صفحہِ اول

بدھ, نومبر 23, 2016

"خاتونِ خانہ،کھانا اور اہلِ خانہ"

اس "دشت کی سیاحی" میں ایک طویل سفرِ لاحاصل گذار کر  بھی عورت گھر کے کارخانے میں ایک مشین سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتی۔جسے اپنی رفتار اُس مشین کو چلانے والوں کے حساب سے ایڈجسٹ کرنا پڑتی ہے۔لیکن چاہے کوئی مانے یا نہ مانے عورت گھر کے نظام کی سب سے طاقتور اکائی ہے، وہ غیرمحسوس طریقے سے افرادِ خانہ کی پسند ناپسند اپنی اہلیت اور سوچ کے مطابق موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سب سے پہلے بچوں سےشروع کیا جائے تو بحیثیت ماں بچوں کے رویے بنانا مکمل طور پر اس کے ذمے ہے۔گرچہ بچے کے مزاج اور خواہشات پر گھر کے ماحول اور خصوصاً باپ کے خصائل وعادات بھی اثرانداز ہوتے ہیں لیکن ماں بچے کی پہلی درس گاہ یا انسپریشن ضرور ہے۔معذرت کے ساتھ کہوں کہ اگر ماں چٹوری اور کھانے پینے کی شوقین ہوگی تو کیسے وہ اپنے بچے کی عادات میں سادگی کی امید رکھ سکتی ہے۔عمر کے پہلے سال سے ہی گھر کی بنی چیزوں اور سب کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر عام کھانا کھانے والے بچوں میں یہ فرق نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
بچوں کو شروع سے ناشتے میں سادی روٹی گھی سی چپڑی ہوئی یاپراٹھوں کی عادت باآسانی ڈالی جا سکتی ہے،بچپن کی یہ عادت ہمیشہ کے لیے راسخ ہو جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بچی ہوئی یا سوکھی روٹی پانی لگا کر تلنا اور کسی بھی سبزی میں آٹا گوندھ کر اس کے پراٹھے بنا کر بچوں کو کھلائے جا سکتے ہیں۔چھوٹے بچے مکمل طور پر ماں باپ کی عادتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ جیسے جیسے بڑے ہوتے جائیں ان کے رویے تو بدلتے ہیں لیکن بنیادی عادات اپنی جڑیں گہری کر لیتی ہیں۔بڑھتے بچوں کے ساتھ ماں کا رویہ قدرے بدل جاتا ہے کہ بچوں کے پاس صرف ایک ماں ہی تو ہوتی ہے جس سے وہ جھگڑتے اور نخرہ کرتے ہیں اور زندگی کی بھاگ دوڑ میں صرف یہی وقت ہی اُن کے سکون کا ہوتا ہے۔ آنے والی زندگی میں معاشی اور معاشرتی مسائل انہیں سر کھجانے کی فرصت نہیں دیتے۔ اب یہاں بیٹوں اور بیٹیوں کے حوالے سے ماں کے رویے میں فرق بظاہر بہت نامناسب بلکہ سخت قابلِ اعتراض دِکھتا ہے خاص طور پر جب بیٹی بھی کہے کہ آپ کے شہزادے ہیں کہ نہ تو چھٹی والے روز جلدی اٹھنے کا کہتی ہیں اور نہ ہی کسی خاص کھانے پر اصرار کرتی ہیں۔ ماں بغیر بحث کیےسنی ان سنی کر جاتی ہے۔ اب کیا کہے کہ بیٹیوں نے گھر سنبھالنا ہوتا ہے اُن کی عادات سنوارنے کے لیے ان پر جبر کرنا پڑتا ہے جبکہ بیٹوں کو کسی اور انداز سےاپنے ڈھب پر لایا جاتاہے۔مردوں کا ایک خاص جملہ جو عورتیں بھی بڑے فخر سے کہتی ہیں کہ وہ تو پانی بھی اٹھ کر نہیں پیتے،کھانا پکانا یا کچن میں جانا تو دور کی بات ہے۔ دیکھنے میں تو یہ مرد کی خوبی ہے لیکن دراصل مرد کی کمزوری ہے کہ وہ اپنی بھوک پیاس مٹانے کے لیے دوسروں کا محتاج ہے اور وہ بھی کسی عورت کا۔ مانا کہ مرد کے ذمے کمانا اور گھر کے کام کرنا عورت کے فرائض ہیں۔ لیکن رشتوں کی قیمت پر گھر کی عورت خانساماں اور ماسی نہیں۔اور کیا ہم اپنی زندگی میں کسی کی بیٹی کو اس لیے بھی شامل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے مؤدب غلام کی طرح کھانے کی ٹرے سجا کر پیش کرے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب بچے اپنے باپ کا ایسا طرزِ عمل دیکھتے ہیں تو وہ پہلے پہل اپنی بہنوں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرتے ہیں، اپنی زندگی میں توبعد کی بات ہے۔بیٹیوں کی طرح بیٹوں کو بھی کچھ نہ کچھ کھانا بنانا ضرور آنا چاہیے کہ جب ضرورت پڑے تو وہ اپنے لیے تو کچھ بنا سکیں۔۔ ہلکے پھلکے انداز میں بچوں کے حوالے سے بات کو سمیٹوں تو بڑے بلکہ بہت بڑے ہو کر یہی بچے اپنی ماؤں کو زیادہ تر کھانے کےحوالے سے ہی تو یاد کرتے ہیں۔۔۔۔وہی کھانا جسے بچپن میں بنا کسی خاص لگاؤ یا ترغیب کے بس کھا لیا جاتا تھا۔
دوسری طرف ایک وہ کلاس ہے جہاں خاندان کےساتھ چھٹی کے روز یا شام کی سب سے بڑی تفریح نت نئے ریستوران میں کھانا کھانے جانا ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ مست پھرتے ماں باپ نہیں جانتے کہ وہ اپنے بچوں کی عادات میں کس زہر کی آمیزش کر رہے ہیں۔ باہر کے چٹخارہ دار کھانوں کی مشکوک غذائی نوعیت اور ان کے اصراف سے ہٹ کر ایک اہم خرابی تو یہ ہے کہ بچوں میں  والدین کے محنت سے کمائے گئے روپے پیسے کا درد ختم ہوجاتا ہے۔ دوسرےمعاشرے میں عام لوگوں کی تکالیف اور ان کی بھوک پیاس سے بےحسی طاری ہوجاتی ہے۔گھر سے باہر اپنے خاندان کے ساتھ سیروتفریح کرنا اور کبھی کبھار باہر کے کھانے کھانا بری بات نہیں لیکن اسے عام سمجھ کر معمول بنا لینا نہایت غلط رویہ ہے۔ایسے  رویے آگے چل کرایسی پُختہ عادتوں میں بدل جاتے ہیں جو  نسلوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔
اب بات کروں گھر کے کرتادھرتا، گھرکے مرد کی ۔۔۔جس کی عمر کے اس دور تک آتے آتے عادات پکی اور ذہنیت پختہ ہو چکی ہوتی ہے اسے اپنے سانچے میں ڈھالنا تقریباً ناممکن ہی ہوتا ہے۔رہی بات سادہ کھانے پکانے اور بنانے کی تو اس کے لیےغیرمحسوس طریقے سے راہ ہموار کرنا پڑتی ہے۔ وہ عورت ہی کیا جو ایک مرد کو نہ بدل سکے، مرد بھی وہ جو صرف چند گھنٹوں کے لیے گھر کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔مرد کی پہلی ترجیح گھر کا سکون ہے تو دوسری گھر میں پکا ہوا کھانا۔ اور یہ دونوں عورت کے اختیار میں ہیں بس اس کے لیے صرف اپنی انا،اپنی خواہشات اور اپنی زندگی میں اپنے وقت کی قربانی دینا پڑتی ہے۔عورت تو وہ ہستی ہے جسے صرف چاہ کی نظر بھی نہیں بلکہ اس کا احساس ہی کافی ہوتا ہے جس کے عوض وہ اپنی ساری زندگی بڑی خاموشی سے دان کر دیتی ہے۔اور اسی عورت کو جب ناقدری کا گہن لگ جائے یا ناسمجھی کی دیمک اس کے وجود میں گھر کر لے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی تباہ کر بیٹھتی ہے بلکہ خود سے وابستہ رشتوں کی پہچان بھلا دیتی ہے،بقول شاعر "گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے"۔
ایک گھر ایک خاندان کا آغاز کرتے ہوئے جب اپنا آپ کسی کے حوالے کر دیا تو اپنی عادتیں بھی کسی کے ساتھ شئیر کرنا پڑتی ہیں اور اسی طرح دوسرے کی عادات اپنانا ہوتی ہیں، یعنی ایک دوسرے کے رنگ میں رنگنے والی بات ہے۔ اب یہی اصل امتحان ہے کہ مرد وعورت کس طرح دوسرے کی بری عادتیں برداشت کرتے ہوئے اپنی اچھی عادتیں اس میں منتقل کریں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہر چیز وقت مانگتی ہے اور عمر کا خراج چاہتی ہے۔اور انسان جلدباز واقع ہوا ہے یہ جلدبازی اس کی فطرت اور جبلت کا خاصہ ہے۔ زندگی کے سبق اکثر ہمیں زندگی گزار کر ہی سمجھ آتے ہیں اور اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

ہفتہ, نومبر 12, 2016

"ابنِ انشاء کی بزمِ انشاء "

"احوالِ محفل"
  اس سال 2016 میں ستمبر سے اکتوبر کے دوران  فیس  بک  کے ادبی گروپ" بزم یارانِ اُردو ادب "میں جناب ابنِ انشاء کو بطور مزاح نگار  خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے"بزم انشاء"سجائی گئی۔
وہ ابنِ انشاء جن کا نام ذہن میں آتے ہی شہرِدل میں"چاند نگر" کی چاندنی اُترتی ہے تو احساس"دلِ وحشی" کی طرح کچی اور پکی عمر کا تفاوت بھول کر"اس بستی کے اِک کوچےمیں"رقص کرنے کو مچلتا ہے۔وہ جو کہتے ہیں نا کہ پہلی نظر اور پہلا احساس رگِ جاں میں یوں رچ بس جاتا ہے کہ بعد میں ہزار کوشش کر لیں وہ کبھی اپنی جگہ نہیں چھوڑتا۔ سو ابنِ انشاء کے لفظ کی خوشبو سے ربط ان برسوں کی کہانی ہے جسے کچی عمر کہا جاتا ہے لیکن!یہ سچ ہے کہ کچی عمر کی بارشیں روح وجسم پر لگنے والے پکے رنگ تاعمر نہیں مٹا پاتیں چاہےوہ محبتوں کی حدت کے ہوں یا نفرتوں کی شدت کے۔
ابنِ انشاء کی شاعری جہاں قاری کوخواب،اداسی اورنغمگی کے چاندنگر میں لے جاتی ہے وہیں اُن کی مزاح نگاری،سفرنامہ نگاری،بچوں کے لیے لکھی نظمیں،کالم اور تراجم ہمیں عجب جہانِ حیرت کی سیرکراتے ہیں۔
محض اکیاون سال (1927.1978)کی عمرِفانی میں وہ پڑھنے والوں کے لیے زندہ ادب تخلیق کر گئے۔ابنِ انشاء کی ہمہ گیر شخصیت کی طرح اُن کی تحاریر کی بھی کئی جہت ہیں۔ شاعری کے نقشِ اول سے شروع ہونے والا سفر سفرناموں،مزاحِ،ذاتی خطوط اور پھر اخباری کالمز کی سمت جا نکلتا ہے۔جناب ابنِ  انشاء نے اپنے دردِدل کو اگر "چاندنگر"،"اس بستی کے اِک کوچے میں" اور  "دلَ ِوحشی" کا جامہ پہنایا  تو آنکھ میں اترنے والی نمی کو خوبی سے کیموفلاج کرتے ہوئے  "آپ سے کیا پردہ"(اخباری کالم )،"خمارِگندم" (مضامین) اور"اُردو کی آخری کتاب"(طنزیہ مضامین)  میں معاشرے کی کمیوں  کجیوں کو شستہ طنز ومزاح  کے قالب میں پیش کیا۔ابنِ انشاء کا مزاح ہر دورمیں اسی دور کی کہانی کہتا محسوس ہوتا ہے،اُن کے مزاح اور اس سے بڑھ کر لطیف طنز کی ایک اور خاص بات اُس کی گہرائی اور کم سے کم الفاظ میں کاری وار کرنا ہے۔شاعری اور مزاح نگاری  کے ساتھ ساتھ آپ کے تحریر کردہ  منفردسفرنامے "چلتے ہو تو چین کو چلیے،دُنیا گول ہے،نگری نگری پھرا مسافر، آوارہ گرد کی ڈائری اورابنِ بطوطہ کے تعاقب میں" پڑھنے والوں کو نئی دنیاؤں کی سیر کراتے ہیں تو  دوستوں اور احباب کو لکھے گئےخطوط "خط انشاء جی کے" خوبصورت نثرنگاری اورنامور ادیبوں کے ساتھ خاص ربط کی کہانی کہتے ہیں۔
محترمہ بانوقدسیہ "راہِ رواں"  میں لکھتی ہیں " وہ مثبت شیشوں کی عینک" لگائے رکھتے تھے"۔۔۔۔ یہ بات سوفیصد درست ہے تو اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ابنِ انشاء کے  قریب رہنے والےعینک کے بغیر  دیکھتے تو ایک اُداس، دل گرفتہ  اورناکام شخص دکھائی دیتے جس کی خانگی زندگی گرپےدرپے ناکامیوں سے عبارت تھی تو ادبی زندگی میں خوب سے خوب تر کی جستجونے چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ اور"عشقِِ انشاء" کے کیا کہنے،ناکامیءعشق تو ان کے  کلام میں سوز وگداز  کی بنیاد ٹھہری۔ زندگی کے بچاس برسوں میں ایک بھرپور ادبی زندگی جینے والے اپنے عزیز دوست سے کہا کرتے کہ مجھے کسی نے نہیں پہچانا اور میرے بعد بھی  کون مجھے جانے گا۔۔۔
"بزم ِانشاء میں طرزِانشاء"۔۔۔
اپنے محبوب شاعر اور منفرد مزاح نگار کی یاد نگاری کرتے ہوئے بزم کے ساتھیوں کو"طرزِانشاء"میں طنزیہ یا مزاحیہ لکھنے کی دعوت دی گئی۔لکھنے والوں نےمعاشرے پر طنز کرتے ہوئے دل کھول کر لکھا اور سراہنے والوں نے بھی کُھل کر داد دی ۔
بزم انشاء طرز انشاء سے ہوتے ہوئے بزمِ مزاح نگاری" تک جا پہنچی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے رنگ سچے تھے کہ یہ ان احباب کی نوکِ قلم بلکہ کی پیڈ پر تھرکتی انگلیوں کی جُنبش سے وجود میں آئے تھے جو نہ تو مستند لکھاری ہونے کے دعوےدار تھے اور نہ ہی کسی غرض کے تحت اپنا احساس لکھتے تھے۔ وہ ایک پلیٹ فارم پر لکھاری ہونے کی عزت محسوس کرتے ہوئے معاشرتی رویوں کے گرداب اور سیاست کے حمام کی غلاظتوں کے بارے میں بلاجھجکے لکھتے چلے گئے۔ بس ایک ذرا سی کسک یہ رہی کہ جب ابنِ انشاء کی  مزاحیہ تحاریر یا طرزِتحریر کا حوالہ تھا تو جو بات انشاء جی نے سو سے بھی کم الفاظ میں کہی اسے کہنے میں یارانِ ادب نے "ہزار"الفاظ خرچ کر ڈالے۔بزم انشاء کے حوالے سے جہاں نہ صرف ابنِ انشاء کی تحاریر بلکہ ابنِ انشاء کے بارے میں  کئی خوبصورت  تحاریر پڑھنے کو ملیں وہیں  بہت سے لکھنے والوں کے لفظ سے شناسائی ہوئی اور  اردو زبان وادب کی محبت نے اپنا رنگ خوب جمایا۔
بزمِ انشاء میں ہم ایسے کچھ بےنام مبصر بھی تھے جو نامِِ انشاء کی کشش میں کشاں کشاں چلے آئے تو پہلے مرحلے میں اپنا تعارف اپنے انداز اور اپنے الفاظ میں سپردِقلم  کرنے کی گزارش کی گئی۔۔۔
بزمِ انشاء میں تعارف۔۔۔
"گرملنا چاہیں تو مجھ سے ملیے"
یہ دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ مجھے اپنے تعارف کا مرحلہ درپیش ہے۔تین برس پہلےکی بات ہے کہ اردو بلاگر ہونے کے ناطے ایک سوال نامہ "نورین تبسم سے شناسائی" ارسال کیا گیا جس کے جواب  پڑھنے والوں سے میرا پہلا تعارف ٹھہرے۔
"میں اور میں"
اس شہرِ خرد میں کہاں ملتے ہیں دِوانے
پیدا تو کرو اس سے ملاقات عزیزو
نام:نورین تبسم
سکونت:اسلام آباد
مقام: ماں
اہلیت:اہلیہ
مصروفیات:وہ تمام مصروفیات جو عام عورت کی ساری توانائی نچوڑ لیتی ہیں پھر بھی اسے کہا جاتا ہے کہ اس نے دنیا میں کچھ نہیں کیا۔
میں ایک بہت عام عورت ہوں ویسی ہی جیسے ہم اپنے آس پاس چلتے پھرتے دیکھتے ہیں۔میرا نہ کوئی ادبی پس منظر، کوئی ادبی حوالہ اور نہ ہی ادب کے حوالے سے "ڈگری" ہے،میں مستند لکھاری بھی نہیں۔ بس اپنی سوچ کو لفظ کا لباس پہنانے کی سعی کرتی ہوں۔جب سےانٹرنیٹ پر بلاگ کی جدید "سلائی مشین تک رسائی ہوئی تو تراش خراش پر ذرا سی توجہ ہے ورنہ بچوں کی استعمال شدہ کاپیوں کے دستیاب خالی صفحوں سے لے کر ان کے امتحانی پرچوں کے پچھلے سادہ اوراق سے "آمد" کی بےخودی میں لفظ کے" گڑیا پٹولے" کاٹنے اور "چُھپانے" کا سفر شروع ہوا۔ سامنے صرف اور صرف میری اپنی ذات تھی اور اب بھی ہے،کیوں نہ ہو۔۔۔پہلے ہم اپنے تن ڈھانپنے کا سامان تو کر لیں پھر کسی اور جانب نگاہ کریں۔
ہاں!!!عام کہنا لکھنا کسرِنفسی ہرگز نہیں کسی کاعام یا خاص دِکھنا صرف ہماری نگاہ کا ہیرپھیر ہے۔کبھی ہمارے ساتھ،ہمارے پاس اور ہمارے سامنے رہنے والے بھی ہمیں جان نہیں پاتے،سرسری گذر جاتے ہیں تو کبھی کہیں کوئی پل دو پل کو ملتے ہیں اور ان کہی بھی سن لیتے ہیں۔
اظہارِ ممنونیت۔۔۔
بزمِ انشاء کے میزبان جناب خرم بقا  نے  اس بزم میں "مہمانِ اعزازی" کی جگہ دی اور مجھ سے  میرا  ہلکا پھلکا تعارف بھی  لکھنے کو کہا  گیا اور میں جانے کیا کیا لکھتی چلی گی۔اورجو خرم بقا لکھتے ہیں!!!بس کیا بتائیں کیا نہ بتائیں کہ پڑھتے ہوئے کانوں سے دھواں نکلنے لگتا ہے اور انسان گھبرا کر آس پاس دیکھنے لگتا ہے کہ کسی کو دکھائی تو نہیں دے رہا۔ان سے شکوہ کرو تو کہتے ہیں "بہت ملفوف لکھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔مزاح میں ایسا کرنا پڑتا ہے"۔ پھر پوچھتے ہیں یوسفی (مشتاق احمدیوسفی) کو آپ نے مکمل پڑھا ہے؟ اگر پڑھتیں تو مجھ سے یہ شکایت نہ کرتیں۔ شفیق الرحمٰن کی بات کرو تو کہتے ہیں،شفیق الرحمان کا مزاح یوسفی کے مقابلے  میں "نرسری رائم" ہے۔
"اب کیا کیا جائے کچھ لوگ پکی عمر میں بھی کچے ہی رہتے ہیں اور یا پھر کندذہن کہ نرسری رائم پر ہی ان کی سوئی اٹک جاتی ہے"
 ابنِ انشاء کی نظم سے اختتام کرتی ہوں
"کچھ رنگ ہیں "( دلِ وحشی ۔۔۔ابنِ انشاء)
کچھ لوگ کہ اودے ،نیلے پیلے ، کالے ہیں
دھرتی پہ دھنک کے رنگ بکھیرنے والے ہیں
کچھ رنگ چرا کے لائیں گے یہ بادل سے
کچھ چوڑیوں سے کچھ مہندی سے کچھ کاجل سے
کچھ رنگ بسنت کے رنگ ہیں رنگ پتنگوں کے
کچھ رنگ ہیں جو سردار ہیں سارے رنگوں میں
کچھ یورپ سے کچھ پچھم سے کچھ دکھن سے
کچھ اتر کے اس اونچے کوہ کے دامن سے
اک گہرا رنگ ہے اکھڑ مست جوانی کا
اک ہلکا رنگ ہے بچپن کی نادانی کا
کچھ رنگ ہیں جیسے پھول کھلے ہوں پھاگن کے
کچھ رنگ ہیں جیسے جھپنٹے بھادوں ساوں کے
اک رنگ ہے برکھا رت میں کھلتے سیئسو کا
اک رنگ ہے بر ہات میں ٹپکے آنسو کا
یہ رنگ ملاپ کے رنگ یہ رنگ جدائی کے
کچھ رنگ ہیں ان میں وحشت کے تنہائی کے
ان خون جگر کا رنگ ہے گلگوں پیارا بھی
اک وہی رنگ ہمارا بھی ہے تمہارا بھی
 ابنِ انشاء کی تمام کتابیں پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں
http://www.sajjanlahore.org/corners/Ibne%20Insha/index.php
ابنِ انشاء کی شاعری کے حوالے سے میرے احساس کے رنگوں کی جھلکیاں
  بلاگز "پھروہی دشت"اور"کیوں نام ہم اُس کا بتلائیں" میں ملتی ہیں۔

جمعرات, نومبر 03, 2016

"سندھی شاعر شیخ ایاز کے کچھ اقوال"

شیخ ایاز کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ 
 ٭1) شاعر فرشتہ نہیں ہے لیکن فرشتہ بھی تو شاعر نہیں ۔
٭2) اگر عورت اور شراب میں سے مجھے کسی ایک کو چننا پڑے تو میں شراب کو چنوں گا اور اگر شراب اور کتاب میں سے کسی ایک کو چننا ہو تو میں کتاب چنوں گا۔
 ٭3)اگر چکور چاند تک پہنچ گیا تو چاند چاند نہیں رہےگا اور چکور چکور نہیں رہے گا۔
 ٭4)پانی میں چاند کا عکس دیکھ کر مچھلی نے سوچا کہ میں چکور سے زیادہ خوش نصیب ہوں۔
٭5) کون زیادہ حسین ہے؟ شہکار یا اس کا فنکار؟
 ٭6)جس کی روح میں راگ نہیں اس کے راگ میں روح نہیں۔
 ٭7)فنکار کی شکست فن کی فتح ہے
٭8) شاعر نے فلسفی سے کہا، اگر تم فلسفی نہ ہوتے تو خدا کو مانتے۔ فلسفی نے شاعر کو کہا، اگر تم شاعر نہ ہوتے تو خدا کو نہیں مانتے۔
٭9)میں ماضی کے ماضی اور مستقبل کے مستقبل کا شاعر ہوں۔
٭10)شاعر کا مذہب فقط شاعری ہے۔
٭11)اے کاش! میں گمنامی میں جیوں اور گمنامی میں مروں۔ بدنامی اور اس سے بھی زیادہ نیک نامی شاعر کی تخلیقی انفرادیت کے لیے مہلک ہے۔
٭12)ہر شاعرِمحبت شاعرِانقلاب ہے۔ ہر شاعرِانقلاب شاعرِمحبت نہیں ہے۔
٭13)اگر میں تمہیں کہوں کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے اور نہیں بھی دیکھا تو تم مجھے پاگل سمجھو گے۔ لیکن میں بھی تمہیں عقلمند نہیں سمجھوں گا۔
٭14) گلاب کے پھول پر اگر زیادہ بھنورے آجائیں گے تو گلاب کی خوشبو کم نہیں ہوگی۔
٭15) غالب کا گناہ اس کی شراب نوشی نہیں بلکہ قصیدہ نویسی تھا۔
٭16)چکور کی نظر سے دیکھو تو تمہیں چاند میں داغ نہیں نظر آئیں گے۔
اس پوسٹ کو شئیر کرتے ہوئے عثمان غازی  کا کہنا تھا ۔۔۔"نوٹ: اتفاق یا اختلاف ضروری نہیں ہے، خیال اور کیفیت شاید سوچ کے مختلف زاویوں کی طرح ہوتے ہیں، یہ بھی سوچ کا ایک خوب صورت زاویہ ہے"۔
جس کا جواب میں نے کچھ یوں دیا۔۔۔
۔"کسی خوبصورت سوچ کا زاویہ اگر ہماری سوچ سے مل جائے پھر احساس کی جگمگاتی کہکشاں تک رسائی خواب نہیں ہوتی، اس
پوسٹ کا ہر جملہ مکمل زندگی کہانی ہے اور ہر خیال کا لفظ لفظ دل میں اترتا محسوس ہو رہا ہے۔عورت,کتاب اور شراب کے حوالے سے جملے  پر یہ کہوں گی کہ عورت وہ نشہ ہے جو بنا پیے بنا چھوئے ہی مخمور کر سکتا ہے اور کتاب کا نشہ جس کو ایک بار مل جائے وہ پھر کبھی اس کے اثر سے باہر نہیں آ پاتا" ۔
۔۔۔۔۔
شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز  کا مختصر تعارف
شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز (پیدئش: 23 مارچ، 1923ء - وفات: 28 دسمبر، 1997ء) سندھی زبان کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کا عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ آپ مزاحمتی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی پیدائش 23 مارچ، 1923ء کو شکارپور میں ہوئی۔ آپ نے درجنوں کتابیں لکھیں اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ آپ نے "شاہ جو رسالو" کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا جو اردو ادب میں سندھی ادب کا نیا قدم سمجھا جاتا ہے۔ 23 مارچ، 1994ء کو آپ کو ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہلال امتیاز 16 اکتوبر، 1994ء کو فیض احمدفیض ایوارڈ ملا۔ شیخ ایاز کا انتقال حرکت قلب بند ہونے سے 28 دسمبر، 1997ء کو کراچی میں ہوا۔ 
۔(بشکریہ وکی پیڈیا)۔

بدھ, نومبر 02, 2016

"محبّت، ضرورت اور بُلّھے شاہ"

محبّت، ضرورت اور بلّھے شاہ از شہریارخاور

شہریارخاور ورلڈپریس ڈاٹ کام ۔۔یکم  نومبر2015

اس کی شادی ہوئے دس پندرہ دن گزر چکے تھے لیکن میں اب بھی حقیقت سے سمجھوتہ نہیں کر پایا تھا. اور حقیقت یہ تھی 
کہ ہماری محبّت اور وہ بےنام سا رشتہ جس نے ہمیں تین سال تک جوڑے رکھا تھا، کب کا ختم ہو چکا تھا. وہ کسی اور کی ہو چکی تھی اور میں اب بھی اکیلا تھا.شاید اس کا جانا مجھ پہ اتنا گراں نہ گزرا تھا جتنا میرا دل اس کی آخری دنوں کی بےرخی پہ ٹوٹا تھا. کبھی اپنے آپ کو سمجھاتا، کبھی اس کی طرف سے وکیل بن جاتا. کبھی غصّہ، کبھی غم، کبھی محبّت ، کبھی نفرت. ایک عجیب عذاب میں جان پھنس گئی تھی۔
کچھ انھی دنوں کی بات تھی. اکتوبر کے اوائل کا ایک گرم خشک دن تھا. لاہور ابھی تک گرمی کی لپیٹ میں تھا. صبح ہی سے دل میں بےچینی تھی۔اک عجیب اضطراب تھا جو میرے اندر تلاطم برپا کئے ہوئےتھا۔ ہلچل حد سے بڑھی تو میں نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور گھر سے نکل پڑا ۔ کہاں جانا تھا کہاں چلا گیا؟ اتنا کہنا کافی ہوگا کہ کوئی انجان طاقت تھی جومیری اضطرابی کیفیت کا فائدہ اٹھائے مجھے کہیں کھینچے لئے جا رہی تھی۔خیر یہ سب تو میں اب سوچ رہا ہوں، اس وقت ان سب باتوں کا ادراک نہیں تھا۔
مزنگ چونگی سے گاڑی فیروز پور روڈ پربائیں موڑی تو پھر سیدھا ہی چلتا گیا.۔منی ویگنوں کے ہارن، گاڑیوں کے شیشوں سے منعکس ہوتی سورج کی شعائیں، راہگیروں اور ٹھیلے والوں کا شور اور گالیاں، آنکھوں اور کانوں میں پڑتی تو رہیں مگر اداسی کے خول میں قید میرے وجود کو شعور نہ تھا۔
مسلم ٹاؤن پر نہر کے پل پہ اشارہ بند تھا۔ آس پاس کی گاڑیوں میں کئی حسین چہرے تھے مگر اداسی کے عدسوں چھپی میری آنکھیں صرف میک اپ زدہ چہروں کی یاسیت دیکھ رہی تھی.۔بےچینی میں ساتھ کی خالی سیٹ پہ ہاتھ بڑھا کر اس کے لمس کی گرمی تلاش کرنی چاہی۔ پھر زور سے نتھنوں سے سانس کھینچا کہ شاید گاڑی کے ماحول میں بسی اس کی یاد کی خوشبو کا کوئی جھونکا ہی محسوس ہوجائے۔مگر سب بےسود۔
اردگرد کے دھول زدہ ماحول سے تنگ آ کے میں نے ٹیپ ریکارڈر آ ن کر دیا۔۔۔
کوئی نیا قوال تھا اور بابا بُلّھےشاہ کا کلام گا رہا تھا
پتھر ذہن گلاب نئیں ہوندے
کورے کاغذکتاب نئیں ہوندے
جے کر لائی یاری بُلھیا
فیر یاراں نال حساب نئیں ہوندے
ایک بابا جی کے کلام کا اثر ، دوسرا کمبخت قوال کے گلے کا سر ، مانو کچھ دیر کے لئے زندگی ہی بدل گئی سوچوں کو راستہ مل گیا. دل کو ٹکڑے ہونا یاد آیا اور عشق کو روٹھنا. ذرا دیر کو کلام کے اثر سے باہر آیا تو دیکھا گاڑی قصور کے مضافات میں داخل ہو چکی تھی۔ سوچا اتنا قریب آ ہی چکا ہوں تو کیوں نا بابا جی کا مزار ہی دیکھ لیا جائے۔پوچھتا پچھاتا مزار تک پہنچ ہی گیا۔ اندر جانے کا ارادہ نہیں تھا کیوں کے ایک تو بلا کی گرمی اور چلچلاتی دھوپ، اوپر سے سینے میں دھڑکتا ماڈرن دل۔سوچا بس باہر سے ہی ٹھیک ہے۔
سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے اور ایئر کنڈیشنر سے لہروں کی مانند آتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے دوش کچھ لمحے آنکھیں بند ہی کی تھیں  کے کھڑکی کا شیشہ کسی نے کھٹکھٹا دیا. آنکھیں کھولی تو ایک پٹھان بچے پر نظر پڑی۔ معصوم چہرہ، دس یا پھر گیارہ کا سن، پیشانی پر گرمی کی سرخی اور پسینے کے قطرے، میلے کپڑے، ہاتھ میں پکڑا جوتے پالش کرنے کا برش اور کندھے سے لٹکتا چھوٹا سامیلا کچیلا سیاہ پڑتی لکڑی کا بکسہ۔ نا چاہتے ہوئے بھی میں نے کھڑکی کا شیشہ نیچے سرکا دیا۔
کیا بات ہے بیٹے؟ کیا چاہیے؟’، میں نے مسکراتے ہوے پوچھا۔
وہ کچھ لمحے کھڑکی سے آتے ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کو محسوس کرتا رہا اور پھر بولا۔
‘صاحب جوتے پالش کرا لو‘
مگر میرے جوتے تو صاف ہیں’، میں ٹالنے کے انداز میں بولا۔
کہاں صاف ہیں؟’، اس نے کھڑکی میں سے اچکتے ہوئے میرے ٹخنے تک اونچے بھورے جوتوں پہ نظر ڈالی۔
پالش کرا لو، اتنا چمکائے گا کے شکل صاف نظرآئے گی۔
اس کے اس معصوم استعارے پر میں مسکراتا گاڑی بند کر کے اتر آیا۔
صاحب ، یہاں اس قدردھوپ میں پالش کرائے گا؟’ اس نے سورج کی جانب آنکھیں بھینچ کے نظر ڈالی۔
کہاں کراؤں پھر؟ گاڑی میں بیٹھ جاؤں؟’ میں ابھی بھی مسکرا رہا تھا۔
ایسا کرتا ہے، مزار کی ڈیوڑھی میں چل کے بیٹھ جاتا ہے. پسینہ بھی سوکھ جائے گا اور پالش بھی ہو جائے گی۔
وہ میرے جواب کا انتظار کئے بغیر ہی مزار کی جانب چلنا شروع ہوگیا. کچھ سوچ کر میں خاموش رہا اور چپ چاپ اس کے پیچھے بڑھ گیا۔
محرابی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی مجھے چھوٹے خان صاحب کی عقل کا اعتراف کرنا پڑا. اونچی چھت، قدیم طرز تعمیراور اینٹوں کےگیلے فرش نے مل جل کر ایک عجیب خنکی سی پیدا کر دی تھی. اوپر سے گلاب اور موتیے کی بھینی بھینی خوشبو. ماحول پرسکون تھا. میں نےہاتھ کی پشت سے پیشانی پہ آیا پسینہ صاف کیا اور ادھر ادھر نگاہ ڈالی. ڈیوڑھی کے دونوں جانب دو فٹ اونچا لکڑی کا مسلسل پلیٹ فارم اور ان کے پیچھے دیواروں سے لگی الماریاں جن میں جوتے رکھنے کے خانے بنے تھے. تھوڑا اور غور کیا تو پتا چلا کے وہاں میرے اور اس بچے کے عللاوہ دو نفوس اور بھی تھے. ایک تو جوتوں کی نگرانی کرنے والا جوان لڑکا تھا۔تقریباً پٹھان بچے والا ہی حلیہ مگرتیل میں چپڑے لمبے بال۔ایک کلائی کےگرد پیلا پڑتا موتیے کا ہار لپٹا تھااور دوسرے ہاتھ میں پکڑی ٹوکونوں کی میلی سی گڈی. اس کی شخصیت میں مزید کچھ دلچسپی نہ پا کے میں نے اپنے دائیں  جانب نظر گھمائی. دروازے کے ساتھ ہی زمین پر چھوٹی سی لکڑی کی چوکی رکھے ایک بابا جی بیٹھے تھے اور  ایک شفیق مسکراہٹ لیے میری جانب  دیکھ رہے تھے۔
عجیب پُراثر سی شخصیت تھی ان کی بھی. گورا چٹا رنگ، ستّر یا پھر پچھتر کا سن، آنکھوں میں سرمے کی سلائی پھری ہوئی، سفید صاف ستھرا پاجامہ کرتا، سر کے گرد بندھا سفید عمامہ اور ہاتھ میں پکڑی زمرد کی تسبیح. پیشانی کی چوڑائی اور ابروؤں کی بناوٹ عقل و دانش کی غماز تھی اور چہرے پہ جھریوں کی موجودگی اور آنکھوں کے گرد ان کا پھیلاؤ ظاہر کرتا تھا کہ بابا جی کی زندگی زیادہ ترمسکراتے گزری ہے. اک عجیب دلنشیں شخصیت تھی ان کی. بابا جی کے سامنے ایک سرکنڈوں کی ٹوکری تھی، جس پہ پھیلائی سفید چادر پر رنگین بتاشوں کا میلہ سا لگا تھا۔
بابا جی کی مسکراہٹ میں اپنائیت محسوس کرتے ہوئے میں نے سلام کیا۔
وعلیکم السلام’، انھوں نے سر کو ہلاتے زیرِلب جواب دیا۔
بتاشے لو گے؟’ انھوں نے سامنے پڑی ٹوکری میں ایسے ہاتھ گھمایا کہ جیسے بتاشے نہ ہوں، دنیا کی کوئی بہت بڑی نعمت ہو.
جی نہیں بابا جی. شکریہ. میں میٹھا نہیں کھاتا’. میں نے اپنی جانب سے ٹالنے کی پوری کوشش کی۔
‘میٹھا نہیں کھاتے؟’، انھوں نے نہایت حیرانی  کا اظہار کیا. ‘اسی لیے تو اداس ہو‘
جی؟’ مجھے اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا. ‘بابا جی کو میری اداسی کا کیسے پتا چلا؟’ میں نے سر جھٹکتے سوچا. پھر ذہن میں آیا کے بابا جی کا اتنے برسوں کا تجربہ ہے اور پھر مزار پہ بیٹھے ہیں جہاں زیادہ تر دنیا اداس اور پریشان حال ہی آتی ہے۔
یہ بتاشے میٹھا نہیں ہیں. یہ خوشیاں ہیں چھوٹی چھوٹی. کھاؤ  پیو اور خوش ہو جاؤ. وہ ابھی بھی مسکرا رہے تھے۔
ان کی دیسی معصومیت اور سادگی کا لحاظ رکھتے میں نے انہیں تولنے کا اشارہ کیا. انہوں نے ایک ہاتھ بڑھایا اور مٹھی میں جتنے بتاشے آئے، ایک چھوٹے سے کاغذی لفافے میں ڈال کر میری طرف بڑھا دیے۔
جی کتنے ہوئے؟’ میں نے جیب سے بٹوا نکالتے ہوے پوچھا’۔
بس جتنی خوشی چاہیے، اس کے حساب سے پیسے دے دو’. ان کی آنکھوں کی چمک دیدنی تھی’۔
میں ہنس پڑا اور ایک پانچ سو کا نوٹ نکال کر بابا جی کی خدمت میں پیش کر دیا. انھوں نے نوٹ کی طرف دھیان دینے کی ضرورت نہیں سمجھی. مٹھی میں دبایا، ایک بتّی سی بنائی اور ساتھ پڑے چندے کے ڈبّے میں ڈال دیا۔
ارے یہ کیا؟ عجیب آدمی ہے. نا نوٹ دیکھا، نا کھلا واپس کیا. اور اٹھا کے چندے کے ڈبّے میں ڈال دیا.’ میں نے حیران ہوتے سوچا اور ان کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
بیٹے جس کے گھر میں بیٹھے ہیں، بتاشے بھی اس کے اور پیسے بھی اس کے.’ انھوں نے ایسے بات کی جیسے میں کوئی چھوٹا سا بچہ تھا۔
شاید گفتگو کا سلسلہ مزید جاری رہتا اگر وہ بوٹ پالش والا بچہ مجھے اپنی طرف متوجہ نا کرتا. اس کےمیری قمیض کا دامن کھینچنے پر میں نے مڑ کر دیکھا۔
‘صاحب، ادھر کھڑے کیا کر رہے ہو؟ جوتے پالش نہیں  کرانے کیا؟‘
میں نے اس کی طرف دیکھ کر سر ہلایا اور لکڑی کے پلیٹ فارم پر بیٹھ کر جوتوں کے تسمے کھولنے لگا.۔
صاحب، کیا کرتے ہو؟ جوتے مت اتارو. میں ایسے ہی پالش کر دیتا ہوں.’ اس نے مجھے روکنے کی کوشش کی۔
نہیں بیٹا، پاؤں کو ہاتھ نہیں لگاتے. میں اتارتا ہوں تو تم پالش کر دینا.’ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا۔
اور پھر میں نے دعا بھی تو کرنی ہے مزار پر. جوتے تو اتارنے ہی پڑیں گے’. میں نے اس کی بےچینی محسوس کرتے ہوئے، نہ چاہتے ہوئے بھی دعا کا ارادہ کر لیا۔
میں نے جوتے اتار کر بچے کے حوالے کیے. مزار کے صحن میں داخل ہونے ہی لگا تھا کے بابا جی کی آواز نے پھر قدم پکڑ لئے۔۔۔
دعا کرنے جا رہے ہو یا ملاقات کرنے؟’ ان کے چہرے پر مسکراہٹ بدستور جلوہ گر تھی’۔
جی ملاقات کس سے؟’ میں نے حیرانی سے پوچھا’۔
اسی سے ہی ، جس کے گھر آئے ہو.’ انہوں نے کمال آسانی سے ایسے جواب دیا کے جیسے کسی واضح حقیقت کا اظہار کر رہے ہوں۔
میں نے اس بات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور آگے بڑھ گیا۔
چلو کوئی بات نہیں. دعا کرنا نہ کرنا تمہاری مرضی، ملاقات کرنا نہ کرنا گھر والے کی مرضی.’ پیچھے سے ان کی آواز کان میں پڑی،لیکن میں چلتا رہا۔
سادہ سا مزار تھا. گرمی اور دوپہر ہونے کی وجہ سے رش بھی بہت کم تھا. ایک برآمدے سے گزر کر میں مزار میں داخل ہوگیا. باقی مزاروں کی نسبت چمک دمک بہت کم تھی. سبز رنگ کی چادر سے ڈھکا قبر کا تعویذ کچھ اتنا اونچا نہ تھا. سادہ سے بھورے رنگ کے کتبے پر صرف بڑا بڑا کر کے ‘حاجی عبدللہ عرف بلھے شاہ’ لکھا تھا. نا کوئی ‘مرقد پرنور’، نا ‘مزار اقدس’ اور نا ہی کوئی ‘مرکزتجلیات’. صرف ‘حاجی عبدللہ عرف بلھے شاہ’ کے جیسے کوئی ولی الله نہیں بلکہ کوئی غریب زمیندار دفن ہو۔
فاتحہ خوانی کے بعد سوچا کے کیا مانگوں؟ پھر صرف دل کا سکون مانگا اورباہر نکل آیا. واپس جانے کے لئے باہر دروازے کی جانب قدم بڑھائے ہی تھے کہ مزار کے صحن میں موجود ایک برگد کے درخت پر نظر پڑی. وہ بھی ایسا ہی مزار تھا اور ایسا ہی برگد کا پیڑ جس کے نیچے ہماری ایک یادگار ملاقات ہوئی تھی. یاد گار اس لیے کے اس دن پہلی دفعہ اس نے میرے لئے اپنی محبّت کا اعتراف کیا تھا۔
میں تم سے اتنی محبّت کرتی ہوں کے ساری زندگی تمہارے نام پر گزار سکتی ہوں’. اس نے مٹیالی ٹائلوں کی درزوں کو ایک تنکے سے کریدتے ہوے کہا۔
اور میں تمہاری خوشی اور تمہاری ایک مسکراہٹ کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دےسکتا ہوں.’ میں نے بھی اپنی اوقات سے بڑھ کر دعوی کیا۔
کسے معلوم تھا کے ہم دونوں بیوقوفوں کی جنّت میں رہ رہے تھے. نا اس کی محبّت اتنی دیرپا تھی اور نا میری ہمّت تھی بڑی قربانیاں دینے کی. اور آخر میں اس سےقربانی مانگی بھی تو کیا مانگی؟ اپنی خوشی کے لئے میری محبّت کی قربانی. کہنے کو تو میں نے اس کے بوڑھے باپ کا لحاظ کیا اور اس کوباپ کی مرضی سے شادی پر رضامند کیا تھا. مگر حقیقت کیا تھی، ہم دونوں اس سے بخوبی واقف تھے. وہ مجھ سے تنگ آ چکی تھی. اس کو جانا ہی تھا. میں روکتا تو اپنی خود کی بے عزتی کرواتا.۔
نا چاہتے ہوئے بھی میں برگد کی طرف بڑھ گیا. اس کے سائے میں بہت سکون تھا. میں چبوترے سے ٹیک لگا کے بیٹھ گیا اور مزار کے گنبد پہ ناچتے کبوتر دیکھنے لگا۔
تو اصل میں کیا ہوا؟ اس نے تمھیں چھوڑ دیا یا تم نے اسے چھوڑ دیا؟’ میں نے چونک کے آواز کے منبع کی جانب دیکھا. بتاشوں والے بابا جی ساتھ کندھے سے کندھا ملائے  ایسے بیٹھے تھے جیسے مدتوں کی دوستی ہو۔
بابا جی، آپ کب آئے؟ پتہ ہی نہیں چلا.’ میں نے اپنی حیرانی پر قابو پاتے ہوئے پوچھا’۔
بتاؤ نا. وہ تمھیں چھوڑ گئی یا تم نے اسے چھوڑ دیا؟’ انہوں نے میرے سوال کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور اپنا سوال دُہرا دیا۔
جی بات تو پیچیدہ ہے مگر اس نے مجھے چھوڑ دیا.’ میں نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا’۔
‘ارے واہ!’ انہوں نے ایک قہقہہ لگایا. ‘یہ توبہت اچھا ہوا
جی؟’ مجھے اپنے کانوں پر اور ان کے اس ظالم قہقہے پر یقین نہیں آیا’۔
طنز نہیں کر رہا بیٹے، ٹھیک ہی توکہہ رہا ہوں’ انہوں نے شفقت سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
جی وہ مجھے چھوڑ گئی ، یہ کیسے اچھا ہوا؟’ مجھے ان کی بات میں چھپی کوئی سچائی نظر نہیں آ رہی تھی۔
وہ دیکھو سامنے.’ باباجی نے ہاتھ سے دور اشارہ کیا جہاں مزار کی دیوار کے سائے میں ایک خانہ بدوش عورت بیٹھی، آنچل کی اوٹ میں اپنے بچے کو غالباً دودھ پلا رہی تھی۔
اس عورت کو دیکھ رہے ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر اسکا بچہ روئے یا پھر چیخے چلائے تو ماں اسے چھوڑ دے گی؟’ انھوں نے عورت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
جی نہیں. ماں کبھی بچے کو نہیں چھوڑتی’. میں نے جواب دیتے ہوئے زیادہ سوچ بچار نہیں کی’۔
ٹھیک کہتے ہو. ماں کبھی بچے کو نہیں چھوڑتی.’ انھوں نے سر ہلایا. ‘لیکن جب یہ بچہ بڑا ہوجائے گا. جوان ہوگا. نوکری کرے گا. اس کی شادی ہوگی. بیوی آئے گی. کہے گی ماں کو چھوڑ دو. تو یہ ماں کو چھوڑ دے گا یا نہیں؟
میں نے آج کل کے زمانے اور آج کل کی اولاد کے بارے میں سوچا. ‘آج کل فرماں برداری کا زمانہ نہیں باباجی. میرا خیال ہے، بیوی زیادہ اصرار کرے گی تو بوڑھی ماں کو چھوڑ دے گا۔
تو پھر، محبّت کے درجے میں کون بلند ہوا؟’ باباجی نے مسکرا کر پوچھا’۔
جی ظاہر ہے ماں بڑی ہوئی جو کسی صورت اولاد کو نہیں چھوڑتی’. مجھے اب بھی لگ رہا تھا کے باباجی میرا مذاق اڑا رہے تھے
شاباش! اچھا یہ بتاؤ، خدا کبھی اپنی مخلوق کو چھوڑتا ہے؟’ مجھے لگا جیسے باباجی گفتگو کا رخ موڑ رہے تھے۔
میں نے سوچ میں سر جھکا دیا اور خدا سے اپنے رشتے کے بارے میں سوچا. کتنے بےشمار گناہ کیے میں نے. کبھی نماز روزے میں دلچسپی نہیں لی لیکن جب خدا کو یاد کیا، اسے ساتھ کھڑے پایا. کبھی خدا نے مجھے اکیلا نہیں ہونے دیا۔
میں نے سنا ہے باباجی کہ خدا اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبّت کرتا ہے. تو جب ماں اولاد کو نہیں چھوڑتی تو خدا بندے کو کیسے چھوڑ سکتا ہے؟’ میں نے نظر اٹھا کے باباجی کی طرف دیکھا۔
شاباش! شاباش!’ باباجی کی خوشی دیدنی تھی. یوں لگ رہا تھا کے ابھی اٹھ کر ناچنا شروع کر دیں گے۔
پھر میرا کندھا بھینچ کر انھوں نے پوچھا، ‘بندا خدا کو چھوڑ دیتا ہے کہ نہیں؟
‘ہاں جی!’ میں نے شرمندگی سے سر جھکا کے کہا، ‘چھوڑ دیتا ہے‘
بابا جی نے پھر ایک زندگی سے بھرپور قہقہہ لگایا اور میرے زانو پر بےتکلّفی سے ایک ہاتھ مارا۔
اب یہ بتاؤ کہ کون بہتر ہوا؟  چھوڑنے والا یا چھوڑ کے جانے والا؟ کس کی محبّت بڑی ہوئی؟ چھوڑنے والے کی یا چھوڑ کے جانے والے کی؟
مجھے یوں لگا جیسے میرے دماغ کے اندر کوئی بہت پیچیدہ گانٹھ کھل گئی ہو. کوئی بہت بڑی الجھن تھی جو حل ہوگئی تھی. باباجی کی بات نے میری زخمی انا کے لئے بھی مسیحا کا کام کیا. میری انا کا سرخ جھنڈا پھر زور سے پھڑپھڑانے لگا. میں نے اسے نہیں چھوڑا. وہ مجھے چھوڑ گئی. محبّت کے امتحان میں وہ ہار گئی اور میں جیت گیا. لیکن کچھ الجھنیں اب بھی باقی تھیں۔
لیکن یہ بتائیں  باباجی کہ اس نے مجھے کیوں چھوڑا؟’ میں نے سر اٹھا کے باباجی کی طرف دیکھا. ‘میں نے اس کی ہر خوشی کے لئے اپنی خوشی قربان کی. میں نے اس کی ایک مسکراہٹ کے لئے اپنی ہزار مسکراہٹوں کا خون کیا. پھر اس نے مجھے کیوں چھوڑا؟ محبّت بھی میری بڑی اور غم بھی میرا بڑا؟ ایسا کیوں ہوا؟’ مجھے اپنے گلے سے آنسوؤں کا نمک اترتا محسوس  ہوا۔
باباجی خاموش رہے. اپنے کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈالا، مٹھی بھر  جوار کے دانے نکالےاور ہاتھ سامنے کی طرف بڑھا دیا. باباجی کا ایسا کرنا تھا کبوتر جوق در جوق مزار کے گنبد سے پر پھڑپھڑاتے اترنے لگے. دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے سامنے میلہ لگ گیا. مزار کا مٹیالا فرش سرمئی سفید رنگ کے پروں سے ڈھک سا گیا. ایک کے بعد ایک کبوتر اچکتا ہوا آگے بڑھتا اور بابا جی کے ہاتھ سے دانہ چگتا. میں حیرانی  سے باباجی اور کبوتروں کے لگاؤ کو دیکھتا رہا۔
میں یہیں رہتا ہوں نا. یہ کبوتر میرے دوست بن گئے ہیں. مجھ سے نہیں ڈرتے.’ باباجی نے میری حیرانگی کو محسوس کرتے کہا۔
تھوڑی ہی دیر میں دانے ختم ہوگئے اور کبوتر اُڑ کر واپس مزار کے گنبد پر جا بیٹھے۔
دیکھو بیٹے، مرد اور عورت دونوں ہی محبّت کرتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے نہیں.’ باباجی نے واپس میری طرف توجہ کا رخ مبذول کرتے ہوے کہا۔
ایک دوسرے سے نہیں تو پھر کس سے؟’ میں نے کچھ نا سمجھتے ہوئے پوچھا’۔
مرد اور عورت دونوں ضرورت سے محبّت کرتے ہیں. کچھ ضرورتیں دونوں کی مشترک ہیں جیسے جسم کی ضرورتیں. لیکن انا کی ضرورتوں میں اختلاف ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کے دونوں کی اناؤں میں ازل سے ابد تک ایک جنگ چھڑی رہتی ہے.’ باباجی نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔
انا کی ضرورتیں کیا ہیں باباجی اور جنگ کیسی؟’ میں بدستور الجھا ہوا تھا’۔
مرد کی پسلی سے عورت کو خدا نے کیا پیدا کیا، مرد خود کو خدا سمجھ بیٹھتا ہے. مذہب سے ڈر کر خود کو خدا تو نہیں کہلاتا مگر مجازی خدا ضرور کہلانا پسند کرتا ہے.’ باباجی کے چہرے پر پھر ایک مسکراہٹ نے ڈیرے ڈال دیے۔
لیکن مرد کی بات تو کچھ کچھ ٹھیک معلوم پڑتی ہے. ظاہراً تو مرد کو خدا نے افضل پیدا کیا ہے. عورت کو یہ بات معلوم بھی ہے تو پھر اس کی انا جنگ پر کیوں آمادہ ہے؟’ میں نے سر کھجاتے عرض کیا تو باباجی ہنس پڑے. میں کچھ شرمندہ سا ہوگیا۔
دیکھو بیٹے تم ایک بات بھول رہے ہو. مرد کو الله نے اپنی بہت سی خوبیوں میں سے حصّہ دیا ہے. رازق بنایا ہے، متکبّر بنایا ہے، قابض بنایا ہے، عادل بنایا ہے. لیکن عورت کو وہ صفت دی ہے جو مرد کو نہیں دی۔
وہ کونسی صفت ہے باباجی؟’ میں نے حیران ہو کے پوچھا’
عورت کو الله نے خالق بنایا ہے بیٹے. پیدا کرنے کی طاقت دی ہے. اور یہ طاقت عورت کی انا کو دوام بخشتی ہے. قوت دیتی ہے. مرد کے مقابلے لا کھڑا کر دیتی ہے.’ باباجی نے میرے کندھے کو دباتے ہوئے کہا۔
ہاں یہ تو ٹھیک فرمایا آپ نے لیکن میرا سوال تو وہیں کا وہیں کھڑا ہے نا. میں نے تو یہ پوچھا تھا کے وہ مجھے کیوں چھوڑ گئی؟’ میں نے بےصبری سے پوچھا۔
باباجی مسکرائے، ‘بتاتا ہوں بیٹے، بتاتا ہوں. تمہارا سوال عورت کی ایک اہم ضرورت سے متصل ہے اور وہ ضرورت ہےنام کی، پناہ گاہ کی، ٹھکانے کی، جہاں وہ زمانے بھر کے طوفانوں سے بچنے کے لئے چھپ سکے. اس کواپنی اس ضرورت سے بہت محبّت ہے. اور ہونی بھی چاہیے.’ باباجی تھوڑا سانس لینے کو رکے، ‘اب تم مجھے یہ بتاؤ کہ  کیا تمہاری محبّت میں وہ پناہ تھی؟
میں کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگیا. مجھے بہت سے مواقع یاد آئے جب وہ مجھ سے شادی کے لئے اصرار کرتی تھی مگر میں کسی نا کسی مصلحت کے سہارے اس کی بات ٹال دیتا تھا۔
میں اس سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے تھوڑا اور وقت چاہیے تھا.’ میں نے اداس لہجے میں جواب دیا۔
وقت ؟ وقت ہی تو عورت کا سب سے بڑا دشمن ہے. وقت ایک پاگل کتے کی طرح عورت کے پیچھے پیچھے بھاگتا ہے. اور اس کتے کے ڈر سے عورت کو پناہ گاہ کی تلاش ہوتی ہے. تم نے اس کتے کو اس غریب کے پیچھے بھاگتے نہیں دیکھا.’ باباجی نے شفقت سے مجھے سمجھایا۔
مجھے یاد آیا کہ کئی دفعہ اس نے مجھے کہا  وہ میرے بچے کی ماں بننا چاہتی ہے. اس کو اپنی تیزی سے بڑھتی عمر سے بہت ڈر لگتا تھا. باباجی کی باتوں سے میں بہت کچھ سمجھ چکا تھا. میں جان چکا تھا کے اس نے مجھے کیوں چھوڑا. وہ اپنی ضرورت اور ڈر کے ہاتھوں بہت مجبور تھی. مگر یہ سب کچھ سمجھنے کے باوجود میری انا کو سکون نہیں تھا. شاید مجھے اپنے آپ پر غصّہ تھا جو اس سے اتنا قریب ہونے پر بھی اس کی ضرورت اور ڈر کو نہیں پہچان سکا۔
اپنے دکھ کو کہاں لے جاؤں باباجی؟’ میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنا شروع ہو چکے تھے. غم کے آنسو یا شاید پچھتاوے کے آنسو. دونوں کا نمک ایک جتنا ہی کڑوا ہوتا ہے۔
تم اس کو معاف کر دو بیٹے. دل سے معاف کر دو. اور اپنے آپ کو بھی معاف کر دو. دل صاف ہو جائے گا.’ باباجی نے محبّت سے میرا سر اپنی گود میں رکھا اور ایک شفیق باپ کی طرح میرے بالوں کو سہلانے لگے۔
معاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے باباجی’ مجھے اپنی آواز کہیں دور سے آتی سنائی دی’۔
ہاں بہت مشکل ہوتا ہے. مگر محبّت کرنے والوں کے لئے کچھ مشکل نہیں ہوتا. معاف کر دو بیٹے. الله تم دونوں پر اپنا فضل اور اپنا کرم کرے گا۔
یہ کہہ کے باباجی کچھ گنگنانا شروع ہوگئے. میں نے غور کیا تو وہ بلھے شاہ کا کلام تھا۔
پتھر ذہن گلاب نئین ہوندے
کورے کاغذ کتاب نئیں ہوندے
جے کر لائی یاری بلھیا
فیر یاراں نال حساب نئیں ہوندے
باباجی  کی باتیں سن کے مجھے لگا کے واقعی محبّت کا تقاضہ ہے کہ میں معاف کر دوں. لہذا میں نے سچے دل سے اسی وقت، اسے اور اپنے آپ کو معاف کر دیا۔
جانے میں کب تک باباجی کی گود میں سر رکھے روتا رہا اور جانے کب میری آنکھ لگ گئی، پتا ہی نہیں چلا. جب آنکھ کھلی، سورج اسی طرح چمک رہا تھا اور کبوتر اسی طرح مزار کی چھت  پر بیٹھے غٹرغوں کر رہے تھے. البتہ باباجی کا کچھ پتا نہیں تھا. پتا نہیں کب اٹھ کے چلے گئے تھے۔
میں نے اٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑے اور وضو کے لئے لگائے گئے نلکے سے منہ دھویا. میں نے محسوس کیا کے میرا دل پھول کی طرح ہلکا ہو چکا تھا. میں نے دل میں جھانک کر دیکھا تو اس کے لئے صرف محبّت پائی. کوئی کدورت نہیں تھی. کوئی شکایت نہیں تھی. کوئی شکوہ نہیں تھا. بس محبّت تھی۔
باہری ڈیوڑهی میں داخل ہوتے میری نظر باباجی کو تلاش کر رہی تھی. میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہ رہا تھا. مگر نا وہاں باباجی تھے نا ان کا بتاشوں کا چھابڑا۔
صاحب، اتنی جلدی واپس آ گئے؟ دعا نہیں کی آپ نے؟’ اچانک پالش والے پٹھان بچے کی آواز نے میرے خیالات کی ڈور توڑ دی۔
نہیں بیٹے جلدی کہاں؟ کافی وقت لگ گیا’. میں نے اس کے ہاتھ میں پکڑے اپنے جوتے کی طرف دیکھا. ابھی تک اس نے صرف مٹی ہی جھاڑی تھی. میں نے سوچا کہیں کھیل میں لگ گیا ہوگا اور زیادہ بحث مناسب نہیں سمجھی۔
‘اچھا تم جلدی جلدی پالش کرو. اور یہ بتاؤ کے وہ باباجی کہاں گئے؟‘
کونسے باباجی صاحب؟’ بچے کی ساری توجہ میرے جوتوں پر مرکوز تھی’۔
ارے وہی جو یہاں دروازے کے ساتھ بیٹھے بتاشے بیچ رہے تھے. جن سے میں باتیں کر رہا تھا. وہ ہی جن کو پیسے دیے تھے میں نے’، میں ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا. بچہ میری طرف منہ کھول کر حیرانی سے دیکھتا رہا اور پھر سر جھکا کر جوتے پالش کرنے لگا۔
یہاں کوئی باباجی نہیں ہوتے سر. کوئی یہاں بتاشے نہیں بچتا.’ جوتوں کے نگران نے میری بےچینی کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔
یار کیسے کوئی باباجی نہیں ہوتے؟ یہ دیکھو میں نے ان سے بتاشے خریدے تھے.’ میں نے اپنی جیبیں ٹٹولیں مگر بتاشوں کا کہیں کچھ پتا نہیں تھا۔
شاید برگد کے نیچے گر گئے ہوں.’ میں نے سوچا. خیر جلدی جلدی جوتے پالش کرائے، بچے کو پیسے دیے اور گاڑی میں جا کے بیٹھ گیا. میری نظریں اب بھی باباجی کو تلاش کر رہی تھی۔
ارے یہ کیا؟’ یکایک ساتھ والی سیٹ پے ایک مانوس سے کاغذی لفافے پر نظر پڑی. کھول کے دیکھا تو باباجی سے لئے بتاشے. میرا تو سر چکرا کر رہ گیا۔
یا خدا یہ کیا گھن چکّر ہے؟ وہ باباجی کون تھے؟ یہ لفافہ گاڑی میں کہاں سے آیا؟’ سوالات سے گھبرا کر میں گاڑی بند کر کے پھر اترآیا۔
مزار کی ڈیوڑھی میں داخل ہو کر میں چندے کے بکس کی طرف بڑھا اور جیب میں جتنے پیسے تھے، نکال کر ڈال دیے. باباجی کی خالی جگہ کی طرف دیکھ کر اونچی آواز میں سلام کیا اور نکل گیا۔
لگتا ہے صاحب دعا کرنے آیا تھا اور ملاقات ہوگئی ’ نکلتے  ہوئے جوتوں والے لڑکے کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔
راستے بھر میں سوچتا ہی رہا، خواب تھا،دعا تھی یا ملاقات، میری تو زندگی سیدھی کر دی باباجی نے۔

منگل, نومبر 01, 2016

"انقلاب اور اندھی عقیدت"

انقلاب باہر کی نہیں اندر کی کیفیت کانام ہے۔
اپنی ذات کے کونوں کھدروں تک رسائی حاصل کرنے۔۔۔اپنی صلاحیتیں جانچنے۔۔۔مقصدِحیات کو جاننے پہچاننے کے بعد انسان اور انسانیت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دینا عظیم انقلاب کی راہ کا پہلا قدم ہے تو اپنی کتابِ زندگی کا ہر ورق کھلی کتاب  کی طرح سب کے سامنے عیاں ہونا اس راستے کی شرط اولین ہے۔
قائدِانقلاب کی ذات کا ہر نقش اگر واضح ہوتا ہے تونہ صر ف دوست بلکہ دُشمن بھی اس کے افعال وکردارکی سچائی کی گواہی دیتے ہیں۔دوستپہچان کرجان کی بازی لگاتے ہیں تو دُشمن محض انا اور خودغرضی کے ہاتھوںمجبور ہوکر ہٹ دھرمی سےباز نہیں آتا۔
معاشرتی سطح پر انقلاب کے لیے سب سے پہلے ایک رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔بجا کہ انقلاب ایک فرد سے کبھی نہیں آتا لیکن حق یہ بھی ہے کہ بارش کےپہلے قطرے کے بغیر بارش کا تصور ہی ناممکن ہے۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
اخلاص۔۔۔ فردِ واحدکا اخلاص بارش کا وہ پہلا قطرہ ہے جس پر کامل یقین سے رہِ انقلاب کی رم جھم موسلادھار بارش بنتے دیر نہیں لگاتی۔ اسلامی تاریخ کی زریں مثالوں اور قلب وروح میں اترے واقعات کے ساتھ ساتھ رواںصدی میں دیکھیں تو ایک غیرمسلم کی ستائیس برس کی چکی کی مشقت ہو(نیلسن منڈیلا۔۔۔جنوبی افریقہ)۔شریعت کے تابع مردِقلندر کی سولہ برس کی جلاوطنی ہو(آیت اللہ خمینی۔۔۔ایران)۔یا پھر دُشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر۔۔۔دلیل کے زور پر  ،اُس کے رنگ میں رنگ کر قائل کرنے اوراپنا آپ منوانے سے لے کر اپنا آپ "فنا" کر دینےتک کی  ہمارےقائد جناب "قائدِاعظم محمدعلی جناح" کی شاندار اور بامراد جدوجہد ہو،ہمارے لیے
 نشانِ راہ  اور راہِ عمل متعین کرتے ہیں۔ 
انقلاب افراد کے لیے آتا ہے۔۔۔افرادی قوت کی بیساکھی پر چل کر نہیں۔اندھا انقلاب اندھی عقیدت کا وہ ناجائز اور معذور بچہ ہے جو لاکھ عزت وتکریم کے مینار کھڑے کر دے ،اپنے حسب نسب کی شہادت دینے سے قاصر رہتا ہے۔۔۔ہمیشہ دوسروں کے کاندھوں کی ہوس میں ،لایعنی خواہشوں کے اُڑن کھٹولے  پر سفر کرتا ہے اور مادی آسائشوں کی  آغوش میں منہ چھپا کر سو جاتا ہے۔ دوسری طرف  اندھی عقیدت کی عینک پہننے والا نہ صرف اپنے آپ کو بھلابیٹھتا ہے بلکہ اپنے محبوب کو بھی فراموش کر کے عالمِ بےخودی میں رقص کیے جاتا ہے۔۔۔ہاتھ کسی کے کچھ نہیں آتا  نہ طالب کے اور نہ مطلوب کے۔عقیدت کا چمتکار دنوں، مہینوں  یا سالوں مریدین اور زائرین کا جمگھٹا لگا سکتا ہے۔۔۔فصلی  بٹیروں کا مجمع اکٹھا کر سکتا ہے جو مفت کے لنگر کے لیے کہیں بھی ڈیرہ لگانے سے نہیں ہچکچاتے۔ عقیدت مند اپنی  غرض  کے ساتھ آتے ہیں۔ مراد بر نہ آئے تو آستانے اُجڑ جاتے ہیں۔۔۔ڈیرے ویران ہو جاتے ہیں،  اگر کچھ باقی بچتا ہے تو جعلی عاملوں کا برے وقت کے لیے بچا سرمایہ  یا پھر غلط مشیروں  پر اعتماد کرنے کا پچھتاوا۔ پیر کا  کمال اُس کا لبادہ ہوا کرتا ہے۔ ذرا قربت ملے تو   پیازکے چھلکوں کی طرح شخصیت کے لبادے اترنےلگتےہیں۔۔ہمارےسیاستدانوں اور پیروں سےہم عوام کی  سراسر جہالت پر مبنی عقیدت ناقابلِ معافی ہےکہ یہ نسلیں کھا جاتی ہے دوسری طرف  علم سے نسبت اور علم والوں سےعقیدت نسلیں سنوار دیتی ہے۔
اصل کہانی عقیدت سے محبت تک کا سفر ہے جو بہت کم کسی کا نصیب ہےکہ عقیدت مند  اپنی منتیں پوری نہ ہوتے دیکھ کر بہت جلد مایوس ہو کر راستہ بدل لیتے ہیں یا کہیں اور کوئی  اُن کی عقیدت خرید لیتا ہے۔ جبکہ محبت کرنے والا بےغرض آتا ہے۔۔۔خود مالامال ہوتا ہے اور لینے والے کوبھی سرشار کر دیتا ہے۔محبتوں کے ڈیرے سدا آباد رہتے ہیں،عقیدت سے محبت تک کا سفر محبوب کو زمانوں کے لیے امر کر دیتا ہے۔آنے والی نسلیں اُس کی گواہی دیتی ہیں۔عظیم صوفیائےکرام کے آستانے ہوں یا پھر ایک نظریے،ایک مقصد کے حصول کے لیے دیوانہ وار محنت کرنے والے  عالمی  رہنما اور مفکرین جو اپنے افعال وکردار کی بدولت تاریخ کے صفحات میں  اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔
بحیثیت قوم ہماری  بدقسمتی رہی ہے کہ ہمیں دیوتا سمان پیرومرشد تو بہت ملےجن کے کارگر تعویز بلاؤں اور وباؤں سےوقتی طور پر بچاتے رہے،یوں اُنکی گُڈی چڑھی رہی لیکن  اُن کی محنت کی  ہمیں بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ قوم کو آج تک اُس رہنما کی تلاش ہےجو اپنے قول وفعل سے ہمیں ایک کر سکے۔۔۔دنیائے عالم میں سر اُٹھا کر چلنے کا  فخر عطا کرے۔ قوم(جسے اب ہجوم کہا جانے لگا ہے )ہر چہرے میں اُس نجات دہندہ کو ڈھونڈتی ہے،کچھ دیر ٹھہرتی ہے اور پھر مایوس ہو کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ 
ہمیں بیرونی طاقتوں سے زیادہ  خود ہماری ہی  منتخب کردہ یا ہم پر مسلط کردہ قیادت نے نقصان پہنچایا ہے اور اغیار نے صرف موقع سے فائدہ اُٹھایا ہے۔جب تک ہماری صفوں سے رہنما نہیں اُٹھے گا حالات نہیں بدلیں گے۔  انصاف کی بات یہ ہے کہ ہماری ملکی سیاست  میں ایوانِ اقتدار کا طواف کرنے والے  آج کےقومی رہنما خواہ اُن کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہے سب کی کڑیاں بیرونِ ملک جا ملتی ہیں ۔ سات عشرے گزرنے کے باوجود  عام عوام کا کوئی فرد  محض اپنی قابلیت ولیاقت  اورخلوسِ نیت کے بل بوتے پر  کسی اہم منصب  کے قریب بھی نہیں پھٹک سکا۔ اس میں شک نہیں  کہ باکردار چہرے سامنےآتے رہے لیکن بہت جلد وہ ناانصافی  کی دھول  کی نذر ہو گئےیاپھراُن کے اپنوں نےہی پیٹھ میں خنجرگھونپ دیئے۔ تاریکی میں روشنی کا روزن اس وقت کھلے گا جب عوام کو عقل آئے گی،اس کے لیےدعا ہی کی جاسکتی ہے۔ یاد رہے دعا بھی پورے یقین اور خلوص کے ساتھ مانگی جائے پھر ہی اثر رکھتی ہے۔
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
 آخری بات
انقلاب ان دلوں پر دستک دیتا ہے جن کی آنکھیں کھلی ہوں، عقل کے اندھے کبھی انقلاب کے ساتھی  نہیں بن سکتے۔ اندھاانقلاب صرف  فتنہ  ہے اور کچھ بھی نہیں جتنا سمیٹتے جاؤ اُتنا  ہی پھیلتا جاتا ہے۔




"ابنِ انشا کچھ یادیں "


کچھ یادیں انشا جی کی
(ناجی عرف نجمہ خان صاحبہ کی ڈائری سے۔۔۔۔8ستمبر ،2016)
انشا جی کو دنیا تو بہت عرصے سے جانتی ہے۔
میں انہیں اس وقت سے جانتی ہوں جب کراچی میں ہم لڑکیوں کا ایک گروپ پیدل پاپوش نگر کے علاقے سے ہوتا ہوا اپنے اسکول جاتا تھا۔ وہ ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر رہا کرتے تھے۔ میں انشا جی سے روزانہ صبح اسکول جاتے وقت ملتی تھی اور انہیں سلام کیا کرتی۔ ان سے بات کرنے کے شوق میں، میں اپنے گروپ سے الگ ہوجاتی۔ اسکول بھی دیر سے آتی۔ روزانہ مجھے انشا جی کی وجہ سے ڈانٹ پڑتی۔
ابنِ انشا  ہر روز جب صبح پاپوش نگر کے بازار سے انڈا خرید رہے ہوتے۔ انڈے کو سورج کی روشنی میں، اپنی ہلکے نیلے رنگ کےچشمے سے غور سے دیکھتے اور میں اسکول میں سوچتی کہ آج انشا جی ضرور انڈے پر کچھ لکھیں گے۔
ایک دن میں نے ان سے کہا کہ انشا جی آپ روزانہ ڈبل روٹی، انڈا خریدتے ہیں اور ایک، ایک انڈے کو روشنی میں ایسے غور سے دیکھتے ہو  اور میں ہر روز انتظار کرتی ہوں کہ آج آپ ضرور انڈے پر کچھ لکھو گے۔
انشا جی بہت ہنسے  بولے، "لمبو تو مجھے اتنا چیک کرتی ہے،.وہ بھوک لگی تھی دیکھ رہا تھا کہ اندر سے گندا نہ ہو۔ فرائی پین میں جا کر چوزہ نہ نکل جائے"۔
وہ مجھے لمبو کہا کرتے تھے اور کہتے کہ تم کو لکھنے کا شوق ہے، تم لکھا کرو بس۔
ابنِ انشا زیادہ تر سادہ سے سفید پاجامہ اور سفید کرتے میں ملبوس ہوتے اور آنکھوں پر ہلکے نیلے رنگ کا چشمہ پہنتے۔ ایک دن انشا جی نے پینٹ اور شرٹ پہنی تھی، کہیں سے واپس آئے تھے۔ میں نے کہا کہ انشا جی سچ آپ پیارے لگ رہے ہو۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے تو مجھے مار بھی پڑوائے گی۔
مجھے یاد آرہا ہےکہ کبھی کبھار ان کے ساتھ کراچی ریڈیو کی ایک پُربہار شخصیت جناب ایس ۔ایم ۔سلیم بھی نظر آتے تھے ۔ ایس ۔ایم ۔سلیم کی بیوی ثریا سلیم اب ریڈیو ہیوسٹن سے کام کرتی ہیں ان کی وہی شان  ہے، آج بھی چنا ہوا دوپٹہ اور غرارہ پہنتی ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ میں روزانہ گھر آ کر ابا جی سے کہتی کہ مجھے ابنِ انشا سے بہت سی باتیں کرنی ہیں میرا دل چاہتا کہ اسکول نہ جاؤں اور انکی باتیں سنوں، ان سے باتیں کیا کروں۔
ابا کہتے "تو لڑکی ذات ہے اس طرح بازار میں کھڑے ہو کر بات کرے گی شرم نہ آئے گی۔ لوگ کیا کہیں گے کہ قریشی صاحب کی بیٹی اسکول کے بہانے انشا جی سے باتیں کرتی ہے"۔
بھائی کی شادی کے بعد اس نے اقبال ٹاؤن کراچی میں جہاں گھر لیا وہ انشا جی کے محلے ہی میں تھا۔جب امی نے بھابی سے زردہ بنوایا تو میں ایک پلیٹ میں لے کر انکے پاس گئی۔ میرے ہاتھ میں زردے کی پلیٹ دیکھ کر وہ ایک دم بول اٹھے، "بھئ زردہ ہم کو بہت پسند ہے، مگر یہ ہمارے  ہی لیے لائی ہو نا ؟"
پھر پوچھا، "تم نے بنایا ہے"۔
میں نے کہا کہ نہیں ماں نے بھابی سے شگن بنوایا ہے۔پھر وہ گھر کے اندر گئے، ایک چمچ لے کر آئے اور اپنے ہاتھ سے ایک نوالہ پہلے مجھے دیا اور کہنے لگے اب تم مجھے دو، اس طرح ہماری دوستی پکی ہو جائےگی۔
میں بھائی کے گھر ابنِ انشا سے ملنے کے بہانے آتی۔ جب انشا جی نظر آتے میں ان سے جلدی جلدی ایک ہی سانس میں کہتی کہ انشا جی میں نے آج جنگ اخبار میں آپ کی یہ نظم پڑھی ہے اور اپنی طرف سے بھی بہت سی باتیں کرکے انکی تعریف کرتی مگر وہ کچھ نہ بولتے۔
اک دن ابنِ انشا نے کہا کہ تم رات کو ہمارے گھر آنا جوش آ رہے ہیں۔میں جوش سے ملی۔ اس روز ان کا سانس کافی خراب تھا ۔
انشاء جی اپنے پڑوسیوں کا بھی بہت خیال رکھا کرتے تھے۔
ایک بار یہ ہوا کہ پڑوس کے گھر میں ایک فیملی نے موروں کی جوڑی پال رکھی تھی۔ اتفاق سے اس میں سے مورنی گم ہوگئی۔
انشا جی اپنے پڑوسی سے زیادہ پریشان دِکھ رہے تھے۔ انشا جی نے ہر گھر کے دروازے پر جا کر مورنی کے حوالے سے پوچھا اور یقین کریں کہ جتنا مور اداس تھا انشا جی اس سے بھی زیادہ اداس تھے۔
پھر چار دن کے بعد وہ مورنی ملی۔
مورنی کا مالک بولا، "اس نے چار دن سے کچھ کھایا نہیں"۔
انشا جی بولے، "چار دن سے میں نے بھی نہ ٹھیک سے کھانا کھایا اور نہ کچھ لکھ پایا"۔
مشرقی معاشروں میں جیسا رواج ہوتا ہے کہ جس گھر میں لڑکیاں ہوں وہاں محلے کی کوئی رشتے کروانے والی اس حوالے سے اپنی خدمات پیش کرتی ہیں۔میری بڑی بہن پروین، جنہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا ہوا تھا، کے لیے ہماری محلے کی ایک خاتون جاویدہ  ایک رشتہ لے کر آئیں۔
اماں ابا کا حکم تھا کہ رشتہ دیکھنے لڑکے والے آرہے ہیں اس لیے کوئی اور بہن انکے سامنے نہ آئے۔ میں نے جو چور دروازے سے ان صاحب کو دیکھا تو میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی کہ وہ صاحب کوئی اور نہیں بلکہ ابنِ انشا تھے۔ میں خوشی سے پاگل ہو گئی اور کچھ پرواہ نہ کرتے ہوئے چھلانگ لگا کر ایک دم ڈرائنگ روم میں آگئی اور انشا جی کو کہا کہ پروین میری بڑی بہن ہیں جن کی وجہ سے آج آپ ہمارے گھر آئے ہیں۔
انشا جی بھی ایک دو منٹ مجھے دیکھ کر گھبرا گئے اور بولے ۔۔لمبو یہ تمہارا گھر ہے۔
میرے گھر والے اور سب مجھے حیرت اور غصے سے دیکھ رہے تھے کہ یہ ابنِ انشاء سے ایسے فری ہو کر بات کر رہی ہے اور وہ بھی لڑکی ہوکر، ستم یہ کہ سب کے سامنے۔
میں اپنی زندگی کی وہ رات کبھی نہیں بھول سکتی۔ رات بھر سو ہی نہ پائی کہ صبح اسکول جا کر سب کو بتاؤں گی کہ ابنِ انشا ہمارے گھر آئے تھے۔
انشا جی کو میری بہن بہت پسند آئیں مگر انشا جی کے ساتھ تفاوت عمر اور اس زمانے میں ان کی معمولی نوکری کی وجہ سے یہ رشتہ نہ ہو سکا۔
افسوس ایک فنکار کی قیمت نہ لگ سکی۔
جس رات ابا نے ان کی بہن اور بھائی کو رشتے سے انکار کیا، اس رات میں بہت روئی۔ مجھے بھی بہت ڈانٹ پڑی کہ تم آئندہ کسی شاعر سے نہیں ملوگی۔ میں خود بھی اس انکار پر شرمندہ تھی کہ کس منہ سے ان کے سامنے جاؤں؟ سچ جانو اس دن مجھے احساس ہوا تھا کہ سب مایا ہے سب مایا ہے۔۔۔یہ امیری اور غریبی کے کھیل
اس انکار کے کچھ روز کے بعد ان کی یہ  نظم اخبار میں چھپی
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشاء جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
ہیں لاکھوں روگ زمانے میں ، کیوں عشق ہے رسوا بیچارا
ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی ، انسان کو رکھتیں دکھیارا
ہاں بےکل بےکل رہتا ہے ، ہو پیت میں جس نے جی ہارا
پر شام سے لے کر صبح تلک یوں کون پھرے گا آوارہ
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
یہ بات عجیب سناتے ہو ، وہ دنیا سے بےآس ہوئے
اک نام سنا اور غش کھایا ، اک ذکر پہ آپ اداس ہوئے
وہ علم میں افلاطون سنے، وہ شعر میں تلسی داس ہوئے
وہ تیس برس کے ہوتے ہیں ، وہ بی-اے،ایم-اے پاس ہوئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
گر عشق کیا ہے تب کیا ہے، کیوں شاد نہیں آباد نہیں
جو جان لیے بن ٹل نہ سکے ، یہ ایسی بھی افتاد نہیں
یہ بات تو تم بھی مانو گے، وہ قیس نہیں فرہاد نہیں
کیا ہجر کا دارو مشکل ہے؟ کیا وصل کے نسخے یاد نہیں؟
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
وہ لڑکی اچھی لڑکی ہے، تم نام نہ لو ہم جان گئے
وہ جس کے لانبے گیسو ہیں، پہچان گئے پہچان گئے
ہاں ساتھ ہمارے انشا بھی اس گھر میں تھے مہمان گئے
پر اس سے تو کچھ بات نہ کی، انجان رہے، انجان گئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
جو ہم سے کہو ہم کرتے ہیں، کیا انشا کو سمجھانا ہے؟
اس لڑکی سے بھی کہہ لیں گے ، گو اب کچھ اور زمانہ ہے
یا چھوڑیں یا تکمیل کریں ، یہ عشق ہے یا افسانہ ہے؟
یہ کیسا گورکھ دھندا ہے، یہ کیسا تانا بانا ہے ؟
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
کاش میں آزادی سے ابنِ انشا سے ملتی اور وقت کو فوٹو میں قید کرتی۔
پھر ہم لوگ لندن آگئے۔ ان دنوں خبروں کے اتنے ذرائع تو تھے نہیں اور نہ ہی لندن میں اردو اخبارات کا سلسلہ ایسا تھا کہ ہر خبر آسانی سے پتہ چل جائے۔ بس یہ علم تھا کہ انشاء جی کی طبیعت اچھی نہیں۔
پھر جب میں لندن سے امریکہ آرہی تھی تو لندن کے ہیتھرو ائیر پورٹ پر بہت سے پاکستانیوں کو دیکھا۔ میری عادت ہے کہ جہاں کوئی اپنے دیس کا نظر آجائے تو میں سلام دعا ضرور ہی کرتی ہوں۔ جا کر پوچھا کہ خیر تو ہے آپ سب لوگ اس جگہ اکٹھے کیوں ہیں۔ کسی صاحب نے جواب دیا کہ ابن انشا کا لندن میں انتقال ہو گیا ہے اور ہم ان کا جسدِخاکی ملک لے کر جارہے ہیں۔
ادھر ابن انشا کا جنازہ ملک گیا اور ادھر میں اپنے دوست کو، اپنے انشاء کو روتی امریکہ آئی۔
!!!وہ انشاء جو واقعی سودائی تھا
بشکریہ جناب خرم بقا۔۔۔بزمِ یارانِ اُردو  ادب
 حرفِ آخر
یادوں کے رنگ میں گندھی محترمہ نجمہ خان صاحبہ کی  یہ تحریر  ابنِ انشاءکے چاہنے والوں  کے لیے تحفہ تو ہے ہی لیکن اصل میں یہ جناب ابن انشاء کی محبت کا برسوں پہلے کا قرض تھا جسے  لفظ کے پیرہن میں ڈال کر انہوں نے اپنے محبوب لکھاری کی خواہش کی کتنی خوبصورت تکمیل کی ۔۔۔"وہ مجھے لمبو کہا کرتے تھے اور کہتے کہ تم کو لکھنے کا شوق ھے، تم لکھا کرو بس"۔
ایک بڑے  لکھاری کے اس جملے پر اہلِ علم غور فرمائیں۔۔۔ ابنِ انشاء نے اس اسکول کی طالبہ کو ادب پڑھنے کی نہیں لکھنے کی تلقین کی ۔
مطالعہ بےشک علم حاصل کرنے کا راستہ ہے لیکن لکھنا ایک الگ صلاحیت ہے جو آمد کی مرہونِ منت ہے آورد کی نہیں"۔"