منگل, اکتوبر 11, 2016

"مراقبۂ موت"

موت زندگی کی جڑواں بہن ہے۔۔لیکن ہماری نطریں،ہمارا فہم اور ہماری عقل اسے بدترین سوکن تصور کرتی ہے۔موت اپنا
آپ چھپاتے ہوئے زندگی کے پہلے سانس سے بھی پہلےاُس کے اندر جذب ہوئی ملتی ہے جبکہ زندگی کی چکاچوند اور بھرپور موجودگی کے سامنے موت ایک کریہہ اور بدبودار بھکاری کی مانند ہاتھ پھیلائے نظر آئے تو ہم اس سے دامن بچا کر نکلنے میں ہی بھلا سمجھتے ہیں ۔ ہم کھلی آنکھ سے اُس زندگی کا ادراک کر ہی نہیں سکتے جو آنکھ بند ہونے کے بعد نہ صرف ہماری روح بلکہ جسم پر وارد ہوتی ہے۔ اس وقت کا ظاہری احساس ہماری عقل کی محض چند فیصد صلاحیت کا مرہونِ منت ہوتا ہے اور اتنا ہی اس کا اظہار ممکن ہے جیسے معمولی جسمانی تکلیف سے لے کر شدید ترین درد کی کیفیت،یہاں تک کہ جان کنی کے عالم تک ہم بہت کچھ سمجھانے اور بتانے کی حالت میں ہوتے ہیں لیکن جان نکلتے ہی یکدم ایسا سکون اور خاموشی طاری ہوتی ہے جو اس وقت ہمارے لیے پریشان ہونے والوں کے دل کو بھی طمانیت سے بھر دیتی ہے۔اس لمحے جسم توسب کے سامنے سب کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ہم عقل وشعور کے ہزارہا مراحل طے کر چکے ہوتے ہیں ۔بےشک اس کیفیت کا بیان ممکن ہی نہیں اور کتابِ مقدس کے الفاظ میں "جس پر طاری ہو وہی اس کا امین ہے "۔ لیکن سمجھنے والوں اور غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں اور مثالیں اُن کی اپنی ہی ذات کے اندر موجود ہیں، جیسے فالج کی بیماری میں ہمارا جسم ذرا سی بھی حرکت کے قابل نہیں رہتا، ہم سب دیکھ سکتے ہیں،سب سن سکتے ہیں سب محسوس کرسکتے ہیں لیکن کہہ نہیں سکتے،اظہار نہیں کر سکتے۔یہ کسی کے اس موذی مرض کا شکار ہونے کی ظاہری حالت کا تجزیہ ہی نہیں بلکہ ہمیں اپنی صحت مند زندگی میں بھی اکثر اس کیفیت کا ادراک ہوتا ہے جب ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے جسم کا کوئی حصہ سُن ہو جائے جسے ہم عام بول چال میں "سوجانا" بھی کہتے ہیں۔
زندگی کے بڑھتے سالوں کی مشقت اور بھاگ دوڑ ہمیں اس سوچ کے سامنے جان بوجھ کر آنکھ بند کرنے پر مجبور کر دیتی ہے تاوقت کہ ہمارا کوئی اپنا،کوئی جگر کا ٹکڑا یا ہمیں چاہنے والا اس کی گرفت میں آکر ہمیشہ کے لیے نظر سے اوجھل نہ ہو جائے۔اس سمے بےحقیقت زندگی کے سامنے موت کی سچائی کھل کر سامنے آتی ہے۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ زندگی کے ہر رنگ سے خوشبو کشید کرنے والا نہ صرف بےحس وحرکت اور جامد ہو جاتا ہے بلکہ اپنا ہر احساس مٹا جاتا ہے،اسی بات کو کسی نے کیا خوب کہا کہ "انسان ایسے جیتا ہے جیسے مرے گا ہی نہیں اور پھر یوں مر جاتا ہے جیسے کبھی آیا ہی نہ تھا"۔
زندگی موت کی یہ کہانی ہم ہوش سنبھالنے سے ہی دیکھتے چلے آتے ہیں،یادوں کے رنگ جتنا چاہے پکے ہوں مصروفیاتِ زندگی کی بھاگ دوڑ میں دھندلے ہو ہی جاتے ہیں لیکن کبھی نہ کبھی ایک دم اپنی پوری حساسیت کے ساتھ یوں چمک اُٹھتے ہیں کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب اپنوں کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے کے بعد اُن کی یاد کی خوشبو لیے ہمارے قدم شہرِخموشاں کی جانب اُٹھتے ہیں تو خودکلامی کی کیفیت میں لفظ یوں بولتے ہیں۔۔۔۔
۔"اُس شہرِسکوت میں اُداس درختوں پر چکر لگاتے پرندے صدا لگاتے تھےتو کتبوں پر لکھے چیختے لفظ قدم روکتے، بدلے میں کچھ نہ مانگتے صرف احساس کی نرمی اور سکون کی دعا کے طالب تھے،اور دینے والے تازہ گلاب کی پتیاں،آنکھ کے آنسو اور دعا کے موتی نذر کرتے تھے۔ یہ صرف کچھ منٹوں کا کھیل ہوتا جتنے ذوق وشوق سے لدےپھندے آتے اُتنی ہی تیزی سے سب کچھ مٹی کے حوالے کر کے شانت ہو کر واپس چلے جاتے۔دور دور تک پھیلی قطاردرقطار قبروں میں رہنے والے زبانِ حال سے داستانِ زندگی کہتے تھے تو اُن کے سرہانے لگی تختیاں اپنوں کی محبت یا ان کی بےحسی کا نوحہ سناتی تھیں۔
سمجھ میں نہیں آتا تھا اور دیکھ کر بھی نہیں دِکھتا تھا کہ یہ جانے والے سانس لیتے تھے یایہاں رہنے والے زندہ تھے ؟ کون زندہ کون مردہ کا گورکھ دھندہ مزید الجھا دیتا۔ یہ تو بہرحال طے تھا کہ یہاں سے پلٹ کر جانے والے اور یہاں رہنے والے الگ الگ دُنیاؤں کے باسی تھے،فرق صرف موجود اور معدوم کا تھا۔۔۔ظاہر اور باطن کا تھا۔بس تقدیر کی گردش سے سکے کے دو رُخ اپنی جگہ بدل لیتے۔اس فاش حقیقت کا انکشاف روح لرزا دیتا اور انسان کی کوتاہ بینی سب جھگڑے ختم کر دیتی۔انسانی آنکھ کی دستیاب عقلی صلاحیت کےتحت مٹی کے ڈھیروں تلےساتھ ساتھ رہنے والے اپنے سود وزیاں سے آزاد تھے تو دنیا کے کسی بھی ذہین انسان کے مقابلے میں عقل وشعور کی انتہا کو چھو چکے تھے،اُن کی آنکھوں سے تشکیک کے پردے چھٹ چکے تھے تو یقیناً وہ زندگی کی معراج پر تھے دوسری طرف زمین پر چلنے پھرنے والے انسان جو نہ صرف اپنے دل ودماغ کی بات سمجھنے سے قاصر تھے بلکہ اپنے قریب رہنے والوں کو محسوس کرنے کا ہنر بھی نہیں جانتے تھے،۔یہ انسان بس سانس لیتے روبوٹ تھے جنہیں اپنی ذات سے باہر کچھ سنائی دیتا تھا اور نہ دکھائی دیتا تھا۔ سوچنے کی بات یہ تھی کہ ہم بظاہر مردہ دکھتے مٹی میں مل کر مٹی ہونے والوں کے فہم سے کیا حاصل کرتے تھے؟ہم فانی دنیا کی فانی لذت چھن جانے پر ان کو "بےچارے" تصور کرتے تھےیا زندگی کے عارضی جھگڑوں اور مشکلات سے نکل جانےپر اور دنیاوی زندگی کےآخری امتحان کی تکمیل پراپنے سے افضل گردانتے تھے؟۔

2 تبصرے:

  1. ۔مٹی ڈالتے وقت پڑھنے کی آیات
    سورہ طٰہٰ کی آیت نمبر پچپن 55 ....
    تین دفعہ دونوں ہاتھوں میں مٹی بھر کرقبر پر ڈالنی ہے۔۔۔۔۔۔
    پہلی دفعہ ڈالتے ہوئے پڑھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
    مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ۔۔۔۔۔
    ترجمہ: اسی زمین سے ہم نے تمھیں پیدا کیا ۔۔۔۔
    دوسری دفعہ ڈالتے ہوئے پڑھنا ہے۔۔۔۔۔
    وَفِيْـهَا نُعِيْدُكُمْ۔۔۔۔۔
    ترجمہ:اوراسی میں ہم تمھیں واپس (بعد موت) لے جائیں گے۔۔۔۔۔۔
    تیسری دفعہ ڈالتے ہوئے پڑھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔
    وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى۔۔۔۔۔
    ترجمہ:اور(قیامت کے روز) پھر دوبارہ اسی سے ہم تم کو نکال لیں گے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. https://www.facebook.com/muftiadnankakakhail/videos/701439829898772/

    جواب دیںحذف کریں

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...