ہفتہ, فروری 20, 2016

"جنازہ"

  ظہر کے وقت ایک جنازہ اپنے آخری مقام پر روانگی کے لیے تیار تھا۔عجیب اتفاق ہے کہ آج سے تین برس پہلے اسی تاریخ اور اسی  وقت  گھر کی بنیاد رکھنے والے شراکت دار نے جانے میں پہل کی تھی۔
 آج سب چھوڑ جانا تھا۔ زندگی کی شام کا سورج ہمیشہ  کے لیے ڈوبنے کو تھا۔ دیہاڑی دار مزدور نے اپنے حصے کا کام کر کے خاموشی سے چلے جانا تھا۔وہ مکان جس کے ایک ایک راز سے وہ باخبر رہا خواہ وہ برسوں پہلے بچھائے گئے زمین دوز پائپ ہوں یا برقی قمقموں کی روشنیاں۔ وہ سب کا نگران اور محافظ تھا اور چٹکیوں میں ہر مسئلے کو جان جاتا۔آج اس لمحے اس نے  ہر شے سے اجنبی ہو جانا تھا۔یہ محض ایک انسان کی کہانی نہیں،ایک خاندان کی بنیاد رکھنے والے مرد وعورت کی کتھا نہیں بلکہ ہر مشقتی کی داستان بھی ہے۔سڑک بنانے والے محنت کش کی بےبسی ہے تو ہم سب کا فسانۂ زندگی بھی۔
 یہ تاریخ تو ہر ماہ آ جاتی ہے اور ظہر سے پہلے کا وقت بھی دن کے چوبیس گھنٹوں میں  روز آتا ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی تاریخ،وقت اور مقام پر کوئی ایک خاص لمحہ ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتا ہے۔غور کرنے والے ذہن اور چاہنے والی آنکھ  میں وہ منظر  یاد کی ایک چھوٹی سے نظر نہ آنے والی قبر بن کر کچی مٹی کی  مہک دیتا  ہے اور اس لمحے آنکھ کا آنسو اس مٹی کو خشک نہیں ہونے دیتا۔
سنو!!! اگر تم چاہتے ہو کہ اتنے مضبوط ہو جاؤ ۔۔۔اتنےعقل مند ہو جاؤ کہ جانے والوں کی یاد میں کبھی آنکھ نم نہ ہو اورایسی محبتیں جن کے نشان تمہارے جسم وروح پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئے کبھی  یاد نہ آئیں۔تو کبھی اس لمحے اس جگہ نہ جانا جہاں تم آخری بار ملے تھے۔آخری بار تھاما ہاتھ چھوڑا تھا۔۔۔آخری بار الوداع کہا تھا۔۔۔آخری بار نظر نے نظر کو چھوا تھا اور آخری بار یہ وعدہ کیا تھا کہ اب ہم نے زندہ تو رہنا ہے لیکن اپنے اپنے جسم میں اپنی ادھوری روح کے ساتھ۔۔۔
 تم تو چلے گئے لیکن وہ جگہ اس موسم اور اس لمحے نے تمہاری محبت کی ساری تشنگی اپنے اندر اُتارلی۔جان لو!اگر کبھی پلٹنا پڑ گیا تو اپنی بےحسی،بڑے پن یا فہم وفراست  سے کچھ نہ کچھ دان کرنا پڑے گا۔اس سمے سمجھداری کا جیسا بھی رین کوٹ پہن لو۔۔۔بن بادل برسات تمہیں اندر باہر سے شرابور کر دے گی۔

1 تبصرہ:

  1. “The heart bleeds.. The eyes shed tears….. But the tongue shall not utter except that which pleases Allah. To Allah we belong, to Allah belongs everything we are and everything we have, and to Allah shall we all return.”

    جواب دیںحذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...