجوہ کو حکم دیتا ہے،تسلیم نہیں کرتاِ،حکم دیتا ہے کہ اگر تم بڑے گناہوں اور فواحش سے پرہیز کرو تو چھوٹے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔جب خدا خود کہہ رہا ہے کہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور کوتاہیوں کے دور تم پر آئیں گے،تو یہ حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ہر آدمی پر حماقتوں کے کچھ دور ضرور گزرتے ہیں۔خطاؤں کے کچھ پیٹرن ضرور بنیں گے۔اس لیے کہ خطا بذاتِ خود سیکھنے کا بھی باعث ہے۔
٭تحفہء زندگی۔۔۔"لبّیک اللہُمٰ لبّیک"۔۔۔شناسائی سے آشنائی تک۔۔۔
روانگی۔15 دسمبر 2004 ۔۔۔ادائیگی حج 20جنوری 2005 -- واپسی 25 جنوری۔2005
٭سراب کہانی ۔25جنوری 1967---- 25جنوری 2007۔ (40سال)۔
عورت ایک ری سائیکلڈ کاغذ کی طرح ہے لیکن اُسے ٹشّو پیپر بھی نہیں بلکہ رول ٹشُو کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔  
٭ مدارِزندگی ۔۔۔22جنوری 1988۔22جنوری 2010۔(22سال)۔۔
وہ میرا گھر ہے لیکن میں و ہاں نہیں رہ سکتی اور یہ میرا گھر نہیں ہےلیکن مجھے یہاں ہی رہنا ہے۔
٭تشکر کہانی (شادی۔ 25 سال)۔یکم اپریل 1988---یکم اپریل2013
کانچ کی چوڑی کو یوں برتا کہ و قت کی گرد نے اُسے ماند کیا اور نہ اُس کی شناخت ختم ہوئی۔وقتی کھنک اور ستائش کی چاہ
فقط خودفریبی ہی تھی،ایک ان چھوا احساس  سرمایہءحیات ہے۔
٭تھکن کہا نی۔۔  25 جنوری 1967----25 جنوری2011۔(44سال)۔
بظاہر سرسبزوشاداب نظر  آنے والے  پودے کی رگوں میں سرسراتی نادیدہ دیمک قطرہ قطرہ  زندگی کا رس نچوڑتی جا رہی ہے۔
٭آخری کہانی 31دسمبر 2011
اپنی بھرپور موجودگی کے مادی اسباب کے ساتھ فرش سے عرش پر یا پھر عرش سے فرش تک کا ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد عورت اِتنی تہی داماں ہو جا تی ہیے کہ آخرکار پھونکیں مار مار کر اپنے ہی وجود کی بھٹی میں آگ سُلگا تے ہو ئے راکھ بنتی جا تی ہے،اُس کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہو تی،ہاں پہچان ختم ہو جاتی ہے" ڈھونڈنے والے اُس کی طلب سے بےنیاز  اپنے رنگ میں کھوجتے ہیں ۔"ا پنی نظر کی عینک سے بھی کبھی کائنات کا احاطہ ممکن ہو سکا ہے؟"۔ آکسیجن کی طرح بےرنگ ،بےبُو،بےذائقہ ہو جاتی ہے۔وہ آکسیجن جو بےمول،بن مانگے ملتی رہتی ہے تو اُس کی قدروقیمت کا کبھی احساس نہیں ہو تا۔کچھ حقیقتیں آخری سانسِ،آخری منظر سے پہلے آشکار نہیں ہو تیں " عورت بھی اِنہی سچا ئیوں میں سے ایک ہے۔
٭ ختم کہانی 25 جنوری 2012۔۔۔جان کسی چیز میں نہ ڈالو ورنہ جان  نہیں نکلے گی۔
 ۔(زندگی کہانی چند لفظوں میں کہی تو جا سکتی ہے لیکن گنتی کے چند برسوں میں مکمل نہیں ہو سکتی۔۔ہم کبھی نہیں جان سکتے کہ کاتبِ تقدیر نے  زندگی کہانی کے آخری صفحے پر ہمارے لیے کیا لکھا ہے۔۔۔"ختم کہانی اور  آخری  کہانی" کے عنوان سے لکھی گئی سطریں اس احساس کے تحت لکھی گئیں کہ اب قلم اور کاغذ کے رشتے سے تعلق ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ یہ نہیں جانتی تھی کہ محض چند ماہ بعد یہی تعلق  نہ صرف میرے نام کی پہچان بنے گا بلکہ میرے لیے اپنی ذات کے حوالے سے انوکھے دربھی وا کرے گا )۔ 
 ٭انٹرنیٹ کہانی۔۔۔۔ 31مارچ 2012 سے فیس بک  اور اکتوبر 2012  بلاگ۔۔۔پانچ برس کے عرصے میں اس پرواز کا احوال 450 سے زائد بلاگز کہتے ہیں۔  
٭" کانچ کی چوڑی اور تتلی کہانی پچیس جنوری۔2013۔۔۔
٭"ایک کہانی بڑی پرانی"۔  پچیس جنوری 2014 ۔۔۔۔
٭"عام عورت۔۔۔خاص بات"۔پچیس جنوری 2015۔۔۔
 
٭"ایک دن ایک داستان"۔پچیس جنوری۔۔۔2016۔۔۔
حرفِ آخر
 ٭زندگی کہانی چند لفظوں میں کہہ بھی دی جائے لیکن چند لفظوں میں سمجھائی نہیں جا سکتی ۔

٭ہم ساری عمرجگہ کی تلاش میں رہتے ہیں حالانکہ جگہ تو ہمیں زندگی کے پہلے سانس سے آخری سانس کے بعد تک دُنیا میں 

مل ہی جاتی ہے ہماری ضرورت سپیس (کھلی فضا) ہے جسے ہم خود اپنے اندر تلاش کریں تو مل جائے گی۔

۔۔۔۔

جمعرات, جنوری 12, 2017

"لکھاری"

لفظ کہنے کا حوصلہ سننے والے کان سے ملتا ہے اور لفظ لکھنے کی لذت دیکھنے والی آنکھ کی عطا ہے۔
سوچنا اور لکھنا اہم نہیں بلکہ وہ نظر اہم ہے جو اس کے معنوں کی گہرائی میں جا کر اپنی مرضی کے سیپ کا انتخاب کرتی ہے، ور نہ کتنے ہی بند موتی اتھاہ گہرائیوں میں ان چھوئے رہ جاتے ہیں۔ ہم سب اللہ کی شاندار تخلیق ہیں بس دیکھنے والی آنکھ چاہیے سب سے پہلے اپنی آنکھِ،جو اپنی ذات کے سمندر میں جھانکنے کا عزم کر لے تو پھر ہی ہم کسی دوسرے کی آنکھ سے اپنی ذات کے اندر اترنے کا حوصلہ اور اعتماد حاصل کر سکتے ہیں۔
سب کہہ دینا چاہیے۔۔کوئی سمجھے یا نا سمجھے۔لیکن لکھنے سے ہماری اپنی بہت سی گرہیں ضرور کھل جاتی ہیں۔خود کلامی کی زبان کی پکار بہت سی بےزبانی سے نجات عطا کرتی ہے۔لکھنا دل کا بوجھ نہیں بلکہ مکمل ہونے یا چھوئے جانے کی خواہش ہے جو انسان کی جبلت میں ازل سے پرو دی گئی ہے۔اب انسان کی اپنی فطرت ہے کہ وہ کس طرح اس خواہش یا طلب کو پورا کرنے کی سعی کرتا ہے۔ کچھ کے لیے جسم کی خواہش جسم سے عبارت ہے ۔کچھ کو روح کی پیاس بےچین رکھتی ہے۔
اپنے خیال کو لفظ میں بیان کرنا  لکھنے والے کے لیے ایک عجیب سا نشہ ہے تو  ایسی خوشی بھی جو انسان دوسروں سے شئیر کرنا چاہتا ہے۔لفظ لکھنا اگر اللہ کا انعام ہے تو اسے دوسروں تک پہنچانا ایک تحفہ ہے لیکن اس تحفے کو  دینے سے پہلے کسی بھی عام تحفے کو دینے والی نظر سے ضروردیکھنا چاہیے۔۔۔۔ 
تحفہ دیتے ہوئے قیمت اہم نہیں ہوتی بلکہ دینے والے اور لینے والے کا ذوق اہمیت رکھتا ہے۔ اب لفظ کا تحفہ تو بےغرض ہوتا ہے اور ہر ایک اپنے ظرف کے مطابق اس کی خوشبو محسوس کرتا ہے۔ بات صرف  نیت کی ہے کہ دینے والا اس تحفے سے کیا چاہتا ہے۔اپنے دل کا غبار نکالنا ۔۔۔ اپنے ذہن میں جس خیال نے اسے جکڑ رکھا تھا اس کے اندر گھٹن پھیلا رکھی تھی وہ اسے دوسروں کے ذہن میں ڈال کر پرسکون ہونا چاہتا ہے اور یوں کہیں تو دوسروں کے ذہن اس کے لیے محض کوڑے دان ہیں ۔نیت سے متعلق ایک اہم بات یہ ہے کہ ہم میں کسی چیز کی صلاحیت نہ ہو بلکہ صرف ہوا کا رخ دیکھ کر محض وقتی واہ واہ یا تحفہ دینےکی دوڑ میں زبردستی اپنا نام لکھوانا چاہیں۔ بجا کہ ایسا محض شعور کی کجی نہیں بلکہ انسان لاشعوری طور پر بھی اپنی ذات کا اظہار چاہتا ہے لیکن سب سے اہم بات اپنے احساس اور اپنی ذات کی پہچان کی ہے۔ بےشک انسان اشرف المخلوقات کا درجہ رکھتا ہے اور اس کو اللہ نے  بیش بہا صلاحیتیں عطا کی  ہوئی ہیں  اور جن کو وہ اپنی عمرِفانی کی قلیل مدت میں کلی طور پر جان ہی نہیں سکتا۔لیکن اپنی زندگی  سمجھنے    میں اُس کی دستیاب عقلی   صلاحیت  بہت حد تک رہنمائی کر سکتی ہے۔ نیت کی سچائی اور بےغرضی ہر تحفہ دینے کی شرطِ اولین ہے۔معنویت خوبصورتی کے ساتھ ہو تو دل میں اترتی ہے اور محض لفاظی کاغذی پھول کی طرح ہے۔۔ خوش رنگ لیکن خوشبو سے خالی جیسے کہ رومانوی شاعری صرف شاعری ہے اس کا مقصد سوائے اپنے جذبات کے اظہار کے اور کچھ نہیں۔ جسے اپنے دل کی آواز لگتی ہے وہ اسے دل سے لگا کر رکھتا ہے ۔ اردو ادب میں شاعری کا برابر کا حصہ ہے۔ شعراء کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اس لیے شاعری کو ادب سے کلی طور پر منفی نہیں کیا جا سکتا۔دوسری بات اپنی سوچ پر اعتماد کی ہے  کہ ہمارا تحفہ  کس قابل ہے؟  ہم   دینے سے پہلے ہی شش وپنج کی کیفیت کا شکار  ہوں اور مسترد کیے جانے کے واہموں میں مبتلا ہو جائیں تو تحفہ  ہماے ہاتھ میں ہی اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ جب بےغرض دے رہے ہوں تو پھر نفع نقصان کی پروا کرنا بےمعنی ہے کہ جس کا جتنا طرف ہے وہ اتنا پائے گا۔  کوئی بھی تحفہ دیتے ہوئے ہم اپنی طرف سے اس  کی  خوبصورتی،معنویت اور  قابلِ قبول ہونا مدِنظر رکھتے ہیں۔تحفہ تو پھر خاص چیز  ہے ہم خیرات دیتے وقت  بھی  کھرے کھوٹے سکے کا دھیان رکھتے ہیں تو پرانے کپڑے  اور پرانے برتن دیتے وقت بھی پھٹے ہوئے اور ٹوٹے ہوئے کبھی بھی نہیں دینا چاہتے۔ سو لفظ کا تحفہ جو ہماری روح  کی آواز ہوتی ہے اسے دیتے ہوئے ہم کیوں چاہتے ہیں کہ لینے والا ہمارے ٹوٹے   پھوٹے لفظ قبول کر لے۔اگر ہم  تحریر لکھنے کے بعد دوسری نظر نہیں ڈالیں گے تو کسی سے یہ توقع رکھنا بےکار ہے کہ پہلی نظر ڈالے اور وہ ٹھہر بھی جائے۔
سوچ کو لفظ میں پرونا اگر ایک آرٹ ہے تو دیکھنے والی آنکھ کا اس لفظ کے معنی کو محسوس کرنا اس سے بڑا فن نہیں تو اس کے ہم پلہ ضرور ہے اور پھر اپنے احساس کو لفظ کا گلدستہ بنا کر سراہنا لفظ پڑھنے کا حق ادا کرنا ہے ، لکھنے والا کسی کی واہ واہ کے لیے ہرگز نہیں لکھتا، بلکہ لکھنا بذات خود رب کا اتنا بڑا انعام ہے کہ اس کی جزا انسان دینے کا اہل ہی نہیں۔جو لفظ کسی مادی منفعت کے لیے لکھا جائے وہ پیٹ تو بھر سکتا ہے لیکن روح کی تسکین نہیں کر سکتا۔
دنیا کی معلوم تاریخ میں آج تک کسی پیغمبر یا اولیاء یا عظیم مفکروں کو ان کے سامنے نہیں مانا گیا۔تو ایک عام انسان جو رب کے عطا کردہ تحفۂ فکر سے کچھ موتی چنتا ہے ۔وہ کیسے اپنے جیسے عام انسانوں سے کچھ توقع رکھ سکتا ہے۔ افسوس یا دکھ قطعی نہیں کبھی بھی نہیں ۔انسان ہونے کے ناطے بس ایک خلش یہ ضرور رہتی ہے کہ جو سچ جو راز رب نے دل ودماغ پر افشاء کیے وہ امانت ہیں اوراس کے بندوں تک پہنچانا ایک ذمہ داری۔۔۔جلد یا بدیر جاننے والے جان ہی جائیں گے۔وقت پر جان جائیں تو ان کے لیے اچھا۔
 کسی خوبصورت سوچ کا زاویہ اگر ہماری سوچ سے مل جائے پھر احساس کی جگمگاتی کہکشاں تک رسائی خواب نہیں ہوتی"۔"

ہفتہ, جنوری 07, 2017

"چھوٹی سی بات"

جنوری 2017 کی تصویر۔بمقام۔ماڈل ٹاؤن لاہور
۔ 1988 میں  پاکستان ٹیلی ویژن  کےروزانہ نشر ہونے والے پروگرام "صبح کی نشریات" کے آخر میں کہی جانے والی
جناب مستنصرحسین تارڑ کی  چھوٹی سی بات۔۔۔۔
٭چھوٹی سی بات میں چاہے کتنی بڑی بات کہہ دی جائے، وہ پھر بھی چھوٹی سی بات ہی رہتی ہے۔
٭گہرے سمندر اور گہرے انسان کا چہرہ سطح پر ہمیشہ پرسکون ہوتے ہیں۔
٭بادل برسے نہ برسے،اسے دیکھ کر ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔۔۔اولاد خدمت کرے نہ کرے اسے دیکھ کر بھی دل میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے۔
٭’ہمارے چہرے نقاب ہیں، ہم اُن کے پیچھے اپنے دُکھ درد روپوش کرتے ہیں۔
٭بیوقوف بھی آپ کے استاد ہو سکتے ہیں، جو وہ کرتے ہیں آپ نہ کیجیے۔
 ٭جیسے بارش گردآلود پتے کو ہرا بھرا کر دیتی ہے ایسے آنسو دل پر جمے غم کے غبار کو دھو ڈالتے ہیں۔
٭آج عمل کا بیج بو دیجیے، کل ارادے کا بوٹا نکلے گا، پرسوں خواہش کا پھل آجائے گاَ۔
٭جب کوئی ادیب آپ سے کہے کہ بےشک مجھ پر کڑی تنقید کرو،مطلب یہ ہوتا ہے خدا کے واسطے میری تعریف کرو۔
٭انسان کو پہچاننے کے لئے آنکھیں درکار ہیں، انسان کے اندر کے انسان کو پہچاننے کے لئے تجربہ درکار ہے۔
٭درخت پر بیٹھے پرندے کو آپ حکم دے کر اپنے پاس نہیں بلا سکتے ۔
 ٭جو شخص اپنے بیٹے سے غافل ہے وہ اپنے گھر میں مستقبل کے ایک ممکنہ مجرم کو پال رہا ہے۔
٭ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجئے لیکن اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل کو تالا لگانا نہ بھولئے۔( ظاہر ہے یہ چھوٹی سی بات میں نے رسولؐ اللہ کی اس حدیث سے مستعار لی تھی جس میں ایک بدّو نے حضورؐ سے شکایت کی کہ میں نے اپنا اونٹ اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر چھوڑا اور وہ چوری ہو گیا تو آنحضرتؐ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ضرور کرو لیکن اس کے ساتھ اونٹ کو کھونٹے سے بھی باندھ لیا کرو)۔
٭دو بےوقوف مل کر ایک عقل مند تو نہیں ہو سکتے البتہ میاں بیوی ضرور ہو سکتے ہیں۔
 ٭ایک بیزار شکل کے انسان کو دیکھنے سے بہتر ہے کہ آپ ایک خوش شکل مسکراتا ہوا اودبلاؤ دیکھ لیں۔
٭ایک نکما شخص دیوار پر آویزاں ایک وال کلاک ہے جس کی دونوں سوئیاں تھم چکی ہیں۔
٭اندھیرا نام کی کوئی شے نہیں ہوتی ، صرف ظاہری آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔
٭اگر محبت اندھی ہوتی ہے تو شادی نظرٹیسٹ کروانے کا آسان طریقہ ہے۔
٭ کسی کو جان لینا کسی کی جان لینے سے بہتر ہے۔
٭ایک بڑی مسکراہٹ ایک بڑے غم کو چھپانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
 ٭جیسے دولت سے عینک تو خریدی جا سکتی ہے نظر نہیں، ایسے ہی دولت سے رفاقت تو حاصل کی جا سکتی ہے دوستی نہیں۔
٭ محبت کی کشتی میں پہلا سوراخ شک کا ہوتا ہے۔
٭ایک لباس ایسا ہے جو دنیا کے ہر خطے کے انسان پر سج جاتا ہے اور وہ ہے مسکراہٹ۔
٭تیز زبان والا شخص اپنا گلا خود کاٹتا ہے۔
 ٭زندگی کی شاہراہ یک طرفہ ہے۔۔۔ آپ جا سکتے ہیں واپس نہیں آ سکتے۔
 ٭سب لوگ عظیم نہیں بن سکتے لیکن عظیم بننے کے لئے جدوجہد تو کرسکتے ہیں۔
٭دانش اور دولت کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے لوگ خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔
٭غم کے سیاہ بادلوں کے کناروں پر امید کی ایک رُوپہلی شعاع ہمیشہ دمکتی ہے۔
٭ زندگی ایک آئینہ ہے، آپ اسے بیزار ہو کر دیکھ لیں گے تو بیزار ہو جائیں گے،مسکراتے ہوئے دیکھیں گے تو مسکراتے چلے جائیں گے۔
٭ اگر تم پر دنیا ہنستی ہے تو تم دنیا پر ہنسو کہ اس کی شکل بھی تم جیسی ہی ہے۔
٭پیاس کے صحرا میں آج کنواں کھودو کل یہ گُل و گلزار ہو جائے گا۔
٭ جس شخص کا خیال ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے، وہ کچھ نہیں جانتا۔(افلاطون کا قول ہے کہ میں نے صرف یہ جانا کہ میں کچھ نہیں جانتا)۔
٭جیسے سفر کا پہلا قدم نصف سفر طے کر جانا ہوتا ہے، ایسے عمارت کی پہلی اینٹ نصف عمارت کی تعمیر کو مکمل کر دیتی ہے۔
٭ دوست آپ کی برائیوں کے باوجود آپ سے محبت کرتا ہے اور دشمن آپ کی خوبیوں کے باوجود آپ سے نفرت کرتا ہے۔
٭اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنے والے شاعر دراصل بِھک منگے ہوتے ہیں۔
٭ جو گیت ماں کے دل میں گونجتا ہے وہ اس کے بچے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی صورت نغمہ سرا ہوتا ہے۔
 ٭ستارے اور دوست ایک جیسے ہوتے ہیں، چاہے کتنے ہی طویل فاصلوں پر ہوں ان کی روشنی آپ تک پہنچتی رہتی ہے۔
٭جو لوگ ہواؤں سے گھر بناتے ہیں اُن کے دروازوں پر صرف ہوائیں دستک دیتی ہیں۔
٭نصیحت کرنے سے ، نصیحت قبول کرنا زیادہ افضل ہے۔
٭آزادی کا حصول آسان ہوتا ہے، آزادی کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔
٭ دنیا کے تمام بڑے دریا پانی کی ایک بوند سے جنم لیتے ہیں۔
٭رَب کے سامنے جھکنے والا سَر۔۔۔ سب سے سَربلند ہوتا ہے۔
٭ناقابل اعتماد دوستوں کی نسبت تنہائی سے دوستی کرنا بہتر ہے۔
 ٭ ہر شخص اتنا عقل مند نہیں ہوتا جتنا کہ اُس کی ماں سمجھتی ہے اور ہر شخص اتنا بےوقوف نہیں ہوتا جتنا کہ اس کی بیوی سمجھتی ہے۔
٭تعلیم دراصل آہستہ آہستہ اپنی جہالت کو جان لینے کا نام ہے۔
 ٭ ندی کے پانی اور آنکھ کے پانی میں صرف جذبات کا فرق ہے( یہ چھوٹی سی بات بہت ہی پسندیدہ ٹھہری)۔
٭ جیسے وسیع آنگن میں دُھوپ زیادہ اترتی ہے، ایسے فراخ دلوں میں مسرّت زیادہ اترتی ہے۔
 ٭ ایک سیانی بیوی اپنے خاوند کے سنائے ہوئے لطیفوں پر اس لئے نہیں ہنستی کہ وہ اچھے ہوتے ہیں بلکہ اس لئے ہنستی ہے کہ وہ ایک اچھی بیوی ہوتی ہے۔
٭حیات کی ندی کے پانی وقت ہیں، اُن میں عکس ہوتے ہمارے مہرے بالاآخر فنا کے تاریک سمندروں میں ڈوب جاتے ہیں۔
 ٭ شیر کو اپنی کھال اور انسان کو اپنے نام کی حفاظت کرنی چاہیے۔ شیر کی کھال میں سوراخ نہ ہو اور انسان کے نام پر دھبہ نہ لگے۔
 ٭ ماں جس شخص کو بیس برس میں عقل مند بناتی ہے ، بیوی اسی شخص کو بیس سیکنڈ میں بےوقوف بنا دیتی ہے۔
٭ زندگی کی تصویر ہمیشہ بلیک اینڈ وائٹ ہوتی ہے۔ اس میں رنگ آپ بھرتے ہیں، یا نہیں بھرتے۔
 ٭ خاموشی ایک ایسا بند دروازہ ہے جس کے پیچھے لیاقت بھی ہو سکتی ہے اور اکثر حماقت بھی ہوتی ہے۔
٭رُوٹھنا چاہیے ، پر اتنا بھی نہیں کہ منانے والا مناتے مناتے رُوٹھ جائے۔
٭ ’’کسی کے آگے مجبور ہو کر جھکنا ذلت ہے۔۔۔ اور کسی مجبور کو اپنے آگے جھکانا اس سے زیادہ ذلت ہے‘‘۔
 ٭’’انسان کی اصلیت تب کھل کر سامنے آتی ہے جب وہ کسی کے بس میں ہو اور جب کوئی اور اس کے بس میں ہو ‘‘۔
٭’’زندگی کے اخبار میں سب سے خوبصورت صفحہ، بچوں کا صفحہ ہوتا ہے‘‘ ۔
٭’’شرافت سے جھکا ہوا سر، ندامت سے جھکے ہوئے سر سے بہتر ہے‘‘۔
٭’’زندگی کی کار میں فالتو ٹائر نہیں ہوتا، ایک ٹائر پنکچر ہو گیا تو سفر تمام ہو گیا‘‘۔
٭’بچہ ایک ایسا پھل ہے، جتنا کچا ہو گا ، اتنا ہی میٹھا ہو گا‘‘۔
 (موہن سنگھ کے ’’ساوے پتر‘‘ سے ’’اِک پھل ایسا ڈِٹھا، جناں کچا، اوناں مٹھا‘‘ سے مستعار شدہ)
٭’’بیوقوف ہونے میں موجیں ہی موجیں ہیں، آپ کسی بھی محفل میں تنہا نہیں ہوتے‘‘۔
٭ ’’کسی خوبصورت جھیل کے کناروں پر کڑاہی گوشت کھانے میں مشغول لوگ اس کی آبروریزی کے مرتکب ہوتے ہیں‘‘۔
٭’’سب کچھ کھونے کے بعد اگر حوصلہ باقی ہے تو آپ نے کچھ نہیں کھویا‘‘۔
٭ ’’اگر ماں کے علاوہ آپ سے کوئی کہے کہ آپ میرے چاند ہیں تو یقین کیجیے اُس نے چاند کبھی نہیں دیکھا ورنہ۔۔۔‘‘
٭’’ریت کا ایک ذرہ صحرا نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن وہ ایک ذرہ نہ ہو تو صحرا نہیں ہوتا‘‘۔
 ٭"دیوار میں چنی ہوئی ہر اینٹ ایک عظیم الشان عمارت ہے،وہ ایک اینٹ اکھڑ جائے تو وہ عمارت نہیں کھنڈر ہو جاتی ہے‘‘۔
 ٭’’جس روز آپ کا بچہ پہلی بار ’’ماما یا بابا‘‘ کہتا ہے اس روز آپ کے دل میں ایک نئی کہکشاں جنم لیتی ہے‘‘۔
٭ ’’جس روز آپ کے بچے کا بچہ پہلی بار آپ کو ’’دادا، دادی‘‘ یا ’’نانا، نانی‘‘ کہتا ہے تو نئی کائناتیں چھم چھم کرنے لگتی ہیں‘‘۔
٭’’غلط جگہ پر آم کھانے کو ’’غلط العام‘‘ کہتے ہیں‘‘۔
٭’’اکثر بڑے گھروں میں چھوٹے اور چھوٹے گھروں میں بڑے لوگ رہتے ہیں‘‘۔
٭’’آزادی جس بھاؤ ملے، لے لو، آزادی کا جو بھی بھاؤ ملے، نہ لو‘‘۔
٭’’وہ دماغ کس کام کا جس میں محبت کا خلل نہ ہو‘‘۔
 ٭’’عمل کے بغیر صرف علم کے ساتھ زندگی گزارنا ایسے ہے، جیسے کھیت میں بیج ڈالے بغیر ہل چلاتے رہنا‘‘۔
٭’’خیالات کی آمدنی کم ہو تو لفظوں کی فضول خرچی سے پرہیز کریں‘‘۔
٭’’مہمان آتے جاتے اچھے لگتے ہیں، کچھ آتے اچھے لگتے ہیں اور بیشتر جاتے اچھے لگتے ہیں‘‘۔
٭’’تنہائی ، اداسی، خوشی اور خوبصورتی، چاروں سگی بہنیں ہیں‘‘۔
٭ ’’وطن کی محبت کا الاؤ جلائے رکھو، برفیں پگھل جائیں گی، دشمن جل جائیں گے‘‘ (سیاچن کے برفیلے محاذ پر سر بہ کف ہونے والے ایک نوجوان کپتان کی فرمائش پر لکھی گئی چھوٹی سی بات)۔
٭ ’’زندگی کی مشکلات آپ کے لان کی گھاس ہوتی ہیں، آپ توجہ نہ کریں گے تو یہ بڑھتی جائے گی‘‘۔
٭ ’’آپ عقل کا پیچھا کر کے اسے حاصل کرتے ہیں اور حماقت آپ کا پیچھا کر کے آپ کو حاصل کر لیتی ہے‘‘۔
٭ ’’آپ اس دنیا میں وَن وے ٹکٹ لے کر نہیں آسکتے، واپسی کا ٹکٹ یہاں آنے کی شرط ہے‘‘۔
٭"پردیس کے میووں کی نسبت اپنے دیس کے تھوہر زیادہ میٹھے ہوتے ہیں‘‘۔
 ٭’’دل کی کتاب میں صرف ایک نام ہونا چاہیے، بہت سے نام درج ہوں گے تو وہ کتاب نہیں انسائیکلو پیڈیا ہو جائے گی‘‘۔
٭’’اگر رزق صرف عقلمند کما سکتے تو دنیا بھر کے بیوقوف بھوکے مر جاتے‘‘۔
٭ ’’اگر خواہشیں گھوڑے ہوتیں تو بیوقوف ان پر سواری کرتے‘‘ (ایک انگریزی محاورے سے اخذ شدہ)۔
٭’’اگر خواہشیں مچھلیاں ہوتیں، تو ہر کسی کی جیب میں رومال نہیں جال ہوتا‘‘۔
٭ ’’گرتے ستارے کو اپنی جیب میں سنبھال لو تا کہ جب زمانے تاریک ہو جائیں تو تم ان کی روشنی سے راستوں کو منور کر لو‘‘ (پیری کو موک ایک گیت سے متاثر شدہ بات)۔
٭ ’’جو لوگ ہاتھی سے کہتے ہیں کہ وہ مرکر سوا لاکھ کا ہو جائے گا، وہ اس کے دوست نہیں ہوتے‘‘۔
٭ ’’شیر اُن لوگوں کا نشان ہوتا ہے جنہوں نے کبھی سچ مچ کا شیر نہیں دیکھا ہوتا، بلی کو شیر سمجھتے رہتے ہیں‘‘۔
٭’’تیزروندی کے پانیوں میں اپنا عکس نہ دیکھو، وہ بہہ کر سمندر میں اتر جائے گا‘‘۔ 
جناب مستنصرحسین تارڑ۔۔۔ اپنی نئی اسٹڈی میں ۔دسمبر 2016۔۔
 
جناب مستنصرحسین تارڑ۔۔۔ اپنی پرانی  اسٹڈی ٹیبل کے ساتھ۔2014.۔۔۔