صفحہِ اول

سوموار, جنوری 25, 2016

" ایک دن ایک داستان "


پچیس جنوری ۔۔۔1967۔۔۔۔پچیس جنوری۔۔۔2016
دنیاوی بلندیوں کے دھوکوں اور فانی پستیوں کی ذلتوں میں دھنستے،گرتے اور سنبھلتے ہوئےعمر فانی کے اُنچاس برس مکمل ہوئے اور پچاسواں جنم دن آن پہنچا۔جسے ایک ایسی مسافرت کا سنگِ میل بھی کہا جا سکتا ہےجس کی منزل کی خبر ہے اور نہ ہی راستوں کی سمجھ۔
دنیا کی محدود زندگی میں ہندسوں کا ماؤنٹ ایورسٹ  بھی تو یہی ہے کہ جسے سر کرتے ہوئے ناسمجھی کی اندھی دراڑیں ملیں تو کبھی برداشت کی حد پار کرتی گہری کھائیاں دکھائی دیں۔جذبات کی منہ زور آندھیوں نے قدم لڑکھڑائے توکبھی پل میں سب کچھ تہس نہس کر دینےوالے طوفانوں نے سانسیں زنجیر کر لیں۔بےزمینی کے روح منجمد کر دینے والے خوف نے پتھر بنا دیا تو کبھی خواب سمجھوتوں کی حدت سے موم کی مانند پگھل کر اپنی شناخت کھو بیٹھے۔
 ہم انسان زندگی کہانی میں حقوق وفرائض کے تانوں بانوں میں الجھتے،فکروں اور پریشانیوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے، خواہشوں کی سرکتی چادر میں بمشکل اپنا تن 'من' ڈھانپتے لمحہ لمحہ جوڑ کر دن اور پھر سال بِتاتے ہیں۔ کیا مرد کیا عورت سب کی زندگی تقدیر کے لکھے پر ایک جیسی گزرتی چلی جاتی ہے۔
 اپنے فطری کردار اور جسمانی بناوٹ کے تضاد کے باعث عمر کے اس سنگِ میل پر پہنچتے ہوئےمرد اورعورت کے احساسات بھی مختلف ہوتے ہیں۔دونوں کے حیاتیاتی تضاد کا اصل فرق عمر کے اس مرحلے پر واضح ہوتا ہے۔ زندگی کی مشقتوں سے نبردآزما ہوتے ہوئےمرد کے لیے اگر یہ محض تازہ دم ہونے اور نئے جوش و ولولے کے ساتھ زندگی سے پنجہ آزمائی کرنے کی علامت ہے تو عورت کے لیے جسم و روح پرہمیشہ کے لیے ثبت ہوجانے والی ایک مہر۔۔۔ایسی مہر جس کے بعد ساری زندگی کا نصاب یکسر تبدیل ہو کر رہ جاتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں قدم رکھتے ہوئے مرد عمومی طور پر زندگی کمائی میں سے اپنی محنت ومشقت کے مطابق فیض اٹھانے کے بعد کسی مقام پر پہنچ کر نئے سفر کی جستجو کرتا ہےتو عورت ساری متاع بانٹ کر منزلِ مقصود پر خالی ہاتھ پہنچنے والے مسافر کی طرح ہوتی ہےجس کے سامنے صرف دھندلا راستہ،ناکافی زادِ سفر اور بےاعتبار ساتھ کی بےیقینی ساتھ رہتی ہے۔
عمر کے اس دور تک مقدور بھر جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ  پہنچناعورت کے لیےایسی بارش کی طرح ہےجس کی پھوار سکون بخش تو دکھتی ہے لیکن اس کی چمک میں محبت، نفرت،رشتوں،تعلقات اور اپنے پرایوں کے اصل رنگ سامنے آ جاتے ہیں۔ زندگی کی سب خوش فہمیوں یا غلط فہمیوں کی گرہیں کھل جاتی ہیں۔ہم سے محبت کرنے والے اور اپنی جان پر ہماری جان مقدم رکھنے والے درحقیقت ہمارے وجود میں پیوست ہونے والی معمولی سی پھانس بھی نکالنے پر قادر نہیں ہوتےاسی طرح ہم سے نفرت کرنے والے،ٹھوکروں پر رکھنے والے،ٹشو پیپر سے بھی کمتر حیثیت میں استعمال کرنے والے اس وقت تک ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتےجب تک ہمارے ذہن کو مایوسی اپنی گرفت میں لے کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ سلب کر ڈالے۔
 دنیا کی زندگی میں عمر کے ساتھ جڑنے والا پچاس برس کا ہندسہ اگر کسی بلند چوٹی کی مانند ٹھہراجس کی بلندی تک پہنچتے راستہ بھٹکنے کےخدشات ساتھ چلتے ہیں تو دوسری سمت اترائی کی مرگ ڈھلانوں میں قدم لڑکھڑانے اور پھسلنے کے خطرات حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔
"ہم وہ ہرگز نہیں جو نظر آتے ہیں "
 عمر کی بچاسویں دہائی کے آخری پائیدان پر قدم رکھتے ہوئے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو زندگی کہانی میں چہروں اور کرداروں کی ایک دنیا آباد ہے۔۔۔۔ایسے مہربان چہرے جو زندگی کا زندگی پر یقین قائم رکھتے ہیں تو ایسے مکروہ کردار بھی جو انسان کا رشتوں اور انسانیت پر سے اعتماد زائل کر دیتےہیں۔ یہ نقش اگرچہ گزرچکے ماضی کا حصہ بن چکے لیکن ان کا خوشبو عکس احساس کو تازگی دیتا ہے تو کبھی کھردرے لمس کی خراشیں ٹیس دیتی ہیں۔ان چہروں کے بیچ میں دور کسی کونے میں چھپا خفا خفا سا اور کچھ کچھ مانوس چہرہ قدم روک لیتا ہے۔ہاں !!! یہی وہ چہرہ تھا جس نے دنیا کے ہر احساس سے آگاہ کیا اسی کی بدولت محبتوں کی گہرائی اور اُن کے رمز سے آشنائی نصیب ہوئی تو زندگی میں ملنے والی نفرتوں اور ذلتوں کا سبب بھی یہی ٹھہرا۔ اس کی فکر اور خیال نےاگر سب سے بڑی طاقت بن کر رہنمائی کی تو اس کی کشش کی اثرپزیری زندگی کی سب سے بڑی کمزوری اور دھوکےکی صورت سامنے آئی۔اسی چہرے نے دنیاوی محبتوں کے عرش پر پہنچایا تو اسی چہرے کے سبب زمانے کے شکنجے نے بےبس اور بےوقعت کر ڈالا۔ کیا تھا یہ چہرہ کہ اس نے بڑے رسان سے دنیا کی ہر کتاب سے بڑھ کر علم عطا کیا تو پل میں نہایت بےرحمی سے جہالت اورلاعلمی کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی۔ایسا چہرہ جو ہم میں سے ہر ایک کا رہنما ہے۔۔۔ ہمارا آئینۂ ذات جوہماری نگاہ کے لمس کو ترستا ہے لیکن ہم اس سے انجان دوردراز آئینوں میں اپنا عکس کھوجتے رہ جاتے ہیں۔ظاہر کی آنکھ سے کبھی یہ چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن جیسے ہی ہم اپنے اندر کی آنکھ کھول کراپنے آپ سے سوال جواب شروع کریں۔یہ جھلک دکھلا دیتا ہے۔ اسی چہرے نے بتایا کہ انسان کہانی صرف اُس کے آنکھ کھلنے اور آنکھ بند ہونے کی کہانی ہےاور درمیانی عرصے میں صرف صرف دھوکے ہیں محبتوں کے اور نفرتوں کے۔۔علم کے اور لاعلمی کے۔۔ عزتوں کے اور ہوس کے۔۔۔اندھی عقیدتوں کے سلسلے ہیں تو کہیں وقتی احترام کی ردا میں لپٹی نارسائی کی کسک سرابھارتی ہے۔ 
آخری بات
"ترجیحات"
زندگی کہانی میں پچاس کے ہندسے کوچھوتی عمرِفانی نے  سب سے بڑا سبق یہی دیا کہ ہمیں اپنے آپ کی پہچان ہوجائے تو پھر ہر پہچان سے آشنائی کی منزل آسان ہوجاتی ہے۔یہ پہچان جتنا جلد مجازی سے حقیقی کی طرف رُخ کرلے اتنی جلدی سکون کی نعمت بھی مل جاتی ہے اور یہی پہچان زندگی کی ترجیحات کے تعین میں رہنمائی کرتی ہے۔اللہ ہم سب کو پہچان کا علم عطا فرمائے۔ آمین۔ 
زندگی کی خواہش ہے 
زندگی کو جانا ہے
زندگی تو ڈستی ہے
موت اِک بہانہ ہے
فنا کے سمندر میں
یوں ڈوب جانا ہے
زندگی تو رہتی ہے
زندگی کو پانا ہے 
جنوری25۔۔۔2016


منگل, جنوری 19, 2016

"دُھند اور زندگی"

اسلام آباد کی صبح ۔جنوری۔2016۔
 
زندگی کی حقیقت "دُھند"  میں  ہے۔"دُھند" میں سفر کرو تو حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔
دُھند کتنی ہی ظالم ہو جائے اتنی جگہ تو دے دیتی ہے کہ انسان اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے اورجب چل پڑو تو رستہ خودبخود ہی ملتا چلا جاتا ہے بس فرق یہ رہتا ہے کہ پیچھے والے گزر جانے والوں کا نام ونشان ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں اور جانے والا یوں غائب ہو جاتا ہے کہ جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔آگے کون ہمسفر ہو گا اورکتنا سفر باقی ہے؟ یہ ہمیشہ نامعلوم ہی رہتا ہے۔
دُھند میں سفر کرنے پر ہماری مرضی ہمارا اختیارہرگزنہیں۔انسان ہمیشہ سے ایک روشن چمکدار دن میں سفر کرنے کی خواہش میں جیتا ہے یہ جانے بنا کہ اُس کی پیدائش ہی دُھند سے ہے اوراس نے ہمیشہ دُھند میں ہی زندہ رہنا ہے۔دُھند ہی اُس کی روشنی ہے،اُس کی آبرو ہے اوراُس کی اوقات بھی ہے۔ لیکن دُھند موت بھی ہے ایسی سفاک تیز رفتارموت جو سوچنے سنبھلنے کا ایک پل بھی نہیں دیتی ۔ سفرِزیست طےکرتے ہوئے دُھند کا سامنا خواہ موسم کے زیرِاثرکسی سفرکے دوران ہویا اپنی زندگی کی گاڑی دھکیلتے ہوئے کوئی فیصلہ کرتے وقت ہرجگہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔یہ احتیاط یہ خوف ہی ہمیں اپنی رفتار دھیمی رکھنے پراُکساتا ہےلیکن جب وقت کا فیصلہ سامنے آ جائے تو سب احتیاط دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ اللہ کسی بھی آزمائش میں ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
اگر ہم اپنے آپ کو پرکھ لیں ،جانچ لیں تو کیا دُھند کیا اجالا ہرمنزل اورنشان ِمنزل آسان اورواضح ہوتا چلا جاتا ہے۔
زندگی کی حقیقت دُھند میں پوشیدہ ہے تو دُھند زندگی کے بہت سے حقائق کوآشکاربھی کرتی ہے۔ دٗھند سے زیادہ پُرفریب محبوب اور کوئی نہیں کہ یہ اپنے خوبصورت چہرے پر نقاب درنقاب اوڑھے زندگی کی دلہن کا شکار کرتی ہے۔اگر آگہی کے سورج کی کرنیں نہ پھوٹیں تو یہی حسن ایک ایسی سفاک موت کی آغوش بن جاتا ہے جہاں پل میں سب تہس نہس ہو کر رہ جاتا ہے۔
بچے اس دُھند میں روشنی کی ایسی کرن کی مانند ہوتے ہیں جو نہ صرف انسان کا دوسرے انسان پر اعتبار قائم رکھتے ہیں بلکہ ہماری  اپنی ذات کا جواز بھی عطا کرتے ہیں۔
٭جنوری کی "دھندلی صبح "۔۔۔ بچےسکول جانے کے لیے بس کا انتظار کرتے ہوئے


ہفتہ, جنوری 16, 2016

"ہلدی"

"ہلدی اور میں"
تین جنوری 2016 ۔۔۔ شام کہانی
 مٹی کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہلدی نکالنا ایک بہت زبردست احساس ہےخاص طور پر جب مٹی صاف کرتے کرتے شفاف پیلے رنگ کی بےداغ ہلدی مسکراتی ہے۔ مٹی سے ملنے والی اس خوشی میں بس بچوں اور بڑے کا فرق ہے۔بچوں کی ایسی خوشیاں اچھی لگتی ہیں۔۔۔وہ سنا نہیں داغ تو اچھے ہوتے ہیں،اور بڑوں کی بچکانہ پن۔ کل دسمبر کی بادلوں بھری اداس شام میں مٹی سے باتیں کرتے ہوئے میرے ذہن میں ایک خاصا ناقابلِ عمل لیکن بہت خوبصورت خیال آیا کہ اگر کبھی زندگی میں کسی بھی ایک فصل کا اختیار مل جائےجسے لگانے اور نکالنے کی ذمہ داری میری ہو تو وہ "ہلدی" ہی ہو گی۔۔۔۔ناقابلِ عمل اس لیے کہ زندگی کب ہمارے مرضی سے گذرتی ہے اور جب کبھی اسےگزارنے کا اختیار ملنےکا امکان پیدا ہو جائے تو اسی لمحے زندگی کی مہلت ختم ہونے لگتی ہے بالکل اُسی طرح جیسے کسی طالبِ علم کو امتحانی پرچہ حل کرتے ہوئے عین آخری لمحوں میں کسی مشکل سوال کا جواب یاد آ جائے۔۔۔جیسے جاں بلب کو سانس کی ڈور ٹوٹنے کے نازک لمحے کوئی ذرا دیر کو تھام لے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم لمحۂ موجود میں ہر خواب لمحے اور خوشبو احساس کی قدر سے انجان بن جائیں۔ خوابوں کو آنکھوں میں اترنے ضرور دیں لیکن دل کو ان کے سرابِ نظر میں غافل نہ ہونے دیں۔ خوبصورت یوں کہ جو خیال آپ کے دل کو چھو جائے اور آپ اس کی گہرائی محسوس کر کے دل ہی دل میں مسکرانے پر مجبور ہوجائیں تو زندگی میں اور کیا چاہیے۔
 خیال رہے اس "خیال " میں افادیت، محنت، محبت،لذت،قیمت اور بہت سے فائدے ہیں۔۔۔۔
بقول محاورہ کہ " ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ آئے چوکھا"۔
۔۔۔۔۔۔
گیارہ جنوری 2016۔۔۔
"ایک ناقابلِ یقین یقین "۔۔۔ جو مجھےخود بھی نہیں آرہا۔
 ہلدی صاف کر کے کچھ دیر ابالی پھر چند روز بعد اسے کدوکش کر کے دھوپ میں سکھانے رکھ دیا ( ہلدی سُکھانے کے لیے "کدودکش" کرنے کا طریقہ سراسر میری اختراع ہے اس طرح ایک تو جلدی سوکھتی ہےکہ اس موسم کی دھوپ بھی نام ہی کی ہوتی ہےاور یہ بھی کہ بعد میں پیسنے میں بھی آسانی ہو جاتی ہے۔اس بار اگلے روز ہی بادل اور پھر بارش شروع ہو گئی تو ہلدی  خراب ہونے کے ڈر سے اس کی ٹرے کو ہیٹر کے سامنے رکھنا پڑا،اس کے بعد چند روز دھوپ میں سکھائی۔ آج شام تک خشک ہو گئی تو پیسنے لگی۔لیکن یہ کیا! وہ توبالکل سرخ رنگ کی ہوتی چلی گئی۔سوکھنے میں سرخی نظر تو آتی تھی لیکن پہلے کبھی بھی ایسا نہ دیکھا کہ ہلدی سرخ رنگ کی ہو۔ ابھی گرم دودھ میں ڈال کر رنگ دیکھا تو اس میں کچھ فرق نہیں تھا۔ اور دودھ کا رنگ پیلا ہی تھا۔
 زمین سےنکالنے سے لے کر کدوکش کرنے اور پیسنے تک میرے ہاتھ کا لمس اس میں شامل ہے۔ستم یہ ہے کہ میرے علاوہ اسے کوئی اتنے شوق سے اپناتا بھی تو نہیں۔ سب کے لیے وہی عام سی۔ اور میرے لیے بہت خاص۔ ابھی کچھ دیر پہلے پیسنے کے بعد میں نے آدھا کپ گرم دودھ میں آدھا چائے کا چمچ ملا کر پی تو بغیر چینی یا شہد ڈالےذائقہ بھی اچھا تھا۔
آخری بات ۔۔
 محبت کا لمس ۔۔کبھی کسی بےجان کو لمحہ بھر کا لمس باغ وبہار بنا دیتا ہے تو کبھی کوئی زندگی بخش احساس ناقدری کے گہن سے بےرنگ ہو کر رہ جاتا ہے۔

پچھلے سال کی پیلی اور اس سال کی سرخ ہلدی... 





پچھلے سال کی پیلی اور اس سال کی سرخ ہلدی... 

اتوار, جنوری 03, 2016

جمعہ, جنوری 01, 2016

" تارڑ تارڑ"

 " شل مکھی" 
 لکھاری اور قاری کے اٹوٹ بندھن میں زندگی کے رنگ تلاشتے بہت وقت بیت گیا۔آج دلوں اور ذہنوں پر کئی دہائیوں سےراج کرنے والےجناب مستنصرحسین تارڑ عمرِفانی کے"اےپلس"سے بس چند قدم کےفاصلے پر ہیں اوراپنی عمر کے ہر دور میں اُن کو محسوس کرنے والے قاری پل کے لیے بھی جدا ہونے کا تصور نہیں کر سکتے۔ایک لمبی مسافت طےکرتے، ساتھ چلتے،ہر دکھ سکھ میں مرہم رکھتے لفظ کے اس ساتھ کو آج کی نظر سے دیکھا جائےتو اتنے طویل سفر میں پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ گیا لیکن محسوس کیا جائے تو لفظ کی تازگی اُسی طرح برقرار ہے اور پڑھنے والے ذہنوں کی سرخوشی اور احساس بھی اسی طرح جاندار ہے۔
ذاتی حوالے سے جناب تارڑ کی تحریرسےعجیب تعلق ہےکہ یہ ایک ایسا اعتراف بھی ہے جو پہلی نظر میں کمزوری،جہالت یا سراسر بکواس بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ لگی بندھی روایت سے پرے زمانے کا چلن بھی نہیں۔لیکن یاد رکھو"کوئی بھی چیز ہو یا لفظ پہلی نگاہ پر اس کے بارے میں حتمی رائے کبھی قائم نہ کرنا ورنہ اس رائے کے ساتھ ہی سوچ کی پرواز محدود ہو کر رہ جائے گی"۔
 باوجود اس بات کے کہ جناب مستنصرحسین تارڑ میرے پسندیدہ ترین لکھاری ہیں میں نے آج تک جناب تارڑ کی کوئی ایک کتاب بھی خود سے"خرید" کر نہیں پڑھی اور نہ ہی ان چند کتابوں میں شامل ہے جو مجھے میرے دوستوں کی طرف سے ایک قیمتی تحفے کی صورت ملیں۔میں نے اپنے دوستوں کو ہمیشہ کتاب کا تحفہ دیا لیکن جناب تارڑ کی کتاب کبھی بھی اس میں شامل نہیں رہی۔
 لفظ سے محبت کے سفر میں عمر کی ہر منزل پرگھنے سائباں کی مانند مسحور کن لکھاری ملتے رہے جن کے لفظوں کی مہک آج اس لمحے بھی شانت رکھتی ہے۔بائیس نومبر 2014 کو پوسٹ ہونے والے بلاگ "مستنصرحسین تارڑ کے لفظ سے شناسائی " میں اس احساس کو کچھ یوں بیان کیا ۔۔۔
۔"یہ 80 کی دہائی کے اولین برسوں کی کہانی ہےعمر کا وہ دورجب زندگی کے ہوم پیج پرآنے والی ہرفائل دھڑا دھڑ ڈاؤن لوڈ ہو رہی تھی۔آس پاس بکھرے لفظوں کی کہکشاں کا ہررنگ اپنی جانب کھینچتا۔کہیں خلیل جبران کا فلسفۂ زندگی دم بخود کرتا تو کبھی ابنِ انشاء،احمد فرازاور پروین شاکر کی نغماتی شاعری کے مترنم جھرنے شرابور کر دیتے۔۔۔ ممتازمفتی کی نہ سمجھ آنے والی عورت کہانیاں تھیں تو نسیم حجازی کےلہو گرماتےتاریخی ناول بھی۔ان ریکھاؤں میں جب مستنصر حسین تارڑ کا نام جگمگانے لگا تو اُن کے لفظوں میں ہرلمس کی مہک نے سرشارکردیا۔ زندگی کےایک نئے دورمیں لفظ اور کتاب سے ربط قائم ضرور رہا لیکن اس کی جہت بدل گئی۔ زندگی پڑھنا شروع کی تو سوچ سفر کا زاویہ بھی اسی طرح رُخ بدلتا چلا گیا۔ واصف علی واصف اورپروفیسراحمد رفیق اختر کے واسطے سے نئے رنگ جذب ہوئے تو ممتازمفتی کی "تلاش" نے گویا تلاش ہی ختم کردی۔ تارڑصاحب کے لفظ سے دوستی میں بھی وہ شدت نہ رہی۔ لیکن کوئی کتاب مل جاتی تو پرانے دوست کی خوشبو کی طرح اپنا اسیر کر لیتی"۔ 
 زندگی کی کمائی اور رب کی عطا اگر سوچوں تو کالج لائبریری کے جادوئی حصار سے نکلنے کے بعد عمر کے ہر دور میں اپنے گھر کے قریب ادب شناس اور کتاب دوست دوست ملتے رہےجن کے دل کی طرح ان کے ذوق کے دروازے بھی ہمیشہ کھلے رہے۔ بنا کسی خاص دوست کی رفاقت کی طلب اور خاص کتاب کی جستجو کے جس لمحے جو رہنمائی درکار ہوتی،رزق کی طرح سامنےآتی رہی چاہے دوست ہوں یا کتاب۔ ایسا بھی ہوا کہ جنہوں نے کتابیں خریدیں ابھی انہوں نے خود بھی نہیں پڑھیں اور پورے کے پورے سیٹ میرے سامنے میرے پاس موجود تھے۔ یہ اللہ کا اتنا بڑا فضل ہے کہ شکرگزاری کا احساس بھی اس نعمت کا بوجھ اٹھانے سے قاصر دکھتا ہے۔لفظ اور کتاب سےمحبت کے اس سفر میں جہاں کتاب سے محبت کرنے والے دوست ملے وہیں ایسے بہترین صاحبِ تصنیف دوست بھی ملے جن کے لفظ سے پہلے اُن کی ذات اور سوچ سے قربت کے چند زندگی بخش لمحے میسر آئے جس نے انسان کا انسان پر اعتماد بحال کیا۔ اس کے بعد ان کے منفرد اندازِ بیاں سے شناسائی ہوئی اورانہوں نے خود اپنے ہاتھ سےاپنی کتابیں تحفتاً ارسال کیں اور یا پھر اُن کے توسط سے "سنگِ میل پبلشرز" کی طرف سے کتابوں کےتحفے موصول ہوتے رہے۔





     
اب بطورِ خاص جناب تارڑ کی کُتب کی بات کروں تو میں نے اُن کی سب تو نہیں لیکن بہت سی کتابیں پڑھیں کبھی جلد کبھی دیر سے اور اب بھی بہت سی کتابیں میرے قریب ہیں جب چاہے انہیں چھو لوں انہیں پڑھ لوں۔ 
 آج جب حساب کتاب کا کھاتہ کھولتی ہوں توجناب تارڑ کے لفظ اور کتاب کے حوالے سے شکر گزاری یوں کہ میں نے کبھی جناب تارڑ کے لفظ کی"قیمت" ادا نہیں کی۔اپنی طویل زندگی کے قلیل مطالعے پر نظر ڈالوں تو صرف اور صرف ایک نام صفِ اول پر جگمگاتا دکھائی دیتا ہے وہ ہے "مستنصرحسین تارڑ"۔۔۔۔یہ لبالب چھلکتی جذباتی عقیدت ہرگز نہیں اور نہ مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک ہے کہ میں نے تو بہت سے بڑے لکھاریوں کی ساری کتابیں بھی نہیں پڑھیں اورغیرملکی ادب سے واقفیت تو تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔
 زندگی کے سفر میں قدم قدم پر ایسی بیش بہا کتابیں ملتی رہیں جنہوں نے مشکل اسباق سمجھنے میں ایک مہربان استاد کا کردار ادا کیا تو کبھی زندگی کی تپتی رہگذر پر شجرِسایہ دار کی مانند کچھ لمحے سکون کے عطا کیے۔ایسی کتنی کتابیں دل کو چھو گئیں لیکن اب ان کے لکھنے والوں کے نام یا کتاب کی بس موہوم مٹتی یادیں باقی ہیں۔ایسا بالکل بھی نہیں کہ لفظ کی اہمیت نہیں تھی یا کم ہو گئی۔بس یہ طلب ورسد کا کھیل ہے۔ 
 علم کی پیاس فطرت ہے تو جسم کی طلب ضرورت اور جبلت۔ انسان بڑے ذوق وشوق سے اپنی روح وجسم کی تسکین کا سامان کرتا ہے۔۔۔محنت کرتا ہے۔۔۔بڑی جدوجہد سےاسباب مہیا ہوتے ہیں۔پیسہ بڑی محنت ومشقت سے کمایا جاتا ہے اور اتنی ہی احتیاط سے صحیح جگہ خرچ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔جو چیز پیسہ خرچ کر کے لی جائے انسان اس کے بارے میں بہت تنقیدی نگاہ رکھتا ہے۔جب ہم پیسے خرچ کر کے بہت سوچ سمجھ کر کوئی کتاب خریدتے ہیں تو لاشعوری طور پر ہی سہی ایک پلڑے میں کتاب کی قیمت اور دوسرے میں اس کی افادیت پرکھتے ہیں ویسے تو ہر کتاب کم ازکم صاحب کتاب کے لیے بہت خاص اوراہم ہوتی ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کتاب جو کسی کی عمر کا حاصل ہو،خون جگر سے لکھی گئی ہو،محض چند اوراق پڑھ کر ہی مسترد کر دی جاتی ہے۔بیشتر کتابیں ہم عقیدت کے زیرِاثر خریدتے ہیں۔۔۔ کبھی بڑے نام کے لکھاریوں کی کُتب ہم بہت ذوق وشوق سے مقدس جان کر کھولتے ہیں اور چاہتے ہوئے بھی اُن کو رد کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔اس کے برعکس جب اندھے کے ہاتھ میں ریوڑی کی طرح بہت سے کتابیں یا کوئی کتاب بنا چاہے بنا مانگے مل جائےتو ہم خاصی بےتوجہی،تقریباً زبردستی یا سرسری انداز اور تنقیدی نگاہ سے پڑھنا شروع کرتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب لفظ کی کشش بولتی ہے۔اکثر پہلا صفحہ پہلے لفظ ہی پاؤں میں ایک زنجیر سی ڈال دیتے ہیں تو کبھی اچانک درمیان سے کھلے کسی صفحے پر رقم کوئی جملہ کوئی لفظ ہمارے دل کی بات جان لیتا ہے،ہم سے کلام کرنے لگتا ہے۔ یہ کوئی گہرا بےمحل فلسفہ نہیں بلکہ سمجھنے والوں کے لیے عام سی بات ہے۔کتاب علم کا ذریعہ ہے توعلم بھی رزق کی طرح ہے بلکہ دراصل یہ روح کا رزق ہی تو ہے۔اس لیے زندگی کے جس موڑ پر روح کی جو طلب ہو وہ اسے مل جاتی ہے۔جسم اور روح کی طلب میں ایک بال برابر فرق ہے کہ جسم کی بھوک بس لمحوں کا کھیل ہے پھر سب غائب اور نئی منزلیں نئےراستے۔ روح کو نہ صرف اپنی بھوک کی پہچان ہوتی ہے بلکہ وہ اس آبِ حیات کو ہمیشہ رگِ جاں کے قریب محسوس کرتی ہے جس نے پیاس کے تپتے صحرا میں آسرا کیا۔روح کی طلب خیال کی بھوک کی طرح ہے۔خیال کی بھوک خوشبو کی طرح سفر میں رہتی ہے پر یہ وہ سفر ہے جو لاحاصل کبھی نہیں ہوتا اس سفر میں لذتیں ہی لذتیں ہیں ۔ہر گاہ پرہمسفر ذرا دیر کو ملتے ہیں،ٹھنڈی چھاؤں کی طرح تازہ دم کرتے ہیں اور پھر نئی منزلوں کو روانہ کر دیتے ہیں۔ 
انسان کے لفظ سے محبت اور اُنسیت کے اس سفر میں آخر جناب تارڑ کیوں حرفِ آخر ٹھہرے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اصل راز سے پردہ اٹھاتا ہے۔ جناب تارڑ کا تخیل اور اظہار بہتے میٹھے پانی کے چشمے کی مانند ہے جہاں آنے والا کبھی پیاسا نہیں جاتا ہمیشہ من کی مراد پاتا ہے۔مستنصرحسین تارڑ اگر محض کتابیں لکھتے رہتے تو شاید اتنے مقبول تو ضرور ہوتے لیکن جب سے اُن کے روز مرہ کالم آنے شروع ہوئے پھر توپڑھنے والوں کا جناب تارڑ کے ساتھ ایک ایسا عجیب تعلق پیدا ہو گیا۔۔جیسے ہر روز محبوب اپنے در پر بلائے اور دیدار کی خیرات دے اور پھر کچھ باقی نہ رہے۔یہ کالم محض خودکلامی ہی نہیں بلکہ ایسی گفتگو ہیں جو پڑھنے والے کو نہ صرف اپنے اندر کے سفر پر لے جاتی ہے بلکہ دور دنیاؤں کی سیر بھی کراتی ہے۔جناب تارڑ کی کتابیں اور سفر نامے ہی کم نہ تھے جو ہم جیسے کسی دور دراز کے چھوٹے شہروں میں رہنے والوں کو سمندرپار کے ایسے منظر دکھاتے تھے کہ جو نظر کے لمس سے جی اٹھتے تھے۔ ایسی جگہیں جن کا عام قاری کسی دوسرےجنم میں بھی جانے کا تصور نہیں کر سکتا۔ لیکن خاص بات یہ کہ پڑھنے والا کبھی حسرت یا یاسیت محسوس نہیں کرتا اور نہ ہی ہوس۔بس ایک سرخوشی کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور جناب تارڑ کے لفظ صرف فطرتی مناظر کی بھرپور لفظ کشی تک ہی محدود نہیں بلکہ اُن کو پڑھتے ہوئے ہمیں دنیا کے ادب اور غیرملکی لکھاریوں کے اسلوب سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔ یہ صرف جناب مستنصرحسین تارڑ کا کمال ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہرسرسری یا گہرے تجربے، ہر بامعنی یا بظاہر لایعنی احساس اور ہر چھوٹی سے چھوٹی لذت چاہے وہ نفسانی ہو یا روحانی میں قاری کو بلا کسی ہچکچاہٹ کے شریک کرتے ہیں بلکہ وہ ایک مدبر کی طرح اپنے علم اور مطالعے سے پڑھنے والے کی معلومات میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔جناب تارڑ کے لفظ کی معجزانہ کشش میں ان کا ذاتی طور پر رشتوں اور تعلقات کے حوالے سےبھرپور کردار اور ایک مطمئن گھریلو زندگی کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ 
 جو منظر جناب تارڑ کی آنکھ پر اترتے ہیں وہ اسے اللہ کے خاص فضل سے لفظ میں پرو کر چابکدستی سے پڑھنے والے ذہن کے کینوس پرمنتقل کر دیتے ہیں۔لفظ کے ظاہری حسن سے متاثر ہونے والے اپنا سب کچھ فراموش کر کے اُن منظروں، اُن چہروں اور ساتھ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔لفظ کی فسوں کاری کا یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔تلاش کے صحرا میں بھٹکتے ہوؤں کو وہ منظر کبھی نصیب نہیں ہوتے جو قدرت نے بےمثال لکھنے والے کی آنکھ پر صرف اس کے لیے اتارے۔یوں نادان آوارہ گرد اپنی صعوبتوں کےسارے عذاب اس لکھاری کے ذمے لکھتے ہیں۔
 مستنصرحسین تارڑ شاید دنیا کے وہ واحد لکھاری ہیں جن کی کسی ایک تصنیف کو اُن کی پہچان نہیں کہا جا سکتا۔ جناب تارڑ کی ساٹھ سے زیادہ شائع ہونے والی کتابوں میں ہر کتاب خاص اور اپنی مثال آپ ہے۔ جناب تارڑ مسلسل لکھ رہے ہیں،بلا کسی رکاوٹ یا ہچکچاہٹ کے جو سوچتے ہیں لکھتے چلے جاتے ہیں۔اور اسی طور پڑھنے والوں کے سپرد بھی کردیتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے پسندیدگی کے لحاظ سے جناب تارڑ کی کسی ایک کتاب کانام لینا بہت مشکل ہے اور اس سے بھی مشکل ہے کہ اگر تحفہ دینے یا لینے کے لیے اُن کی کوئی بھی کتاب لینےکا اختیار دیا جائے۔
حرفِ آخر
 ۔" ہزار داستان" کے عنوان سے کالم لکھنے والے جناب مستنصرحسین تارڑ کی کتابیں اور تحاریر کی بھی ہزار جہت اور اتنے زاویے ہیں کہ اُن کو مربوط کر کے ایک مکمل نقش تصویرکرنا ناممکن ہے۔یعنی کوزے میں دریا بند نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ہماری اپنی زبان اردو کی ایک ایسی قلم کار ہیں جنہوں نے اپنی ساری عمر کی لفظ کمائی اور رشتےناطوں کا محور صرف ایک کتاب میں اس خوبی سے یکجا کیا کہ جس طرح پرانے زمانوں میں اللہ کی کتاب کے بعد ہر گھر میں بہشتی زیور کا ہونا بہت اہم تصور کیا جاتا ہے اسی طرح نئے زمانوں میں یہ کتاب "راہ رواں" ہے،جس میں ادائلِ عمر سےبڑھاپےتک اور زندگی سے موت تک کے درمیانی عرصے میں ہر طرح کے جذباتی ،سماجی اور روحانی مسائل کی وضاحت ملتی ہے۔ یہ کتاب محترمہ بانو قدسیہ کی تصنیف ہےجو انہوں نے اپنے مرحوم شوہر بےمثل تخلیق کار لکھاری "محترم اشفاق احمد" کو مرکزِ نگاہ بنا کر لکھی۔ 
محترمہ بانو قدسیہ نے مارچ 2014 کو لاہور میں جناب مستنصرحسین تارڑ کی 75ویں جنم دن کی تقریب میں شرکت کر کے صرف ایک جملے میں سب کہہ دیا ۔۔۔۔" پہلے مستنصر مجھے پڑھتا تھا اور اب میں مستنصر کو پڑھتی ہوں"۔
مارچ 2014 میں محترمہ بانوقدسیہ کے ساتھ جناب مستنصرحسین تارڑ کی 75ویں سالگرہ کی  تصویریں جھلکیاں۔۔۔